Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نوجوانوں اورطلباء وطالبات کے نام قائد تحریک جناب الطاف حسین کا تاریخی ، فلسفیانہ اورحقائق پر مبنی آڈیو لیکچر نمبر5


نوجوانوں اورطلباء وطالبات کے نام  قائد تحریک جناب الطاف حسین کا تاریخی ، فلسفیانہ اورحقائق پر مبنی  آڈیو لیکچر نمبر5
 Posted on: 2/27/2017
نوجوانوں اورطلباء وطالبات کے نام 
قائد تحریک جناب الطاف حسین کا
تاریخی ، فلسفیانہ اورحقائق پر مبنی 
آڈیو لیکچر نمبر5 
27، فروری2017ء

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمان الرحیم

واجب الاحترام بزرگوں، میری ماؤں ، بہنوں، تحریکی ساتھیوں، ملک بھر اوربیرون ملک ، دنیا بھرمیں جہاں جہاں یہ میرا آڈیو لیکچر سنا جارہا ہے ان سب لوگوں کو خصوصاً نوجوانوں ، طلباوطالبات ، جو جو سن رہا ہے ، ہر سننے والے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔السلام علیکم
آج جو یوتھ کے لیکچرز کا سلسلہ ہے ۔۔۔حالات کے سبب وہ رک گیا تھا ۔۔۔آج سے اسے دوبارہ شروع کررہے ہیں۔۔۔اس وقت لندن وقت کے مطابق رات کے دس بج رہے ہیں اورپاکستانی وقت کے مطابق صبح کے تین بج رہے ہیں ۔۔۔لندن میں 26، فروری 2017ء ہے اورپاکستان میں 27، فروری 2017ء اورپیرکا دن ہے ۔۔۔تسلسل کے ساتھ اس عنوان کہ:
Historical, philosophical and factual teaching lectures for youth
کاآج 5 واں آڈیو لیکچر ہے۔۔۔چار حصے یعنی پارٹ ون، ٹو، تھری اورفورآپ سن چکے ہیں ۔۔۔آج یہ پارٹ فائیو ہے ۔۔۔اور آج میں بات کو ہماری تاریخ کے محوریا مرکز کہیں کہ جب بھی پاکستان کا نام آئے گا تو اس کے بانی کا بھی نام آئے گا۔۔۔بانی پاکستان ، قائد پاکستان ، رہبرپاکستان۔۔۔یعنی پاکستان کو بنانے کی تحریک کے قائد ، قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ تھے ۔۔۔قائد اعظم محمد علی جناح 25 ، دسمبر1876ء کو پیداہوئے ۔۔۔اس دنیا میں آئے ۔۔۔اور11، ستمبر1948ء کو وہ اس دنیا سے کوچ کرگئے ۔۔۔اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے۔۔۔قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں سندھ مدرسۃ الاسلام نامی اسکول میں حاصل کی اورپھر آپ میٹرک کے بعد لندن چلے گئے اوروہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی اوربیرسٹر بنے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے قائداعظم کو جو فہم وفراست ، دانش ، لیاقت عطا فرمائی تھی اس کے ساتھ ایک اور چیز بھی تھی کہ وہ عوام کی خدمت کیلئے کچھ کریں سو انہوں نے خدا کے عطا کردہ اس جذبہ کے تحت جدوجہد کی اوربالآخر برصغیرکے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن پاکستان قائم کرکے دیا۔قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے پہلے 1906ء میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی ۔۔۔قائد اعظم دراصل شروع ہی سے انتہائی اچھی طبیعت ، ذہنیت کے مالک تھے ، ایماندار تھے ، وقت کی پابندی کرنے والے تھے، سچ بولتے تھے اور وہ شروع ہی سے’’ ہندو اورمسلم اتحاد ‘‘کے داعی تھے۔۔۔وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اورہندو آپس میں انگریز کے آنے سے پہلے جس طرح مل جل کررہتے تھے اسی طرح رہیں۔۔۔کیونکہ انگریزوں نے ظاہرہے کہ برصغیرکو فتح کیاتھا ۔۔۔ظاہر ہے انہیں وہاں پر نہ صرف اپنا اقتدار بھی قائم کرنا تھا بلکہ اس اقتدارکو طول بھی دینا تھا۔۔۔