Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نوجوانوں سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کا آڈیو لیکچرنمبر(2)


 Posted on: 2/11/2017
نوجوانوں سے قائد تحریک جناب الطاف حسین کا
آڈیو لیکچرنمبر(2)
11، فروری 2017ء بروز ہفتہ

اعوذباللہ من الشیطین الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم 

واجب الاحترام میری ماؤں ،بہنوں، بزرگوں اور تحریکی ساتھیوں اور تمام مظلوموں ۔۔۔ یوتھ خصوصاً مہاجر یوتھ۔۔۔ مہاجر طالب علم ،لڑکے لڑکیاں ۔۔۔جو تعلیم حاصل کر رہی ہیں ۔۔۔یوتھ کے نام اپنا آڈیو لیکچرنمبر1 ریکارڈ کرواچکا ہوں ۔ آج یوتھ کیلئے یہ دوسرا آڈیو لیکچر ہے۔۔۔آج جو تاریخی باتیں میں آپ کو بتانے والا ہوں یہ تاریخ شائد آپ کو کتابوں میں نہ ملے۔۔۔ پاکستان میں کسی ٹی وی ٹاک شو میں آپ کو یہ نہیں بتایا جائے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ جو میں اپنے پچھلے لیکچر میں بتا چکا ہوں کہ پاکستان میں سول حکومت صرف تبادلہ اورپوسٹنگ کیلئے بنا دی جاتی ہے تا کہ جمہوریت کے نام پر مغرب سے اورامریکہ سے امدادلی جاسکے لیکن پاکستان بنے کے بعد سے بلکہ بننے سے پہلے بھی جو بات قائد اعظم محمد علی جناح ؒ مرحوم کو نہیں معلوم تھی کہ انگریز۔۔۔ پنچاب کے، سرحد کے ، بلوچستان کے، سندھ کے وڈیر وں اور جاگیرداروں سے ۔۔۔ خصوصاً پنجاب کے جاگیر داروں اور وڈیرو ں سے انگریزوں کی بہت زیادہ قربت تھی ۔۔۔اس کے علاوہ تقسیم ہند سے پہلے ایک پنجاب تھا اس کے دو حصے تھے۔۔۔ ایک ایسٹ پنجاب اور ایک ویسٹ پنجاب ۔۔۔یوں توجنگ عظیم اول اورجنگ عظیم دوئم میں پورے ہی ہندوستان کے لوگ ،انگریز وں کے ساتھ مل کر انگریز وں کے دفا ع کے کیلئے ان کا ساتھ دینے کیلے تمام علاقوں سے گئے تھے لیکن مغربی پاکستان جہاں پاکستان بنا یہاں کے لوگ جس انداز سے انگریز فوج کے ساتھ شامل ہوئے اور جو عاجزانہ، انکساری اور غلامی کا رویہ مغربی پاکستان کے پنجابیوں نے استعمال کیا اور متعدد جگہ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ کچھ مقامات پر ہندوستان سے شامل ہونے والے مشرقی پنجاب کے لوگ اپنی رائفلوں سے نشانے لگا تے وقت دانستہ نشانہ چوک دیا کرتے تھے۔۔۔ انہیں معلوم تھا کہ معصوم بچے، بچیاں عورتیں ہیں ۔۔۔ انہیں مارنے سے کوئی فائد ہ نہیں تو وہ دائیں بائیں نشانہ کر دیا کر تے تھے لیکن مغربی پاکستان کے تعلق رکھنے والے چاہے وہ بڑے بڑے خاندان ہوں، دولتانہ ہو، ٹوانہ ہو، چوہدری ہو، پیر ہو، لغاری ہو یہ جتنی فیملی آپ کو ملے گی یہ سب کہ سب انگریزوں کے صرف نوکر ہی نہیں تھے بلکہ ان کی غلامی میں اس حد سے گزر گئے تھے کہ ان کے بوٹ پالش بھی کیا کرتے تھے ۔
میر ے یوتھ کے لوگو!
پہلی جنگ عظیم میں ایک ایسا وقت آیا کہ جب سعودی عرب(سرزمین حجاز) کو فتح کرنے کی بات آئی تو سعودی عرب فتح کرنے کے بعد جو مزاحمت ہوئی وہ کعبتہ اللہ شریف میں ہوئی ۔۔۔ اب سوال آیا کہ خانہ کعبہ پر کون حملہ کرتا ہے۔۔۔ کون گولی چلاتا ہے۔۔۔ انگریزوں نے سکھوں سے گولی چلانے کاکہا توانہوں نے منع کر دیا کہ یہ مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہ ہے اور صدیوں سے قائم ہے ہم اس پر گولی نہیں چلاسکتے سور ی۔۔۔ہندؤوں نے منع کر دیا کہ حتیٰ کہ ہندوستان کے عیسائیوں نے بھی منع کر دیا۔۔۔ جب سب نے منع کر دیا تو مغربی پاکستان کی جو فوج تھی وراثت میں آج تک حکومت کرتی چلی آئی ہے اور آج بھی پاکستان میں اس کی حکومت ہے ۔میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں پاکستان میں جتنی بھی سول حکومتیں آئیں وہ برائے نام محض پاکستان میں جمہوریت دکھا نے کیلئے آئیں ۔۔۔انہیں صرف تنی چھوٹ دی کہ اپنا مال بناؤ ۔۔۔اپنے خاندان کا مال بناؤ۔۔۔ مال کماؤاور جاؤ ۔باقی جو کر پشن فوج کے بعض حلقے کے لوگوں میں ہے وہ کرپشن پاکستان میں کہیں نہیں ہے۔۔۔ مثال کے طور پر موجودہ دور کے یوتھ، نوجوانوں ،بچے بچیوں، لڑکے لڑکیوںآپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کے 

