Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کامخالف نہیں، فوج،رینجرز اور سرکاری ایجنسیوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتاہوں۔الطاف حسین


پاکستان کامخالف نہیں، فوج،رینجرز اور سرکاری ایجنسیوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتاہوں۔الطاف حسین
 Posted on: 3/20/2017
پاکستان کامخالف نہیں، فوج،رینجرز اور سرکاری ایجنسیوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتاہوں۔الطاف حسین 
حسین حقانی کوغداراسلئے قراردیاگیا کیونکہ وہ مہاجرہیں، ڈاکٹرقدیر اورجنرل پرویزمشرف کے ساتھ بھی مہاجرہونے کی بنیادپر 
براسلوک کیاگیا،، یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد مہاجروں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں
پی آئی بی والوں نے شہید وں کے خون کاسوداکرلیا، کرمنلزکوجمع کرکے کمالو گروپ کوتشکیل دیاگیا
یہ سب صرف اورصرف مہاجروں کونقصان پہنچانے اور ان کو غلام بنانے کے عمل کاحصہ بن رہے ہیں
جن لوگوں نے باربار قرآن مجیدپر حلف لیاکہ ہم آخری سانس تک قائدکے وفاداررہیں گے وہ اپنے مفادات کی خاطر عہدکو توڑ رہے ہیں
ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا، آج بھی کیاجارہاہے، تین سو سے زیادہ کارکنان اب بھی لاپتہ ہیں،
سندھیوں اوربلوچوں کی لاشیں مل رہی ہیں، لوگوں کولاپتہ کیا جارہا ہے، 
جو بھی ظلم کے خلاف آوازاٹھارہاہے اسے غائب کیاجارہاہے ، گزشتہ دنوں پانچ بلاگرزکوغائب کردیاگیا
مہاجروں اورمظلوم قومیتوں پر کیا جانے والایہ ظلم بند کیاجائے ،بنگلہ دیش میں محصورپاکستانیوں کو وطن واپس لایاجائے
اگردریا کے چاروں طرف بندلگادیے جائیں تو دریا اپنا راستہ خود بنالیتاہے۔ثابت قدم کارکنان کوسلام پیش کرتاہوں
ایم کیوایم کے 33ویں یوم تاسیس کے موقع پرلندن میں ایم کیوایم یوکے زیر اہتمام ہونے والے اجتماع سے وڈیولنک کے ذریعے خطاب
قائدتحریک الطاف حسین کایہ خطاب وڈیولنک کے ذریعے پاکستان سمیت دنیاکے مختلف ممالک میں براہ راست دیکھا گیا

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں پاکستان کامخالف نہیں، میں پاکستان سے محبت کرتاہوں، میں فوج،آئی ایس آئی اور سرکاری ایجنسیوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتاہوں، حسین حقانی کوغداراسلئے قراردیاگیا کیونکہ وہ مہاجرہیں، اسی طرح ڈاکٹرقدیر اورجنرل پرویزمشرف کے ساتھ بھی مہاجرہونے کی بنیادپر براسلوک کیاگیا، یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد مہاجروں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔مہاجروں کی باعزت زندگی اورحقو ق کے حصول کے لئے ڈاکٹرقدیرجیسے لوگوں کو باہرآناچاہیے۔انہوں نے ان خیالات کااظہار گزشتہ روز ایم کیوایم کے 33ویں یوم تاسیس کے موقع پرلندن میں ایم کیوایم یوکے زیر اہتمام ہونے والے اجتماع سے وڈیولنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کیا۔ ان کایہ خطاب وڈیولنک کے ذریعے پاکستان سمیت دنیاکے مختلف ممالک میں براہ راست دیکھا گیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے آئین میں مجھے یہ تاحیات استحقاق دیاگیاہے کہ میں رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کرسکتاہوں اوراسے نامنظوربھی کرسکتا ہوں لیکن اگرچند لوگ رینجرزکی چند گھنٹوں کی حراست میں دوطمانچے کھاکراپنی وفاداریاں تبدیل کرلیں اور باہر آکریہ کہیں کہ ہم نے آئین میں تبدیلی کردی ہے اورقائدتحریک کوحاصل استحقاق کو ختم کردیا ہے تواسے کون مان سکتاہے، رابطہ کمیٹی کے ارکان کی اکثریت تو لندن میں تھی یاجیل میں یا روپوش تھی توپارٹی کے آئین میں تبدیلی کومتفقہ کیسے قراردیاجاسکتاہے؟انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ 26سالوں میں کوئی اورتھاجورابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرتاتھا؟ کیا2013ء کے الیکشن میں کسی اور کی توثیق سے موجودہ ایم این ایز، ایم پی ایز اورسینیٹرزبنے تھے؟مگرافسوس کہ جس کی توثیق سے یہ سب ایوانوں میں پہنچے اسی سے انکارکررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے باربار قرآن مجیدپر حلف لیاکہ ہم آخری سانس تک قائدکے وفاداررہیں گے اوروہ اگراپنے عہدسے غداری کریں توہم پراللہ تعالیٰ کاعذاب آئے ، آج اپنے مفادات کی خاطر اپنے عہدکو توڑ رہے ہیں،اس عہدشکنی کاکفارہ کسی غریب کوکھاناکھلانے سے ادانہیں ہوسکتا کیونکہ یہ حقوق العباد کامعاملہ ہے اور اللہ تعالیٰ بھی حقوق العباد کو اس وقت تک معاف نہیں کرتاجب تک جس کاحق ماراگیاہووہ معاف نہ کرے۔ فاروق ستار نے پہلی مرتبہ غداری نہیں کی بلکہ 1992ء میں بھی انہوں نے اسی طرح بیوفائی کی لیکن میں نے انہیں معاف کرددیا جومیری غلطی ہے۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ چوہدری نثارجوآج کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کوسیاست کی اجازت نہیں دی جاسکتی،وہ خود بہت بڑے جھوٹے ہیں، اگروہ سچے ہیں توقرآن پر ہاتھ رکھ کرقوم کوبتائیں کہ جب 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کاآغازہواتوکیا20جون 1992ء کو چوہدری نثار نے مجھے فون کرکے یہ نہیں کہاتھاکہ وزیراعظم نوازشریف نے وطن واپس پہنچتے ہی انہیں گاڑی میں بٹھایااورکہاکہ جنرل آصف نوازنے ایم کیوایم کے خلاف کارروائی کرکے اپنے مینڈیٹ سے تجاوزکیاہے۔چوہدری نثارنے یہ بھی کہاتھاکہ ہم آپریشن بندکرادیں گے لیکن جب سرکاری ایجنسیوں نے انہیں دھمکی دی توان کی زبان بند ہوگئی اورانہوں نے بھی اپنا عہدتوڑا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ضرب عضب شروع ہوئی توجنرل راحیل شریف نے یہ یقین دلایاکہ یہ آپریشن خودکش حملے کرنے والے، دفاعی تنصیبات پر حملے کرنے والے، مساجد، امام بارگاہوں ، مزارات اوربازاروں میں دھماکے کرنے والے جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف ہوگالیکن جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاگیااس طرح جنرل راحیل شریف نے بھی اپناعہدتوڑااوراس پر انہیں بھی اللہ تعالیٰ کے حضوراس کاجواب دیناہوگا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخارچوہدری نے یہ کہاکہ ہمیں یہ رینجرزکی جانب سے یہ بتایاگیاہے کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں نے عسکری ونگ بنارکھے ہیں ۔ اس میں صرف ایم کیوایم کاہی نام نہیں تھابلکہ پیپلزپارٹی، اے این پی، جماعت اسلامی ، سنی تحریک اوردیگرجماعتوں کے نام بھی تھے لیکن آپریشن صرف ایم کیوایم کے خلاف کیاگیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کی سپریم کورٹ بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مددگاررہی ہے ، چیف جسٹس افتخار چوہدری نے جنرل پرویز مشرف کے ٹیک اوورکے وقت پی سی او پر حلف اٹھایااورفوجی حکومت کوتین سال کیلئے آئین میں تبدیلی کااختیاردیا۔