اور اسے برٹش ایمپائر ۔۔۔سلطنت برطانیہ کا حصہ بنانا تھا۔۔۔انگریزوں نے شروع سے کوشش کی کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں کسی طرح نفرت پیدا کی جائے اوراتنی پیدا کی جائے کہ یہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے قابل ہی نہ رہیں اورلڑتے رہیں تاکہ ہندوؤں اورمسلمانوں کی متحدہ کوشش ، انگریزوں کے خلاف کبھی اس طرح صف آراء نہ ہوسکے کہ ہندو اورمسلمان مل کر اپنے ملک کی آزادی کیلئے کوئی تحریک چلائیں ، جدوجہد کریں لہٰذا انہیں آپس میں لڑا دو۔۔۔Divide and Rule ۔۔۔اوریہی پالیسی طاقتور ممالک استعمال کرتے چلے آئے ہیں اور یہی فارمولا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ جو سب سے زیادہ طاقتور ہے یعنی فوج اور اس کی ایجنسیاں جس میں سرفہرست آئی ایس آئی ہے جس کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ ملک کی سلامتی وبقاء کیلئے اندرونی وداخلہ اورملک میں داخل ہونے کے راستوں پرنگاہ رکھے گی کہ دشمن یا دشمن کے ایجنٹ سرحد پارکرکے ملک میں داخل تو نہیں ہوئے لیکن آئی ایس آئی کا شروع سے کام رہا۔۔۔بہت سے لوگوں کو تویہ بھی نہیں معلوم کہ آئی ایس آئی کب بنی تھی، لوگ سمجھتے ہیں کہ آئی ایس آئی جنرل ضیاء الحق کے دورمیں بنی تھی ۔۔۔جی نہیں۔۔۔انگریز یعنی سلطنت برطانیہ نے 1948ء میں آئی ایس آئی کی بنیاد پاکستان میں رکھی تھی ۔۔۔تو آئی ایس آئی 1948ء میں قائم ہوئی۔۔۔لیکن اس نے دشمنوں کے تو نہ ایجنٹس پکڑے ۔۔۔نہ دشمنوں سے بچاؤ کے کوئی طریقہ اختیارکیے ۔۔۔بلکہ ایک کام جو انگریزوں سے انہوں نے سیکھا تھا کہ Divide and Rule ۔۔۔آئی ایس آئی اورفوج کو حکمرانی کا ایسا چسکا لگاکہ انہوں نے جمہوری جماعتوں میں گروپ بنانا شروع کردیئے ۔۔۔مسلم لیگ میں کئی گروپ بنائے ، جمعیت العلمائے اسلام میں کئی گروپ بنادیئے۔۔۔جمعیت العلمائے پاکستان میں کئی گروپ بنادیئے ۔۔۔پاکستان پیپلزپارٹی میں کئی گروپ بنادیئے ۔۔۔خیرجتنی بھی پارٹیاں ہیں ۔۔۔کوئی پارٹی ایسی نہیں ہے جس میں آئی ایس آئی نے گروپ نہ بنائے ہوں۔۔۔ایک پارٹی ایم کیوایم تھی جس کے لوگ نہ بکتے تھے، نہ جھکتے تھے۔۔۔ڈسپلن اتنا مضبوط تھا۔۔۔نظریاتی تربیت اتنی اچھی تھی ۔۔۔لیکن کچھ بے ضمیر، ضمیرفروش ، کچھ خراب خون رکھنے والے ، ایسے ہوتے ہیں جو اپنے مفاد کی خاطراپنے نظریہ ، اپنی قوم، اپنی ماں ، اپنی بہن ، اپنی بیٹی کا سودا کرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں۔۔۔تو ایسا ہی ایم کیوایم میں آئی ایس آئی بڑے دنوں سے تلاش کررہی تھی بالآخر عامر اورآفاق کی شکل میں انہیں ضمیرفروش ، غدار مل گئے ۔۔۔جو 19، جون1992ء کے فوجی آپریشن میں جو مہاجروں کے خلاف کیا گیا ۔۔۔فوجی ٹرکوں میں بیٹھ کر آئے اور جو قتل وغارتگری ، لوٹ مار، عورتوں ، بچیوں کا ریپ، لوٹ مار اور تمام آفسوں پر قبضے ، جوغنڈہ گردی کابازار گرم کیا اس سے آپ یوتھ تو واقف نہیں ہوں گے لیکن آپ کے والدین ۔۔۔بڑے بہن بھائی ضرور واقف ہوں گے ۔۔۔ان سے پوچھیں ۔۔۔وہ آپ کو بتائیں گے کہ ۔۔۔19، جون 1992ء کو جب یہ کراچی میں داخل ہوئے تھے تو فوج کے ٹرکوں میں بیٹھ کرآئے تھے ۔۔۔انہیں آرمی لیکر آئی تھی، انہیں پیسے ، بندوقیں ، اسلحہ دیا تھا، مارنے کا کھلا لائسنس دیا تھا، خصوصی کارڈز بناکر دیئے تھے ، شہر میں کرفیو میں کوئی نہیں نکل سکتاتھا لیکن حقیقی والوں کو اسلحہ لیکرنکلنے کی کھلی آزادی تھی ۔۔۔