Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مرکز اور مرکزیت تحریر:۔ ڈاکٹر ندیم احسان


مرکز اور مرکزیت  تحریر:۔ ڈاکٹر ندیم احسان
 Posted on: 11/1/2017
مرکز اور مرکزیت 
تحریر:۔ ڈاکٹر ندیم احسان

آج مورخہ یکم نومبر2017ء کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر نشر ہونے والی ایک خبر راقم کو ماضی کی جھروکے میں لے گئی جوکہ 17، ستمبر2015ء کو بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین کی 62 ویں سالگرہ کے موقع پر تحریر کی گئی تھی۔ بی بی سی کی خبرکے مطابق ماہرین فلکیات نے 600 نوری سال دورایک بڑے سیارے کو دریافت کیا ہے۔ اس خبر کی تفصیل سے دلچسپی رکھنے والے قارئین مندرجہ ذیل لنک کے ذریعہ مکمل خبرپڑھ سکتے ہیں
http://www.bbc.com/urdu/science-41828044 
قرآن مجید کی سورۃ الرحمن میں بھی اللہ تعالیٰ نے کائنات میں موجود کئی مشرقوں اور کئی مغربوں کا تذکرہ بیان فرمایا ہے ۔ مجھ سمیت سائنس کے طالب علم کائنات کی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ پورے نظام شمسی میں قدرت نے ایک مخصوص ترتیب اورتوازن برقراررکھا ہے ۔ اس تناظر میں دوسال قبل لکھی گئی راقم کی ایک تحریر جوکہ بابائے مہاجر قوم قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی 62 ویں سالگرہ کے موقع پرلکھی گئی، ایک مرتبہ پھرقائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کے چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے ۔
اللہ ربّ العزت اس کائنات کاخالق ہے۔ ایسی کائنات، جو لامتناہی ہے۔ جواپنے اندر لامحدود اسرار و رموز، علم کے خزانے اور نشانیاں رکھتی ہے۔ انسان روزِ اوّل سے ہی کائنات کی ان ''گتھیوں'' کو سلجھانے میں مصروفِ عمل ہے۔ 
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو توازن اورترتیب میں رکھا ہے۔ ''خالقِ کائنات مرکز کامل ہے اور صرف اسے ہی کامل مرکزیت و وحدانیت حاصل ہے''۔ خالقِ کائنات کی تمام مخلوقات و تخلیقات بھی اسی کلیئے پرقائم اور اس کاشاہکار ہیں کہ ہرمخلوق اورتخلیق کا بھی اپنا اپنا ایک مرکزہوتا ہے، جسے کہیں انفرادی اورکہیں اجتماعی مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔
یہ کلیہ جہاں کائنات کی سب سے چھوٹی تخلیق یعنی ذرّہ یعنی ایٹم اوراس کے حصوں سے لیکر کائنات کے سب سے بڑے جثہ یعنی کہکشاں پر لاگو ہوتاہے، اسی طرح یہی کلیہ کسی ایک مخلوق اورتمام مخلوقات وتخلیقات پربھی اسی اندازمیں لاگوہوتاہے۔ انسان اب تک کے تمام علوم رکھنے کے باوجود، ذرّہ یعنی ایٹم کی ہیئت کے اجزائے ترکیبی کو بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پایاہے۔ بحیثیت اپنے خالق کی ایک ادنیٰ سی مخلوق کے، میرا یہ ماننا اورایمان ہے کہ ایک ایٹم سے لیکرایک مخلوق تک اپنے اپنے مرکزکے گرد، اپنے اپنے محور و دائرے میں اوراسی طرح اوراسی اندازمیں تمامتر مخلوقات اور تخلیقات، کہکشائیں، غرض اللہ کی تشکیل کردہ تمام کائنات، سب مل کر، اپنے خالق، ایک کامل مرکز، کامل مرکزیت و کامل وحدانیت یعنی اللہ عزّوجل کے گرد طواف کررہے ہیں۔
