Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نوجوانوں اورطلباء وطالبات کے نام قائد تحریک جناب الطاف حسین کا تاریخی ، فلسفیانہ اورحقائق پر مبنی آڈیو لیکچر نمبر۔۔۔7


نوجوانوں اورطلباء وطالبات کے نام  قائد تحریک جناب الطاف حسین کا تاریخی ، فلسفیانہ اورحقائق پر مبنی  آڈیو لیکچر نمبر۔۔۔7
 Posted on: 3/11/2017
نوجوانوں اورطلباء وطالبات کے نام 
قائد تحریک جناب الطاف حسین کا
تاریخی ، فلسفیانہ اورحقائق پر مبنی 
آڈیو لیکچر نمبر۔۔۔7
11، مارچ2017ء

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمان الرحیم

واجب الاحترام بزرگوں، ماؤں ، بہنوں، تمام شعبہ جات ، پاکستان کے تمام مظلوموں ، محروموں، جاگیرداروں ، وڈیروں ، خوانین ، سرداروں کے مظالم کی چکی میں پسنے والوں ۔۔۔سب کو خصوصاً نوجوانوں، طلباوطالبات ۔۔۔!!

السلام علیکم
آپ سب کی معلومات کیلئے میں نے یہ تاریخی، فلسفیانہ اورحقائق پرمبنی لیکچرز کاسلسلہ شروع کیا ہے۔۔۔یہ لیکچر نمبر 7 ہے ۔۔۔جب میں یہ لیکچر ریکارڈ کروارہا ہوں تو آج کی تاریخ اوروقت بتاناضروری سمجھتا ہوں۔۔۔آج 10، مارچ 2017ء ، جمعۃ المبارک کا دن اوراس وقت لندن وقت کے مطابق رات کے دس بجکر35 منٹ ہورہے ہیں ۔۔۔پاکستان میں 11 مارچ اورہفتہ کا دن شروع ہوچکا ہے ۔۔۔
اس سے قبل کہ میں یہ لیکچر شروع کروں ۔۔۔یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اب سے دوسال قبل آج ہی کے دن یعنی 11 مارچ کو رینجرز کے بریگیڈئیر اوردیگراعلی ٰ افسران کی جانب سے سینکڑوں رینجرزاورپولیس والوں کے ساتھ نائن زیروپر لشکرکشی کی گئی ۔۔۔چاروں طرف سے نائن زیروکو بلاک کرلیا گیا۔۔۔وہاں سے گرفتاریاں بھی کی گئیں ۔۔۔اس میں بہت سارے ساتھیوں کو گرفتارکیا گیا۔۔۔ اس میں وقاص علی شاہ بھائی شہید کردیئے گئے تھے ۔۔۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ، لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے ۔۔۔اللہ تعالیٰ ،وقاص شاہ اوردیگر شہداء کالہواپنی بارگاہ میں قبول کرے ۔۔۔اورانکی قربانیوں کے طفیل پاکستان کے تمام مظلوم جوکہ جاگیرداروں ، وڈیروں ، خوانین اورسرداروں کے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں وہ اورخصوصاً مہاجرعوام ، بلوچ عوام اوراب تک پختون عوام بھی نشانہ بن رہے ہیں ۔۔۔سندھ میں پڑھے لکھے ، مڈل کلاس کے سندھی لوگ اپنے حقوق کی تحریک خاموشی سے چلارہے ہیں ۔۔۔ان کو بھی پکڑ پکڑ کرگرفتارکرکے قتل کیاجارہا ہے ۔۔۔ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینکی جارہی ہیں ۔۔۔جس طرح پاکستان آرمی کی ایک شاخ ایف سی ، ہمارے بلوچ نوجوان بھائیوں ، بیٹوں کو گرفتارکرکے ان پر تشدد کرکے ۔۔۔ انہیں شہید کرکے ان کی لاشیں ویرانوں، بیابانوں ، سڑکوں ، ریگستانوں میں پھینک دیتی ہے ۔۔۔اسی 
طرح سندھ میں جو لوگ جواپنے حقوق کا عزم کررہے ہیں ، باتیں کررہے ہیں ۔۔۔ان کا سراغ لگاکے ۔۔۔ان کو بھی تشددکا نشانہ بناکے ۔۔۔رینجرز ، آئی ایس آئی کے لوگ، فوج کے لوگ، پولیس کے ساتھ مل کرانہیں گرفتارکرکے ان پر تشددکرکے انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کرتے بلکہ ان کی لاشیں پھینک دیتے ہیں ۔۔۔اوراب تک پاکستان میں پختونوں کاجینا بھی واقعتا مشکل بنادیاگیا ہے ۔۔۔غریب پختون یاتو آئی ڈی پیز کی شکل میں موجود ہیں ۔۔۔ضرب عضب کے نام سے آپریشن کرنے والے۔۔۔آپریشن کرکے کچھ ریٹائرڈ ہوگئے ۔۔۔کچھ واپس چلے گئے اور آج تک لاکھوں آئی ڈی پیز کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں کہ اب ’’ردالفساد‘‘ کے نام پر دوبارہ آپریشن شروع کیاگیا ہے۔۔۔ایک آپریشن سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں شروع کیاگیا تھا ۔۔۔اس وقت بھی نوازشریف صاحب وزیراعظم تھے ۔۔۔اوراب بھی نوازشریف صاحب وزیراعظم ہیں جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب ہیں ۔۔۔ان کی سربراہی میں ’’ردالفساد‘‘ کے نام سے آپریشن شروع کیاگیا ہے جس کامقصد ایم کیوایم کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرنا تھا۔۔۔