Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

محمدیوسف کے بارے میں میڈیاکے سامنے پیش کردہ باتیں حقائق کے سراسر منافی ہیں۔ رابطہ کمیٹی ایم کیوایم


محمدیوسف کے بارے میں میڈیاکے سامنے پیش کردہ باتیں حقائق کے سراسر منافی ہیں۔ رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
 Posted on: 8/24/2017
محمدیوسف کے بارے میں میڈیاکے سامنے پیش کردہ باتیں حقائق کے سراسر منافی ہیں۔ رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
محمدیوسف کوزندہ حالت میں دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں، تاہم ان سے جو بیان دلوایاگیاہے اس نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں
اگر محمدیوسف گرفتارنہیں ہوتے توان کے اہل خانہ ان کی گرفتاری کے خلاف تھانے میں رپورٹ کیوں درج کرتے؟
اگرمحمدیوسف روپوش ہوتے تو اپنے ماورائے عدالت قتل کی پریس ریلیزدیکھ کر گھروالوں کو اپنے زندہ ہونے کے بارے میں بتاتے
اگر وہ میرپورخاص میں ہوتے توکراچی آکر خود کو رینجرزکے حوالے کرنے کے بجائے اپنے گھروالوں کے پاس جاتے ۔ رابطہ کمیٹی 
اقوام متحدہ اوردیگربین الاقوامی فورمزپر ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے کامقدمہ اٹھائے جانے پر ایم کیوایم کامقدمہ
جھوٹ ثابت کرنے کیلئے آج محمدیوسف کومیڈیاکے سامنے پیش کیاگیاہے
آفتاب احمدکے ماورائے عدالت قتل کے بارے میں بھی رینجرز نے یہ جھوٹا دعویٰ کیاتھاکہ ان کی موت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی ہے
کیا ایم کیوایم کے کارکن محمدجاویداور بلدیہ ٹاؤن کے محمدعمران کاماورائے عدالت قتل بھی جھوٹ ہے ؟
کیاایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ کی جانب سے عدالتوں میں دائر پٹیشنزبھی جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہیں؟ 
ایم کیوایم کی قیادت پر الزامات لگانے کے بجائے ایم کیوایم کے تمام گرفتاراور لاپتہ کارکنو ں کو رہا کیاجائے۔رابطہ کمیٹی

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے رینجرزکی جانب سے ایم کیوایم قصبہ علی گڑھ سیکٹرکے کارکن محمدیوسف کومیڈیاکے سامنے پیش کرنے پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمدیوسف کے بارے میں جوکہانی آج میڈیاکے سامنے پیش کی گئی ہے اس میں سوائے اس بات کے کہ محمدیوسف زندہ ہیں ،باقی تمام باتیں حقائق کے سراسر منافی ہیں۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ محمدیوسف کو17جولائی 2017ء کو اورنگی ٹاؤن کے علاقے الطاف نگرمیں گھرکے باہرسے رینجرز اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے گرفتارکیاتھا۔ گرفتاری کے فوری بعد17جولائی کوہی محمدیوسف کے اہل خانہ نے پاکستان بازارتھانے جاکررپورٹ کی ۔ تین روز بعد پولیس نے محمدیوسف کے اہل خانہ کوبلاکر گمشدگی کی رپورٹ درج کرلی۔محمدیوسف کے اہل خانہ تھانے کے چکرلگاتے رہے اورمحمدیوسف کی تلاش میں دردربھٹکتے رہے۔ جب کئی روزتک محمدیوسف کاکہیں کچھ پتہ نہیں چل سکاتوان کے اہل خانہ نے 30جولائی کو ایدھی سینٹر سہراب گوٹھ جاکر معلومات کی ۔ ایدھی سینٹر والوں نے اہل خانہ کوایک تشدد زدہ شدہ لاش کی تصویردکھائی جوانہیں 27 جولائی کو اورنگی ٹاؤن کے علاقے حواگوٹھ سے ملی تھی ۔