انہوں نے کہا کہ افتخارچوہدری کی بحالی کیلئے وکلاء نے جس طرح کی تحریک چلائی اس طرح کی تحریک گزشتہ 69سال میں وکلاء نے نہیں چلائی۔ اس تحریک کے پیچھے کس کا ہاتھ تھامیں اپنے لیکچرمیں اس کی تفصیلات بیان کروں گا ۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ 12مئی کے واقعہ کابہت زکرکیاجاتاہے لیکن سانحہ علی گڑھ کاذکرنہیں کیا جاتاجس میں تین سو مہاجروں کوبیدردی سے قتل کردیا گیااورگھروں کوآگ لگائی گئی۔ سانحہ حیدرآبادکاذکرنہیں کیاجاتاجس میں سینکڑوں مہاجروں کاقتل عام کیاگیا لیکن پی آئی بی والوں نے ان شہید وں کے خون کاسوداکرلیاجبکہ کرمنلزکوجمع کرکے کمالو گروپ کوتشکیل دیاگیااوریہ سب صرف اورصرف مہاجروں کو نقصان پہنچانے اور ان کو غلام بنانے کے عمل کاحصہ بن رہے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ چوہدری نثار کہتے ہیں کہ الطاف حسین نے پاکستان مردہ باد کانعرہ لگایا، جس طرح میرے بھائی اوربھتیجے کوبیدری سے شہید کیاگیا، جس طرح میرے ہزاروں بے گناہ ساتھیوں کوتشددکرکے شہیدکیاگیااگراسی طرح چوہدری نثار کے بھائی یا بچے کوکوئی خدانخواستہ اسی طرح قتل کرے توچوہدری نثار کے دل پر کیاگزرے گی؟ کیاوہ اس کے بعد زندہ باد کانعرہ لگائیں گے ؟ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں سوداکرلیا، جب بھٹوکوپھانسی دی گئی تواس وقت کے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے سودا کرلیا، موجودہ قیادت نے بینظیربھٹوکی شہادت کاسوداکیا،بینظیرکی شہادت پر کراچی میں سینکڑوں گاڑیوں اورفیکٹریوں کومزدوروں سمیت آگ لگادی گئی۔ فوجی عدالتوں کے قیام کا معاملہ آیاتوپیپلزپارٹی نے پہلے تومخالفت کی لیکن جب حسین حقانی کامعاملہ آیااوریہ بات کہی جانے لگی کہ حسین حقانی نے امریکییوں کوویزے اس وقت کے صدر آصف زرداری اوروزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی منظوری سے دیئے توپیپلزپارٹی والوں نے اپنے آپ کوبچانے کیلئے حسین حقانی کو غدار قرار دیدیا اور اسٹیبلشمنٹ کوخوش کرنے کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کردی ۔ انہوں نے کہاکہ حسین حقانی کوغداراسلئے قراردیاگیا کیونکہ وہ مہاجرہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرامریکیوں کوویزے دینا حسین حقانی کاجرم تھاتوپاکستان آنے والے امریکی ریمنڈڈیوس اوراس جیسے لوگوں کوپکڑنا کیا حسین حقانی کاکام تھایا پولیس ، رینجرز، آئی ایس آئی اوردیگرایجنسیوں کاکام تھا؟آج سب حسین حقانی کے خلاف توواویلامچارہے ہیں لیکن کوئی یہ بات نہیں کرتاکہ اسامہ بن لادن ایبٹ آبادمیں کاکول ملٹری اکیڈمی کے قریب چھ سال تک کیسے رہتارہا؟ اس وقت ساری ایجنسیاں اورٹاک شو کے تجزیہ نگار کہاں تھے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ڈاکٹرقدیر محسن پاکستان ہیں، جنہوں نے پاکستان کوایٹم بم دیالیکن ان پر ایٹمی مواد دیگرملکوں کوفروخت کرنے کاالزام لگا کر قیدکردیاگیا، انہوں نے سوال کیاکہ اگرڈاکٹرقدیرنے ایساکیاتوکیا اکیلے کیا ہوگا؟ انہوں نے فوج کے C-130طیارے کے ذریعے ایسا کیاتو فوج کے کتنے لوگوں کوسزا ہوئی ؟ ڈاکٹر قدیرکوبھی ایک ٹی وی انٹرویومیں بالآخر یہ کہناپڑاکہ ان کے ساتھ ایسااسلئے کیاگیاکیونکہ وہ اردواسپیکنگ ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے خلاف ایکشن شروع ہواتو زرداری صاحب نے گھٹنے ٹیک دیے ، پیپلزپارٹی والوں کے گھروں سے اربوں روپے اور اسلحہ نکلا لیکن کسی کوگرفتارنہیں کیاگیا، اگر گرفتارکیابھی گیاتو صرف ڈاکٹرعاصم کو،وہ آج تک قید میں ہیں اسلئے کہ وہ مہاجرہیں۔ ڈاکٹرعاصم کیلئے پیپلزپارٹی والوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ جنرل پرویزمشرف جنہوں نے ملک کی خدمت کی لیکن ان کے خلاف توآرٹیکل 6 کامقدمہ چلانے کی بات کی گئی اورانہیں غدار کہاگیاجبکہ ان کاساتھ دینے والے دیگرجرنیلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جنرل پرویزمشرف کے ساتھ ایساسلوک اسلئے کیاگیاکہ وہ مہاجر ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد مہاجروں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔مہاجروں کی باعزت زندگی اورحقو ق کے حصول کیلئے ڈاکٹر قدیر جیسے لوگوں کو باہرآناچاہیے اور آواز اٹھانا چاہیے کہ آخرمہاجروں کے ساتھ یہ کیاہورہاہے۔ الطا ف حسین نے کہاکہ مجھے غدار قرار دیاجاتاہے، میرا قصور یہ ہے کہ میں نے مہاجروں کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی، کوٹہ سسٹم کے نام پر مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں اور حق تلفیوں کے خلاف آواز اٹھائی، کوٹہ سسٹم دس سال کیلئے نافذ کیا گیا تھا لیکن آج تک نافذ ہے۔آج بھی مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بندہیں، وہ اعلیٰ سرکاری ملازمت کیلئے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں نہیں بیٹھ سکتے۔الطا ف حسین نے کہاکہ میراقصوریہ ہے کہ میں جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام اورجرنیل شاہی کے خلاف ہوں،میں نے ملک میں جاری اسٹیٹس کوتوڑااورغریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کو قومی وصوبائی اسمبلیوں میں بھیجا، جو آج یہ کہتے ہیں کہ انہیں پاکستان سے محبت ہے انہیں پاکستان سے نہیں بلکہ دراصل اپنے آپ سے محبت ہے ، میں پاکستان کامخالف نہیں، میں پاکستان سے محبت کرتاہوں، میں فوج ، آئی ایس آئی اورسرکاری ایجنسیوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتاہوں، میراآج بھی یہ سوال ہے کہ اگرضرب عضب کامیاب ہوگیا ہے تو پھریہ دھماکے اور دہشت گردی کیسے ہورہی ہے ؟ پھریہ آپریشن ردالفساد کیسے ہورہاہے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا، آج بھی کیاجارہاہے، تین سو سے زیادہ کارکنان اب بھی لاپتہ ہیں، سندھیوں اوربلوچوں کی لاشیں مل رہی ہیں، لوگوں کولاپتہ کیا جارہا ہے، جو بھی ظلم کے خلاف آوازاٹھارہاہے اسے غائب کیاجارہاہے ، گزشتہ دنوں پانچ بلاگرزکوغائب کردیاگیا۔جناب الطاف حسین نے مہاجروں اور مظلوم قومیتوں پر کیا جانے والایہ ظلم بند کیاجائے ۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں محصورپاکستانیوں کی وطن واپسی کامطالبہ کیا۔انہوں نے تمام کارکنوں اورعوام کو ایم کیوایم کے 33ویں یوم تاسیس کی مبارکبادپیش کی اوران سے کہاکہ وہ حالات سے قطعی مایوس نہ ہوں اوراپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اوریہ یاد رکھیں کہ اگردریا کے چاروں طرف بندلگادیے جائیں تو دریا اپنا راستہ خود بنالیتاہے۔ انہوں نے شہیدوں اوراسیروں کے اہل خانہ کوسلام پیش کیا، جیلوں میں اسیرکارکنوں اورروپوش کارکنوں کی ثابت قدمی پر انہیں اپنا پیار اورسلام تحسین پیش کیا۔ 
*****


4/24/2017 4:19:34 AM