آپریشن ضرب عضب میں بھی کرنا کچھ اورتھا دکھایاکچھ اورگیا۔۔۔جس طرح 1992ء میں کہاگیا کہ آپریشن 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف کیاجائے گا لیکن وہ ایم کیوایم کے خلاف کیاگیا۔۔۔اسی طریقے سے ضرب عضب کیاگیا ۔۔۔وہاں قبائلیوں پر قیامتیں ڈھائی گئیں ۔۔۔اپنے لوگوں کو محفوظ طریقے سے نکلنے کا راستہ دیکر باقی لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر آئی ڈی پیز بناکر کیمپوں میں بھیج دیا۔۔۔خالی گھروں پر بمباری کرکے بتایا کہ ہم نے اتنے اتنے کیمپ خالی کردیئے اور اتنا شور کیا کہ جو اصل فسادی تھے ، جو فوج اورآئی ایس آئی کے پے رول پر ان کی پراکسیز(Proxies)کیلئے کام کررہے ہیں ، ان کو توانہوں نے safe heaven (محفوظ پناہ گاہیں) فراہم کردیں ،کچھ کو افغانستان میں کرائیں اورباقیماندہ جو اسکولوں، فوجی تنصیبات ، بزرگان دین کے مزارات ، مساجد، امام بارگاہوں اوردیگرمذاہب کی عبادت گاہوں پرحملے کررہے تھے جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے خلاف ایکشن شروع ہورہا ہے تو وہ لوگ خود ہی وہاں سے فرار ہوگئے اورخالی مکانات پر انہوں نے بمباری کرکے ۔۔۔فوج کشی کرکے دکھایا کہ اتنے لوگ مارے گئے لیکن کبھی مرنے والے دہشت گردوں کودکھایا نہیں گیا ۔۔۔البتہ جہاں ان کی کچھ دہشت گردوں سے مڈبھیڑ ہوگئی جوکہیں دوردراز چھپے ہوئے تھے تو وہاں جو فوجی افسران وسپاہی شہید ہوئے تو ان کے نام اورنماز جنازہ ضروردکھائی گئی مگرکسی دہشت گرد کی لاش آج تک نہیں دکھائی گئی ۔۔۔اب ردالفساد میں بھی یہی کیاجارہا ہے کہ ہم نے ادھر اتنے ماردیئے ، اُدھراتنے ماردیئے۔۔۔لیکن اس کے نام پر مہاجروں کے خلاف آپریشن اورتیز کردیا گیا ہے ۔۔۔دوسری طرف پورے ملک بھر خصوصاً پنجاب میں جہاں جہاں پختون رہ رہے ہیں ان کے شناختی کارڈز چیک کیے جارہے ہیں ، ان کی ولدیت پوچھی جارہی ہے ۔۔۔کہاجارہا ہے کہ جہاں کاروبارکرتے ہیں اس کا پتہ لکھوایئے ، فون نمبر لکھوایئے وغیرہ وغیرہ۔۔۔پختونوں اورپشتونوں کا بھی اب پاکستان میں جینا مشکل کردیا گیا ہے ۔۔۔میں اس ناجائز آپریشن کی مذمت کرتا ہوں۔۔۔دوسال کیلئے فوجی عدالتیں بنائی جارہی ہیں ۔۔۔یا بنادی گئی ہیں ۔۔۔توبنادیں ۔۔۔فوج کا یہ اختیار ہے کہ جب چاہے سپریم کورٹ کو پلٹ دے ۔۔۔جب چاہے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ دے ۔۔۔فوج اصل طاقت ہے ۔۔۔آئی ایس آئی ، فوج کی ایک شاخ ہے لیکن چیف آف آرمی اسٹاف ، آئی ایس آئی کا ماتحت ہوتا ہے جبکہ بظاہر آئی ایس آئی ، آرمی چیف کے ماتحت ہوتی ہے ۔۔۔آئینی لحاظ سے آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہوتی ہے ۔۔۔لیکن دراصل آئی ایس آئی ہرقسم کی حاکمیت ، بالادستی سے بالاتر ہے ۔۔۔قانون ، آئین ، سپریم کورٹ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔حتیٰ کہ اپنے چیف آف آرمی اسٹاف سے بھی زیادہ طاقت ورحیثیت رکھتی ہے ۔۔۔آپ نے دیکھا نہیں تھا کہ جنرل پرویز مشرف ، چیف آف آرمی اسٹاف بھی تھے اور صدرپاکستان بھی تھے ۔۔۔مارشل لاء لگاکرآئے تھے لیکن ان کے خلاف آئی ایس آئی نے وکلا لیڈروں کو خرید کر۔۔۔ہرکورٹ کی بار کو خرید کر، انہیں پیسہ دے کر پورے پاکستان میں جنرل مشرف کے خلاف جو تحریک چلائی وہ آئی ایس آئی نے چلوائی تھی ۔۔۔اس تحریک کا پور ا پلاٹ آئی ایس آئی نے بنایا تھا۔۔۔بہرحال میں اس بارے میں بعد میں کسی وقت تفصیل سے بتاؤں گا۔۔۔فی الحال میں لیکچر نمبر 7 کا آغاز کرتا ہوں۔
معزز خواتین وحضرات۔۔۔یوتھ ۔۔۔اورملک بھر کے مظلوم ومحروم عوام ۔۔۔!!
آئیے تھوڑا سا ہم پرانے لیکچر کو دہرالیں تاکہ ذہن میں بات آتی رہے ۔۔۔میں آپ کو پچھلے لیکچرز میں کافی چیزیں بتا چکا ہوں ، ایک آرٹیکل کا حوالہ دیا تھا جس کا عنوان تھا

Sleeping with sactarianism: how militants are becomming a political force in Pakistan ... let's see, if any political party will appear to have clearity with thought and equal conviction in taking back political space from these militants. 