خالقِ کائنات کاتخلیق کردہ نظام، اس کے وضع کردہ اصولوں، ضابطوں اورقانون کے تابع ہے۔اور کوئی بھی مخلوق یا تخلیق اگراس نظام کے برخلاف جائے گی تو وہ نظامِ قدرت کاحصہ نہیں رہتی۔ یہی کلیہ تمام مخلوقات اورتخلیقات کا احاطہ کیئے ہوئے ہے۔مالکِ کائنات نے اصول وضح بھی کیئے ہیں اورواضح بھی۔ دوسرے الفاظ میں، جوقدرت کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق ہے، وہ حق ہے اوردائرے میں ہے اورجو خلافِ نظامِ قدرت ہے، وہ باطل ہے اور دائرے سے خارج۔
خالقِ برحق نے، اسی طرح انسانوں کیلئے زندگی گزارنے کے اصول وضح کررکھے ہیں اورحق اور باطل، سچ اور جھوٹ، صحیح اورغلط کے درمیان فرق بھی واضح کرکے بیان کردیا ہے۔
انسان روحانی، ذہنی یا قلبی لحاظ سے اپنی زندگی میں کسی نہ کسی کواپنامرکز ومحور ضروربناتا ہے۔ مذہبی، خاندانی، علمی، سماجی، ثقافتی، تحریکی یایوں کہہ لیجئے کہ مختلف طبقہ/ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت سے متاثرہوکر، اسے اپنامرکزبناتا ہے۔ کسی بھی انسان کے ایک سے زائد مراکز بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسے مذہبی خیالات میں کوئی ایک شخصیت اور علمی میدان میں کوئی اور شخصیت۔ یعنی انسان نظریاتی طورپرزندگی کے کسی بھی شعبہ میں جس شخصیت کا پیروکار ہوتا ہے، وہ شخصیت اس شعبہ میں، اس کیلئے مرکز اور مرکزیت رکھتی ہے۔ اورکتنے ہی نامساعد حالات کیوں نہ ہوں، وہ انسان، اپنے مرکزیعنیNUCLEUSکے گرد اپنے دائرے یعنی ORBITمیں رہتے ہوئے اپناسفر جاری رکھتا ہے۔ اس سفر میں جوانسان جتنے مصائب و مشکلات کاسامنا کرتاہے اورثابت قدم رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھتا ہے، اسے اس شعبہ میں اتنی ہی فضیلت اوربلند و اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔بحیثیت انسان، ہمارااپنے خالق، مذہب، جغرافیہ سے ایک اٹوٹ رشتہ ہے، مرکز اورمرکزیت کا۔ اسی طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی ہمارے اپنے مرکز و محورہیں۔
ہم ایک نظریاتی تحریک سے بھی وابستہ ہیں اور اس تحریک کے قائد جناب الطاف حسین ہیں۔ جوحق پرستوں کے واحد ومتفقہ قائد اوران کا مرکز و محورہیں۔ قائد تحریک جناب الطاف حسین جوکروڑوں حق پرستوں کے دلوں میں دھڑکتے ہیں۔ جو37 برسوں سے زائد عرصے سے حق پرستی کی تحریک کے قائد ہیں۔ جوپاکستان کے فرسودہ وڈیرانہ نظام کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوارہیں۔ جن کے دیئے ہوئے نظریہ حق پرستی کی حفاظت اور راہ میں 22ہزار سے زائد کارکنان نے شہادتوں کی انمٹ داستانیں تحریر کی ہیں۔ حق پرستی کی اس جدوجہد میں سینکڑوں کارکنان لاپتہ، ہزاروں اسیر، معذور، بے گھراور جلاوطن کردیئے گئے۔
