Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں نفرت کی مثلث (تکون)


(پاکستان میں نفرت کی مثلث (تکون
 Posted on: 5/4/2017 1
بہ شکریہ : نیویارک ٹائمز
4، مئی 2017ء

پاکستان میں نفرت کی مثلث (تکون)
محمد حنیف
کراچی۔پاکستان۔ پاکستان کو اپنے ازلی دشمن بھارت کے خلاف ایک نیا اتحادی میسر آگیا ہے اور اتحادی بھی ایسا جو انتہائی بے رحم قاتل ہے۔
لیاقت علی جو عام طور پر احسان اللہ احسان کے نام سے جانا جاتا رہا ہے، ایک طویل عرصہ سے (پاکستان) کے قومی میڈیا کے لئے ایک دہشت کی علامت کے طور پر مشہور تھا۔ لگ یوں رہا ہے کہ اب تمام مظالم کے بعد جو پاکستانی طالبان یا تحریک طالبان پاکستان نے کئے، یہ (احسان اللہ احسان) اب فاتحانہ انداز سے اپنے صوتی پیغامات یا خون جمادینے والے وڈیو کے ذریعے پاکستانی میڈیا اور عوام کے لئے خوف الہی کا پرچار کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کی توجہ ہٹانے کا فریضہ سرانجام دیگا ۔ جنوری 2014میں جس دن ٹی ٹی پی نے ایکسپریس ٹیلی وژن کے دو ملازمین کو قتل کیا تو اسی دن ایکسپریس ٹیلی وژن نے احسان اللہ احسان کو بذریعہ ٹیلی فون لائن پر لیا۔ اس نے انتہائی سکون سے ان دونوں ملازمین کے قتل کی وجوہات بیان کیں اور اس کا انٹرویو کرنے والے نمائندے نے اس سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے اس سے بار بار وعدہ کیا کہ وہ اسے ٹیلی وژن پر مزید وقت دیگا بشرطیکہ وہ مزید حملے نہیں کرے گا۔احسان اللہ احسان نے لاہور میں عیسائیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر ایک پارک میں خونی حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں درجنوں بیگناہ عیسائی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ماضی قریب میں اس نے ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ملالہ کو اسکول جاتے ہوئے سر میں گولی ماردی گئی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بچ جانے والی لڑکی ملالہ کو ختم کرنے کے لئے اس کا پیچھا کرتا رہے گا۔احسان اللہ احسان کے منظر عام پر آنے کے بعد گمان غالب ہے کہ پاکستانی فوج اب یہ پیغام نشر کرے گی کہ بے شک تم ہزاروں پاکستانیوں کو قتل کرسکتے ہو لیکن اگر تم صرف اتنا کہہ دو کہ تم بھارت سے شدید نفرت کرتے ہو جیسا کہ ہم (فوج) کرتے ہیں تو پھر ہم سب کچھ فراموش کردینے والے ہیں۔(لیکن فوج کو) ایک جھٹکا ضرور لگا۔ سرکاری ٹیلی وژن نے احسان اللہ احسان کا تفصیلی انٹرویو نشر کرنے سے گریز کیا کیونکہ طالبان کے ستائے ہوئے لوگوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا۔ آرمی پبلک اسکول کے مقتول بچوں کے والدین نے کہ جن کے 140بچوں کو طالبان نے انتہائی بیدردی سے قتل کردیا تھا، مطالبہ کیا کہ احسان اللہ احسان کو موت کی سزا دی جائے۔تاہم (پاکستانی) فوج نے (مقتول بچوں کے والدین کے احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے) میڈیا میں اسے زینت بنائے رکھا اور ٹی وی کیمروں کے سامنے اس کی فاتحانہ مسکراہت کو پیش کرتی رہی۔ ٹی وی کے ذریعے اس کے بیانات کو نشر کرواتی رہی کہ کس طرح اسکے طالبان ساتھیوں نے تین تین بیویاں رکھی ہوئی ہیں اور یہ کہ موجودہ ٹی ٹی پی لیڈر نے اپنے ہی استاد کی بیٹی کو بزور طاقت اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ اس تمام تر کوشش سے یہی لگ رہا ہے کہ پاکستانی سماج میں گہری جڑیں رکھنے والے طالبان جن کا اپنا نظریہ ہے کوئی ڈراؤنی اور وحشی قسم کے لوگ نہیں ہیں بلکہ وہ یک گونہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے تخلیق کردہ جنسی تشدد کرنے والے غنڈے ہیں جنھیں بھارت نے کھلا پلا کر پاکستان کے خلاف کردیا ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ بھارت نے کچھ ایسے پاکستان دشمن گروہوں کی مالی مدد ضرور کی ہے جو پاکستان کو کشمیر میں اشتعال انگیزی کا جواب دے سکیں۔ لیکن کیا یہ ضروری ہے کہ ہم محض بھارت دشمنی میں اپنے بچوں کے قاتلوں کو معاف کرکے اپنے ساتھ رکھیں؟ پاکستانی معاشرہ اس وقت بھی طالبان مخالف اور طالبان حمایتی دو حصوں میں منقسم ہے۔ معاشرے کا ایک طبقہ انھیں وحشی درندے مانتا ہے جنہوں نے ہماری چولیں تک ہلادینے والے ہلاکت خیز کام کئے تاکہ عوام ان کے خوف سے دبکی بیٹھی رہے۔ جبکہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو طالبان کو راہ راست سے بھٹکا ہوا گردانتا ہے اور انھیں بھٹکے ہوئے بھائی قرار دیتا ہے۔ یہ دلیل لاتے ہیں کہ طالبان فقط ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جو ان کی سوچ کے مطابق ہو لیکن انکے طور و انداز غلط ہیں۔یہ طبقہ انھیں جری اور بہادر مانتا ہے اور ان پر فخر بھی کرتا ہے۔ افغانستان میں ہمارے یہی بھائی تو ہیں جو آج تک امریکی استعمار کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ لیکن جب ہمارے یہی طالبان بھائی پاکستان میں دہشت پھیلاتے ہیں تو ہمیں کپکپی لگ جاتی ہے اور ہم سیخ پا ہوجاتے ہیں۔طالبان تو بھارت کے ساتھ ہماری ازلی دشمنی کے میدان کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہونا تھے کہ 2008میں جب ہندوستان اور پاکستان جنگ کی دہلیز پر پہنچ گئے تھے تو یہی طالبان تھے جن کے لیڈر نے بھارت کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہندوستان کے خلاف جنگ میں پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ لڑیں گے ۔پاکستانی طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے اعلانیہ کہا تھا کہ اگر ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو طالبان پاکستانی قوم کے ساتھ ہر دکھ اور ہر خوشی میں برابر کے شریک ہونگے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ طالبان پاکستانی افواج کے ساتھ دشمنی اور جنگ کو پس پشت ڈال کر اپنے ہتھیاروں سے پاکستان کی سرحدوں کا دفاع کریں گے۔ آج، کہ جب پوری پاکستانی قوم اس کشمکش میں ہے کہ آیا کل کے درندے آج محب وطن ہیرو بنائے جاسکتے ہیں تو ایسے عالم میں پاکستانی افواج یہ ظلم ڈھارہی ہیں کہ ان کا کہا ہوا ہر لفظ فرمان الہی ہے۔پاکستان کے مؤقر روزنامہ ڈان نے گزشتہ برس اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت اس مسئلے پر بری طرح منقسم تھی کہ ان دہشت گرد گروپس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے جو پاکستان میں دہشت گردی کررہے ہیں لیکن وہ ہندوستان کے بھی شدید مخالف ہیں اور وہ ہندوستان کے خلاف کسی نہ کسی طور جنگ کرتے رہتے ہیں۔ اس خبر کے منظر عام پر آجانے سے پاکستانی فوج کی سبکی ہوگئی اور پھر پاکستانی فوج نے اس خبر کو قومی سلامتی کے منافی قرار دیتے ہوئے اس خبر کو راز نہ رکھنے اور اسے اخبار کے حوالے کرنے اور اخبار کی جانب سے اسے شائع کرنے میں شامل تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جس کے بعد ایک اعلی سطح کی تفتیش کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ وہی خبر آجکل ڈان لیکس کے عنوان سے زباں زد عام ہے۔گزشتہ ہفتے، وزیرآعظم نواز شریف نے تحقیقاتی رپورٹ کے پیش نظراپنے دو قریبی ساتھیوں کو انکے عہدوں سے برطرف کردیا جبکہ ایک صحافی کا کیس اخبارات کی نمائندہ تنظیم کے سپرد کردیا کہ وہ اس صحافی کی تقدیرکا فیصلہ کرے جس کے جواب میں پاکستانی افواج کے ترجمان نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعے (وزیراعظم کے ان اقدامات) نوٹیفیکیشن کو رد کردیا۔ پاکستانی افواج سول قیادت کے ساتھ ہونے والی کسی بحث (فیصلے) کو ماننے کی پابند نہیں ہے کہ کوناچھا اور کون برا دہشت گرد ہے یا کون اچھا پاکستانی اور کون برا پاکستانی ہے۔ آج بھی بہت سے پاکستانی ،پاکستانی افواج سے محبت کرتے ہیں۔ اور بہت سے سیاسی قائدین اس سے (فوج) سے سہمے رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے سیاسی حریفوں کا قصہ پاک کرنے کے لئے پاکستانی فوج کی طرف دیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو قومی سلامتی کے خلاف بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ شکر ہے کہ غدار نہیں قرار دیتے۔ کچھ سیاستدان تو ایسے بھی ہیں جو وزیراعظم نواز شریف کی اس جرات پر کہ انھوں نے بند دروازوں کے پیچھے ایسے فیصلے لئے جو پاکستانی فوج کی اچھے اور برے دہشت گردوں کی نرالی منطق سے ٹکراتے ہیں، اس بات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ اس جرات رندانہ پر نواز شریف کا سر تن سے اتارپھینکا جائے۔ آجکل ایک کہاوت کا بہت زیادہ چلن ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک فوج رکھتے ہیں لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی فوج ملک رکھتی ہے۔ اگر سیاستدان ملک کو واپس لینا چاہتے ہیں تو انھیں محض پاکستانی فوج کو خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے کو غدار کہنے کی روایت ترک کرنا ہوگی۔
۔۔۔۔۔

7/23/2017 3:56:34 AM