Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
pressoffice@mqm.org
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب! مہاجروں کو بدترین ریاستی مظالم کا نشانہ بنایاجارہاہے، کنوینر ایم کیوایم ندیم نصرت


جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب! مہاجروں کو بدترین ریاستی مظالم کا نشانہ بنایاجارہاہے، کنوینر ایم کیوایم ندیم نصرت
 Posted on: 2/15/2017
جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب! مہاجروں کو بدترین ریاستی مظالم کا نشانہ بنایاجارہاہے، کنوینر ایم کیوایم ندیم نصرت
عوام میں لاوا پک رہا ہے ، لوگوں میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں ، ندیم نصرت
آپ مہاجروں کو انصاف دلائیں ، ان کے ساتھ ریاستی مظالم کاسلسلہ بندکرائیں انشاء اللہ مہاجرقوم
ایک قدم بڑھ کر پاک فوج کا ساتھ دے گی ، ندیم نصرت
پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن ، امجداللہ خان ،احمدعلی بیگ، اشرف نوراور سلیم شہزادسمیت
ایم کیوایم کے تمام بے گناہ اسیروں کو فی الفور رہا کیاجائے، ندیم نصرت
پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے ساتھ انصاف سے کام لیاجائے، ندیم نصرت
پاکستانی میڈیا دباؤ ، تعصب اور مفاد پرستی کے تحت مہاجروں پرڈھائے جانے والے بھیانک مظالم سے عوام کو آگاہ نہیں کررہا ، ندیم نصرت
ارباب اختیار آج تک قائد تحریک الطاف حسین کی وضاحت قبول کرنے کو تیاردکھائی نہیں دیتے، ندیم نصرت
فوجیوں کی گردنیں کاٹنے اور سروں سے فٹبال کھیلنے والے دہشت گردوں سے حکومت اورریاست بات کرنے کوتیارہے، ندیم نصرت
آئین اورجیل مینوئل کی خلاف ورزی کرنا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ مہاجروں کے ساتھ عادی مجرموں سے جیسا برتاؤ کرنا پاکستان 
کے حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کیلئے باعث شرم ہے،ندیم نصرت
چوہدری نثارعلی خان کے دل کالعدم جہادی تنظیموں سے ملتے ہیں ،ندیم نصرت
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے طالبان کے بانی مدرسہ کو کروڑوں روپے کی امداد دی، ندیم نصرت
ضمیرفروش عناصر، پروفیسرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن، امجداللہ خان، کنورخالدیونس، اشرف نور، سلیم شہزاداوراحمد علی بیگ جیسے دیگر باوفا کارکنان کے ساتھ کھڑے ہونے سے کیوں کتراتے رہے ہیں ،ندیم نصرت
سوشل میڈیاکے ذریعہ رابطہ کمیٹی کے کنوینرندیم نصرت کی وڈیوبریفنگ

متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان )کی رابطہ کمیٹی کے کنوینرندیم نصرت نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مہاجروں کو بدترین ریاستی مظالم کا نشانہ بنایاجارہاہے اوریہ مظالم دیکھنے کے بعد کسی کے منہ سے پھول نہیں جھڑیں گے اگر آپ مہاجروں کو انصاف دلائیں ، ان کے ساتھ ریاستی مظالم کاسلسلہ بندکرائیں انشاء اللہ مہاجرقوم ایک قدم بڑھ کر پاک فوج کا ساتھ دے گی ۔انہوں نے کہاکہ عوام میں لاوا پک رہا ہے ، لوگوں میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں ، وقت کا تقاضا ہے کہ لاکھوں جانوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والے پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے ساتھ انصاف سے کام لیاجائے ۔یہ بات انہوں نے سوشل میڈیاکے ذریعہ وڈیوبریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے آئین ، قانون اور جیل مینوئل کی کھلی خلاف ورزیوں کے تصویری ثبوت بھی پیش کیے جن میں ایم کیوایم کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اسیررہنماء پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف ، مومن خان مومن اور امجداللہ خان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالی گئی تھیں جبکہ کالعدم جہادی تنظیموں کے سربراہوں سے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی کی ملاقات کی تصویربھی دکھائی گئی۔ 