بہت ساری جماعتوں کے نام بتائے تھے ۔۔۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اورجہادی تنظیموں کے غیراعلانیہ سربراہ ہیں ۔۔۔ان کی تصاویر بھی دکھائی گئی تھیں۔۔۔یہ میں آپ کو 8، نومبر2016ء کی نیشن اخبار کے بلاگ کا حوالہ دے رہا ہوں جس کا عنوان ہی یہی ہے کہ’’ پاکستان میں کس طرح دہشت گرد عناصر سیاسی طاقت بن رہے ہیں ‘‘۔۔۔اس میں تمام فوٹوگراف دکھائے تھے کہ کس طرح یہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ، کس طرح کھلے عام جلسہ کررہے ہیں ۔۔۔کس طرح ظفرجمالی صاحب ، سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) کے اعظم طارق سے بات کررہے ہیں ۔۔۔کس طرح سے اظہارتشکر ہورہا ہے اس کی تصاویر اورکس طرح اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمدلدھیانوی الیکشن میں امیدوار وں سے ہاتھ ملارہے ہیں۔۔۔ایک تصویر بھیجی تھی جس میں مولانا احمد لدھیانوی سعودی عرب میں مسلم ورلڈ کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔۔۔بنیادی طورپران کی مالی معاونت کرنے والاعرب ملک ہے ۔۔۔ہرقسم کی ان کوٹریننگ دینا اورتنخواہ دینا وہ سارا پاکستان کی آئی ایس آئی کرتی ہے جو آرمی کی ایک شاخ ہے لیکن دراصل آرمی سے زیادہ طاقتور ادارہ ہے ۔۔۔پھر بتایاتھا کہ ڈان ڈاٹ کام کی 13 فروری 2017ء کی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ "Pakistan bans 25 militant organisations" 
اس میں تفصیل تھی کہ القاعدہ کیسے بنی۔۔۔طالبان کیسے بنی۔۔۔سپاہ صحابہ کیسے بنی۔۔۔جماعت الدعوۃ کیسے بنی۔۔۔الاخترٹرسٹ کیسے بنا۔۔۔جیش محمد کیسے بنی۔۔۔الرشید ٹرسٹ کیسے بنا۔۔۔لشکرجھنگوی کیسے بنی۔۔۔تحریک طالبان پاکستان۔۔۔تحریک نفاذشریعت محمدؐ۔۔۔لشکرطیبہ۔۔۔لشکراسلام۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔کس طرح خدام اسلام اورنجانے کو ن کونسی جہادی آرگنائزیشن بنی تھیں ۔۔۔پھرآپ کو میں نے ایک برطانوی اخبار دی گارڈین کی اسٹوری بتائی تھی 
Fears Pakistan in position after Sri Lanka cricket team attack
جو 13 فروری 2017ء کولاہورمیں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کے بعد شائع ہوئی تھی ۔۔۔ تو اب مغرب کیا کیاخطرات محسوس کررہا ہے اور آئی ایس آئی کس طرح سے ملٹری آرگنائزیشنز کوسپورٹ کررہی ہے پھر آپ کو اکرم لاہوری ، ملک اسحاق، حق نواز جھنگوی وغیرہ کے بارے میں بتایاتھا۔۔۔پھر آپ کو ایک بات بتائی تھی کہ چوہدری نثار نے 15، جنوری 2017ء کو ایک بیان جاری کیاتھا جوکہ ڈان ڈاٹ کام نے شائع کیا تھا جس میں کہاگیا ہے کہ 
Interior Minister Ch. Nisar lashed out at his critics on Saturday saying it is unfair to link everything to Molana Ahmed Ludhyanvi chief of proscribed ASWJ. 
مولانا احمد لدھیانوی کی حمایت میں چوہدری نثار کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے ۔۔۔اگر غلط ہے تو وہ ڈان اخبار کے خلاف کارروائی کریں ۔۔۔پھر تحریک طالبان کی جتنی تفصیل تھی جوممکنہ آپ کو بتاسکتا تھا وہ بتادی ۔۔۔پھر تحریک طالبان پنجاب جس کا کہیں تذکرہ نہیں ہوتا تھا اس کے بارے میں آپ کو بتایا۔۔۔جس کا ذکراخبارات توبڑے زوروشور سے کرتے ہیں لیکن جس کا انکار ٹیلی ویژن پر ٹی وی ٹاک شوز میں کیاجاتا ہے کیونکہ پنجابی ایلیٹ اورآرمی کے جنرل اورحکومت کے زیراثر آکر ہراینکرپرسن قلم کی حرمت بیچنے کیلئے تیارہوجاتا ہے ۔۔۔ٹی وی ٹاک شوز کے میزبان اورمہمان سب لکھے لکھائے اسکرپٹ کو 
آگے بڑھاتے ہیں اورانہی کی ایماء پر کھل کر بولتے ہیں کہ رینجرز کے آپریشن کی بلوچستان میں ضرورت ہے ، سندھ میں ضرورت ہے خصوصاً کراچی میں ضرورت ہے ، صوبہ خیبرپختونخوا میں ، قبائلی علاقوں میں ضرورت ہے لیکن پنجاب میں کوئی پنجابی طالبان نہیں ہے ، پنجاب میں کوئی مدرسہ نہیں ہے ۔۔۔ٹی وی 
ٹاک شوزکے اکثر مہمان اورمیزبان دونوں اتنا کھلا اورسفید جھوٹ بولتے ہیں اورپنجابی طالبان کے وجود سے انکار کرتے ہیں ۔۔۔لیکن پنجابی طالبان تھے اورہیں۔۔۔اورسب سے زیادہ مدرسے صوبہ پنجاب میں ہی ہیں ۔۔۔ان کے مراکز پنجاب میں ہیں ۔۔۔بہرحال انکارکرنے والے انکارکریں لیکن جو سچ ہوگا میں نے پہلے بھی سچ بتایا ہے اورآج بھی سچ بتارہا ہوں ۔۔۔اس کے بعد آگے بڑھتے ہوئے میں نے تحریک پاکستان کے سلسلہ کو شروع کیاتھا۔۔۔1930ء میں دیئے گئے علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کے بارے میں بتایاتھا اورآج کل بڑے زور وشور سے صبح شام وفاقی وصوبائی حکومتوں، آئی ایس پی آر کی جانب سے اشتہارات دیئے جارہے ہیں کہ 23 مارچ اورتحریک پاکستان۔۔۔