Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کالعدم جہادی اورفرقہ پرست تنظیموں کوفوج اور آئی ایس آئی کے بعض جرنیلوں کی کھلی سرپرستی حاصل ہے۔الطاف حسین


 Posted on: 4/15/2017
کالعدم جہادی اورفرقہ پرست تنظیموں کوفوج اور آئی ایس آئی کے بعض جرنیلوں کی کھلی سرپرستی حاصل ہے۔الطاف حسین
فوج ، آئی ایس آئی اورایم آئی کے بعض طاقتور جرنیلوں نے طویل عرصہ سے منافقوں کا اپنا ایک الگ گروپ بنایاہواہے
اس گروپ کے افرادسلام کی غلط تشریح کرتے ہیں اوراسے غلط طریقے سے پیش کرکے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں ،
مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں مذہبی جنونیو ں کے ہاتھوں نوجوان طالبعلم مشعال کابہیمانہ قتل ایسی ہی تربیت اورترغیب کانتیجہ ہے
کسی پر بھی توہین رسالت ؐ کاجھوٹا الزام عائد کرنے میں فوج کے بعض جرنیلوں ،آئی ایس آئی کے افسران ،وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وزارت داخلہ کا ماتحت ادارہ ایف آئی اے کے بعض طاقتورافراد پیش پیش ہیں
فوج، آئی ایس آئی کے جہادی جرنیلوں نے جوجہادی گروپ بنائے ہیں وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان بھی اس جہادی گروپ کاحصہ ہیں
، فوج ، آئی ایس آئی کے طاقتورجرنیل جب پروکسی وار کیلئے جہادی گروپ تشکیل دیں گے ،ان کی فنڈنگ کریں گے ،انہیں تربیت
اور اسلحہ فراہم کریں گے توپھرملک کی نیک نامی ہوگی یابدنامی ہوگی
جس ملک کی سپریم کورٹ اندھی ، گونگی ،بہری بن جائے ۔۔۔منافقوں کی ساتھی بن جائے تواس قوم کاپھر اللہ ہی حافظ ہے
مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبعلم مشعال خان کے سفاکانہ قتل پربابائے مہاجر قوم قائد تحریک جناب الطاف حسین کا آڈیو پیغام 

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں کالعدم جہادی اورفرقہ پرست تنظیموں کوفوج اور آئی ایس آئی کے بعض جرنیلوں کی کھلی سرپرستی حاصل ہے۔ فوج ، آئی ایس آئی اورایم آئی کے بعض طاقتور جرنیلوں نے طویل عرصہ سے منافقوں کا اپنا ایک الگ گروپ بنایاہواہے جو اسلام کی غلط تشریح کرتے ہیں اوراسے غلط طریقے سے پیش کرکے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں ، انہیں خود کش حملوں کی تعلیم دیتے ہیں ،انہیں شہر شہر میں جاکر دھماکے کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں مذہبی جنونیو ں کے ہاتھوں نوجوان طالبعلم مشعال کابہیمانہ قتل بھی ایسی ہی تربیت اورترغیب کانتیجہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ کسی پر بھی توہین رسالت ؐ کاجھوٹا الزام عائد کرنے میں فوج کے بعض جرنیلوں ،آئی ایس آئی کے افسران ،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وزارت داخلہ کا ماتحت ادارہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA ) کے بعض بڑے بڑے طاقتورافراد پیش پیش ہیں۔ جنا ب الطاف حسین نے یہ بات نوجوان طالبعلم مشعال کے بہیمانہ قتل کے واقعہ پر اپنے ایک آڈیوپیغام میں کہی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا، آپؐ نے اپنے اوپرحملہ کرنے والے اورتکالیف دینے والوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کامظاہر ہ کیااورکبھی کسی کوکوئی تکلیف نہیں دی لیکن مسلمانوں میں ایک بدبخت طبقہ ایسابھی ہے جو حضوراکرم ؐ کی شان میں گستاخی کرنے کا مرتکب ہوتا ہے اور مسلمانوں کاروپ دھار کراور مسلمانوں کی سی باتیں کرکے مسلمانوں کے ہی خلاف کام کرتاہے۔ ایسے لوگوں کیلئے سرکاردوعالم ؐ نے فرمایا کہ یہ منافقین ہیں ان کاکام ایسا ہے جس سے دیگر مسلمانوں میں نفرت پھیلے وہ گمراہ ہوں اور اسلام کے اصل معنی سمجھنے کے بجائے 

