Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قطعی امید نہیں کہ ریاست پاکستان، مہاجروں کو انصاف دے گی،کنوینرایم کیوایم ندیم نصرت


قطعی امید نہیں کہ ریاست پاکستان، مہاجروں کو انصاف دے گی،کنوینرایم کیوایم ندیم نصرت
 Posted on: 3/4/2017 1
قطعی امید نہیں کہ ریاست پاکستان، مہاجروں کو انصاف دے گی،کنوینرایم کیوایم ندیم نصرت
مہاجروں پر ظلم وستم کا سلسلہ اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، کیاارباب اختیارچاہتے ہیں کہ مہاجربھی پہاڑوں پرچلے جائیں، ندیم نصرت
جب ریاست ماورائے آئین وقانون عمل کرنے لگے اور ظلم کا شکار عوام’’ تنگ آمد بجنگ آمد ‘‘کے مصداق قانون اپنے ہاتھ
میں لے لیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگئی؟ندیم نصرت
یہ آخری موقع ہے کہ مہاجروں کے خلاف ریاستی سطح پرڈھائے جانے والے مظالم کا سلسلہ بند کرایاجائے، ندیم نصرت
سندھ ہائی کورٹ میں صرف کراچی سے 400سے زیادہ افراد کی گمشدگی کے مقدمات زیرسماعت ہیں، ندیم نصرت
لیکن ملک میں اس طرح جشن منایا جارہا ہے گویا ہم نے کشمیرفتح کرلیا ہو، ندیم نصرت
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کرکٹ میچ کیلئے آدھی فوج اورصوبہ پنجاب کی پوری پولیس لگائی گئی ، ندیم نصرت
اسلامی جمہوریہ پاکستان اب غائبستان بن چکا ہے ، حقوق کی آواز بلندکرنے والے سندھیوں، بلوچوں، پختونوں اورمہاجروں کو گرفتارکرکے لاپتہ کرنا اور ان کی تشددزدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکنے کا عمل روزمرہ کا معمول بن چکا ہے ،ندیم نصرت
خواتین کے گھروں پر بھی جاکر باوردی رینجرزاور ایجنسیوں کے اہلکار دھمکیاں دے رہے ہیں کہ الطاف حسین کا ساتھ چھوڑ دو اور پی ایس پی یا پی آئی بی ٹولہ میں شمولیت اختیارکرلو ، ندیم نصرت
شراب کی بوتل برآمد ہونے یا سموسوں کی قیمت میں اضافہ پر ججوں کا ضمیرجاگ جاتا ہے، وہ ازخودنوٹس لیتے ہیں لیکن یہاں جیتے جاگتے انسانوں کے بہیمانہ قتل پر ان ججوں کے ضمیرسوئے ہوئے ہیں، ندیم نصرت
اب بھی موقع ہے کہیں ایسانہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے ، ایک ونڈوکھلی ہے جسے استعمال کرکے پاکستان کو بچایاجاسکتا ہے، ندیم نصرت
ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت کی پریس کانفرنس سے خطاب

متحدہ قومی موومنٹ(پاکستان) کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت نے کہاہے کہ ہمیں اب قطعی امید نہیں ہے کہ ریاست پاکستان، مہاجروں کو انصاف دے گی،مہاجروں پر ظلم وستم کا سلسلہ اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، کیاارباب اختیارچاہتے ہیں کہ مہاجربھی پہاڑوں پرچلے جائیں ۔ انہوں نے ارباب اختیار واقتدار کو متنبہ کیا کہ ارباب اختیار واقتدار کیلئے یہ آخری موقع ہے کہ وہ مہاجروں کے خلاف ریاستی سطح پرڈھائے جانے والے مظالم کا سلسلہ بند کرائیں۔ یہ بات انہوں نے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹرندیم احسان اور مصطفی عزیزآبادی بھی موجود تھے ۔ ندیم نصرت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم قصبہ علیگڑھ کے سینئرکارکن ندیم خان کو 17، دسمبر2016ء کو رینجرز کے باوردی اہلکاروں نے گرفتارکیاتھا، کمالو گروپ سے تعلق رکھنے والا مولانا ندیم نامی شخص ندیم خان کے گھروالوں پر دباؤ ڈالتا رہا کہ ندیم خان انکارکررہا ہے لیکن آپ پی ایس پی کا فارم بھردیں تو ندیم خان رہا ہوجائیں گے لیکن گھروالوں نے صاف انکارکردیا اورپھر ندیم خان کو رینجرز کی حراست میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ماورائے عدالت قتل کردیا گیا اورانکی تشددزدہ لاش پھینک دی گئی ۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا 
2