پھر اس کے بعدمجھ پرقاتلانہ حملے کرائے گئے ۔۔۔اورآخر میں خود کش حملے کرائے گئے۔۔۔اللہ نے مجھے بچایا۔۔۔ساتھیوں نے کہا، قوم نے کہاکہ آپ باہر چلے جایئے اوروہاں رہ کر ہماری رہنمائی کیجئے ۔۔۔26 سال تک میں تحریک چلاتارہا ۔۔۔ اس دوران 92ء کا آپریشن تیز سے تیز ہوتا رہا ۔۔۔اور ہم بھی باہر بیٹھ کر اپنا کام لکھنے لکھانے کا جتنا کرسکتے تھے کرتے رہے۔۔۔بین الاقوامی ہیومن رائٹس آرگنائزیشنز اوراداروں کو تمام تر حالات لکھ کر بھیجتے رہے ۔۔۔بالآخر فوج خود تو بظاہرچلی گئی لیکن اپنی جگہ رینجرز اورسویلین گورنمنٹ کو دے گئی ۔۔۔کبھی پیپلزپارٹی کودی توریٹائرڈ جنرل نصیراللہ بابر کو کمانڈرانچیف کے اختیارات دیئے گئے ۔۔۔جو پیپلزپارٹی کے دورحکومت، بے نظیربھٹو کے دورحکومت میں کہتا تھا کہ میں عدالتوں میں پیش نہیں کروں گا۔۔۔یہ بات ریکارڈپر موجود ہے ۔۔۔اورجب لاشیں تھانے پہنچا کرتی تھیں تویہ تھانوں میں جاکر لاشوں پر کودتا تھا اورکہتا تھا کہ اٹھو!! کھڑے ہو ۔۔۔مجھ سے مقابلہ کرو۔۔۔شہید ساتھیوں کی لاشوں پر یہ نصیراللہ بابر کودتا تھا۔۔۔اوربے نظیربھٹو صاحبہ قتل کرنے والے ۔۔۔ماورائے عدالت قتل کرنے والے سپاہیوں کو سیلیوٹ کرتی تھیں اورمیڈل دیتی تھیں، تعریفی اسناد دیتی تھیں ۔۔۔اس لئے کہ فوج ان سے خوش ہوجائے گی اوران کا اقتدار طویل تر ہوجائے گا۔۔۔بہرحال۔۔۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیرنہیں ہے ۔۔۔مکافات عمل ہوتاہے ۔۔۔اسی فوجیوں کی حکومت میں ان کو دن کی روشنی میں قتل کیاگیا ۔۔۔اورقاتل آج تک نہیں پکڑے گئے ۔۔۔نواز شریف کے دورمیں آپریشن شروع ہوا۔۔۔دوسرا آپریشن 1997ء میں تیسر ا ، چوتھا، پانچواں نجانے کونسا آپریشن ہوا۔۔۔جب سندھ میں گورنر راج نافذ کیا۔۔۔پھر گرفتاریوں اورماورائے عدالت قتل کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔پھر 1999ء میں نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی اورجنرل پرویز مشرف کی حکومت آئی ۔۔۔اس دور کے ابتداء میں بھی کارکنوں کی گرفتاریاں اورماورائے عدالت قتل ہوتے رہے لیکن چند عرصہ بعد ان کی کیبنٹ نے انہیں مشورہ دیا ۔۔۔بہرحال اس دورمیں جتنا عرصہ وہ رہے تو اس دور میں آئی ایس آئی ، ایم آئی ، آرمی ان سب سے ہمارے کافی اچھے تعلقات رہے ۔۔۔ہم نے ان سے کہاکہ ہم پر جوبھی الزامات ہیں وہ سب جھوٹے ہیں۔۔۔آپ تصدیق کرلیجئے ۔۔۔بالآخروہ سب جھوٹے الزامات تو تھے ہی اورانہیں بھی سب معلوم تھا۔۔۔وہ ذرا سا پیریڈ ضروربہتر گزرا ہے جس میں ہم نے بے پناہ ترقیاتی کام کیے ، بڑی عوام کی خدمت کی لیکن پھر ان کے جانے کے بعد جب زرداری صاحب کی حکومت آئی۔۔۔میں نے صدرکیلئے ان کا نام تجویز کیالیکن ان کے دورحکومت میں بھی مہاجروں کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئیں اورجو ان کاقتل عام ہوا۔۔۔ہرملاقات میں ، میں زرداری صاحب سے کہاکرتا تھا کہ یہ کیاہورہا ہے ۔۔۔؟ اس انصافی کو بند کرائیں لیکن وہ کہتے تھے کہ میں کیاکروں، میں مجبورہوں ، یہ ہم نہیں کررہے ہیں ، یہ فوج کررہی ہے ۔۔۔ بہرحال وہ ہرچیز فوج پر ڈال کر خود بری الذمہ ہوجایاکرتے تھے ۔۔۔اس کے بعد ان کی حکومت بھی ختم ہوگئی اورنواز شریف کی حکومت آئی۔۔۔خیر1992ء کے آپریشن کے بعد حقیقی بنائی ۔۔۔چیئرمین عظیم احمد طارق مرحوم کے ذریعہ حاجی کیمپ بناکر تمام ایم پی ایز ، ایم این ایز کو جمع کیاگیا اورمیرے خلاف وہی جو فارمولا جنرل آصف نواز نے 19، جون 1992ء کو دیا تھا ۔۔۔