غلط معنی سمجھیں ۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ہماری ریاست کے بعض طاقتوراداروں کے بعض جرنیلوں یعنی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے بعض جرنیلوں نے اورآئی ایس آئی کے بعض جرنیلوں نے منافقوں کی طرح عمل کرکے القاعدہ بنائی، طالبان بنائی اور داعش بنائی ،جس کاثبوت مسجد ضرار کی طرح وہ لال مسجدہے جو آبپارہ میں آئی ایس آئی کے دفترکے سامنے نہ صرف بنی ہوئی ہے ،فوج ،آئی ایس آئی اورایم آئی کے بعض طاقتور جرنیلوں نے طویل عرصہ سے منافقوں کا اپنا ایک الگ گروپ بنایاہواہے ، یہ لوگ اسلام کی غلط تشریح کرتے ہیں، نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں ، انہیں خود کش حملوں کی تعلیم دیتے ہیں ۔۔۔ انہیں مسجد، مزارات، امام بارگاہوں میں نمازیوں پر حملے کرنے کی تربیت دیتے ہیں ۔۔۔شہر شہر میں جاکر دھماکے کرنے کی تربیت دیتے ہیں ۔انہوں نے سینکڑوں منافقین کے گروپس تیار کرلیے ہیں جن پر ہاتھ نہیں ڈالاجاتا۔انہوں نے کہاکہ سیاسی ملاؤں کی اکثریت اسلامی تعلیمات کومسخ کرکے پیش کررہے ہیں اورجان بوجھ کر دنیابھرمیں دین اسلام کی امیج خراب کررہے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مردان میں 14 اپریل کوعبدالوالی خان یونیورسٹی میں طالبعلم مشعال کے سفاکانہ قتل کا انتہائی افسوسناک واقعہ انہی منافقین کے ہاتھوں ظہورپذیر ہوا ۔ انہوں نے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ 23 سالہ طالبعلم مشعال خان یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اپنے کمرے میں بیٹھے اسٹڈی کررہے تھے کہ منافقوں کے ٹولے کے کچھ افراد ان کے کمرے میں داخل ہوئے اور یہ الزام لگایا کہ انہوں نے توہین رسالت ؐ پر مبنی مواد فیس بک پر اپ لوڈ کیا ہے جبکہ اب تک کی جانے والی تحقیقات کے مطابق جوالزامات لگائے گئے ہیں وہ حقائق کے برعکس ہیں ۔یہ افرادمشعال کو زدوکوب کرکے گھسیٹتے ہوئے ہاسٹل کے باہر لے آئے ،ہاسٹل کے باہر سینکڑوں طلبہ جمع تھے جو مشعال خان کے خلاف اور مختلف نوعیت کے نعرے لگارہے تھے ،تعجب کی بات یہ ہے کہ جائے وقوعہ پر پولیس موجودتھی جس نے کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی ۔پولیس نے وحشت وبربریت کامظاہرہ کرنے والے شرپسندوں کو روکنے اور مشعال خان کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔سفاک منافق طلبہ نے مشعال خان کو سرعام برہنہ کرکے لاٹھیوں، ڈنڈوں، اینٹوں اورپتھروں سے بدترین تشددکا نشانہ بنانا شروع کردیا،مشعال خان گڑگڑا کر دہائیاں دیتارہا کہ مجھے مت مارو،میں بے گناہ ہوں ، میں نے توہین رسالت ؐ کے حوالہ سے کوئی پوسٹ نہیں کی ہے ،میں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا لیکن سفاک منافق طلبہ نے مشعال خان کی ایک نہ سنی اوراسے بے رحمی سے تشددکا نشانہ بناکرادھ مرا کردیا ۔ظالم منافق طلبہ نے اس پر ہی بس نہیں کیابلکہ پھر گولی مار کر ہلاک کردیا بات یہیں ختم نہیں ہوئی ، مشعال خان کے برہنہ مردہ جسم پر بھی اینٹیں اورپتھر برسائے گئے ، لاٹھیاں، ڈنڈے برسائے گئے ،کانچ کی بوتلیں ماری گئیں۔ اس واقعہ کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ بھی ہے کہ جامعہ کے بعض طلباء نہ صرف ظلم وبربریت کا یہ مظاہرہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے، انہوں نے اسے ر وکنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ وہ بھی ڈرگئے کہیں مشعال کی طرح ان کابھی یہی حشرنہ ہو۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق مشعال خان کو ہلاک کرنے سے قبل عبدالولی خان یونیورسٹی کی طلباء تنظیموں کی ایک میٹنگ ہوئی ہے ان طلبہ تنظیموں میں سرفہرست پاکستانی فوج کی مشہور جماعت اسلامی کی بغل بچہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ تھی جوان طلبہ تنظیموں کی قیادت کررہی تھی۔ان طلباء تنظیموں میں اسلامی جمعیت طلباء کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی طلباء تنظیم انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن ، اورباچہ خان کی جوعدم تشددکے پیروکار تھے ان کی پارٹی، اے این پی کی طلباء تنظیم کے طلبہ بھی اس اجلاس میں شریک تھے ۔انہوں نے میٹنگ کرنے کے بعد حملہ کیا۔ انہوں نے مشعال خان کے ساتھ ساتھ اس کے دو دوستوں پر بھی تشدد کیاگیا اور انہیں زخمی کیاگیا ۔۔۔ان میں سے ایک زخمی عبداللہ پولیس کے پاس ہے جبکہ دوسرا زخمی دوست زبیرآخری اطلاعات تک تاحال لاپتہ ہے ۔جناب الطاف حسین نے واقعہ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ فوج، آئی ایس آئی کے جہادی جرنیلوں نے جوجہادی گروپ بنائے ہیں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان بھی اس جہادی گروپ کاحصہ ہے،اسی وجہ سے وزیرداخلہ نے ابھی تک اس واقعہ کی مذمت میں ایک لفظ نہیں کہا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر جب ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی سے ملنے جیل گئے جسے توہین رسالت ؐ کے الزام میں سزاسنائی گئی تھی توانہوں نے وہاں توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال پر اپنے تحفظات کااظہارکیاتھا۔سلمان تاثیرنے ایک نجی ٹیلی ویژن کی ایک خاتون اینکر کو 

انٹرویودیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا تھاکہ وہ توہین رسالتؐ کے قانون کے خلاف ہرگز ہرگز نہیں ہیں صرف اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف ہیں لیکن اس کے باوجود 4، جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر کے گارڈ اور ایلیٹ پولیس فورس کے اہلکار ممتاز قادری نے اسلام آبادمیں انہیں 27 گولیاں مارکرشہید کردیا۔ بادشاہی مسجد لاہورکے پیش امام نے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا اور یہ بہانہ بنایا کہ وہ شہر میں موجود نہیں ہیں، اس کے علاوہ پانچ سونام نہاد علمائے سو نے ممتا زقادری کے سفاکانہ عمل کی حمایت کی اورعوام پرزوردیا کہ وہ بھی سلمان تاثیرکی نماز جنازہ کا بائیکاٹ کریں اورکوئی بھی نامورعالم سلمان تاثیر کی نمازجنازہ پڑھانے کیلئے آگے نہیں آ یا۔جب ممتازقادری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی میں پیش کیاگیا تومنافق وکلاء اور زندگی کے دیگرشعبوں سے تعلق رکھنے والے منافقوں نے اس کا پرتپاک استقبال کیا ، اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاورکیں۔انہوں نے وکلابرادری، بارایسوسی ایشنز ، سپریم کورٹ ، ہائیکورٹس کی بارایسوسی ایشنزکے عہدیداران اوروکلاء سے مخاطب کرکے کہاکہ آپ مجھ کوجتنی بھی گالیاں دینی ہیں دیں ،مجھ پر تمام الزامات لگادیں لیکن خداکے لئے اپنے ضمیر کوٹٹولیں اورسوچیں کہ ایک قاتل پر وکلاء نے پھولوں کی پتیاں نچھاورکیں۔ممتازقادری کا استقبال کرنے والے وکلاء میں شامل ایک وکیل شوکت صدیقی کو آج اسلام آباد ہائی کورٹ کاجج بنادیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ آپ ججوں میں بھی منافقوں کوتلاش کریں۔