یعنی آج پھر اتنا شورمچایاجارہا ہے کہ جھوٹ کو سچ ثابت کیاجاسکے ۔۔۔میں آج پھر بتادیتا ہوں کہ 23 ، مارچ کی قرارداد1940ء کو پیش کی گئی ۔۔۔آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ یہ قرارداد لاہور تحریر کرنے والے سرمحمد ظفراللہ خان مرحوم تھے جو احمدی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جنہیں عرف عام میں قادیانی بھی کہاجاتا ہے ، انہوں نے پیش کی تھی یعنی اس کو قرارداد پاکستان کہہ رہے ہیں اورپاکستان میں قادیانیوں کو کافرقراردیکر نہ انہیں عبادت کرنے دے رہے ہیں ، نہ انہیں پاکستان میں آرام وسکون سے رہنے دے رہے ہیں۔۔۔اسی طرح آپ نے دیکھا ہوگا کہ قرارداد جو 23 مارچ 1940ء کے اجلاس میں پیش کی گئی ۔۔۔وہ ابوالقاسم فضل الحق جنہیں شیربنگال کہاجاتا ہے ان کی جانب سے پیش کی گئی ، ان کا تعلق سابقہ مشرقی پاکستان سے تھا۔۔۔پاکستان کے دوصوبے تھے ایک مغربی پاکستان اوردوسرا مشرقی پاکستان تھا۔۔۔مشرقی پاکستان والوں کو غدارکہہ کرانہیں علیحدہ کردیا۔۔۔مہاجروں نے پاکستان کیلئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا اورہمیشہ بڑ ھ چڑھ کر مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور مسلم لیگ کے سرگرم علاقے برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں کے علاقے تھے جو پاکستان میں شامل نہیں ۔۔۔ہاں ایک اکثریتی علاقہ تھا جس کا نام بنگال تھا۔۔۔وہاں کے لوگوں نے سو فیصد ساتھ دیاتھا ان کو غدار کہہ کر ان پر فوج کشی کی گئی ۔۔۔پھر جی ایم سید صاحب مرحوم صاحب( اللہ ان کی مغفرت کرے) وہ سندھ اسمبلی میں واحد تھے جو اس وقت اسپیکر تھے ۔۔۔پاکستان کی قرارداد کی حمایت میں ایک ووٹ کم تھا ۔۔۔وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کرعوام میں چلے گئے اوروہاں جاکر انہوں نے ووٹ ڈالا ۔۔۔اس طرح ایک ووٹ کی اکثریت سے پاکستان کے حق میں صوبہ سندھ میں قرارداد پیش کی گئی۔۔۔صوبہ سندھ میں سب کے سب غدار اورقاتل کہہ کر ایک وزیراعظم کو قتل کردیا۔۔۔دوسرا وزیراعظم منتخب ہوکر آیااسے قتل کردیا۔۔۔پہلے لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے بھرے جلسہ میں شہید کیا۔۔۔پھر ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دیکر قتل کیا۔۔۔یہ فیصلہ بھی عدالت کے ذریعہ کرایا۔۔۔یعنی آپ دیکھئے کہ عدالتیں کس کے ماتحت چل رہی ہیں ۔۔۔کیا ہمارے ہاں عدالتیں آزادہیں ۔۔۔؟ نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔اسی طرح بے نظیر بھٹو ،لیاقت باغ راولپنڈی میں تقریر کرکے باہر نکل رہی تھیں انہیں قتل کردیا۔۔۔
میں نے آپ کو پچھلے لیکچر میں بتایاتھا کہ شروع میں اس کا نام تھا ’’یادگارپاکستان‘‘ تو پنجاب کی ایلیٹ اورفوج کے لوگوں کو کیا پتہ۔۔۔؟ ان کو جنگی معلومات ہوتی ہیں ۔۔۔ان کو سویلین یا تاریخ وغیرہ کا کیا پتہ ہوتا ہے ۔۔۔ان کو توصرف لڑنا ، بچنا ،قبضہ کرنا سکھایا جاتا ہے ۔۔۔تو انہوں نے منٹو پارک لاہور میں تعمیرہونے والی عمارت کا نام یادگارپاکستان رکھ دیا تھالیکن پھر کسی نے بتایا کہ یادگار تو اس کی بنائی جاتی ہے جو مرجاتا ہے ۔۔۔مردہ ہوتا ہے ۔۔۔تو پھر انہوں نے سوچا کہ یہ تو ہمیں معلوم ہی نہیں تھا پھر نام بدل کراس کانام ’’مینارپاکستان ‘‘ رکھا گیا۔۔۔میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں خاص طور پر پنجاب کے لوگوں کو دعوت دیتا ہوں ۔۔۔نوجوانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ خدا۔۔۔رسول ؐ کے واسطہ ایک دن نکال کر مینارپاکستان کا دورہ کریں اوروہاں موجود قراردادپاکستان کامتن پڑھ لیں جوکہ 23 مارچ 1940ء کو منٹو پارک لاہو ر میں پیش کی گئی تھی۔۔۔یہ آپ جاکر خود دیکھ لیں ۔۔۔مجھے کہاجاتا ہے کہ میں لوگوں کو بھڑکاتا ہوں۔۔۔پتہ نہیں کیاکیا الزامات لگائے جاتے ہیں۔۔۔اب میں بتاتاہوں کہ قرارداد لاہو رمیں کیاکہاگیا تھا

Lahore Resolution:
Resolved that it is the considered views of this session of All India Muslim League that no 
constitutional plan would be workable in this country or acceptable to the Muslims unless it is designed for the following basic principle that geographical contiguous units are demarketed into regions which shall be so constituted with such territorial readjustement as may be necessary. That the areas in which the Muslims are numerically in majority as in the North-Western and Eastern zones of India should be grouped to constitute independent states in which the constituent unites shall be autonomous and sovereign. 