ان کا بیان تمام قومی اخبارات میں شائع ہوا تھاکہ۔۔۔’’ الطاف حسین کا چیپٹر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا ہے‘‘ ۔۔۔اور۔۔۔ ’’جب تمام جماعتوں میں کئی جماعتیں اورگروپ بن سکتے ہیں تو ایم کیوایم میں گروپ کیوں نہیں بن سکتے‘‘ ۔۔۔یہ سب ریکارڈ پر ہیں ۔۔۔یقیناًنئی نسل جنرل آصف نوازمرحوم کا نام نہیں جانتی ہوگی ۔۔۔بہرحال وہ لوگ حاجی کیمپ چلے گئے ۔۔۔حاجی کیمپ بنا۔۔۔پارٹی کا سارا پیسہ ختم کردیاگیا ۔۔۔جومیں نے برے وقتوں کیلئے پیسہ بچاکررکھاتھا۔۔۔میں انہی مرکزی کمیٹی کے لوگوں کے کہنے پر لندن آیاتھا۔۔۔مجھے اس رقم سے کوئی پیسہ نہیں دیاگیا، میں فریاد کرتا رہا۔۔۔روزنامہ امن ، شاہد ہے ۔۔۔یوتھ جاکر 1992ء کے اخبارات دیکھیں اس میں اشتہار شائع ہوئے کہ لندن میں الطاف بھائی کو کورٹ کا نوٹس آگیا ہے کہ ٹیلی فون کے بل ادا کرنے کے پیسہ نہیں ہیں ۔۔۔میرے پاس پانچ پونڈ بھی نہیں تھے۔۔۔میں نے سوچا کہ ہم تین آدمی ہیں۔۔۔ایک میں ، ایک ندیم نصرت اورایک خلیل۔۔۔کہ آؤ کچھ کام کرتے ہیں تو ندیم نصرت اور صدیقی صاحب نے ایک فیکٹری میں کام شروع کردیا۔ میں نے کہاکہ مجھے کوئی ایسا کام لاکر دے دو کہ میں گھرپر بیٹھ کر کرتا رہوں۔۔۔بہت سارے کام ایسے ہوتے ہیں جوگھر پر بیٹھ کر بھی کیے جاتے ہیں ۔۔۔یعنی یہ نوبت آگئی تھی۔۔۔خیراللہ نے یہ وقت بھی نکال دیا ۔۔۔
میرے بھائیو۔۔۔!
ضرب عضب کی آڑ میں قوم کو الوبنایاگیا کہ ہم شمالی وزیرستان میں ۔۔۔القاعدہ کے ۔۔۔اوردھماکہ کرنے اورخودکش حملے کرنے والے دہشت گردوں کا صفایا کریں گے ان کے خلاف آپریشن کریں گے ۔۔۔دنیا بھر کے دعوے کیے گئے ۔۔۔شمالی وزیرستان میں کیا، گھروں کوخالی کرایاتاکہ دنیا بھرمیں یہ تاثرجائے کہ ہم آپریشن کررہے ہیں لیکن جیسے ہی معصوم پختونوں کو آئی ڈی پیز کی شکل میں انکے گھروں سے دور کیمپوں میں لے جایا گیا ویسے ہی دوسری طرف اشارہ دیا گیا دھماکہ کرنے والوں کہ بھاگ جاؤ ، ان سب کو بھگادیااور خالی مکانوں پربم گراکراس کی تصویریں دکھائیں کہ ہم نے اتنے دہشت گرد ماردیئے ۔۔۔جنرل راحیل شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف نے بیان دیا کہ ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑدی ہے اوردہشت گردوں کاخاتمہ کردیا ہے لیکن میرے پیارے نوجوانو۔۔۔! آپ نے مشاہدہ کیاہوا ہوگا کہ ہردن پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا میں آئی ایس پی آر مختلف نیوز جاری کرتارہا ہے کہ ہم نے فلاں جگہ اتنے دہشت گرد ماردیئے۔۔۔فلاں جگہ سو ماردیئے ۔۔۔فلاں جگہ تین سو ماردیئے ۔۔۔فلاں جگہ پچیس ماردیئے ۔۔۔فلاں جگہ پچاس ماردیئے ۔۔۔ارے بھئی!
جن کی کمرتوڑ دی گئی تھیں اچانک کس نے ان دہشت گردوں کی کمریں جوڑ دیں ۔۔۔؟کونسی کمر جوڑ فیکٹری لگادی تھی۔۔۔آج تک برطانیہ میں کمرجوڑ فیکٹری نہیں بن سکی کہ جس کی کمر ٹوٹ گئی ہو اس کو جوڑنے کی کوئی فیکٹری برطانیہ میں بنی ہو۔۔۔ابھی تک نہیں ہے ۔۔۔لیکن یہ فوجیوں کے پاس ہے ۔۔۔پاکستانی فوج کے پاس ہے کہ دہشت گردوں کی کمرجوڑ فیکٹری۔۔۔جن جن کی کمرٹوٹ گئی ہے وہ تمام لوگ پاکستانی فوج اورآئی ایس آئی سے رابطہ کریں وہ ان کی کمر جوڑ دیں گے ۔اب پتہ نہیں کہاں سے یہ دہشت گرد نکل رہے ہیں۔۔۔بات دراصل یہ تھی کہ 2013ء میں جو آپریشن ضرب عضب شروع کیاگیا تھا۔۔۔