یہ پیاز، سبزی دودھ وغیرہ پر توسوموٹولے لیتے ہیں،کسی کے پاس شراب کی دوبوتلیں نکل آئیں تویہ سوموٹولے لیتے ہیں مگر ہزاروں بلوچ اور مہاجرلاپتہ ہیں، ملک کے دیگر حصوں کے ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں، ان کے بارے میں سوموٹو نہیں لیتے جبکہ لاپتہ افراد کے خاندانوں نے سپریم کورٹ میں صرف پٹیشنز ہی داخل نہیں کیں بلکہ کئی کئی دن تک بھوکے پیاسے رہ کرمظاہرے بھی کئے ، بھوک ہڑتالیں بھی کیں مگرعدالت نے ان کی نہیں سنی ۔انہوں نے کہاکہ جس ملک کی سپریم کورٹ اندھی ، گونگی ،بہری بن جائے ۔۔۔منافقوں کی ساتھی بن جائے تواس قوم کاپھر اللہ ہی حافظ ۔۔۔پھریہ ملک کیسے سلامت رہے گا۔
انہوں نے کہاکہ جب ممتازقادری کو 29، فروری 2016ء کو پھانسی دی گئی تو لشکرجھنگوی،لشکرطیبہ اورجماعت اہلسنت نے ممتاز قادری کو مسلم دنیا کا ہیرو قرار دیا ۔۔۔المیہ یہ ہے کہ سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر جواس کیس کے گواہ تھے ان کو 26 اگست 2011ء کو تحریک طالبان پاکستان نے لاہور سے اغواء کیااور بعد میں وہ بقول سیکوریٹی فورسز 8، مارچ2016ء کو بلوچستان کے علاقے کچلاک سے بازیاب کرائے گئے ،اب کوئی ان سیکوریٹی فورسز سے یہ پوچھے کہ پانچ سال تک تم شہباز تاثیر کو بازیاب کیوں نہ کراسکے اورپھرپانچ سال بعد کیاتمہیں الہام ہوگیا کہ شہباز تاثیر کچلاک میں موجود ہیں؟
جناب الطاف حسین نے پانچ پاکستانی بلاگرز سلمان حیدر،وقاص احمد گورایہ ، ثمر عباس ، عاصم سعید اور احمد رضا نصیر کوبھی فوج کے منافقوں نے اغواء کیا، پانچوں بلاگرز کو 21 دن تک نامعلوم مقام پر قیدرکھاگیا،ان پر مظالم توڑے گئے ، ان پر ذہنی وجسمانی تشدد کیاگیا،ان پربھی توہین رسالت ؐ کاالزام لگادیافوج کے انہی منافق لوگوں نے جنہوں نے انہیں اغواکیاتھا ان کے خلاف پاکستان میں کالعدم جہادی تنظیموں کے جلوس بھی نکالے گئے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں کھلے عام کہتاہوں کہ کسی پر بھی توہین رسالت ؐ کاجھوٹا الزام عائد کرنے میں فوج کے بعض جرنیلوں ،آئی ایس آئی کے افسران ،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان اور وزارت داخلہ کا ماتحت ادارہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA ) کے بعض بڑے بڑے طاقتورافراد پیش پیش ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسلام آبادمیں آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹرکے سامنے لال مسجد اورجامعہ حفصہ ہے جن کے مسلح جتھوں نے مورچے بناکرفوج سے جنگ لڑی۔ فوج کے چھ ایس ایس جی کمانڈوزسمیت متعدداہلکاروں کوشہیدوزخمی کیا، جامعہ حفصہ کی طالبات نے داعش کے سربراہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کادرس بھی دیا۔لال مسجدکے خطیب مولانا عبدالعزیز چلاچلا کرکہتے ہیں کہ میں پاکستان کے آئین کوماننے سے انکار کرتاہوں۔۔۔جوشہریوں کوقتل کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں، مولاناعبدالعزیزکے خلاف اقدام قتل کی ایف آئی آر بھی درج ہے لیکن وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارفرماتے ہیں ’’ وہ ہمارے منافق قبیلے کاہے ، اس مولانا کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جوکالعدم جہادی اورفرقہ پرست تنظیمیں ہیں ان کوفوج اور آئی ایس آئی کے بعض جرنیلوں کی کھلی سرپرستی حاصل ہے، فوج کے طاقتورجرنیل ، آئی ایس آئی کے طاقتورجرنیل جب پروکسی وار کے لئے جہادی گروپ تشکیل دیں گے۔۔۔ان کی 