یہی تو ہم کہہ رہے ہیں کہ چاروں صوبوں کو sovereign اورautonomous status دے دو ۔۔۔اورفیڈریشن کی بالادستی ، فوج کی بالادستی ختم کرو۔۔۔صوبوں کو اپنی فوج بنانے کا اختیاردو۔۔۔اپنی پولیس بنانے کا اختیاردو۔۔۔آج 70 برس ہوگئے پاکستان کو بنے ہوئے اورہم آج تک اسے قرارداد پاکستان کہہ رہے ہیں جبکہ ایسا ہے ہی نہیں ۔۔۔ایمانداری سے توبلوچستان ، سندھ ، پنجاب ، خیبرپختونخوا کو بھی autonomous اور sovereign ہونا چاہیے ۔۔۔لیکن کیا ایسا ہے ۔۔۔؟ نہیں ہے ۔۔۔یعنی ماسوائے پنجاب کے ہرصوبہ میں وفاق اورفوج کارول چلتا ہے ۔۔۔صوبہ سندھ میں جب چاہوفوج کشی کرالو۔۔۔صوبہ بلوچستان میں آج تک جاری ہے ، غریب بلوچوں کی آبادی پہلے ہی کم ہے اوراب کہتے ہیں کہ مارمارکرایک ایک بلوچ کو ختم کردیں گے ۔۔۔اس طرح مت کرو۔۔۔زمین پر خدا مت بنو۔۔۔اوپر اللہ ہے اوراللہ دیکھ رہا ہے ۔۔۔اللہ سے ڈرو۔۔۔اللہ کے انصاف سے ڈرو، اللہ کی لاٹھی بے آواز ضرورہے لیکن جب پڑتی ہے تو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے چاہے وہ انسان ہویا زمین ہو۔
یہ قرارداد اردو میں بھی پڑھ دیتا ہوں کہ
23، مارچ 1940ء کو شیربنگال مولوی فضل الحق نے قراردادلاہور منٹو پارک میں پیش کی (اب یہ بعدمیں اضافہ کیاگیا ہے ) جو بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنی ۔۔۔پھر لکھنے پر مجبور ہوئے کہ بعدازاں قرارداد لاہور ، قرارداد پاکستان کہلائی ۔۔۔اب آپ کو کہ اصل قرارداد کا متن کیاتھا۔۔۔آپ اس قرارداد کو قرارداد بلوچستان بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔۔اگربلوچ عوام کے پاس فوج کی پوری طاقت ہوتو وہ پاکستان کا نام بدل کرپاکستان بھی رکھ سکتے ہیں۔۔۔پختونوں کے پاس فوجی طاقت ہو، آبادی کی اکثریت ہوتو وہ اس پورے پاکستان کا نام پختونستان رکھ سکتے ہیں ۔۔۔اگر سندھ کی طاقت فوجی اورآبادی کی طاقت صوبہ پنجاب کی طرح ہوتو وہ پاکستان کا نام بدل کرسندھوستان یاسندھو دیش رکھ سکتے ہیں اوراگر مہاجروں کے پاس فوجی طاقت ہوجنہوں نے ملک بنایاتھا۔۔۔ویسے تو اس کا نام بنگالستان ن ہونا چاہیے تھاکیونکہ بنگالی 56 فیصد تھے اور 44 فیصد مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کی آبادی تھی۔۔۔یہ چیزیں نصاب میں نہیں پڑھائی جاتیں ۔۔۔کوئی ایسا عنوان ہے نصاب میں کہ پاکستان کیسے ٹوٹا ۔۔۔؟ کیوں ٹوٹا۔۔۔؟ نوجوانو! آپ نے کبھی پڑھا۔۔۔؟ اگرنہیں پڑھا تو دعا کیجئے جب تک آپ کے الطاف بھائی زندہ ہیں ۔۔۔میں آپ کو پڑھاتارہوں گا۔۔۔میری معلومات ہیں مگر مجھے تصدیق کرنی پڑتی ہے ۔۔۔میں نے آج تک کوئی ایسی بات نہیں کہی جو سچ نہ ہو۔۔۔مثال کے طور پر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ٹی وی میں آپ کو کیاپڑھایاجاتا ہے ۔۔۔کتابوں میں کیاپڑھایاجاتا ہے ۔۔۔کہ پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔لاالہ الااللہ۔۔۔میں آپ کو تاریخی حقائق بتارہاہوں کہ پاکستان کی پوری تحریک میں اس نعرے کا وجود سرے سے تھا ہی نہیں ۔۔۔تحریک پاکستان میں حصہ لینے والا کوئی فرد یا افراد آپ کے ارد گرد حیات ہوں ان سے آپ تصدیق کرسکتے ہیں ورنہ دنیا کی 
لائبریریاں ہیں آپ اپنے رشتہ دارجو امریکہ یا برطانیہ میں رہتے ہیں وہاں کی لائبریوں کے ذریعہ یہ معلومات اپنے رشتہ داروں سے حاصل کرسکتے ہیں ۔

قرارداد لاہور کا متن:
’’کل ہند مسلم لیگ کااجلاس مکمل غوروفکر کے بعداس نتیجہ پرپہنچا ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی آئین اس وقت تک قابل عمل اورمسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگاجب تک کہ اسے بنیادی اصولوں پر تیارنہیں کیاجاتایعنی جغرافیائی طورپر متصل اکائیوں کی ایسے خطوں کی صورت میں حدبندی کی جائے جن کی تشکیل ضروری علاقائی ردوبدل کے ساتھ اس طرح کی جائے کہ وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جیسا کہ ہندوستان کے شمال مشرق اورشمال مغرب میں ہے ۔ انہیں اس میں مدد دی جائے تاکہ وہ آزاد مملکتیں بن سکیں۔ان مملکتوں میں شامل ہونے والی وحدتیں خودمختار اورمقتدر ہونی چاہئیںیعنی خودمختار اور حاکمیت کامل کی حامل ہوں‘‘
