Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

11جون اور الطاف حسین تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ


 Posted on: 6/12/2017
11جون اور الطاف حسین
تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ 
11، جون 1978ء ایک عہدساز اورتاریخ ساز دن ہے ، اس دن جامعہ کراچی میں ایک 23 سالہ نوجوان جناب الطاف حسین نے مہاجرطلباء کے حقوق کیلئے آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نام سے ایسی جدوجہد کی بنیاد ڈالی جس کے بطن سے مہاجرقومی موومنٹ جیسی عوامی جماعت نے جنم لیا جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوئی ۔ 11، جون ،قائد تحریک جناب الطاف حسین سے اورقائد تحریک جناب الطاف حسین ، 11 جون سے وابستہ ہیں لہٰذا جہاں 11 جو ن کاتذکرہ ہوگا وہاں بابائے مہاجرقوم بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین کاتذکرہ لازمی ہوگا ،جناب الطاف حسین کے بغیر11، جون کی نہ تو کوئی اہمیت ہے اورنہ افادیت اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کی قیادت کے بغیر11 جون کاتذکرہ کرنے والے کھلے دھوکہ باز ہیں ، مہاجرقوم کی نظر میں ایسے عناصر کی نہ تو کوئی وقعت ہے اورنہ ہی کوئی اہمیت۔
قائد تحریک جناب الطاف حسین نے کل بھی مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کی اوروہ آج بھی اسی جدوجہد پرقائم ہیں ، ظلم وستم کا کوئی بھی حربہ انہیں منزل کے حصول کی جدوجہدسے بازنہیں رکھ سکا۔قائدتحریک نے آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد اس لئے رکھی کہ جس شہر میں مہاجروں کی اکثریت تھی اسی شہر میں مہاجروں پر تعلیم ، اعلیٰ تعلیم اورملازمتوں کے دروازے بند تھے ۔ کراچی کے تعلیمی اداروں میں مہاجرطلباء کے ساتھ غیرمقامی طلباء اورانتظامیہ کی جانب سے نارواسلوک کیاجاتا تھا،جامعہ کراچی میں پنجابی ،سندھی، بلوچ، پختون، سرائیکی، کشمیری ، گلگتی اوردیگرقومیتوں کی طلباء تنظیموں پر کسی کواعتراض نہیں تھا لیکن جب اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی گئی تو جماعت اسلامی اور اس کی بغل بچہ تنظیم کو تعصب اورعصبیت یادآنے لگی ۔ اندرون سندھ تعلیمی اداروں میں مہاجرطلباء کوداخلہ نہیں دیاجاتا تھا اور اگرکسی کو داخلہ مل بھی جائے تو سندھی قوم پرستوں کی جانب سے ان کے ساتھ بہیمانہ سلوک روارکھا جاتا تھا۔ یہ کہنا قطعی بے جا نہ ہوگا کہ اے پی ایم ایس اومہاجروں کے ساتھ مسلسل تعصب، عصبیت اورناانصافی کاردعمل ہے اور ایم کیوایم اس ردعمل کا تسلسل، قائد تحریک جناب الطاف حسین کی قیادت میں مہاجروں کے حقو ق کی جدوجہد آج بھی جاری ہے ۔
یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ ایک نسل کی غلطی کا خمیازہ آئندہ نسل کو نسل درنسل کو بھگتنا پڑتا ہے، قیام پاکستان کی جدوجہد کی تحریک برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں میں شروع ہوئی، اس جدوجہد میں بانیان پاکستان نے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ دیکر برصغیرکے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلائی ،مہاجرخواتین نے اپنی عصمتوں کے تحفظ کیلئے کنوؤں میں کود کر اپنی جان دیدی ، معصوم بچوں کو نیزوں پراچھالاگیالیکن پھر بھی ہمارے بزرگوں کا یہی نعرہ تھاکہ ’’بٹ کے رہے گاہندوستان، لیکے رہیں گے پاکستان‘‘ بانیان پاکستان نے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت اختیارکی ، نوزائیدہ پاکستان کی تعمیروترقی میں بھرپورکرداراداکیا لیکن پاکستان کی تعمیروترقی میں کرداراداکرنے والے مہاجربیوروکریٹس کو یحییٰ خان ، ایوب خان اور ذوالفقارعلی بھٹو کے دورمیں ان کی ملازمتوں سے برطرف کیاگیااورپھرمہاجروں کے سیاسی ،معاشی اورتعلیمی قتل عام کیلئے صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذکردیاگیاآج پاکستان میں بانیان پاکستان کی اولادوں یعنی مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبہ میں تسلسل کے ساتھ تعصب، نفرت، عصبیت اورناانصافیاں دیکھ یقین ہوگیا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے مولاناابوکلام آزاد کی سچائی پر مبنی پکارپر توجہ نہ دیکر تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی ہے اوراب مہاجرقوم اپنے اجداد کی غلطیوں سے سبق سیکھ چکی ہے اوروہ اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی ، قائد تحریک جناب الطاف حسین کی قیادت میں آنے والی نسلوں کو یہ کہنے کا ہرگز موقع نہیں دے گی کہ انکے بزرگوں نے کوئی غلطی کی تھی۔
وہ دور بھی دیکھا ہے تاریخ کی آنکھوں نے 
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی 

6/27/2017 2:14:50 PM