ریاستی ادارے کسی کوجواب دہ نہیں ہیں؟ اوراس ظلم پر عدالتوں کی خاموشی کیا انصاف کا قتل نہیں ہے ؟ انہوں نے کہاکہ جب ریاست اپنے ہی ملک کے شہریوں کے خلاف بربریت پر اترآئے اورتسلسل کے ساتھ ماورائے آئین وقانون عمل کرنے لگے اوراس کے نتیجے میں ظلم کا شکار عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگئی؟آخرادارے کس قانون کے تحت لوگوں کو کمالو ٹولہ یا پی آئی بی ٹولہ میں شمولیت کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں ؟ انہوں نے کہاکہ حقیقتاً لوگوں کو قتل کرکے ان کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں ،سندھ ہائی کورٹ میں صرف کراچی سے 400سے زیادہ افراد کی گمشدگی کے مقدمات زیرسماعت ہیں لیکن ملک میں اس طرح جشن منایا جارہا ہے گویا ہم نے کشمیرفتح کرلیا ہو۔ پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کیاجارہا ہے ،عاقبت نااندیشن عناصر کی جانب سے کہاجاتا ہے کہ’’ کشمیربنے گاپاکستان ، لال قلعہ پر پاکستان کاجھنڈا لہرائیں گے اور پاکستان میں خلافت قائم کریں گے‘‘جبکہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک کرکٹ میچ کیلئے آدھی فوج اورصوبہ پنجاب کی پوری پولیس لگائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے دفاع کابجٹ قائد تحریک الطاف حسین یاایم کیوایم کے ہاتھ میں نہیں دیا گیا ،دفاعی بجٹ رکھنے والے ہی ملک میں امن وامان کے ذمہ دار ہیں ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ ماورائے عدالت قتل کیے گئے کارکنان اور لاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے ؟ ہمیں کس جرم میں ظلم وستم کا نشانہ بنایاجارہا ہے ؟ ندیم خان شہید کے اہل خانہ نے قائد تحریک جناب الطاف حسین سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے دریافت کیاکہ ہم مہاجروں کے ساتھ آخریہ کب تک ہوتا رہے گا؟ ارباب اختیار واقتدار ہمیں جواب دیں کہ ہم مظلوم مہاجرخاندانوں کو کیاجواب دیں؟ کیاہم ان سے کہہ دیں کہ ریاست پاکستان ،عدلیہ اورقانون نافذ کرنے والے ادارے مہاجروں کی جان ومال کی حفاظت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ، مہاجرقوم کے نوجوان لاپتہ اورقتل ہورہے ہیں لیکن انہیں انصاف دلانے والاکوئی نہیں ہے ۔ندیم نصرت نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اب غائبستان بن چکا ہے ، حقوق کی آواز بلندکرنے والے سندھیوں، بلوچوں، پختونوں اورمہاجروں کو گرفتارکرکے لاپتہ کرنا اور ان کی تشددزدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکنے کا عمل روزمرہ کا معمول بن چکا ہے ، ایم کیوایم کی خواتین کے گھروں پر بھی جاکر باوردی رینجرزاور ایجنسیوں کے اہلکار دھمکیاں دے رہے ہیں کہ الطاف حسین کا ساتھ چھوڑ دو اور پی ایس پی یا پی آئی بی ٹولہ میں شمولیت اختیارکرلو ، ملازمت پیشہ کارکنان کو بھی تنگ کیاجارہا ہے ، انہیں تنخواہوں سے محروم کرکے کہاجارہا ہے کہ اگر تنخواہ چاہیے تو پی ایس پی میں جاؤ، لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ بازیابی کی پٹیشن واپس لے لیں ، جیل میں اسیرکارکن امیرالدین پر پی ایس پی میں شمولیت کیلئے دباؤ ڈالاگیا اورانکار کرنے پر انہیں جیل میں ہی زہردیکر قتل کردیاگیا، اسیرکارکنان کے اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ، اسیروں کو قیدتنہائی میں رکھاجارہا ہے اور ملاقات کیلئے اہل خانہ سے بھاری رشوت وصول کی جارہی ہے ۔ 17 سالہ بزرگ دانشور ، پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی گزشتہ روز پیشی تھی اور جج کو ان کی ضمانت کے سلسلہ میں فیصلہ دینا تھا لیکن عین وقت پر جج کورٹ میں نہیں آئے ، اے پی ایم ایس او کے رکن احمدعلی بیگ کورینجرز نے 31، جنوری کو گرفتارکیا تھاآج تک لاپتہ ہیں اور کوئی بتانے کیلئے تیارنہیں کہ انہیں کہاں اور کس حال میں رکھاگیا ہے ۔اسی طرح رابطہ کمیٹی کے معاون سلیم ، لیاقت آباد کے کارکنان فیاض ، عابد، فیڈرل بی ایریا کے فرحان ہاشمی اورفرہاج یعقوب کو بھی رینجرز نے گرفتارکیالیکن آج تک ان کی گرفتاری ظاہرنہیں کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا شروع دن سے مؤقف ہے کہ اگر ایم کیوایم کے کسی رکن پر کوئی الزام ہے تو اسے گرفتارکرکے عدالت میں پیش کیاجائے اورعدالت میں جرم ثابت کیاجائے ، اگر عدالت میں جرم ثابت ہوجائے تو جو چاہے سزا دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگامگرقانون نافذکرنے والے اداروں کویہ حق نہیں ہے کہ وہ جسے چاہیں گرفتارکرکے لاپتہ کردیں یا ماورائے عدالت قتل کردیں ۔ لاپتہ کارکنان کی سینکڑوں پٹیشنیں عدالت میں زیرسماعت ہیں لیکن عدالتوں سے بھی مہاجروں کوانصاف نہیں مل رہا ، لاپتہ افراد کے مقدمہ کی سماعت کے موقع پر پی آئی بی کے ضمیرفروش عناصر عدالت میں پیش ہونے کی بھی زحمت نہیں کررہے ہیں ، یہ ضمیرفروش خود کو قوم کا ہمدرد بتاتے ہیں لیکن ندیم خان کو گرفتارکرنے والے رینجرز کا نام تک لینے سے خوف زدہ ہیں ، جن کارکنان کی قربانیوں کی بدولت یہ عناصر منتخب ایوانوں کے رکن بنے آج انہی کارکنان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش ہیں ، یہی ظلم وستم بلوچستان کے عوام پر بھی 