فنڈنگ کریں گے۔۔۔انہیں تربیت دیکر پیسہ ، ٹرانسپورٹ اور اسلحہ فراہم کریں گے توپھرملک کی نیک نامی ہوگی یابدنامی ہوگی؟۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کااخبارات میں بیان شائع ہواجس میں کہاگیاجوبھی گستاخانہ مواد سوشل میڈیاپر دے گا اس کوسخت سزادی جائے گی۔مطلب چوہدری نثارکہہ رہے ہیں کہ جس کسی کوکوئی ایسافردملے وہ قانون ہاتھ میں لے اور اس کوسزادیدے ۔ایک اوربیان میں چوہدری نثار نے یہ دھمکی دی کہ جوبھی سوشل میڈیا ویب سائٹ گستاخانہ مواد کوہٹانے کے سلسلے میں تعاون نہیں کریں گی ان کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے گا۔اس طرح چوہدری نثار لوگوں کوترغیب دے رہے ہیں کہ جس کوبھی چاہواس کاالزام لگاکرمارواور مرجائیں توان پر اینٹوں کی بارش کرو۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ۔۔۔ختم نبو ت ﷺ اورقرآن مجیدپر کامل یقین رکھتا ہوں اور میراایمان ہے کہ سرکاردوعالم ؐ۔۔۔ سرورکونینؐ۔۔۔رحمت اللعالمین ؐ۔۔۔نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ؐ پرایمان رکھنے والا توہین رسالت ؐ کا تصوربھی نہیں کرسکتا ،میں غلامان رسول ؐ میں سے ہوں۔انہوں نے کہاکہ ایسے اینکرزپرسنزاور ٹی وی تجزیہ نگارجوجہادی عناصر کی حمایت کرتے ہیں اورٹی وی پر بیٹھ کرمظلوموں کوقاتل اورقاتلوں کومظلوم بناکرپیش کرتے ہیں وہ بے غیرت اوربے شرم ہیں ۔ایسے اینکرپرسنزاورتجزیہ نگار خداکاخوف کریں ورنہ وہ اس دنیامیں بھی ذلیل ورسواہوں گے اورآخرت میں بھی ذلیل ورسواہوگے ۔ 
جناب الطاف حسین نے سوال کیاکہ جب ملک کا ہرذی شعور بچہ بچہ ، نوجوان کہہ رہا ہے کہ مشعال کاقتل سراسر ظلم ہے ، بربریت ہے ، وحشت ہے ، ہولناک ، المناک واقعہ ہے ، سانحہ ہے تو چیف منسٹر کے پی کے کو اسمبلی میں مذمت کرنے کی کیاضرورت تھی؟ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو جھوٹی مذمت کرنے کی کیاضرورت تھی ؟اوردیگر لوگوں کو مذمت کرنے کی کیاضرورت تھی؟ کیا ان کایہ فرض نہیں تھا کہ مشعال خان کی نماز جنازہ ہی میں وزیراعلیٰ شریک ہوجاتے ،عمران خان شریک ہوجاتے ۔ اے این پی کے رہنماؤں میں سے کسی کوتوفیق نہیں ہوئی کہ وہ مشعال کے جنازے میں شریک ہوجاتا ۔ انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کے رہنماؤں کو نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنا اس شک وشبہ اورجو عوام کہہ رہے ہیں اس پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے کہ انہی رہنماؤں کی جماعتوں کی طلبا تنظیموں نے مشعال خان کو شہید کیاہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوں نے آپ سب غورکیجئے اورپھرفیصلہ کیجئے کہ آپ کو آئندہ خصوصی طورپرنوجوانوں کیاآپ کو ان جماعتوں کا ساتھ دینا ہے یا انہیں خیرباد کہہ دینا ہے ۔۔۔ملک کو کیاتباہی کی طرح لیکرجانا ہے یا سلامتی کی طرف لیکرجاناہے ،یہ آپ کو غور کرنا ہے ۔۔۔سرجوڑ کر بیٹھئے ،غورکیجئے اورفکرکیجئے ۔۔۔اللہ غوروفکرکرنے کی نہ صرف دعوت دیتا ہے بلکہ اللہ غوروفکر کرنے والوں کو پسند بھی فرماتا ہے ۔۔۔اللہ تعالیٰ اپنا رحم فرمائے ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر کرے اورجب ہم سب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہوں توہمارے لب پر کلمہ طیبہ ’’لاالہ الا محمد الرسول اللہ‘‘ ہو۔۔۔اللہ تعالیٰ مشعال خان کو جنت الفردوس میں شہدائے احد، شہدائے بدر، شہدائے کربلا کے درمیان جگہ عطافرمائے )آمین ثمہ آمین

*****


12/15/2017 4:25:29 AM