Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عدلیہ کے جج صاحبان سولجربازارمیں قدیم اسکول گرانے والے عناصر کے خلاف سوموٹولے کر سخت سے سخت کارروائی کریں ۔ندیم نصرت، کنوینر ایم کیوایم


 Posted on: 4/9/2017 1
عدلیہ کے جج صاحبان سولجربازارمیں قدیم اسکول گرانے والے عناصر کے خلاف سوموٹولے کر
سخت سے سخت کارروائی کریں ۔ندیم نصرت، کنوینر ایم کیوایم 
پیپلزپارٹی کی حکومت کراچی میں قیمتی زمینوں پر قائم پرانے اسکولوں کوگراکران کی زمین بلڈرزمافیاکوفروخت کررہی ہے
عوامی اطلاعات کے مطابق اس کاایک بڑاحصہ رینجرزکوبھی جاتاہے
پیپلزپارٹی کی حکومت نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکراندرون سندھ کے سینکڑوں اسکولوں کو اوطاق میں تبدیل کردیاہے
چھوٹے صوبوں میں نئی نسل کوتعلیم سے محروم کرنے کیلئے پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ اورپنجابستان کی حکومت ایک ہی پیج پر ہیں
اقوام متحدہ کے شعبہ تعلیم سے وابستہ نمائندوں کوفوراً پاکستان بھیجاجائے تاکہ وہ ان تمام واقعات کی تصدیق کرسکیں
آئندہ ’’ پنجابستان ‘‘ یعنی (پاکستان ) کوتعلیم کی مدمیں براہ راست امداد دینے کے بجائے اقوام متحدہ کے نمائندگان کے ذریعے ہی
وہ رقم خرچ کرائی جائے ۔ندیم نصرت کی ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل

متحدہ قومی موومنٹ ( پاکستان )کی رابطہ کمیٹی کے کنوینرندیم نصرت نے سولجربازارکے علاقے میں قائم ایک قدیم اسکول کوگرائے جانے کی شدیدمذمت کی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں ندیم نصرت نے کہاکہ یہ اسکول 1928ء میں ایس ڈیس ایبریو( S. D's Abreo ) نے قائم کیاتھا اور اس وقت سے اب تک اس اسکول سے لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ اس اسکول کی عمارت کو تاریخی ورثہ بھی قراردیاگیاتھالیکن افسوس کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے ، سندھ رینجرز، پولیس اورلینڈمافیاکے ساتھ ملکر گزشتہ رات یعنی رات کی تاریکی میں اس اسکول کی عمارت کوبلڈوزراورہیوی مشینرلاکرگرادیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ عمل قانونی ہوتاتودن کے اجالے میں کیاجاتالیکن چونکہ یہ غیرقانونی تھااسلئے رات کی تاریکی میں کیاگیا۔ اس طرح پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ نے کراچی میں قائم تمام اسکولوں کوگراکران کی زمین لینڈمافیاکوبیج کر تعلیم کے مقدس کام کو داؤ پرلگاکراسے نوٹ چھاپنے کی مشین بنایاہواہے اورعوامی اطلاعات کے مطابق اس کاایک بڑاحصہ رینجرزکوبھی جاتاہے۔ ندیم نصرت نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی جاگیردارانہ وڈیرانہ حکومت نے پہلے ہی پورے سندھ کے اندرونی علاقوں میں دیہی طلبہ کو تعلیم سے محروم رکھنے کیلئے وہاں قائم ہونے والے تمام اسکولوں کو اوطاق میں تبدیل کردیاہے۔ 1990ء میں سندھ کی مخلوط حکومت میں شامل ایم کیوایم کے وزیرتعلیم نے 400سے زائد اسکول قائم کرکے انتھک محنت اورجدوجہدکے ساتھ جوخوش آئنداورنیک کام کیا تھا مگر پیپلزپارٹی کی حکومت نے پنجابی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکران اسکولوں کو اوطاق میں تبدیل کردیاہے اورچھوٹے صوبوں میں نئی نسل کوتعلیم سے محروم کرنے کیلئے پیپلزپارٹی کی حکومت اورپنجابستان کی حکومت ایک ہی پیج پر ہیں۔ ندیم نصرت نے کہاکہ جیساکہ یہ اطلاعات میڈیاکے ذریعے سامنے آگئی ہیں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے سولجربازارکے اس اسکول کی عمارت کوبھاری رقوم کے عوض فروخت کردیاہے،اسی طرح اس بات کابھی قوی امکان ہے کہ 
پیپلزپارٹی کی حکومت شہرکے مختلف علاقوں میں قیمتی زمینوں پر قائم پرانے اسکولوں کو بلڈرزمافیاکوفروخت کررہی ہے تاکہ ایک طرف تودولت کمائی جائے اور دوسری طرف کراچی کے بچوں سے ان کے اسکول چھین کرانہیں تعلیم سے محروم رکھا جائے۔ ندیم نصرت نے کہاکہ یہ کراچی کے بچوں کے تعلیمی مستبقل کا معاملہ ہے لہٰذا اگرعدلیہ کے جج صاحبان میں ذرہ برابربھی خوف خداہے تو وہ اسکول گرانے والے عناصر کے خلاف سوموٹولے کر سخت سے سخت کارروائی کریں ورنہ بہترہے کہ وہ انصاف کی کرسیوں سے استعفیٰ دے دیں۔ آخرمیں ندیم نصرت نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیوگیٹرز سے اپیل کی کہ حکومت پنجابستان تمام چھوٹے صوبوں کے طلبہ وطالبات کوتعلیم سے محروم رکھ کرتعلیمی اداروں کوتوڑکرانہیں غیرتعلیم یافتہ بنانے کاگھناؤناعمل کررہی ہے لہٰذا اقوام متحدہ کے شعبہ تعلیم سے وابستہ نمائندوں کوفوراً پاکستان بھیجاجائے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے ان تمام واقعات کی تصدیق کرکے اورعوام سے معلومات کرکے اوراندرون سندھ اورچھوٹے صوبوں کے دیہی علاقوں کے دورے کرکے اقوام متحدہ میں اپنی رپورٹ جمع کرائیں اوراس مسئلے پر اقوام متحدہ کا اجلاس
بلاکر پاکستان کوتعلیم کی مدمیں دی جانے والی امدادپر غورکریں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مزیدمطالبہ کیاکہ آئندہ ’’ پنجابستان ‘‘ یعنی (پاکستان ) کوتعلیم کی مدمیں براہ راست امداد دینے کے بجائے اقوام متحدہ کے نمائندگان کے ذریعے ہی وہ رقم خرچ کرائی جائے تاکہ تعلیم کا فروغ ہوسکے اور غریب طلبہ وطالبات تعلیم کے زیورسے آراستہ ہوسکیں۔ *****



5/26/2017 12:23:48 AM