اس کے بعد میں نے قائداعظم کی تاریخ بتائی تھی ۔۔۔کب پیدا ہوئے ، کب کانگریس کے ممبربنے ، کب کانگریس سے علیحدہ ہوئے ۔۔۔1916ء میں مسلم لیگ کے صدر بنے۔۔۔ 1927ء میں مسلم لیگ دوحصوں میں تقسیم ہوگئی۔۔۔ایک کی سربراہی قائداعظم محمدعلی جناح کررہے تھے اوردوسری کی قیادت پنجاب سے تعلق رکھنے والے سر میاں محمد شفیع کررہے تھے ۔۔۔سرکا خطاب قائداعظم کو نہیں ملاتھابلکہ سرمحمد شفیع کو ملاتھا جوانگریزوں کے وفادار تھے اور ان کے گروپ کا نام آل انڈیامسلم لیگ شفیع گروپ رکھاگیا۔۔۔یہ گروپ قائداعظم کا شدید مخالف تھا۔۔۔مزے کی اورقابل غوربات دوبارہ بتاتا ہوں کہ علامہ اقبال نے مسلم لیگ شفیع گروپ میں شمولیت اختیارکرلی تھی ۔۔۔اور1932ء میں سرمحمدشفیع کا انتقال ہوگیا تھا بعدازاں چند سال بعد مسلم لیگ دوبارہ ایک ہوگئی۔۔۔اور جب سب نے دیکھا کہ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ پائی پائی کو محتاج ہوگیا ۔۔۔وہ برطانیہ جس نے اتنی بڑی زمین پر قبضہ کرلیاتھا کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا تھا یعنی اس کی سلطنت میں ایک جگہ سورج طلوع ہوتا تو دوسری جگہ غروب ہوتاتھا۔۔۔بہرحال قائداعظم ناراض ہوکر لندن چلے گئے ،انہوں نے دیکھ لیا کہ پنجاب کے لوگ دھڑادھڑ انگریزوں کی بنائی گئی یونینسٹ پارٹی میں چلے گئے ۔۔۔تو پورا پنجاب اس کا ممبرتھا۔۔۔موجودہ پنجاب کے سارے لوگ اس میں شامل تھے ۔۔۔جتنے آج پاکستان کی سینیٹ ، قومی یاصوبائی اسمبلی کے ارکان ہیں ان سب کے باپ دادا کو وفاداری کے صلہ میں بڑی بڑی زمینیں ملی تھی تو یہ بڑے محترم اوروفادار ہوگئے ۔۔۔جووفادار تھے وہ غدار ہوگئے ۔۔۔بنگالی غدار، جی ایم سید غدار، مہاجرغدار، بلوچ غدار، پختونخوا والے غدار ۔۔۔سندھ والے غدار۔۔۔صرف پنجاب کے لوگ وہ وفادار اورپاکستانی ہیں ۔۔۔ کیونکہ بنگال کی اکثریت ہے تو انہوں نے جیسے تیسے کرکے ،25 سال بعد مارکھاکھا کے اپنا بنگلہ دیش علیحدہ کرلیا۔۔۔باقی صوبے بھی کوشش کررہے ہیں ۔۔۔بالآخراس کا انجام جلد بدیریہی ہونا ہے کیونکہ جب تک برابری کا سلوک نہیں ہوگا۔۔۔انصاف نہیں ہوگا۔۔۔وفاق اورفوج کی حاکمیت ہوگی ۔۔۔عدالتیں آزادنہیں ہونگیں حتیٰ کہ سپریم کورٹ تک آزاد نہیں ہوگی ۔۔۔جب مظلوم قومیتیں حقوق کی بات کریں گی تو حقوق دینے کے بجائے انہیں لاشیں دی جائیں گی ۔۔۔ گرفتارشدگان کو تشدد کرکے مارا جائے گا۔۔۔ان کی آنکھیں نکالی جائیں گی ۔۔۔ان کے جسم کی کھال اتاری جائے گی۔۔۔انہیں کرنٹ لگایاجائے گا۔۔۔سگریٹوں سے داغا جائے گا۔۔۔اورگرفتارکرنے والی رینجرز اورایف سی ہے جوکہ فوج ہی ہے ۔۔۔تو کیا ہوگا۔
جوپاکستان کے مالک بنے ہوئے ہیں اورکہتے ہیں ۔۔۔پاکستان زندہ باد ۔۔۔زندہ باد ۔۔۔دراصل ان کی اصلیت دیکھیں۔۔۔برصغیرکی تقسیم سے قبل دوالیکشن ہوئے ہیں ۔۔۔کل نشستیں جن پر الیکشن لڑا گیا وہ 1585 تھیں۔۔۔کانگریس کے صدر جواہر لعل نہرو تھے اور مسلم لیگ کے صدر قائداعظم محمدعلی جناح تھے ۔۔۔کانگریس نے 707 نشستیں حاصل کیں۔۔۔اورمسلم لیگ کو 106 نشستیں ملیں۔۔۔1933ء کے الیکشن کے نتائج کے مطابق:

ریاست کانگریس مسلم لیگ یونینسٹ
آسام 33 10
بنگال 54 37
بہار 92
بمبئی 86 18
سینٹرل پراونس 70 05
مدراس 159 09
نارتھ ویسٹ فرنٹیئرپراونس 19
اڑیسہ 36
پنجاب 18 01 95
سندھ 07
یونائٹیڈ پراونس 133 26 

آج پنجاب کی ایلیٹ پاکستان کی مالک ومختاربنی بیٹھی ہے ۔۔۔اورفوج کے جرنیلوں نے پاکستان کو پاکستان کے بجائے پنجابستان بناڈالا ہے ۔۔۔پنجاب میں صرف ایک نشست مسلم لیگ کو ملی تھی جبکہ 95 نشستیں انگریزوں کی بنائی ہوئی یونینسٹ پارٹی کو ملی تھی۔۔۔جب انہیں معلوم ہوا کہ انگریزوں نے برصغیرکی تقسیم کی ٹھان لی ہے توانہوں نے راتوں رات کیا عمل کیا۔۔۔وہ دیکھئے 
جب 1946ء میں 1585 نشستوں پر الیکشن ہوئے تو اس وقت کانگریس کے صدر مولانا ابولکلام آزاد تھے جبکہ مسلم لیگ کے صدر قائداعظم محمدعلی جناح تھے اس الیکشن میں کانگریس کو 923 اورمسلم لیگ کو 425 نشستیں حاصل ہوئیں۔۔۔اب آپ دیکھیں کہ آسام میں پہلے کتنی نشستیں حاصل کی تھیں اور1946ء کے الیکشن میں کیا ہوا۔۔۔
ریاست کانگریس مسلم لیگ یونینسٹ

آسام 58 31
بنگال 86 113
بہار 98 34
بمبئی 125 30
سینٹرل پراونس 92 13
مدراس 163 28