وہ لاش انتہائی خراب حالت میں تھی جسے ایدھی سینٹر والے پہلے ہی سپردخاک کرچکے تھے۔ محمدیوسف کے اہل خانہ نے لاش کی تصویردیکھ کرانہیں محمدیوسف کی حیثیت سے خود شناخت کیا۔ محمدیوسف کومردہ تسلیم کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ نے 30جولائی کو ہی اورنگی ٹاؤن 10نمبر کے علاقے الطاف نگرمیں محمدیوسف کی غائبانہ نمازجنازہ اداکی اورعلاقے کی القریش مسجدمیں ان کاسوئم بھی کیاگیاجس میں علاقے کے لوگوں نے شرکت کی جواس کے شاہدہیں۔یہ سب کچھ ہوجانے کے بعد ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کو 2 اگست 2017ء کو یہ اطلاع ملی کہ قصبہ علی گڑھ سیکٹریونٹ 125 کے کارکن محمدیوسف کوماورائے عدالت قتل کردیاگیاہے۔ اطلاع ملنے پر رابطہ کمیٹی نے پانچ روزتک اس بارے میں معلومات کیں اوراہل خانہ سے تصدیق کے بعدان سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں 7 اگست 2017ء کواس واقعہ کے بارے میں بیان جاری کیا گیا۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ہم آج محمدیوسف کوزندہ حالت میں دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں، تاہم ان سے میڈیاکے سامنے جو بیان دلوایاگیاہے اس نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔محمدیوسف سے یہ بیان دلوایاگیاہے کہ وہ سرجانی ٹاؤن میں کسی دوست کے گھرروپوش تھے اور7 اگست کواپنے ماورائے عدالت قتل کے بارے میں ایم کیوایم کی پریس ریلیزدیکھ کرڈرگئے تھے اورخوف کی وجہ سے اپنے دوست کے گھرمیرپورخاص چلے گئے تھے ۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر محمدیوسف گرفتارنہیں ہوتے توان کے اہل خانہ ان کی گرفتاری کے خلاف تھانے میں رپورٹ کیوں درج کرتے؟ اگرمحمدیوسف سرجانی ٹاؤن میں اپنے دوست کے گھرروپوش ہوتے تو وہ 7 اگست کو اپنے ماورائے عدالت قتل کی پریس ریلیزدیکھ کرمیرپورخاص میں دوست کے بجائے اپنے گھروالوں سے رابطہ کرتے اورانہیں اپنے زندہ ہونے کے بارے میں بتاتے۔اسی طرح یہ بات بھی جھوٹی ہے کہ وہ میرپورخاص میں تھے کیونکہ اگر وہ میرپورخاص میں ہوتے اورانہیں روپوشی میں اپنے بچوں کی یاد آرہی ہوتی تو وہ کراچی آکر خود کو رینجرزکے حوالے کرنے کے بجائے اپنے گھروالوں کے پاس جاتے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ یہ کہانی سراسرجھوٹ ہے اوراس کہانی سے خود یہ حقیقت ثابت ہوگئی ہے کہ محمدیوسف نے آج اپنے آپ کورینجرزکے حوالے نہیں کیابلکہ وہ 17جولائی 2017ء سے ہی رینجرز کی قیدمیں تھے ۔ ایم کیوایم کی جانب سے اقوام متحدہ اوردیگربین الاقوامی فورمزپرکارکنوں کے ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے کامقدمہ اٹھائے جانے پرمزید شرمندگی سے بچنے اورایم کیوایم کامقدمہ جھوٹ ثابت کرنے کیلئے آج محمدیوسف کومیڈیاکے سامنے پیش کیاگیاہے تاکہ پاکستان میں مہاجروں کے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے حوالہ سے ایم کیوایم کے مؤقف کو کمزور کیاجائے اور انسانی حقو ق کے ملکی اوربین الاقوامی اداروں کو بھی گمراہ کیاجائے۔