آج ایک دفعہ پھرشہرکراچی میں آپریشن کے نام پرمہاجروں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ حق پرستوں پر ان کی زندگی و زمین تنگ کردی گئی ہے۔ نفرت و تعصب کے نشے میں بدمست حکمران، پورے پاکستان میں موجود مستند ملکی وبین الاقوامی دہشت گردوں کوچھوڑکر، صرف قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کے پیروکاروں کو بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہیں۔ آج ملک کے حکمران، مقتدرحلقے، سیاسی و مذہبی ولسانی جماعتیں، عدلیہ، میڈیاسب مل کر، مہاجروں کی نسل کشی اورقائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی کردارکشی اور زباں بندی کے مکروہ دھندے میں مصروف و ملوث ہیں۔ ان عقل کے اندھوں کو اتنانہیں معلوم کہ ’’یہ کوئی حساب یا الجبرا کا قانون نہیں کہ ان کے مائنس یا پلس کرنے سے اور اپنے من پسند فارمولے لگانے سے، اپنی مرضی کاجواب حاصل 
کرلیاجائے‘‘۔ یہ اللہ ربّ العزت کابنایا ہوا قانونِ قدرت ہے کہ حق کوجتنا دباؤگے، وہ اتناہی ابھرکر سامنے آئے گا۔
قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی شخصیت اور قیادت، حق پرستوں کیلئے مرکز اور مرکزیت کی حیثیت وعلامت رکھتی ہے۔ بحیثیت تحریکی کارکن، ہمیں اپنے اپنے مدارمیں رہنا ہے۔ اپنے مرکز اورمرکزیت کواپنا مرکزنگاہ بناتے ہوئے۔ ایک ہی رفتار، ایک ہی انداز، ایک ہی منزل کی جانب اپنا تحریکی سفر جاری رکھنا ہے۔ ہم میں سے جس کی رفتار تیز یا سُست ہوگی، وہ اپنے مدار میں نہیں رہ پائے گا۔
ہم آج،17ستمبر،2015ء کے دن کو گواہ بناکر اپنے عہد اور وفا کی تجدید کرتے ہیں کہ ہمیں ایٹم کے الیکٹرون، پروٹان اور نیوٹرون کی مانند اپنی اپنی ہیئت اورکمیت رکھتے ہوئے، اپنے اپنے حصے کے فرائض انجام دینے ہیں۔ ایک مخصوص رفتار سے اپنے مرکزNUCLEUS اور مرکزیت یعنی قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کے گرد اپنا تحریکی سفر جاری رکھناہے اور حق پرستوں کی کہکشاں ترتیب دینی ہے۔
یہ خالقِ کائنات کا بنایاہوا نظام و کہکشاں ہے۔ حق پرستی کی اس تحریک میں مرکزاور مرکزیت صرف قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو ہی حاصل ہے۔ جواس نظام کے خلاف جائے گا، تو اللہ ربّ العزت کا قانونِ قدرت اوراس کا انصاف حرکت میں آئے گا اور باطل پرستوں کا وہی عبرتناک انجام ہوگا جواللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام سے کھلواڑ کرنے والوں کا ہوا کرتا ہے۔ 
اللہ ربّ العزت، قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو صحت و طویل عمرعطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو نظرِ بد سے اورحاسدوں کے حسد سے بچائے۔ آمین۔ اللہ عزّوجل، تحریک کے تمام شہداء کے درجات کوبلند فرمائے۔ آمین۔ مالکِ کائنات، تمام لاپتہ کارکنان کی جلد وباحفاظت بازیابی، اسیروں کی رہائی اور زخمیوں کو صحتیابی عطا فرمائے۔ آمین۔ مالکِ دو جہاں، ہم سب کو اپنی آخری سانس تک، صرف قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کا وفادار رکھے۔ آمین ثمہ آمین۔
تمام حق پرستوں کوقائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی62ویں سالگرہ مبارک ہو

میری ہر تجدیدصرف تجھ سے وابستہ ہے
تیری نظر و قدم میری منزل کا رستہ ہے
*****

11/21/2017 3:27:34 PM
سرکلر ...
19 Nov 2017