اپنی بریفنگ میں ندیم نصرت نے کہاکہ پاکستانی میڈیا دباؤ ، تعصب اور مفاد پرستی کے تحت مہاجروں پرڈھائے جانے والےبھیانک مظالم سے عوام کو آگاہ نہیں کررہا ہے ۔ 2013ء سے آج کے دن تک ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاجارہا ہے ، اس دوران غیرقانونی چھاپوں، بلاجوازگرفتاریوں، گرفتارہونے والے کارکنان کو لاپتہ کرنے ، ماورائے عدالت قتل اورجیلوں میں اسیرکارکنان پر بھیانک مظالم کے مسلسل واقعات رونما ہوئے لیکن مہاجروں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی روک تھام کیلئے حکومتی اور ریاستی سطح پر کسی قسم کے اقدامات دیکھنے میں نہیں آرہے ۔ انہوں نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے 22، اگست 2016ء کو اپنے کارکنان وعوام پر ظلم وبربریت کے مسلسل واقعات کے ردعمل میں جوکچھ کہااس پر ان کی جانب سے کئی مرتبہ وضاحت کی گئی ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بات کو انہی حالات کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا جاتا لیکن بدقسمتی سے ارباب اختیار آج تک قائد تحریک جناب الطاف حسین کی وضاحت قبول کرنے کو تیاردکھائی نہیں دیتے جبکہ جن دہشت گردوں نے قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی گردنیں کاٹیں اور ان کے سروں سے فٹبال کھیلی ان سے حکومت اورریاست بات کرنے کوتیارہے ۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کی جماعت کے رہنما دہشت گردی اورقتل وغارتگری کرنے والے طالبان سے مذاکرات کرنے اوران کے دفاترکھولنے کامطالبہ کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں سماء ٹی وی کی وین پر فائرنگ کرکے ایک ٹیکنیشن تیمورخان کو شہید کردیا گیا اور تحریک انصاف کے رہنماء نے سوشل میڈیا پر اس کا الزام بھی ایم کیوایم پرعائد کردیاکہ جائے وقوعہ ایم کیوایم کااکثریتی علاقہ ہے اور اس میں ایم کیوایم ملوث ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج پشاور میں بم دھماکہ ہوا جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت قائم ہے تو کیا اس واقعہ کا مقدمہ عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے خلاف قائم کیاجائے ؟ اسی طرح گزشتہ روز لاہور میں بم دھماکہ کے واقعہ کا الزام مسلم لیگ (ن) پرعائد کردیاجائے ؟ اورآج کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکہ کا الزام کیا وہاں کی جماعتوں پرعائد کردیاجائے؟ آخر کب تک جھوٹے الزامات کی سیاست کے ذریعہ قوم کو گمراہ کیاجاتا رہے گا۔ماضی میں بعض اینکرپرسنز کی جانب سے سانحہ صفورا گوٹھ اور پروفیسر شکیل اوج کے قتل کا الزام بھی ایم کیوایم پر عائد کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب اصل ذمہ دارگرفتارکیے گئے جن کا تعلق جماعت اسلامی اورالقاعدہ سے ثابت ہوا تو الزام لگانے والے تمام اینکرپرسنز کی زبانوں کو تالے لگ گئے اورکسی ایک نے بھی اخلاقی جرات کامظاہرہ کرتے ہوئے قوم سے جھوٹ بولنے پر معافی نہیں مانگی ۔ انہوں نے کہاکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جانب سے اس مدرسہ کو کروڑوں روپے کی امداد دی گئی جس پر الزام ہے کہ یہ مدرسہ طالبان کا بانی ہے ہوناتو یہ چاہیے کہ جن لوگوں نے دہشت گرد بنانے کی فیکٹریوں کی فنڈنگ کی ان سب کے خلاف تفتیش کی جائے اورانہیں قانون کے کٹہرے میں لایاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ کراچی آپریشن محض ایک ڈرامہ ہے ،جس طرح 1992ء میں 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں مہاجروں پر لشکرکشی کی گئی تھی اسی طرح کراچی آپریشن کارخ بھی ایم کیوایم کی جانب موڑدیاگیا ہے ، ایم کیوایم پرجناح پور بنانے کاجھوٹاالزام لگاکر مہاجروں کی حب الوطنی کومشکوک بنایاگیا مگرجھوٹا الزام لگانے والے فوجیوں کوکوئی سزا نہیں دی گئی اگر جھوٹاالزام لگانے والوں کو سزا دے دی جاتی تو جھوٹا الزام لگانے کی روایت ختم کی جاسکتی تھی۔ جن لوگوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے ، پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے سے انکارکیا، دہشت گردوں سے مقابلے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکارکیا، طالبان اورالقاعدہ کے دہشت گردوں کو شہیدقراردیا ان کے خلاف آج تک کوئی ایکشن نہیں لیاگیا۔
ندیم نصرت نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی بدولت جنہیں سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلی کی رکنیت اورمیئرشپ ملی وہ مہاجروں پر ڈھائے جانے والے ایک ایک ظلم سے واقف تھے لیکن انہوں نے حالات کو سمجھنے اور مہاجروں کا مقدمہ لڑنے کے بجائے حالات سے سمجھوتا کرلیا اورانہوں نے شہیدوں کے لہوکا سودا کرلیا۔ ان حالات میں ایم کیوایم اورمہاجروں کا مقدمہ لڑنے کیلئے 75 سالہ پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف، سینیئر سیاستداں ودانشور مومن خان مومن، کنورخالدیونس، سابق جج ساتھی اسحاق اوردیگر حق پرستوں نے میدان عمل میں آئے اورانہوں نے الطاف حسین کی اپیل پرلبیک کہتے ہوئے میڈیا 
کے سامنے پارٹی کامؤقف بیان کرنے کی حامی بھری لیکن انہیں الطاف بھائی کاساتھ دینے کے جرم میں بلاجواز گرفتارکرکے جیل میں قید کردیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کوپاکستان کے اصل دشمن نظرنہیں آتے لیکن جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اوردانشور جوکہ پاکستان کا اثانہ، فخر اور غرور ہیں اورجنہوں نے نئی نسل کو علم وشعور کی روشنی سے منورکیا ہے ، آج اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں وہ مجرم بنادیئے گئے ہیں جوکہ پانچ ماہ سے بغیرکسی جرم کے پابند سلاسل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مہذب گھرانوں میں والدین سے زیادہ اساتذہ کرام کے احترام کا درس دیاجاتا ہے اورجس معاشرے میں اساتذہ کے ساتھ تعصب اورنفرت کی بنیاد پر ایسا بھیانک اورتوہین آمیزسلوک کیاجائے وہ عمل پاکستان کیلئے کسی بھی طرح قابل فخربات نہیں ہوسکتی ۔ حق پرستانہ جدوجہد کی پاداش میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا ہمارے لئے شرم کی بات نہیں لیکن پاکستان کے آئین اورجیل مینوئل کی خلاف ورزی کرنا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ مہاجروں کے ساتھ عادی مجرموں سے جیسا برتاؤ کرنا پاکستان کے حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کیلئے باعث شرم ہے ۔ جو جج صاحبان معمولی واقعہ پر ازخود نوٹس لیتے رہے ہیں انہیں مہاجروں کے خلاف آئین وقانون کی دھجیاں بکھیرنے کا عمل کیوں دکھائی نہیں دیتا، یہ امرقابل غورہے کہ جس ملک کی عدلیہ بے حس اوربے ضمیرہوجائے اوروہ عوام کوانصاف نہ دیں تو اس ریاست کا کیاانجام ہوگا؟
