Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں مہاجروں کے قتل عام کے بڑے بڑے واقعات ہوئے لیکن آج تک کسی ایک واقعہ میں ملوث قاتلوں کوسزانہیں دی گئی ۔ ندیم نصرت


پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں مہاجروں کے قتل عام کے بڑے بڑے واقعات ہوئے لیکن آج تک کسی ایک واقعہ میں ملوث قاتلوں کوسزانہیں دی گئی ۔ ندیم نصرت
 Posted on: 5/29/2017
پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں مہاجروں کے قتل عام کے بڑے بڑے واقعات ہوئے لیکن آج تک کسی ایک واقعہ
میں ملوث قاتلوں کوسزانہیں دی گئی ۔ ندیم نصرت
پکاقلعہ آپریشن ریاستی ظلم وبربریت کا ایسا واقعہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی ، اتنے بڑے واقعہ کی نہ کوئی تحقیقات کی
گئی ، نہ اس قتل عام میں ملوث کسی پولیس اہلکارکوسزا دی گئی 
12مئی کے واقعہ کاتوبہت ذکرکیاجاتاہے لیکن مہاجروں کے قتل عام کے اتنے بڑے واقعات کاکوئی ذکرنہیں کیاجاتا
کیا مہاجروں کی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں ؟ آخران کے قاتل کب گرفتارکئے جائیں گے؟ندیم نصرت
مہاجروں کوحقوق دینے کے بجائے ریاستی آپریشن کے ذریعے ان کے حقوق کی آوازایم کیوایم کوکچلاجارہاہے ، 
مہاجروں کے متفقہ قائدالطاف حسین پرپابندیاں عائدکردی گئی ہیں ۔ ندیم نصرت
اگرارباب اختیارنے ظلم بند نہیں کیا،ایم کیوایم کامینڈیٹ تسلیم نہیں کیااور مہاجروں کااحساس محرومی دورکرنے کیلئے اقدامات
نہیں کئے تومہاجروں کے سینوں میں پلنے والاطوفان ایک لاوا کی طرح پھٹ پڑے گا
سانحہ پکاقلعہ آپریشن 1990ء کے شہداء کی 27ویں برسی پر ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں اجتماع کے موقع پرخطاب 

متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینرندیم نصرت نے کہاہے کہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں مہاجروں کے قتل عام کے بڑے بڑے واقعات ہوئے لیکن آج تک کسی ایک واقعہ میں ملوث قاتلوں کوسزانہیں دی گئی ۔ انہوں نے یہ بات سانحہ پکاقلعہ آپریشن 26 ، 27مئی 1990ء کے شہداء کی 27ویں برسی کے سلسلے میں ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں قرآن خوانی کے اجتماع کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہی ۔ قرآن خوانی میں رابطہ کمیٹی کے ارکان ، ایم کیوایم یوکے کے ذمہ داران وکارکنان ، خواتین اور بزرگوں کے ساتھ ساتھ بچوں نے بھی شرکت کی ۔ ندیم نصرت نے 1990ء میں 26 اور27مئی کو پکاقلعہ آپریشن کے دوران پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ 1990ء میں پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں بعض لوگوں کوگرفتار کرنے کے نام پر حیدرآبادکے پکاقلعہ میں ایک آپریشن کیاگیا،اس دوران پکاقلعہ کے علاقے میں پانی، بجلی اورگیس کی فراہمی بند کی گئی، پولیس کے ساتھ ساتھ سندھ بھرسے جرائم پیشہ افرادکوبھی پولیس کی وردیاں پہناکرلایاگیااورمعصوم وبے گناہ افرادکوبیدریغ گولیاں مارکرشہیدکیاگیا، جب خواتین سروں پر قرآن لئے پرامن طورپر سڑکوں پر آئیں اورانہوں نے پولیس وانتظامیہ کے اہلکاروں سے اللہ ، رسولؐ اورقرآن مجیدکاواسطہ دے کر درخواست کی کہ ظلم بند کیا جائے اورعلاقے کوپانی، بجلی اورگیس کی فراہمی بحال کی جائے لیکن حکومت کی ایماء پر ظالم اوردرندہ صفت پولیس اہلکاروں نے ان خواتین پربھی وحشیانہ گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں کئی خواتین شہید اورزخمی ہوگئیں اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید بھی پولیس کی گولیاں لگنے سے شہید ہوا۔ سفاک پولیس اہلکاروں نے گھروں میں گھس کرلوٹ مارکی اورمساجد تک کی بے حرمتی کی ۔ظالم پولیس اہلکاروں نے فائرنگ سے شہیدہونے والوں کوتدفین کیلئے قبرستان تک نہیں لے جانے دیا جس کے باعث شہیدوں کی تدفین پکاقلعہ کے احاطے میں ہی کرنی پڑی۔ ندیم نصرت نے کہاکہ پکاقلعہ آپریشن ریاستی ظلم وبربریت کا ایسا واقعہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہاکہ اتنے بڑے واقعہ کی نہ کوئی تحقیقات کی گئی ، نہ اس قتل عام میں ملوث کسی پولیس اہلکارکوسزا دی گئی ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی مختلف ادوارمیں مہاجروں کاقتل عام کیاجاتارہاہے ، جنر ل ایوب خان کے دورمیں صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دینے کی پاداش میں کراچی میں مہاجربستیوں پر حملہ کرکے کئی مہاجروں کوشہیدوزخمی کیاگیا، گھروں کولوٹ کرآگ لگادی گئی لیکن کسی حملہ آورکوسزانہیں دی گئی ۔ بھٹودورحکومت میں اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں مہا جروں کاقتل عام کیاگیا، ان کی فصلوں کوآگ لگادی گئی ، جائیدادوں پر قبضے کرلئے گئے لیکن کسی قاتل کوسزانہیں ہوئی۔ اسی طرح 14دسمبر1986ء کوکراچی میں علی گڑھ کالونی اورقصبہ کالونی پر حملہ کرکے مہاجروں کا قتل عام کیاگیا، دوسوسے زائدمہاجروں کوبیدردی سے شہید کردیاگیا، گھروں کولوٹ کرآگ لگادی گئی ،چھ گھنٹوں تک قتل عام ہوتارہالیکن مہاجروں کو انصاف نہیں ملااورکسی بھی قاتل کوگرفتارنہیں کیاگیا، اسی طرح 30 ستمبر 1988ء کوحیدرآباد میں کئی گاڑیوں میں سوارمسلح دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں داخل ہوکر مہاجروں کاقتل عام کیا، سفاکی سے اندھادھندفائرنگ کرکے تین سو سے زائد مہاجروں کوشہیدکردیا، دہشت گردوں نے حیدرآبادکوخون میں نہلادیا مگراس قتل عام میں شریک تمام سفاک قاتلوں کوعدالت بردی کردیاگیا۔ اس کے علاوہ بھی کراچی کے علاقوں جلال آباد، خواجہ اجمیرنگری،گرین ٹاؤن، ماڈل کالونی اوردیگرعلاقوں پر حملے ہوئے اوربے گناہ مہاجروں کوشہیدکیاگیالیکن مہاجروں کے قاتلوں کوگرفتارنہیں کیاگیا۔ ندیم نصرت نے کہاکہ آج 12مئی کے واقعہ کاتوبہت ذکرکیاجاتاہے لیکن مہاجروں کے قتل عام کے اتنے بڑے واقعات کاکوئی ذکرنہیں کیاجاتا۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا مہاجروں کی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں ؟ آخران کے قاتل کب گرفتارکئے جائیں گے؟انہوں نے کہاکہ مہاجروں کوحقوق دینے اوران کااحساس محرومی دور کرنے کے بجائے ان کاقتل عام کیاجارہاہے، ریاستی آپریشن کے ذریعے ان کے حقوق کی آوازایم کیوایم کوکچلاجارہاہے ، مہاجروں کے متفقہ قائدالطاف حسین پرپابندیاں عائدکردی گئی ہیں ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ آج مہاجروں میں احساس محرومی اپنی انتہاکوہے ، اگرارباب اختیارنے ظلم بند نہیں کیا،ایم کیوایم کامینڈیٹ تسلیم نہیں کیااور مہاجروں کااحساس محرومی دورکرنے کے لئے اقدامات نہیں کئے تومہاجروں کے سینوں میں پلنے والاطوفان ایک لاوا کی طرح پھٹ پڑے گا۔ انہوں نے سانحہ پکاقلعہ کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمارایہ عہدہے کہ ہم اپنے شہیدوں کالہورائیگاں نہیں جانے دیں گے اوراپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 
*****








7/27/2017 5:52:42 PM