نارتھ ویسٹ فرنٹیئرپراونس 30 17
اڑیسہ 47 04
پنجاب 51 73 20
سندھ 18 27
یونائیٹڈ پراونس 153 54

یعنی کانگریس کو کل 921 نشستیں حاصل ہوئیں ،مسلم لیگ کو پنجاب کے علاوہ باقی ہندوستان سے کل351 نشستیں ملیں مگراتنی ساری نشستیں حاصل کرنے والے سب غدار ۔۔۔اور پنجاب میں73نشستیں حاصل کرنے والے پاکستان کے مالک بن گئے کیاعجب تقسیم ہوئی ہے ۔۔۔میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ برصغیرکی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہے تو حامدمیرصاحب کو آج تک برالگتا ہے ۔۔۔وہ یہ بات بارباراپنے پروگرام میں چلاتے ہیں۔۔۔سوبار چلاؤ میں اپنی جگہ قائم ہوں۔۔۔اس لئے کہ اگریہ تقسیم نہ ہوتی تو آج ہندوستان ، پاکستان اوربنگلہ دیش کے مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی کہ ہم انڈیا کے کنگ میکر ہوتے ۔۔۔ہمارے بغیرہندو اکثریت قدم بھی ہلا نہیں سکتی تھی۔۔۔پاکستان کا سودا کس فائدہ کا ہوا۔۔۔؟ پھر میرا خیال ہے بہت زیادہ ٹائم ہوگیامیں ساتویں لیکچر کو یہیں ختم کردیتا ہوں۔۔۔کیونکہ میں قائداعظم کے حوالہ سے بتاچکاہوں۔۔۔ قیام پاکستان سے قبل آرمی چیف کون تھا۔۔۔نیول چیف کون تھا۔۔۔قادیانیوں کے بارے میں قائداعظم کا کیامؤقف تھا۔۔۔اب میں آپ سے ایک بات کرتے ہوئے ایک سوالیہ نشان چھوڑتا ہوں۔۔۔پھرمیں اجازت چاہوں گاکہ ۔۔۔قائداعظم کا نکاح نامہ میں نے نشر کیاتھا اورثابت کیاتھا کہ قائداعظم خوجہ شیعہ اثناء عشری تھے، اس جماعت کاسرٹیفکیٹ پیش کیاتھا، قائداعظم کے پاسپورٹ کی کاپی پیش کی تھی۔۔۔اوران کے نکاح نامہ کا عکس پیش کیاتھا۔۔۔ پھر رتی جناح سے ان کی شادی کابتایا تھا۔۔۔پھر یہ بھی بتایاتھا کہ قائداعظم کی رحلت کے بعد ان کی دونمازجنازہ ہوئیں ایک شیعہ عالم نے پڑھائی اور ایک مولاناشبیراحمد عثمانی نے پڑھائی اور11، اگست 1947 ء کو قائداعظم کا پہلی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کامتن پڑھ کرسنایاتھا اورآخری پیراگراف پڑھ کر سنادیتا ہوں کہ 
you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place of worship in this state of Pakistan. 
اب یہاں پر’’ اسٹیٹس ‘‘ نہیں لکھا بلکہ اسٹیٹ آف پاکستان لکھا
You may belong to any religion or cast or creed that has nothing to do with the business of state. Now I think we should keep that in front of us as our ideal and you will find that in course of time Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizen of the state. 
آج پاکستان میں کیاہورہا ہے ۔۔۔؟آج میں ایک عجیب وغریب بات کہنے جارہا ہوں ۔۔۔جب 1948ء میں قائداعظم کا انتقال ہوا تھاتو ان کی میت کو حاجی گلو نے غسل دیا تھا جوخود بھی خوجہ اثناء عشری شیعہ تھے ۔۔۔قائداعظم کی دوبار نماز جنازہ پڑھائی گئی پہلی نماز جنازہ ان کے گھرپر شیعہ عالم دین مولانا انیس الحسنین مرحوم نے شیعہ عقیدے کے مطابق پڑھائی جبکہ دوسری نمازجنازہ علامہ شبیراحمد عثمانیؒ نے پڑھائی ۔۔۔ محض شیعہ ہونے کی بنیاد پر پاکستانیوں کو قتل کرنا 

۔۔۔یعنی۔۔۔ شیعہ کافر، شیعہ کافر۔۔۔ آئی ایس آئی کی بنائی ہوئی مذہبی جہادی تنظیموں کو یہ تسبیح پڑھائی جاتی ہے ۔۔۔باقاعدہ سپاہ صحابہ اورلشکرجھنگوی کے مدرسوں میں شاگردوں کو کیاپڑھایاجاتا تھا۔۔۔؟’’ شیعہ کافر، شیعہ کافر۔۔۔جونہ مانے وہ بھی کافر‘‘۔۔۔یہ جوبھی کہتا ہے وہ پاکستان کے بانی قائداعظم کے مسلک کو قتل کرتا ہے ۔۔۔قائداعظم کے مسلک کو قتل کرنا قائداعظم کو قتل کرنے کے مترادف ہے ۔۔۔قائداعظم کو قتل کرنا ، پاکستان کو قتل کرنے کے مترادف ہے ۔۔۔اب قائداعظم کامسلک تھاخوجہ اثناء عشری شیعہ۔۔۔قائداعظم محمد علی جناح کو بابائے قوم بھی کہتے ہیں ۔۔۔یعنی قوم کاباپ۔۔۔باپ کا جومذہب ہوتاہے عموماً اولاد وہی مذہب اختیارکرتی ہے ۔۔۔اس حساب سے پاکستان کامذہب کیونکہ قائداعظم ملک کے پہلے گورنر جنرل بھی تھے ، مسلم لیگ کے صدر بھی تھے ،پاکستان بنانے کیلئے قوم کی رہنمائی کرنے والے بھی قائداعظم تھے ، ان کامسلک خوجہ اثناء عشری شیعہ تھا۔۔۔اگر قائداعظم تعصبی ہوتے تو وہ یہ نہ کہتے کہ Hindus will cease to be Hindu and Muslims will cease to be Muslim یہ نہ کہتے ۔۔۔بلکہ وہ اپنا فقہہ کہتے ۔۔۔میں بانی پاکستان ہوں، بابائے قوم ہوں لہٰذا میرا مسلک اپنایئے ۔۔۔اورکہتے کہ خوجہ اثناء عشری شیعہ ، پاکستان کا شرعی اوراسلامی مذہب ہوگا۔۔۔اگر وہ متعصب ہوتے تو۔۔۔اس بنیاد پر تو اگر وہ مطالبہ کرتے تو اپنی جانب سے صحیح ہوتے ۔۔۔وہ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔۔۔آپ کا کیاخیال ہے ۔۔۔؟پاکستان کا نام اب خوجہ اثناء عشری۔۔۔پاکستان (شیعہ) مسلم(نہیں ہونا چاہیے تھا) کیونکہ باپ شیعہ تھا تو اولاد بھی شیعہ ہوگی یعنی پاکستانی بھی شیعہ ہوں گے ۔۔۔؟