رینجرز سندھ سے کیوں نہیں جاتی ہے۔۔۔؟
آؤ میں تمہیں بتا تا ہوں۔۔۔ رینجر ز، سول حکومت کے ساتھ مل کر جیسے پی پی پی کی حکومت ہے ،وڈیروں اور جاگیرداروں کی حکومت ہے، انہیں سند ھ کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔۔۔انہیں صرف اپنی جاگیروں اور مفادات کی پرواہ ہے ۔۔۔ لہٰذا ۔۔۔انہیں کیاکہ رینجرز ،مہاجروں کا قتل عام رینجر ز کر رہی ہے۔۔۔جبکہ انکے لوگوں کے گھر وں سے بھاری تعداد میں اسلحہ نکل رہا ہے۔۔۔ دو دو ارب روپ کیش نکل رہے ہیں ۔۔۔لاڑکانہ میں رینجرز کے خلاف بھاری ہتھیار استعمال ہورہے ہیں۔۔۔پی پی پی کے ایک آدمی اسد کھرل کا بڑا نام تھا جس کو پکڑ اگیا اس کے پاس سے اسلحہ نکلا، جب گرفتاری عمل میں آئی تو اسکے قبیلے کے لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے رینجر ز پر حملہ کر دیا۔۔۔رینجرز والوں سے ان کی تمام رائفلیں چھین لیں اور رینجرز کو مار بھگایا ۔ اسی دور میں میر ے ساتھیو! یہ شائد ایک سال پہلے کی بات ہو گی۔۔۔ تو آپ بتایئے پی پی پی ،رینجرز کی کیسے مخالفت کرے گی ۔۔۔؟جب پی پی پی کے پانی کے دھندوں، کالے کرتوتوں میں رینجر ز کچھ نہیں بولتی تو پیپلز پارٹی کے وڈیروں اور جاگیرادروں کو اس سے کیاغرض کہ سندھ کا ہاری مر ے یا کسان مرے۔۔۔ مہاجروں کو تو آپ چھو ڑ ہی دیجئے۔۔۔وہ تو تاریخ کی ایک ایسی غلطی ہے جس کو میں ببانگ دہل کہہ چکا ہو ں اورآج بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ برصغیرپاک وہند کی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی طاقت تین حصوں میں تقسیم ہوئی۔۔۔یہ اتنی بڑی تاریخی غلطی ہے کہ ہندوستان میں مسلمان بھگت رہے ہیں۔۔۔ بنگلہ دیش میں بھگت رہے ہیں اور پاکستان میں مہاجر بھگت رہے ہیں۔۔۔ یہاں کا کوئی مقامی native/indigenous ایک لفظ ہوتا ہے اس کے معنی دیکھ لیجئے ۔۔۔ہم ہیں migratedہجرت کرکے آنے والے ۔۔۔تو ہم بھگوڑے ہیں ،تلیر ہیں ،مکڑ ہیں ، مٹروے ہیں ، زمین کے بیٹے نہیں ،محب وطن نہیں ہیں ۔۔۔بقول رینجرز اورفوج کے ہم مہاجر،اندرا کی اولاد ہیں ،جوہمارے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم اندر ا گاندھی کی اولاد ہو۔۔۔ گاندھی جی کی اولاد ہو۔۔۔ را کے ایجنٹ ہو ۔ تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ جب کعبہ پر گولی چلانے کا وقت آیا تو سب نے منع کر دیا لیکن مغربی پاکستان کے یہی اسلام کے شیدائی۔۔۔ یہی اسلام او رپاکستان کے نعرے لگانے والے تھے، جنہوں نے کہا کہ تسی فکر ہی نہ کرو جی۔۔۔ اسی تاڈے تابیدار ہیں۔۔۔ تسی حکم کرو۔۔۔ اور انہوں نے خانہ کعبہ پر گولی چلائی ۔۔۔ میرے ساتھیو! سارے پنجابی ایسے نہیں ہیں اورنہ سار ی پنجابی فوج ایسی ہے ۔۔۔یہ جو اپنے ظرف و ضمیر کا غیر ملکی قوتوں سے اپنا سودا کر لیتے ہیں اوراپنے ملک کے خفیہ راز انکے حوالہ کردیتے ہیں۔۔۔یہ ان کا معاملہ ہے اور وہی طاقت ور ہیں۔۔۔ ان کے سامنے عام سپاہی ،بریگیڈئر، کرنل، میجر، جنرل حتیٰ کہ بعض لیفٹینٹ جنرل تک منہ تک نہیں کھول سکتے ۔۔۔اتنا قتل عام مہاجروں کا ہورہاتھا کور کمانڈر جو آج ISIکے چیف بنے ہیں ۔۔۔یہ بلا ل اکبر کو نہیں روک سکے حالانکہ وہ لیفٹینٹ جنرل اور کور کمانڈر سندھ تھے جبکہ بلال اکبر، ڈی جی رینجر تھا، میجر جنرل تھا ۔۔۔ تو میں نے آپ کو یہ فرق اس لئے بتا یا کہ آپ کو انداز ہوجائے کہ فو ج میں ایک اینٹی پاکستان گروپ مفاد پر ست ہے، جو نا م تو پاکستان کالیتا ہے ۔۔۔دم تو پاکستان کے بھر تا ہے لیکن دراصل وہ مفاد پرست ہے ۔۔۔ اسے اپنے آپ سے غرض ہے۔۔۔ اپنے خاندان سے غرض ہے۔
میرے پیاروں ،میرے ساتھیو، میرے نوجوانو!
میں نے کہا تھا کہ میں جامعہ کراچی سے شروع کر ونگا لیکن اگر بہت سی اہم باتیں میں چھوڑ جاؤں تو آپ اصل بات نہیں سمجھ سکیں گے ۔۔۔ فوج کا یہ مخصوص ٹولہ جو دل چاہے کہہ دے۔۔۔ سیاہ کو سفید سفید کو سیاہ کہے وہ قانون بن جاتا ہے۔۔۔ عدالت بھی وہی کہتی ہے ۔۔۔کہتے ہیں contempt of courtہوجائے گا۔۔۔ ہمارے ہاں عدالت، فوج کے ماتحت ہے آزاد نہیں ہے۔۔۔ آپ مجھے مثال بتا سکتے ہیں کہ جب جب مارشل لاء لگا کبھی مارشل لاء 
کے خلاف سپر یم کورٹ نے فیصلہ دیا بتایئے ۔۔۔؟۔۔۔ بتائیے ؟
اچھا بزرگوں سے پوچھ کر بتایئے ۔۔۔کیا عدلیہ نے کسی مارشل لاء کو غداری قرار دے کر مارشل لاء لگا نے والے کسی فردکو موت کی سزا دی ،جو پاکستان کے 
آئین کے مطابق غداری میں آتی ہے۔۔۔؟ میں نے ملک نہیں توڑا۔۔۔اپنے شہید ساتھیوں کی مسخ شدہ لاشیں دیکھ کرایک نعرہ لگادیا۔۔۔ پھر غلطی کا احساس ہوا 