پہلے کیاگیا تھا 1992ء میں ۔۔۔خدا کی قسم ۔۔۔آج ایک بات اور سن لو آپ نے ایک آدمی کانام سنا ہوگا۔۔۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار، یہ اتنا جھوٹا آدمی ہے ان سے پوچھو کہ جب 1992ء میں میاں نوازشریف کی حکومت تھی تو جب جنرل آصف نواز نے کہاکہ ہم سندھ میں آپریشن کرنے والے ہیں تو 72 بڑی مچھلیوں کی فہرست پیش کی گئی جسے قومی اسمبلی میں پیش کیاگیا۔۔۔اس فہرست میں پتھاریداروں کے نام تھے ، اس میں بے نظیرکے کامداروں کے نام تھے ۔۔۔پیرپگارا کے لوگوں کے نام تھے ۔۔۔اس میں جتوئی کے لوگوں کے نام تھے کہ یہاں ڈاکوؤں کو پناہ دی جاتی ہے ۔۔۔بڑے بڑے ڈاکوؤں کے نام تھے ۔۔۔نامی گرامی ڈاکو تھے لیکن ان میں سے کسی ایک آدمی کو ٹچ نہیں کیاگیا۔۔۔خدا کی قسم۔۔۔اورآپریشن کیاگیا تو عملاًصرف اورصرف ایم کیوایم کے خلاف کیاگیا۔۔۔یہی 2013ء میں جنرل راحیل شریف کے ضرب عضب میں ہوا۔۔۔آپ دیکھئے ناں ۔۔۔اگرجنرل راحیل شریف ایماندار ہوتے تو جب سعودی عرب نے انہیں کہاکہ آپ 38 مسلم ممالک کی مشترکہ فوج کے چیف آف آرمی بن جاؤ تو یہ کیوں راضی ہوگئے ۔۔۔؟انہیں پاکستان نے اجازت نہیں دی ورنہ تویہ وہاں پر جارہے تھے انہیں یہ پرواہ نہیں کہ ان حالات جبکہ شام میں بھی جو مسلمانوں کا ملک ہے وہاں جنگ جاری ہے اور بحرین اور بہت سے علاقے ہیں ، عراق ، لیبیا، ان کا کیا ہوگا۔۔۔؟ لیکن جنرل راحیل شریف نے تو یہاں پر اپنا کام کیا ۔۔۔مال پکڑا۔۔۔ اربوں روپے کی زمین پکڑی اورمزید لوٹنے کیلئے آگے بڑھنے لگے ۔۔۔خیراچھا ہوا۔۔۔جانے نہیں دیا ان کو ۔۔۔ہمیں پرواہ نہیں۔۔۔ ان کو بھیج دیں۔۔۔ اچھا ہے ۔۔۔پاکستان کی کتنی بدنامی اب ہوگئی ہے اب کچھ باقی ہی نہیں رہا ۔۔۔پاکستان کے پاس ۔۔۔سب کچھ تو اترچکا ہے ۔۔۔دنیا کی نظر میں پاکستان کی عزت تارتار ہوچکی ہے ۔۔۔ا س کی ذمہ داری فوج ہے اوروڈیرے جاگیردار۔۔۔اورسیاسی مذہبی جماعتیں ہیں جو حکمراں رہی ہیں۔۔۔کسی میں ہمت نہیں ہے کہ فوج کے آگے سراٹھا کر گولی کھالے ، چھپ کرضرورکہا لیکن سامنے آکر کسی نے نہیں کہا۔۔۔سامنے سب بلی بن گئے ۔۔۔چوہے بن گئے ۔۔۔چوہدری نثار سے پوچھو ۔۔۔اس وقت بھی یہ منسٹر تھااور اس نے دومرتبہ قومی اسمبلی میں 72 افراد کی فہرست پیش کی تھی۔۔۔اس سے آج بھی کوئی جاکر اس کے ہاتھ پر قرآن شریف رکھ کرپوچھے کہ ۔۔۔ چوہدری نثار۔۔۔! ان 72 میں سے کوئی ایک بھی پکڑا گیا۔۔۔؟یا فوج کا ساراآپریشن ایم کیوایم کے خلاف تھا۔۔۔؟یا معصوم کارکنوں کے قتل عام کیلئے کیاگیا تھا۔۔۔؟اب تک 20 ہزار سے زائد کارکنان مارے جاچکے ہیں اور جنرل راحیل شریف کے زمانے میں ہی آئی ایس آئی کے چیف رضوان اخترتھے اور جنرل راحیل شریف چیف آف آرمی اسٹاف تھے ۔۔۔بلال اکبر ڈی جی رینجرز تھا۔۔۔نوید مختار ، کورکمانڈر کراچی تھے ۔۔۔لیکن مہاجروں کا قتل عام ہوتارہا ، ہوتا رہا، کوئی نہیں رکوا سکا۔۔۔میں نے ہزاروں اپیلیں کیں ، لیٹر لکھے ۔۔۔لیکن جب کوئی شرم کے معنوں سے ہی واقف نہ ہو۔۔۔تو اسے آپ کیا کہیے ۔۔۔؟ چوہدری نثار بھی ان میں سے ایک ہے ۔۔۔اس سے کہوناں کہ یہ فہرست لیکر آئے ۔۔۔اوراب بھی لگا ہوا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کو برطانیہ نے کیوں بند کردیا۔۔۔why did they close money laundering case? ، یہ چلا چلا کے کہتا ہے کہ مجھے برطانیہ کے اس عمل پر مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے ۔۔۔