3
ڈھایاجارہا ہے ، خیبرپختونخوا اورسندھ کے عوام پر ڈھایاجارہا ہے۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ رابطہ کمیٹی کے اسیررکن اشرف نور کو قانون نافذکرنے والے ادارے کے اہلکار جیل سے نکال کرنامعلوم مقام پر لے گئے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستا ن ، آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان اگر عوام کیلئے درد رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ یہ ظلم وستم بندکرائیں ، آخرہم کب تک لوگوں کو صبرکی تلقین کرتے رہیں گے ، ذاتی طورپر اب مجھ سے یہ ظلم وستم برداشت نہیں ہوتا ، ریاست ہمیں انصاف نہیں دے رہی ہے ، مہاجروں کی مایوسی انتہاء کوپہنچ رہی ہے اوراب ہمیں کوئی امید نہیں ہے کہ ریاست پاکستان، مہاجروں کے ساتھ انصاف کرے گی لہٰذا اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری ارباب اختیارواقتدار پر ہوگی ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ قائدتحریک جناب الطاف حسین نے نئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کوخط لکھا تھا کہ ہم پاکستان کے مخالف نہیں ہیں ، پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ہمیں قومی دھارے میں شامل کیاجائے لیکن صورتحال یہ ہے کہ پہاڑوں پر جانے والے بلوچوں کوتو قومی دھارے میں شامل کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں جبکہ مہاجروں کو پہاڑوں پر دھکیلاجارہا ہے ۔ انہوں نے ارباب اختیار سے سوال کیاکہ آپ کیاچاہتے ہیں ، کیامہاجر بھی پہاڑوں پرچلے جائیں ؟انہوں نے کہاکہ خاتون اداکارہ کی گاڑی سے شراب کی بوتل برآمد ہونے یا سموسوں کی قیمت میں اضافہ پر ججوں کا ضمیرجاگ جاتا ہے اوروہ ازخود نوٹس لے لیتے ہیں لیکن یہاں جیتے جاگتے انسانوں کے بہیمانہ قتل پر ان ججوں 
کے ضمیرسوئے ہوئے ہیں ۔ ندیم نصرت نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ساڑھے تین برس سے مہاجروں کے خلاف آپریشن کیاجارہا ہے ، قانون نافذکرنے والے ادارے ایم کیوایم کو تقسیم کرنے پر مصرہیں ، ایم کیوایم پر جھوٹے الزامات عائد کیے جارہے ہیں ، اسلحہ برآمدگی کے ڈرامے کیے جارہے ہیں ، ایم کیوایم کے کارکنوں کے گھروں پر ہزاروں چھاپے مارے گئے لیکن کسی ایک جگہ بھی مزاحمت نہیں کی گئی ، اب تک ایم کیوایم کے 8 ہزار سے زائد کارکنان کو گرفتارکیاگیا، ایک ہزارکارکنان آج بھی جیلوں میں قید ہیں ، 70 کارکنان کو ماورئے عدالت قتل کیاجاچکا ہے جبکہ 150 کارکنان آج بھی لاپتہ ہیں ، پاکستان میں کالعدم جہادی تنظیموں کو جلسے جلوس کی کھلی آزادی ہے جبکہ ایم کیوایم جیسی عوامی جماعت کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائدہے ، جہادی دہشت گردآزادی سے گھوم رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر حسن ظفرعارف جیسے پروفیسر، دانشور اور فلاسفر جیلوں میں قیدہیں ، عدالت کے حکم کے بغیرایم کیوایم کے مرکزی دفتر سمیت تمام دفاترسیل کیے جاچکے ہیں اورزندگی کے ہرشعبہ میں مہاجروں کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ۔ ندیم نصرت نے ارباب اختیارکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں امید نہیں لیکن پھربھی اگر کسی کے دل میں انسانیت کا درد ہے تو اب بھی موقع ہے کہیں ایسانہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے ، اب بھی ایک ونڈوکھلی ہے جسے استعمال کرکے پاکستان کو بچایاجاسکتا ہے ۔ انہوں نے جناب الطاف حسین کی جانب سے ایم کیوایم کے اسیر اورثابت قدم کارکنان کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا۔
*****

9/26/2017 2:36:13 AM