Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تاریخ کے دریچوں سے ۔۔۔۔قائدتحریک الطاف حسین پرخود کش قاتلانہ حملے کی سازش:


تاریخ کے دریچوں سے ۔۔۔۔ قائدتحریک الطاف حسین پرخود کش قاتلانہ حملے کی سازش:
 Posted on: 3/31/2017
تاریخ کے دریچوں سے ۔۔۔۔قائدتحریک الطاف حسین پرخود کش قاتلانہ حملے کی سازش:

اے پی ایم ایس او اور ایم کیوایم کی ابتداء ہی سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کو متعصب ریاستی اورحکومتی اداروں نے مسلسل راستے سے ہٹانے کی سازشیں کیں اور اس گھناؤنے مقصد کے حصول کیلئے ان پر متعددقاتلانہ حملے بھی کروائے ۔ الحمدللہ عوام اورکارکنوں کی دعاؤں سے قائد تحریک جناب الطاف حسین ان حملوں میں محفوظ رہے ۔ 
تحریک کے نوجوان کارکنوں اور تاریخ کے طالب علموں کیلئے ہم 21 ، دسمبر91ء کو قائد تحریک جناب الطاف حسین پر ہونے والے ایک سنگین اورخودکش قاتلانہ حملے کی تفصیلات پیش کررہے ہیں۔

قائدتحریک الطاف حسین پرخود کش قاتلانہ حملے کی تفصیل:
ہفتہ کا دن تھا اور تاریخ 21 ، دسمبر1991ء تھی۔ کراچی والوں نے یخ بستہ رات کی نیند سے آنکھ کھولی تو اخباروں میں اپنے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی وطن واپسی کی سرخی پر ان کی نگاہیں ٹھہر گئیں ۔ موسم سرد تھا لیکن اپنے قائد کی محبت کے دیپ اپنے دلوں میں جلانے والوں کے جذبوں نے فضا کو بھی گرمادیا تھا۔ 
قائد تحریک جناب الطاف حسین کو کراچی ائیرپورٹ پر ان کے ہزاروں جانثاروں نے خوش آمدید کہا۔ ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل میلوں لمبا جلوس انہیں اپنے جلو میں لیے ائیرپورٹ سے عزیزآباد کی طرف روانہ ہوگیا ۔ اپنی دھن میں مگن کارکنوں کا یہ قافلہ قائد ایونیو کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ اس شہر، اس ملک اور عوام کی خوشیوں کے دشمن ان کی مسرتوں کو آنسوؤں اور آہوں میں بدلنے کیلئے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ 
اس مرتبہ دشمنوں نے 22 اگست 1990ء کو قائد تحریک جناب الطاف حسین کی وطن واپسی سے ایک روز پہلے کی طرح شہر بھر میں ایم کیوایم کے استقبالیہ کیمپوں پرحملوں اور 30 جانثاروں کو موت کی نیند سلاکر عوام کی خوشیاں خاک میں نہیں ملائی تھیں ، بلکہ لاکھوں امیدوں کے چراغ ہی کو ہمیشہ کیلئے گل کرنے کی ساز ش کا جال بچھایا تھا۔ لیکن مارنے والے سے بچانے والا بہت بڑا ہے ۔ قائد تحریک کیلئے گڑھا کھوڈنے والے خودہی اس گڑھے میں گرگئے ۔
قائد تحریک جناب الطاف حسین کے قتل کی اس گھناؤنی سازش کو قدرت نے ناکام بنادیا ۔
اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ہفتہ 21 ،دسمبرکو جناب الطاف حسین صبح ساڑھے سات بجے پی آئی اے کے طیارے سے لندن سے کراچی پہنچے ۔ وہ صبح سوا نوبجے تک ائیرپورٹ کے ایپرن پر استقبالی قطار میں موجود زعماء سے ملاقات ، کمیٹی روم میں پریس کانفرنس سے خطاب اور ائیرپورٹ کے باہر خیرمقدمی ہجوم کے درمیان مصروف رہے ۔ اسکے بعد ایک طویل کارواں کے ہمراہ 9 بجکر 18 منٹ پر ائیرپورٹ سے عزیزآباد روانہ ہوگئے ۔ انتظامیہ اورپولیس کے مشورے سے جناب الطاف حسین کے عزیزآباد کے طے شدہ روٹ کے مطابق انہیں کارساز ، اسٹیڈیم روڈ ، سوک سینٹر، غریب آباد ، لیاقت آباد ، کریم آباداور عائشہ منزل سے گزر کر اپنے گھر پہنچنا تھا ۔ چونکہ انکے ساتھ آنے والا طویل کارواں باقاعدہ استقبالی جلوس نہیں تھا اور اسے راستے میں کہیں رکنا یا قائد تحریک کو کہیں خطاب نہیں کرنا تھا اس لئے یہ کارواں درمیانی رفتار سے چل رہا تھا۔ پھر سردی کے موسم میں صبح کے وقت سڑکوں پر ٹریفک کا رش نہ ہونے کے باعث اس کاررواں کے ائیرپورٹ سے عزیزآباد پہنچنے کیلئے نصف گھنٹہ کافی تھا۔ اس دوران صبح ساڑھے نو بجے تین مسلح افراد نے گلبرگ کے علاقے سے ایک سوزوکی پک اپ، اس کے مالک سے چھینی اورعائشہ منزل کے قریب ایک پیٹرول پمپ سے اس میں پیٹرول ڈلوایا۔ ملزمان چھینی ہوئی گاڑی لیکر تیز رفتاری سے فرارہونے کے بجائے اسے رینگنے کی رفتار سے چلاتے ہوئے عائشہ منزل کی چورنگی تک لائے جو پیٹرول پمپ سے بہ مشکل ایک سوگز کے فاصلے پر ہے ۔ ملزمان نے چورنگی عبور نہیں کی بلکہ کریم آباد سے عائشہ منزل کی طرف آنے والے ٹریفک کی یک طرفہ سڑک پر غلط اورغیرقانونی طورپر اپنی سوزوکی موڑلی اور غلط سمت میں آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے اپنی گاڑی عائشہ منزل پر واقعی اسلامک ریسرچ سینٹر اورمہران گرلز کالج کے درمیان روک لی۔ یہ مرحلہ ٹھیک پونے دس بجے مکمل ہوگیا تھا ۔ اس وقت تک قائد تحریک الطاف حسین کاکارواں کریم آباد کے پل پر پہنچ چکا تھا۔ یہ بات یقینی تھی کہ یہ کارواں عائشہ منزل پر پہنچ کر عزیزآباد کی طرف مڑنے کیلئے اپنی رفتار کم کرے گا۔ لہٰذا ملزمان نے کارواں پر حملے کیلئے اپنی تیاری مکمل کرلی ۔ کسی کوگمان تک نہ تھا کہ وہ کس قدر قیامت خیز سانحہ برپا کرنے کیلئے چوکس اور مستعد بیٹھے ہیں۔ کریم آباد کے پل سے قائد تحریک کا کارواں عائشہ منزل کی جانب بڑھا ہی تھا کہ ملزمان میں سے ایک نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ایک دستی بم نکالا اور اسے کارواں پر پھینکنے کیلئے اس کی پن نکال لی۔ پن نکالنے کے بعد بم کومطلوبہ ہدف پر پہنچنے تک پھٹنے سے روکنے کیلئے بم میں نصب ایک کلپ دبایا جاتا ہے ۔ مجرموں کی غلطی یا قائد تحریک الطاف حسین کی خوش قسمتی سے یہ کلپ نہ دب سکا اور عین اس وقت جب قائد تحریک الطاف حسین کاکاررواں اس مقام سے چند سو گز دور تھا اور اس مقام تک پہنچنے میں صرف چند لمحوں کا فاصلہ باقی تھا، یہ بم گاڑی میں موجود تخریب کار کے ہاتھ ہی میں زبردست دھماکے سے پھٹ پڑا۔ دھماکے سے مجرموں کی گاڑی تباہ ہوگئی ۔ بم پھینکنے کیلئے تیار بیٹھے تخریب کار کے پرخچے اڑگئے ۔ دھماکے کی زد سے گاڑی میں بیٹھے ہوئے باقی دو تخریب کار بچ کر سراسیمگی کے عالم میں بھاگے تو وہاں حفاظتی ڈیوٹی پر تعینات پولیس نے ان پر فائرنگ کی۔ 
ایک اطلاع کے مطابق ملزمان نے بھی خود کار ہتھیاروں سے جوابی فائرنگ کی ، لیکن پولیس کی فائرنگ سے ایک تخریب کار کا جسم چھلنی ہوگیا اور وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگیا۔ تیسرا تخریب کار موقع سے فرار ہوگیا۔ عائشہ منزل پر دھماکے کے باعث قائد تحریک الطاف حسین کے کارواں نے راستہ بدل دیا اور وہ سروس روڈ پر متبادل راستے سے گزرکر عزیزآباد پہنچ گیا۔ اس طرح قائد تحریک الطاف حسین اس خونی سازش سے بال بال بچ گئے ۔