رابطہ کمیٹی نے کہاکہ محمد یوسف کے بارے میں پیش کردہ کہانی میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے کہاں اور کس علاقے میں خود کو قانون نافذکرنے والے ادارے کے حوالہ کیا۔ رینجرز کے ترجمان نے صحافیوں کی جانب سے متعدد بار اٹھائے گئے اس اہم سوال کاجواب نہیں دیا کہ جب محمدیوسف زندہ ہیں تو جس لاش کو محمد یوسف کی لاش قرار دیکر دفنایاگیاتھا وہ کس کی تھی؟ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ جب رینجرز ترجمان خوداعتراف کررہے ہیں کہ’’ محمد یوسف کے اہل خانہ نے ان کی ہلاکت کو نہ صرف یقینی مان لیاتھا بلکہ اس کا سوئم تک منالیاتھا‘‘ تو پھرکیاایم کیوایم پر گمراہ کن پروپیگنڈے کاالزام درست اورجائزقراردیاجاسکتا ہے؟ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمدشہید کے ماورائے عدالت قتل کے بارے میں بھی رینجرزکی جانب سے یہ جھوٹا دعویٰ کیاگیاتھاکہ ان کی موت حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث ہوئی ہے جبکہ ان کی باڈی کی تصاویر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ساری حقیقت کھول کردنیاکے سامنے رکھ دی کہ آفتاب احمدشہیدکی موت حراست میں تھرڈڈگری ٹارچر کی وجہ سے ہوئی تھی، اس واقعہ کی تحقیقات کااعلان وزیراعظم اوروفاقی وزیرداخلہ کے ساتھ ساتھ خود اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی کیاتھالیکن آج تک اس ماورائے عدالت قتل میں ملوث اہلکاروں کوسزانہیں دی گئی۔ رابطہ کمیٹی نے سوال کیا کہ کیا ایم کیوایم کے کارکن محمدجاوید کاماورائے عدالت قتل بھی ایک جھوٹ ہے جنہیں 2 اگست 2017ء کورینجرزاورسی ٹی ڈی نے ان کے گھرسے حراست میں لیااور9 روز تک تشددکانشانہ بنانے کے بعد کورنگی کے علاقے میں لے جاکرماورائے عدالت قتل کردیااوراسے پولیس مقابلہ قرار دے دیا؟ کیا بلدیہ ٹاؤن کے محمدعمران کاماورائے عدالت قتل بھی جھوٹ ہے جنہیں 6 اگست 2017ء کو سعیدآبادکے علاقے میں اسی طرح کے ایک جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا تھااورسی ٹی ڈی کی جانب سے اس جعلی مقابلے کی خبرمیڈیاپرجاری کی گئی تھی۔ رابطہ کمیٹی نے سوال کیا کہ کیاکراچی، حیدرآباد، ٹنڈو الہ یار، میرپورخاص اور دیگر شہروں میں ایم کیوایم کے کارکنوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کرنے کے واقعات نہیں ہورہے ہیں؟ اگر کارکنوں کی گرفتاریاں اورجبری گمشدگیاں صرف ایک پروپیگنڈہ اورالزام ہیں توپھر ان لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ کی جانب سے عدالتوں میں دائرکی جانے والے پٹیشنز کیا بھی جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہیں؟ کئی کئی مہینوں اورہفتوں سے لاپتہ کارکنوں کوپی ایس پی ٹولے کے دفترکے حوالے کیاجانابھی کیا جھوٹ ہے؟رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ایم کیوایم کی قیادت پر الزامات لگانے کے بجائے ایم کیوایم کے تمام گرفتاراور لاپتہ کارکنو ں کو رہا کیاجائے ، بے گناہ کارکنوں اوران کے رشتہ داروں کواغواکے اندازمیں حراست میں لے کر لاپتہ کرنے کاسلسلہ بند کیا جائے اوراگرکسی پر کوئی الزام ہے توقانون کے تحت اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔
*****

12/16/2017 12:59:39 AM