ندیم نصرت نے کہاکہ بعض مفاد پرست اورضمیرفروش عناصر جوہم سے یہ کہتے ہیں کہ پاکستان آکر سیاست کریں ہم ساتھ کھڑے ہوں گے ،وہ پروفیسرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن، امجداللہ خان، کنورخالدیونس، اشرف نور، سلیم شہزاداوراحمد علی بیگ جیسے دیگر باوفا کارکنان کے ساتھ کھڑے ہونے سے کیوں کتراتے رہے ہیں ،یہ رہنما تمام ترمصائب ومشکلات کے باوجود قائد تحریک الطاف حسین کے ساتھ کھڑے ہیں ، ضمیرفروش عناصر لفاظی کرکے کارکنان کوگمراہ نہ کریں ۔ ندیم نصرت نے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ چوہدری نثارعلی خان کے دل کالعدم جہادی تنظیموں سے ملتے ہیں ، وہ قائد تحریک الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کردیتے ہیں ، برطانوی نظام انصاف پر تنقیدکرتے ہیں،ان کے دورحکومت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مہاجروں کے ساتھ بھیانک سلوک کیاجارہا ہے لیکن انہیں مہاجروں پر ڈھائے جانے والے مظالم دکھائی نہیں دیتے دوسری جانب مختلف ممالک کی جانب سے جن جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے چوہدری نثارعلی ، ان کالعدم تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اورطالبان بنانے والوں کا دفاع کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے سامنے پاکستان کا یہ چہرہ پیش کرکے یہ توقع کرنا کہ دنیا میں پاکستان کی نیک نامی ہوگی سراسر خودفریبی ہے ۔ 
ندیم نصرت نے کہاکہ ایم کیوایم پر دہشت گردی کاالزام عائد کیاجاتا ہے لیکن گزشتہ تین برسوں کے دوران کراچی اورحیدرآباد میں 10ہزار سے زائد چھاپے مارے گئے ، بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کرنے کے دعوے کیے گئے حتیٰ کہ نیٹوکااسلحہ رکھنے کا بھی الزام لگایاگیا لیکن کوئی یہ نہیں بتاتاکہ اگر قانون نافذکرنے والوں کو ایم کیوایم کے اکثریتی علاقوں میں چھاپوں کے دوران کسی قسم کی مزاحمت کاسامنانہیں کرناپڑا، اگرمہاجرعوام دہشت گرد ہوتے اورانہوں نے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی ہوتی تو کیاوہ اتنی خاموشی سے گرفتارہوجاتے۔انہوں نے کہاکہ حکمراں اپنے ہاری اورکسانوں کو بے وقوف بناسکتے ہیں لیکن باشعور اورتعلیم یافتہ مہاجروں کو گمراہ نہیں کرسکتے ، وہ آپ کے جھوٹ پر قطعی یقین کرتے ، یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے جھوٹے قصے کہانیوں اورتمام ترریاستی مظالم کے باوجودمہاجرعوام آج بھی قائد تحریک الطاف حسین کے ساتھ کھڑے ہیں اورانشاء اللہ کھڑے رہیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے تعصب اورنفرت کا مظاہرہ کرکے کراچی اورحیدرآباد کو کچرے کے ڈھیرمیں تبدیل کردیا ہے ، بلدیات کے تمام اختیارات پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے چھین لیے ہیں اگر ناانصافیوں اورمتعصبانہ طرز عمل کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پھر حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے ۔ندیم نصرت نے سندھ کے ایڈیشنل آئی جی کوتنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مہاجروں کے ماورائے عدالت قتل کے نکتہ پرصدارتی حکم نامہ کے تحت دووفاقی حکومتیں برطرف کی گئی ہیں، جن پر 15 ہزار مہاجرنوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کا الزام ہے ان میں سے کسی ایک بھی سرکاری اہلکارکوگرفتارکرکے سزانہیں دی گئی ، آخرکس قانون کے تحت مہاجروں سے جینے کاحق چھینا گیااور ان کے قاتل کہاں ہیں؟سانحہ قصبہ علیگڑھ، سانحہ 30 ستمبرحیدرآباد، سانحہ 31 اکتوبر86ء اورسانحہ پکاقلعہ میں ملوث قاتلوں کوآج تک گرفتارکیوں نہیں کیاگیا؟انہوں نے کہاکہ جو عناصر آج کراچی میں قیام امن کی بات کررہے ہیں وہ قوم کودھوکہ دے رہے ہیں ، گن پوائنٹ پر لوگوں کی زبانیں بندکرکے ، تعلیم یافتہ مہاجروں کو جیلوں میں ڈال کراور مہاجروں کے گھروں میں صف ماتم بچھانے کے عمل کو امن کاقیام کہنا سراسر دھوکہ ہے ، ایک لاکھ فوجی کہیں بھی بھیج دیں وہاں قبرستان کاسناٹا چھاجائے گا۔