اس واقعہ کی مذکورہ مصدقہ تفصیلات پر غورکیاجائے تو بعض نہایت نازک اوروضاحت طلب پہلو سامنے آتے ہیں جن کا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے ۔ اوپر بیان کی جانے والی تفصیل سے تخریب کاروں کی موومنٹ پورے طورپر سامنے آجاتی ہے ۔ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اثناء میں مقامی پولیس کیاکرتی رہی، جس نے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ائیرپورٹ سے عزیزآباد آمد کے راستوں کانقشہ تیار کیا تھا اور ان راستوں پر حفاظتی انتظامات کی مکمل ذمہ داری لی تھی ۔ وقوعہ کی صبح پولیس کے غیرمعمولی حفاظتی انتظامات دیکھنے میں آئے تھے ۔ جگہ جگہ پولیس کے دستے اورگاڑیاں تعینات تھیں۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حفاظتی ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس حکام اوراہلکار صبح ساڑھے 9 بجے سے 9 بجکر 50 منٹ تک اپنی ناک کے نیچے عائشہ منزل پر خطرناک تخریب کاروں کی واضح اورغیرمعمولی نقل وحرکت سے کیوں غافل رہے یا انہوں نے اس کو کیوں نظرانداز کردیا؟ 
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ قائد تحریک الطاف حسین ک قتل کی سازش کیونکہ جائے واردات تک ان کے پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی لہٰذا اس واردات کو ابتدائی طورپر عائشہ منزل کے قریب حادثہ کے طورپر مشہور کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ تاثر دیا گیا کہ عائشہ منزل کے قریب گاڑی میں دھماکے سے دو افراد ہلاک ہوگئے لیکن اس واقعہ میں کیونکہ فائرنگ کاتبادلہ بھی ہوا تھا لہٰذا اس واقعہ کی سنگینی کم کرنے کیلئے دوسری کوشش کے طور پر اسے پیٹرول پمپ پر ڈکیتی کا نام دیا گیا۔ ایک اطلاع کے مطابق اس سلسلے میں صبح دس بجے پولیس کی جانب سے ریڈیوپاکستان کوفون پراطلاع دی گئی کہ ضلع وسطی کی پولیس نے عائشہ منزل پر پیٹرول پمپ پر ڈکیتی کی ایک کوشش ناکام بنادی اور دو ڈاکو پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے ۔ ان سے صاف ظاہر ہے کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین پر قاتلانہ حملے کی اس کوشش کی سنگینی اور ہولناکی کم کرنے ، اسے کوئی دوسرا رخ دینے اور اس پر پردہ ڈالنے کیلئے وقوعہ کے فوری بعد مختلف حلقوں نے مختلف انداز میں کوششیں کیں لیکن واقعہ کی ابتدائی تحقیقات میں ہی یہ واضح ہوگیا کہ ملزمان نے کسی پیٹرول پمپ پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا اورنہ ہی وہ ڈاکو یا کارلفٹر تھے ۔ وہ تربیت یافتہ دہشت گرد تھے ان کا مقصد ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کے قتل کے سوا کچھ اور نہیں تھا ۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے پوسٹ مارٹم اور وقوعہ سے ملنے والے آتش گیر مادے کے تجزیے سے ثابت ہوا کہ ملزمان روسی ساخت کے طاقتور دستی بموں سے مسلح تھے ۔ تخریب کاروں نے گلبرگ کے علاقے سے گن پوائنٹ پر جو سوزوکی پک اپ چھینی تھی اس سے اس تاثر کی مکمل نفی ہوجاتی ہے کہ وہ کارلفٹر تھے ۔ کیونکہ ایسے ملزمان ہمیشہ قیمتی اور خوبصورت گاڑیاں ہی چھینا کرتے ہیں ۔ کراچی میں اس سے پہلے کبھی مال بردار پک اپ چھینے کا واقعہ نہیں ہوا۔ البتہ پک اپ میں سوار بعض تاجروں یا ڈیلروں سے رقم چھیننے کی وارداتیں ضرورہوئی ہیں۔ 21 دسمبر کے واقعہ میں ملزمان نے سوزوکی چھینتے وقت اس کے مالک سے رقم کا سوال نہیں کیا۔ 