ایک بات بتانابھول گیاتھا کہ 1946ء میں یونینسٹ پارٹی نے پنجاب سے 20 نشستیں حاصل کی تھیں لیکن پنجاب کی ایلیٹ کاکرداردیکھیں کہ خدا کی قسم 1946ء میں جو حکومت بنی وہ بھی مسلم لیگ کی نہیں بنی بلکہ 20 نشستیں حاصل کرنے والی یونینسٹ پارٹی کی بنی ۔۔۔آپ کسی سے بھی تصدیق کرسکتے ہیں۔۔۔اوراب پاکستان کا نام پاکستان شیعہ رکھ دیجئے ۔۔۔یہ سوالیہ نشان چھوڑے جارہا ہوں میں ۔۔۔اس جواب کے ساتھ کہ قائداعظم اگرتعصب پسند ہوتے تو ایسا کرتے انہوں نے ایسا نہیں کیالیکن جو میں نے بات کی ہے اس کے مطابق یاتو پاکستان کا نام ۔۔۔پاکستان شیعہ رکھ دیجئے یا پھر شیعوں کوکافرکہنا بند کردیجئے ۔۔۔
میں سننے والوں سے کہتا ہوں کہ بہت دیر ہوگئی ہے ۔۔۔اب میں اجازت چاہوں گا اورآٹھویں لیکچر کے ساتھ ملاقات ہوگی ۔۔۔اب مجھے بتانا ہے کہ پاکستان کے 69 برسوں میں ہم نے کیاکھویا ۔۔۔کیاپایا۔۔۔؟ یہ بتانا ہے ، غورسے سنیے گا۔۔۔میں وہ چیزیں بتاؤں گا جوکم ازکم پاکستان میں شائد آپ کو نہ ملیں ۔۔۔کیونکہ 11، اگست1947 ء کی قانون ساز اسمبلی میں کی گئی قائداعظم کی جوتقریرمیں نے آپ کو سنائی وہ نصاب کی کتب سے نکال دی گئی ہے ۔۔۔اب کہاں بتایاجاتا ہے کہ 1930ء کو الہ آباد میں علامہ اقبال کاخطبہ جسے خطبہ پاکستان کا نام دیا جاتا ہے جس پرانہوں نے جرمنی میں مقیم اپنے شاگرد راغب کو خط لکھاکہ تم نے جھوٹ لکھاہے میں نے پاکستان کانام نہیں لیا نہ میں علیحدہ وطن بنانے کا نام لیاہے ۔۔۔بلکہ میں نے رائے دی ہے کہ شمال مغربی اورشمال مشرقی علاقوں کو جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ان علاقوں کو انڈیاکے دائرہ میں آزاد خودمختار ریاستوں کا درجہ دیدیا جائے ۔۔۔یہ علامہ اقبال کا اپنے شاگرد کو جواب تھا۔۔۔علامہ اقبال جنہیں تصورپاکستان کا خالق کہاجاتا ہے ۔۔۔
آج ملک میں مردم شماری ہورہی ہے ۔۔۔کراچی میں افرادنہیں گنے جارہے ہیں ۔۔۔گھرگنے جارہے ہیں۔۔۔اوردیہی سندھ کے علاقوں، سندھ کی حکومت رینجرز اورآئی ایس آئی اورفوج کے ساتھ مل کرکیاسازش کررہی ہے کہ اندرون سندھ میں جوگوٹھ موجود ہی نہیں ہیں وہاں آبادیاں بتائی جارہی ہیں ۔۔۔مردم شماری کاعملہ مرغ مسلم کھاکرجو حکومت کہہ رہی ہے وہی کررہا ہے ۔۔۔اس طرح دیہی علاقوں کی آبادی بڑھا کر اورشہروں کی آبادی کم کرکے دکھارہے ہیں ۔۔۔ایسی مردم شماری کو کم ازکم میں اورمیرے چاہنے والے ہرگز نہیں مانیں گے ۔۔۔آپ نے بلوچوں کوجس طرح مجبورکیا کہ آج وہ علیحدگی کانعرہ لگانے پر مجبورہیں ۔۔۔پختون ، افغانیہ کانعرہ لگانے پر مجبورہیں۔۔۔پختون بھی ڈیورنڈ لائن کو نہ ماننے کاکہہ رہے ہیں۔۔۔مہاجروں کو مارمارکرآپ کیا لائن دینا چاہ 
رہے ہیں ۔۔۔ذرایہ تو بتادیجئے ۔۔۔1995ء میں ، میں نے گریٹرپنجاب کی سازش بے نقاب کی تھی۔۔۔جس میں بتایاتھاکہ پاکستان کوٹکڑے کرنے کی سازش بن چکی ہے اور پنجاب نے امریکہ وویسٹ سے کراچی کو مانگا ہے ۔۔۔کہ بس ہمیں کراچی دیدو۔۔۔توانہوں نے پوچھا کراچی کیسے چلے گا تو پنجابی جرنیل اورحکمراں ایلیٹ ، عام غریب پنجابی نہیں ، پنجاب کی ایلیٹ کلاس نے کہاکہ جیسے ہانگ کانگ تھا چائنا کا ۔۔۔اسی طرح سیٹلائٹ اسٹیٹ بناکر ہم کراچی کو استعمال کریں تو ۔۔۔میں واضح کردوں کہ کان کھول کرسن لوکہ جب تک ایک بھی مہاجرزندہ ہے تمہارا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا، جوبھی یہ خواب دیکھ رہے ہیں وہ خواب دیکھتے رہ جائیں گے ۔۔۔کراچی سیٹلائٹ اسٹیٹ تونہیں بنے گا لیکن اللہ شائد کچھ اوربنادے ۔
اجازت چاہتا ہوں
اللہ حافظ
*****

11/23/2017 3:27:00 AM
سرکلر ...
19 Nov 2017