کبھی کہتا ہے کہ ریڈ وارنٹ کیلئے ہم نے ایف آئی اے کو درخواست لکھی ہے ۔۔۔ریڈ وارنٹ والوں نے ان کو بھی لال جھنڈی دکھادی کہ جاؤ وہیں رکے رہو۔۔۔اس سے آگے مت بڑھنا ورنہ تمہارے ریڈ وارنٹ جاری ہوجائیں گے ۔۔۔وہ آج بھی کہہ رہا ہے کہ بڑی پیش رفت ہوئی ہے ، وارنٹ جاری ہوگئے ہیں۔۔۔کہنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ چوہدری نثار میرے خلاف کیوں بول رہا ہے ۔۔۔؟ عمران خان کے خلاف کیوں نہیں بولتا۔۔۔؟زرداری کے خلاف کیوں نہیں بولتا۔۔۔؟اورلوگوں کے خلاف کیوں نہیں بولتا۔۔۔؟ایم کیوایم کے خلاف کیوں بولتا ہے ۔۔۔؟
تو آئی ایس آئی نے انگریزوں سے divide and rule سیکھا ۔۔۔یہ انگریز کے جوتے صاف کرنے والے جولوگ تھے یہ ان کی اولاد یں ہیں، ان کے بزرگ بھی برٹش فوج میں تھے ۔۔۔یعنی سلطنت برطانیہ کی فوج میں ان کے باپ دادا، پردادا وہاں ملازم تھے اوروہاں انگریزوں کی جوتیاں صاف کرنے پر مامور تھے ،یہ ان کی اولادیں ہیں ۔۔۔اوروہیں سے سازشوں کی ساری تراکیب انہوں نے سیکھی ہیں ۔۔۔divide and rule ۔۔۔جتنے کریمنلز میں نے ایم کیوایم سے نکالے ، چائنا کٹنگ کے سلسلے میں ، بھتہ خوری کے سلسلے میں ، رشوت ستانی کے سلسلے میں اور لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے کے جرم میں ، الزام میں جتنے لوگوں کو میں نے نکالا وہ ملک سے بھاگ گئے ، دبئی چلے گئے ، دبئی میں آئی ایس آئی کابڑا اثر ورسوخ ہے ، آئی ایس آئی ولوں نے گود میں لیکر منہ میں فیڈر دی اوران کا گروپ تیار کیا۔ سارے ڈاکوؤں ، چوروں ، زمین پر قبضہ کرنے والے لینڈ مافیا، اسٹریٹ کرائم کرنے والوں ، ان کو جمع کرکے کمالوگروپ بنایا۔۔۔جس کو کہتے ہیں زمین یعنی چائنا کٹنگ گروپ، کمالو گروپ نہیں بلکہ چائناکٹنگ گروپ، بھتہ خور گروپ، لوٹ مار گروپ پر مبنی گروپ بنایا ۔۔۔باقی کسی کی ماں ، کسی کی بہن، کسی کے بیٹے کو پکڑ کرکسی ایم پی اے کے سامنے ، کسی ایم این اے کے سامنے لیکر آئے اورفاروق ستار اوردیگر جو آج چہک چہک کر پی آئی بی میں لوگوں کو فون کرکے ڈرا رہے ہیں ۔۔۔لوگوں کے پتے بتا کر انہیں گرفتارکروارہے ہیں ۔۔۔تم غدارو!! تم پہلے بھی ایجنٹ بن چکے تھے ۔۔۔سب نے جھوٹے قرآن اٹھائے، تم نے جھوٹی قسمیں کھائیں ۔۔۔کہتے ہیں کہ الطاف حسین کو ہم نے نکال دیا۔۔۔سارے ایم این ایز، ایم پی ایز ، فاروق ستارسمیت سب بتائیں کہ انہوں نے تحریک اورالطاف حسین سے وفاداری کا حلف نہیں اٹھایا۔۔۔میں نے انہیں ۔۔۔کسی کوپارلیمانی لیڈر ، کسی کو کچھ ، کسی کو کچھ۔۔۔میں نے توثیق کی تویہ کچھ بنے ۔۔۔یعنی ان کے پاس ایم این اے شب، ایم پی اے شپ۔۔۔اورسینیٹر شپ یہ سب میری امانت ۔۔۔تحریک کی امانت ہے۔۔۔میں بہت جلد ایک خطاب کرنے والاہوں جس میں بتاؤں گاکہ قرآن مجید امانت کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔۔۔مگران پر تو اس کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ ان کا دین نہیں ، ایمان نہیں ۔۔۔