ندیم نصرت نے کہاکہ جیلوں میں مہاجر اسیروں کو ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ عادی مجرموں کو جیل میں ہرقسم کی سہولت میسر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم اوراے پی ایم ایس او کے رہنماؤں کوگرفتارکرکے لاپتہ کیاجارہا ہے ، بے گناہ مہاجروں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے جیلوں میں قیدکیاجارہا ہے ، جیل میں زہردیکرقتل کیاجارہاہے ، حراست کے دوران مہاجرنوجوانوں کو بدترین تشدکا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کیاجارہا ہے ، انہیں تشددکانشانہ بناکران کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبورکیاجارہا ہے ،سنسان سڑکوں پر لاپتہ کارکنان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جارہی ہیں، گرفتارشدگان کی رہائی کے لئے ان کے اہل خانہ سے لاکھوں روپے رشوت وصول کی جارہی ہے اورغیرقانونی چھاپوں کے دوران چادروچاردیواری کاتقدس پامال کیاجارہا ہے ۔ اگر قانون کے رکھوالے ہی قانون شکنی کا عمل کریں گے تو لوگوں میں نفرت بڑھے گی اورقدرت کے قانون کے تحت جواب میں مظلوم عوام بھی قانون کی پاسداری نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر لوگوں کو انصاف فراہم کیاجائے تو کہیں بھی آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آئے گی آخرکب تک ہماری فوج ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں آپریشن کرتی رہے گی اوریہ کب ہوگا کہ ہم فوج کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف آپریشن کے معاملہ سے نکال کرکشمیربھیجیں گے ۔آج بھی یہ صورتحال ہے کہ باوردی فوجی افسران کراچی اورحیدرآباد میں کارکنان کے گھروں پر جاکران کے اہل خانہ کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اپنے بچوں سے کہیں کہ وہ الطاف حسین کا ساتھ چھوڑ کرفلاں فلاں ٹولہ میں شامل ہوجائیں ۔ اگرآپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے عمل سے امن قائم ہوجائے گا تو یہ آپ کی محض خام خیالی ہے ۔ عوام میں لاوا پک رہا ہے ، لوگوں میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں ، وقت کا تقاضا ہے کہ لاکھوں جانوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والے پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے ساتھ انصاف سے کام لیاجائے ، قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے سب سے زیادہ قانون شکنی کا عمل کیاجارہا ہے جس کی روک تھام کرنا ہوگی، آپ قانون کی دھجیاں بکھیر کرمظلوموں کودرس دے رہیں کہ انکے پاس بھی قانون شکنی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ندیم نصرت نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مہاجروں کو بدترین ریاستی مظالم کا نشانہ بنایاجارہاہے اوریہ سب مظالم دیکھنے کے بعد کسی کے منہ سے پھول نہیں جھڑیں گے اگر آپ مہاجروں کو انصاف دلائیں ، ان کے ساتھ ریاستی مظالم کاسلسلہ بندکرائیں انشاء اللہ مہاجرقوم ایک قدم بڑھ کر پاک فوج کا ساتھ دے گی ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن ، امجداللہ خان ،احمدعلی بیگ، اشرف نوراور سلیم شہزادسمیت ایم کیوایم کے تمام بے گناہ اسیروں کو فی الفور رہا کیاجائے، تمام لاپتہ کارکنان کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے ، کراچی اورحیدرآباد میں ریاستی اداروں کے خفیہ ٹارچرسیلوں کو بند کرایاجائے اور مہاجرکارکنان کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔

*****

6/24/2017 10:25:59 PM