Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

Press Conference of Coordination Committee of MQM held on 13 April 2017 at MQM International Secretariat London


 Posted on: 4/13/2017
ایم کیوایم کے کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل بندکیاجائے۔ ندیم نصرت،کنوینرایم کیوایم
ایم کیوایم کے کارکن شارق کمال کودوسال تک حراست میں رکھ کرتشددکرکے قتل کردیاگیا
پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کواپنے پیروں تلے روندرہے ہیں اورقانون کاقتل کررہے ہیں
کراچی میں قانون نافذکرنے والے اداروں کے غیرقانونی سیل بندکئے جائیں،عدالت عظمیٰ اورآرمی چیف اس معاملے کانوٹس لیں
اقوام متحدہ اس سلسلے میں تحقیقات کیلئے اپنے انسانی حقوق کے ادارے کی ٹیمیں پاکستان بھیجے
ایم کیوایم کے کارکنوں کو غائب کیاجارہاہے ، یہی بلوچستان کی کہانی ہے ، لوگ پاکستان کو ’’ اسلامی جمہوریہ غائبستان ‘‘ کہنے لگے ہیں
ایم کیوایم کے کارکنوں کوسرکاری حراست میں جان سے مارنے یاسنگین مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دے کرپی ایس پی میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈالاجارہاہے
ایم کیوایم کے 16لاپتہ کارکنوں کو رینجرز نے پی ایس پی کے دفترپہنچایاہے جن میں سے بعض کی حالت سرکاری حراست میں بے پناہ تشددکے باعث بہت ہی خراب تھی
آخر پاکستان جمہوری ملک ہے یاکوئی بنانا ری پبلک ہے کہ جہاں ریاست جیے جاگتے انسانوں کے ساتھ کیاکررہی ہے ؟ 
وزیراعظم نوازشریف یہ نہ سمجھیں کہ وہ بھی اس عمل سے محفوظ رہ پائیں گے ،ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب

متحدہ قومی موومنٹ ( پاکستان ) کے کنوینرندیم نصرت نے ایم کیوایم کے لاپتہ کارکن شارق کمال کے ماورائے عدالت قتل کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کواپنے پیروں تلے روندرہے ہیں اورقانون کاقتل کررہے ہیں۔ ایم کیوایم کے کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل بندکیاجائے اورکراچی میں رینجرزاوردیگرقانون نافذکرنے والے اداروں کے غیرقانونی سیل بندکئے جائیں،عدالت عظمیٰ اورچیف آرمی اسٹاف اس معاملے کانوٹس لیں۔ اقوام متحدہ اس سلسلے میں تحقیقات کیلئے اپنے انسانی حقوق کے ادارے کی ٹیمیں پاکستان بھیجے ۔انہوں نے یہ مطالبہ ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ایم کیوایم شاہ فیصل سیکٹرکے کارکن شارق کمال کے ماورائے عدالت قتل کے واقعہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ شارق کمال کو30مارچ 2015ء کو رینجرزنے ان کی دکان سے حراست میں لیاتھااوراس کے بعد انہیں لاپتہ کردیاگیا۔ شارق کمال کی فیملی نے رینجرز کے ہیڈکوارٹررزکے کئی چکرلگائے لیکن رینجرزنے شارق کمال کی گرفتاری سے صاف انکارکردیا۔ جس کے بعد شارق کمال کے اہل خانہ نے ہائیکورٹ میں اس کے لاپتہ ہونے کے بارے میں پٹیشن دائر کی جس کانمبر1770 / 15 ہے۔ اس کی سماعت کے دوران بھی پولیس اوررینجرز شارق کی گرفتاری سے مسلسل انکارکرتے رہے ، شارق کمال شہیدکی اہلیہ اوربچے ایم کیوایم کی جانب سے لاپتہ افرادکیلئے کئے جانے والے مظاہروں میں شریک ہوتے رہے ۔ 25فروری 2017ء کوبھی شارق کمال کی اہلیہ نے اپنے بچوں اورایم کیوایم کے دیگرلاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں ایک بارپھرپریس کانفرنس کی اورشارق کمال کی بازیابی کامطالبہ کیالیکن حکومت ،عدلیہ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس پر کوئی نوٹس نہ لیا۔ وہی قانون نافذ کرنے والے ادارے جو اب تک شارق کمال کی گرفتاری سے مسلسل انکارکررہے تھے انہوں نے شارق کمال شہیدکے بھائی اوروالدکوبلاکریہ بتایاکہ شارق رینجرزکی تحویل میں تھااور حراست کے دوران اس کی طبیعت خراب ہوگئی اوراس کاانتقال ہوگیاہے ۔ شارق کمال کی لاش بھی اہل خانہ کونہیں دی گئی اوریہ کہا گیاکہ شارق کمال کی تدفین مواچ گوٹھ کے قبرستان میں کردی گئی ہے ۔ اس سے قبل بھی ایم کیوایم کے 72کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کیاجاچکاہے ۔ یہ 73واں واقعہ ہے۔ شارق کمال شہید کی عمر 34سال تھی ۔ ان کے تین بچے ہیں جن میں ایک بیٹی اوردوبیٹے شامل ہیں۔ندیم نصرت نے اس موقع پر شارق کمال کی سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی پٹیشن،ان کے اہل خانہ کی پریس کانفرنس کے اخباری تراشے اوران کے بچوں کی فریاد کرتے ہوئے تصاویربھی میڈیاکودکھائیں۔ انہوں نے کہاکہ اگرشارق کمال پر کوئی الزام بھی تھاتواسے عدالت میں پیش کیاجاتااورقانون کے تحت اس پر مقدمہ چلایاجاتالیکن یہ افسوس کی بات یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خودہی قانون کاقتل کررہے ہیں۔ شارق کمال کی طرح ایم کیوایم کے درجنوں بے گناہ کارکنوں کوگرفتاری کے بعد کسی بھی قسم کے قانونی عمل سے گزارنے کے بجائے اسی طرح سرکاری حراست میں تشددکانشانہ بناکرشہیدکردیاگیا، ایم کیوایم کے کارکنوں کوپکڑ پکڑ کرغائب کیاجارہاہے ، یہی بلوچستان کی کہانی ہے ، اسی وجہ سے لوگ پاکستان کو ’’ اسلامی جمہوریہ غائبستان ‘‘ کہنے لگے ہیں۔ ندیم نصرت نے کہاکہ کراچی میں رینجرز نے ایسے خصوصی سیل بنارکھے ہیں جہاں ایم کیوایم کے گرفتارشدگان کوبدترین تشددکانشانہ بنایاجارہاہے، انہی سیلوں میں ایم کیوایم کے جوکارکنان بدترین تشددکے باعث جاں بحق ہوجاتے ہیں انکی لاشیں ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیاکہ یہ سیل بندکرائے جائیں اوریہ سیل چلانے والے افرادکے خلاف کارروائی کی جائے۔ندیم نصرت نے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکنوں کوغائب کیاجاتاتھااورہم اس پر احتجاج کرتے تھے تووزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ اورپیپلزپارٹی کے تمام رہنماکہتے تھے کہ ایم کیوایم والے کیوں چیخ رہے ہیں،انہیں قانون کواپناکام کرنے دیناچاہیے۔ آج پیپلزپارٹی کے تین افرادلاپتہ ہوئے ہیں تو پیپلزپارٹی نے آسمان سرپراٹھالیاہے،ہم اس صورتحال پرخوش نہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مکافات عمل ہے ۔ندیم نصرت نے کہاکہ پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ کسی بھی سول ادارے نے انہیں نہیں اٹھایا، جبکہ سندھ حکومت کہتی ہے کہ اسے معلوم نہیں توپھرپاکستان میں کون قانون کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج اگروزیراعظم نوازشریف بھی سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنے پر خاموش ہیں تو یہ نہ سمجھیں کہ وہ بھی اس عمل سے محفوظ رہ پائیں گے۔ندیم نصرت نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی کہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکن شارق کمال کے دوران حراست قتل کے واقعہ کی تحقیقات کرائیں اورتمام لاپتہ کارکنوں کوبازیاب کرایاجائے ، لوگوں کوپکڑکرغائب کرنے کاسلسلہ بندکرایاجائے ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ رینجرز اورسرکاری ایجنسیوں کے لوگ ایم کیوایم کے کارکنوں اور عہدیداروں کو کھلی کھلی دھمکیاں دے کرانہیں مجبورکررہے ہیں کہ وہ پی ایس پی میں شامل ہوں۔ جن کارکنوں کو گرفتارکیاجارہاہے ان پر سرکاری حراست میں تشددکرکے انہیں بھی جان سے مارنے یاسنگین مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دے کران پرپی ایس پی میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈالاجارہاہے اورجوپی ایس پی میں شامل ہونے کیلئے تیارہوجاتاہے اسے پی ایس پی کے دفترپہنچادیاجاتاہے۔ ندیم نصرت نے انکشاف کیا کہ کل ایم کیوایم کے 16لاپتہ کارکنوں کو رینجرز نے پی ایس پی کے دفترپہنچایاہے جن میں سے بعض کی حالت سرکاری حراست میں بے پناہ تشددکے باعث بہت ہی خراب تھی۔انہوں نے سوال کیا کہ آخر پاکستان جمہوری ملک ہے یاکوئی بنانا ری پبلک ہے کہ جہاں ریاست جیے جاگتے انسانوں کے ساتھ کیاکررہی ہے ؟ ندیم نصرت نے سندھ ہائیکورٹ میں ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذوالفقارمہرکی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف تو ایم کیوایم کے کارکنوں کوغائب کیاجارہاہے اور سرکاری حراست میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف متعصب پولیس افسران ہائیکورٹ میں عدالت کوگمراہ کرنے کے لئے یہ شرمناک رپورٹ پیش کررہے ہیں کہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان انڈیافرارہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ ان کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیاہے اسلئے اس طرح کی گمراہ کن رپورٹس عدالت میں پیش کی جارہی ہیں۔
*****


8/24/2017 3:51:05 AM