Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حیدرآباد میں ڈبل کیبن گاڑی دہشت کی علامت بن گئی، دس نوجوان گرفتاری کے بعد لاپتہ ، رپورٹ قومی اخبار


حیدرآباد میں ڈبل کیبن گاڑی دہشت کی علامت بن گئی، دس نوجوان گرفتاری کے بعد لاپتہ ، رپورٹ قومی اخبار
 Posted on: 7/21/2017
قومی اخبار
21، جولائی2017ء

رپورٹ: ۔ خالدجاوید
زمین کھاگئی ۔۔۔۔۔ آسمان نگل گیا
10، نوجوان کہاں گئے ؟
ڈبل کیبن ویگو گاڑی خوف کی علامت بن گئی

حیدرآباد میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے ساتھساتھ سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی بنیاد پر خاتونکے بچوں کی پراسرار گمشدگی انتظامیہ اور پولیس کے لئے سوال بنی ہوئی تھی لیکن کئی ہفتے بلکہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود گمشدہ افراد کا سراغ نہ ملنے اور پولیس کی جانب سے بازیاب کرانا تو دور کی بات گمشدہ افراد کی رپورٹ بھی درج نہ کرنے پر اب حیدرآباد سے ہونے والی جبری گمشدگیوں کو عدالت لے جایاگیا ہے اورعدالتوں نے پولیس ، رینجرز اور فریقین سے جواب طلبی کرلی ہے ۔ حیدرآباد میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہونے والی گمشدگیاں شہریوں کے لئے تشویش کا باعث ہیں بلکہ لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کے اہل خانہ اپنے بچوں کی تلاش میں دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ حیدرآباد میں 3 ماہ کے دوران لاپتہ ہونے والے نوجوانون کی تعداد 10 ہوگئی ہے ۔ حیدرآباد شہر میں ہونے والی جبری گمشدگیوں کے حوالے سے ڈبل کیبن ویگو گاڑی خوف کی علامت بنی ہوئی ہے ۔ حیدرآباد سے لاپتہ ہونے والے بیشتر نوجوانوں کی گمشدگی کے حوالہ سے اہل خانہ اور لواحقین کی بھاگ دوڑ اورگمشدگی کے مقام سے حاصل ہونے والی معلومات اورعینی شاہدین سے حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق بغیر نمبر پلیٹ کی ڈبل کیبن گاڑی میں سوار نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے لاپتہ نوجوانوں کو زبردستی گاڑی میں ڈال کرلے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں ۔ لیکن تشویشناک امریہ ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے ریاستی ادارے خاص طور پر پولیس کی جانب سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی رپورٹ تک درج نہ کیاجانا جبری گمشدگی کے عمل کو مزید تشویشناک بنارہا ہے حیدرآباد سے 3 ماہ کے دوران پراسرار طورپر لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی مخصوص سیاسی وابستگی ان کی گمشدگی کی اصل وجہ قراردی جارہی ہے ۔ 
3 ماہ قبل نماز جمعہ کے بعد لطیف آباد کی مسجد کے باہر سے لاپتہ ہونے والے عابدغوری کا تعلق ایم کیوایم (الطاف حسین) سے ہے جوکہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں حیدرآبادمیونسپل کارپوریشن کی یونین کمیٹی کے منتخب چیئرمین بھی ہیں ۔ عابد غوری کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ کونمعلوم فون کالز کے ذریعہ گشدگی کی شکایت نہ کرنے اور خاموش رہنے کیلئے دھمکیاں بھی دی جاتی رہی کہ اگر زبان کھولی تو آپ ک لڑکے کوہاف فرائی یا فل فرائی کردیاجائے گا۔ اس بات کا اظہار پراسرار طورپر لاپتہ ہونے والے عابد غوری کے والد محمود خان غوری کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ میں داخل کی جانے والی بازیابی کیلئے آئینی درخواست سماعت کے دوران سامنے آیا۔ بازیابی کی درخواست کی سماعت کے دوران جب جبری طورپر گمشدہ عابدغوری کے والد سے سوال کیاگیا کہ آپ نے تین ماہ پہلے کیوں درخواست جمع نہیں کرائی کہ جواب میں انہوں نے بتایاکہ ہمیں نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں دیتے ہوئے کہاگیا تھاکہ آپ کا بچہ رمضان میں آجائے گا۔ اس کے بعد کہاگیا کہ عید پر گھر آجائے گا لیکن بازیاب نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔ عابدغوری کی بازیابی کی درخواست پر عدالت نے درخواست میں بنائے گئے فریقین سے 19، جولائی کو جواب طلب کرلیا ہے اسکے علاوہ 22 جون کو لطیف آباد کے علاقے سے پراسرار طورپر لاپتہ ہونے والے ایم کیوایم (الطاف حسین) کی خاتون رہنما شازیہ اشفاق بانی نے اپنے دو جوان بیٹوں کے پراسرارطورپر لاپتہ ہونے کے خلاف بھی سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ میں شکیل زئی ایڈوکیٹ کے توسط سے آئینی درخواست داخل کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیاگیا کہ درخواست گزار کے دوبیٹے راؤ عمر اورراؤ سعد کوگورنمنٹ کمپری ہنسو ہائی اسکول لطیف آباد نمبر 10 کے قریب سے ڈبل کیبن گاڑی میں ڈال کرلاپتہ کردیا گیا ہے مذکورہ درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار خاتون کے ساتھ فریاد کرنے پرفاضل جج نے سرکاری وکلاء سے ڈبل کیبن گاڑی کے بارے میں استفسار کیا جس کے جواب میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت عالیہ کے روبرو مؤقف اختیار کیا اس طرح کی کوئی ڈبل کیبن گاڑی پولیس کے استعمال میں نہیں ہے ۔ مذکوردرخواست کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے فاضل جسٹس نے خاتون درخواست گزار کے لاپتہ بیٹوں کے موبائل فون کے ریکارڈ کی تفصیل طلب کرتے ہوئے پولیس اوررینجرز سے جواب طلب کیا ہے اورمزید کارروائی 26 جولائی تک ملتوی کردی ہے ۔ اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد میں داخل کی گئی ایم کیوایم کے سیکٹرانچارج امان ، اس کے تاجر دوست عنایت علی خان کے خلاف ایک مقدمہ ضمانت کیلئے ہائی کورٹ جارہے تھے کہ ہائی کورٹ پہنچنے سے قبل ہی ڈبل کیبن گاڑی میں سوار نامعلوم افراددونوں کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے ، امان اوراس کے دوست عنایت کی پراسرارگمشدگی کے خلاف داخل بازیابی کی آئینی درخواست پر فریق بنائے گئے پولیس اوررینجرز افسران سے جواب طلب کرتے ہوئے کارروائی 19جولائی تک ملتوی کردی ہے جبکہ حیدرآباد کے نارا جیل سے ضمانت پر رہا ہوتے ہی جیل احاطے سے ہی گم کردیئے جانے والے ایم کیوایم کے کارکنوں محسن اور معید بھی تاحال بازیاب نہیں ہوسکے ہیں ۔ دونوں نوجوانوں کی گمشدگی کے حوالہ سے اہل خانہ کی انسداد دہشت گردی عدالت میں داخل کی گئی درخواستو ں پربھی فاضل عدالت نے پولیس سے جواب طلب کرلیا ہے ۔ حیدرآباد سے جبری گمشدگی کے بعد لاپتہ ہونے والے نوجوانو ں کے اہل خانہ کو متعلقہ اداروں شنوائی نہ ہونے اور انصاف نہ ملنے پرلواحقین نے عدالتوں سے انصاف کیلئے رجوع کرلیا ہے لیکن لاپتہ نوجوانوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔


8/21/2017 10:46:39 AM