اچھے کردار والے امانت میں خیانت نہیں کرتے ۔۔۔کتنی مرتبہ میں نے کہاکہ استعفیٰ دیدو ۔۔۔جان جاتی ہے تو جائے ۔۔۔پرامانت میں خیانت نہ ہو ۔۔۔روزمحشر اللہ کے آگے جواب دے سکتے ہو۔۔۔بے شرمو۔۔۔!اللہ کے آگے توبہ کرو۔۔۔آج بھی موقع ہے کہ استعفیٰ دیدو۔۔۔سینیٹر شپ سے استعفیٰ دیدو۔۔۔یہ شہیدوں کے لہو کی امانت ہے ۔۔۔پارٹی کی امانت ہے ۔۔۔فاروق ستار، میری توثیق سے پارلیمانی لیڈ ر بنا اور الیکشن کمیشن میں وہ میری توثیق سے انچارج بنا۔۔۔تو اس نے گروپ بنادیا پارٹی کے اندر جیسے انگریز نے گروپ بنائے ۔۔۔کہ قائد اعظم جو شروع سے ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے ، وہ چاہتے تھے کہ کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ میں کسی طرح ایسا اتحاد ہوجائے ۔۔۔نوجوانو۔۔۔! خدارا غور سے سنو کہ قائد اعظم کیاچاہتے تھے، ۔۔۔وہ ہندومسلم اتحاد چاہتے تھے۔۔۔وہ چاہتے تھے کہ انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ میں کسی طرح ایسا اتحاد ہوجائے کہ ہندوؤں اورمسلمانوں کو ان کے جائز حصے کے مطابق دونوں کو ان کے حقوق ملیں تاکہ کسی کو احساس محرومی نہ ہو
1919ء سے قائداعظم محمد علی جناح کے کانگریس سے اختلافات ہونا شروع ہوگئے تھے ۔۔۔تیز سے تیز تر ہونا شروع ہوئے اورجب انہوں نے دیکھاکہ کانگریس ہندوؤں کی طرف داری کررہی ہے اورمسلمانوں کو نظرانداز کررہی ہے تو 1920ء میں انہوں نے کانگریس سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کرلی ۔۔۔ساتھ ساتھ قائداعظم عقلمند، سمجھدار اوردوراندیش تھے ۔۔۔انہوں نے 1913ء میں ہی آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیارکرلی تھی جبکہ وہ کانگریس کے ممبر تھے ۔۔۔ ۱ور1916ء میں وہ مسلم لیگ کے صدر بنے ۔۔۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ وہ 1919ء تک کانگریس میں شامل رہے اور1920ء میں انہوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیارکرلی۔۔۔نوجوان طبقہ ، طلباوطالبات اس پر غورکریں ۔۔۔دیکھیں انگریز کی چال اورچائنا کٹنگ گروپ اورپی آئی بی ، امانت میں خیانت کرنے والا گروپ ۔۔۔1927ء میں آل انڈیا مسلم لیگ دوحصوں میں تقسیم ہوگئی۔۔۔ایک آل انڈیا مسلم لیگ رہی جس کی قیادت اورسربراہی قائد اعظم کے پاس رہی جبکہ دوسری مسلم لیگ جوصوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سرمیاں محمد شفیع نے بنائی تھی وہ اس کے صدربنے ۔
میرے پیارے نوجوانو۔۔۔!!
I love you so much, I have great respect for you, because you are taking interest in my lectures. I love you. Please try to learn and save the nation, Mohajir nation. Nobody on the earth, except God, except Allmighty Allah, can save us, can provide us shelter, can provide us a place where we can live with honour and dignity. 
قائداعظم کے زمانے میں ہی سازشیں شروع ہوگئی تھیں۔۔۔انگریز نے قائداعظم کی مسلم لیگ میں بھی دومسلم لیگ بنادیں۔۔۔دوسری مسلم لیگ بنانے والے کا تعلق پنجاب سے تھا اور اس کی سربراہی ’’سر‘‘ کا خطاب پانے والے سرمیاں محمد شفیع کررہے تھے ۔۔۔کیونکہ قائداعظم محمدعلی جناح ؒ انگریزوں کے ٹاؤٹ نہیں تھے اوریہ’’سر‘‘کاخطاب عموماً انہیں ہی ملتا ہے جو ٹاؤٹ ہوتے ہیں ۔۔۔سرمحمدشفیع نے جومسلم لیگ بنائی اس کا نام آل انڈیا مسلم لیگ شفیع گروپ رکھاگیا۔۔۔یہ گروپ قائداعظم کا شدیدمخالف تھا ۔۔۔
میرے پیارے نوجوانو۔۔۔!! 
ایک بات اور سن لو۔۔۔حامد میرصاحب کو تین گولیاں ماری گئیں ۔۔۔آج تک انہوں نے نہیں بتایاکہ کس نے ماری، کیوں ماری؟وہ خاموش ہیں ۔۔۔حامدمیر پنجابی ہیں ۔۔۔وہ کئی مرتبہ اپنے پروگرام میں میری تقریرکا ایک حصہ دکھاچکے ہیں کہ الطاف حسین نے کہا:
The division of the sub-continent was the biggest blunder mistake in the history of mankind. 