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اگرملزمان واقعی ڈاکو یا کار لفٹر ہوتے تو وہ سوزوکی چھیننے یاپیٹرول پمپ لوٹنے کے بعد راہ فرار اختیار کرتے ۔ اس مقصد کیلئے عائشہ منزل سے نارتھ ناظم آباد یا سہراب گوٹھ جانے والی کشادہ سڑکیں پوری طرح کھلی تھیں لیکن ملزمان نے ان کو چھوڑ کر کریم آباد جانے والے اس راستے کا انتخاب کیا جس پر قدم قدم پر پولیس متعین تھی اور گاڑیوں کا ایک طویل کارواں بھی آرہاتھا۔ ملزمان نے کریم آباد جانے کیلئے بھی سڑک کی اس رو کا انتخاب کیا جو صرف کریم آباد سے آنے والے ٹریفک کیلئے مخصوص ہے ۔ لہٰذایہ بات یقینی ہے کہ ان کے مقاصد کچھ اور تھے ۔ تخریب کاروں کے پاس دستی بموں کی موجودگی سے تو ان کے خوفناک عزائم کے بارے میں کسی شک وشبے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی ۔ کیونکہ دستی بم ،ڈکیتیوں یا کاریں چھیننے کی وارداتوں میں استعمال نہیں ہوتے ۔ پولیس ریکارڈ پر شاید ہی کوئی ایسی واردات ہو جس میں ملزم ڈکیتی کیلئے دستی بم لیکر پہنچے ہوں۔ ایسے مجرم کلاشنکوف ،ریوالور، ٹی ٹی سے ضرورمسلح ہوتے ہیں لیکن کراچی میں دستی بموں کا ڈکیتی میں آج تک استعمال نہیں ہوا۔ 
عائشہ منزل کے واقعہ میں بم دھماکے سے ایک تخریک کارکی ہلاکت کے بعد دوسرے کی پولیس فائرنگ میں ہلاکت اور تیسرے کافرار بھی نہایت توجہ طلب پہلو ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پولیس کی یلغار اورگولیوں کی بوچھاڑ کے باوجود ایک تخریب کار قانون کے نرغے سے کیسے بچ نکلا۔ فرار ہونے والوں میں سے ایک مجرم کو زندہ گرفتارکرنے کے بجائے ہلاک کردینا اور دوسرے مجرم کو کوئی گزند پہنچائے بغیر گرفتارکرنے میں ناکام ہوجانا بھی بہت معنی خیز ہے ۔ اس صورت حال میں پولیس کی غفلت ، بے پرواہی یامجرموں سے چشم پوشی میں کسی ایک امکان کو بھی مسترد نہیں کیاجاسکتا۔ ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے تو اس بارے میں کوئی شک وشبہ نہں رہتا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی لندن سے وطن واپسی پر عائشہ منزل کے قریب ان کے کارواں پر دستی بموں اور گولیوں کی بارش کرنے کا جو خوفناک منصوبہ بنایا گیا تھا اس میں پولیس کے بعض عناصر کو بی شامل کیا گیا تھا اور اس منصوبے کی ناکامی میں پولیس کا کوئی ہاتھ نہیں تھابلکہ اس نے جس طرح دھماکے کے بعد کارروائی کی اس کا مقصد سازش کے اصل دماغوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس واردات کیلئے جس انداز میں تخریب کاروں نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھایا ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی ائیرپورٹ پر جناب الطاف حسین کے طیارے سے اترنے کے بعد کریم آباد پہنچنے تک انہیں قائد تحریک کے کارواں کے قدم بہ قدم آگے بڑھنے سے مکمل طورپر آگاہی حاصل تھی ۔ اس بارے میں اطلاعات فراہم کرنے کیلئے یقینی طورپر اس سازش کے مہرے ائیرپورٹ سے عزیزآباد تک پھیلے ہوئے تھے اور ان میں گہرا ربط تھا ۔ یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رابطے کیلئے وائرلیس ، واکی ٹاکی یا موبائل ٹیلی فون استعمال ہوئے ہوں گے ۔ اس سازش میں ملوث تخریب کاروں میں سے اگر کوئی زندہ بچ جاتا اور گرفتارکرلیا جاتا تو فرشتہ اجل یا قانون کا ہاتھ سازش تیار کرنے والوں کی گردن تک بھی پہنچ سکتاتھا۔ تاہم پولیس اس مقصد میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کرسکی ۔

*****



10/21/2017 11:51:54 PM