جی ہاں ۔۔۔میں اب بھی اس بات پر اسٹینڈ کرتا ہوں۔۔۔اپنی بات پر قائم ہوں۔۔۔ برصغیرکی تقسیم سے بڑی غلطی دنیا کے کسی خطہ میں ہوئی ہی نہیں ۔۔۔نہ یہ تقسیم ہوتی ، نہ پاکستان بنتا، نہ ہم کو ہجرت کرنی پڑتی اورنہ ہم کوطعنے سننے پڑتے کہ تم فرزندزمین نہیں ہو۔۔۔آئیں ہم مل کے گائیں۔۔۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی ،یہ گلستاں ہمارا 
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ میں نے کیوں پڑھا؟۔۔۔یہ میں نے اس لئے پڑھا کہ اب موضوع آرہا ہے ۔۔۔شاعرمشرق، تصورپاکستان کے خالق، تصورپاکستان کے موجد، پاکستان کاخواب دیکھنے والے ۔۔۔حضرت علامہ اقبال ؒ کا ۔۔۔یہ ان کا کلام ہے ۔۔۔علامہ اقبال کے دیوان میں موجود ہے ۔۔۔
رام ، رام ، سیتا رام 
رام ، رام ، رام
کرم ہے سب کچھ رام سے
یہ حضرت علامہ اقبال کا کلام ہے ۔۔۔میرا کلام نہیں ہے ۔۔۔اسی طرح۔۔۔۔۔۔
وائے گرو، وائے گرو۔۔۔گرو نانک گرونانک
یہ بھی میرا کلام نہیں ہے ۔۔۔بلکہ علامہ اقبال کا کلام ہے ۔۔۔پڑھ لیجئے ۔۔۔پڑھ لیجئے ۔۔۔

کلیات اقبال میں علامہ اقبال کی نظم ’’رام‘‘ پڑھی گئی
لبریز ہے شراب حقیقت سے جام ہند
سب فلسفی ہیں خطہ مغرب کے رام ہند
یہ ہندیوں کے فکرفلق رس کا ہے اثر
رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بام ہند
اس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشت 
مشہورجن کے دم سے دنیا میں نام ہند
ہے رام کے وجودپہ ہندوستاں کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند
اعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے یہی
روشن طرز سحر ہے زمانے میں شام ہند 
تلوار کا دھنی تھا شجاعت پہ فرض تھا
پاکیزگی میں جوش محمد فرض تھا

بابا گرونانک کے بارے میں حضرت علامہ اقبال کی نظم’’نانک‘‘
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پرواہ نہ کی
قدرسچائی نہ اپنے گوہریک دانہ کی
آہ بدقسمت رہے آواز حق سے بے خبر
غافل اپنے پھل کی شیرنی سے ہوتا ہے شجر
آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا
ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا
شمع حق سے جو منور ہو ، یہ وہ محفل نہ تھی
بارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی
آہ ، شودرکیلئے ہندوستاں غم خانہ ہے
درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے 
برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں
شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیارمیں
بت کدہ پھر بعد مدت کے روشن ہوا
نور ابراہیم سے آذر کاگھر روشن ہوا
پھر اٹھی آخر صداتوحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردکامل نے جگایا خاک سے

دیکھا آپ نے ۔۔۔ہم کوئی مخالفت نہیں کررہے ۔۔۔دیکھیں علامہ اقبال کتنے وسیع النظر تھے ۔۔۔ہم نے انہیں صرف مسلمانوں کا بنادیا ہے ، وہ تو سکھ مذہب ، ہندومذہب کے بھی ماننے والے تھے ۔۔۔وہ تو سارے مذاہب کومانتے تھے۔۔۔تو اب میں آپ کو بتاتا ہوں ۔۔۔آپ کو معلوم ہے ناں کہ 1927ء میںآل انڈیا مسلم لیگ دوحصوں میں تقسیم ہوگئی ۔۔۔ایک حصہ کی قیاد ت قائداعظم کررہے تھے اوردوسرے حصہ کی قیادت سرمیاں محمد شفیع کررہے تھے ۔۔۔جنہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ شفیع گروپ بنارکھا تھا۔۔۔جیسے ہمارے گروپ بنائے گئے ہیں ناں۔۔۔ایسے ہی یہ گروپ تھا۔۔۔یہ گروپ قائداعظم کا شدید مخالفت تھا۔۔۔بس یہاں پر ایک بات بہت قابل غور ہے ۔۔۔کہ حضرت علامہ اقبال ؒ نے بھیPro-British group of Muslim League یعنی شفیع گروپ میں شمولیت اختیارکرلی تھی اور اس مسلم لیگ شفیع گروپ کے سیکریٹری جنرل بنے تھے ۔۔۔لیکن 1932ء میں سر میاں محمدشفیع کا انتقال ہوگیا اور مسلم لیگ ایک ہوگئی اور علامہ اقبال بھی قائداعظم کے حامی ہوگئے اورانہوں نے مسلمانوں کے رویوں سے ناراض ہوکر لندن چلے جانے والے قائداعظم کو خط لکھے کہ آپ دوبارہ قیادت سنبھالیں ۔۔۔آپکے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔۔۔واپس انڈیا آجائیں ۔۔۔پھر خان لیاقت علی خان نے بہت ضد کی قائداعظم محمد علی جناح سے اور اس طرح قریب ہوگئے کہ بالآخر قائداعظم کو رضامندکرکے انڈیا واپس لے آئے اور 1937ء سے قائد اعظم نے دوبارہ باقاعدہ مسلم لیگ کی قیادت شروع کردی یہاں تک کہ 14، اگست1947ء کو پاکستان کا قیام عمل میں آگیا۔۔۔
ساتھیو۔۔۔!
آج کا لیکچر نمبر 5 یہیں تک ہے اور اب اس کا دوسرا حصہ چندروز بعد سنئے گا ۔۔۔آپ کے تاثرات کاانتظا ررہے گا
بہت بہت شکریہ 
اللہ آپ کو خوش رکھے 

والسلام
اللہ حافظ

9/26/2017 2:36:43 AM