تومعافی بھی مانگی ۔۔۔لیکن میں آج تک غدار ہوں اور جنہوں نے بار بار آئین توڑے وہ آج بھی سب سے زیادہ وفادار ہیں۔۔۔ بخدا انٹر نیشنل عدالت لگے تو فوج میں بگاڑ کرنے والے اور ملک کی تباہی وبربادی کے ذمہ دار سب بڑے مجر م قرار دیے جائیں گے ،پوری فوج نہیں ۔میر ے بھائیوں یوتھ۔۔۔ تو میں یہ بتا رہا تھا کل میں نے پہلے لیکچر نمبر ون میں بتایا کہ لیاقت علی خان کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا۔۔۔وہیں سے میں چلتا ہوں آیئے چلتے ہیں راولپنڈی صوبہ پنجاب جہاں ملڑی کا جنرل ہیڈ کوراٹر ہے۔۔۔ GHQہے ۔
آئیے چلیں تصور میں چلئے۔۔۔ چلیں پنڈی پہنچ جائیں ۔۔۔16اکتوبر 1951ء اب میں انگریز ی پڑھنے والوں کیلئے کہتا ہوں۔۔۔ 16اکتو بر 1951ء کو راولپنڈی میں جہاں جلسہ عام تھااسے آج لیاقت باغ کہتے ہیں ۔۔۔پہلے اس کانام کمپنی باغ تھا۔۔۔کیا نام تھا۔۔۔؟
کمپنی باغ میں لیاقت علی خان کی ایک تقریر جاری تھی ۔۔۔اب آپ دیکھئے ۔۔۔فوج کے چند لوگوں نے سازش بنائی کہ لیاقت علی خان کاقتل کرنا ہے۔۔۔ میں ایک سو ایک فیصد یقین سے کہتا ہوں کہ فوج کے بعض جرنیلوں نے لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کی تھی ۔جلسہ عام میں پہلی صف میں عموماً شان و شوکت والوں کو بٹھایا جاتا ہے لیکن وہاں ایک سید(Sad) اکبر ببرک نامی شخص کو بٹھایاگیا، یہ افغان نیشنل تھا ۔۔۔ اسے ایبٹ آباد جہاں سے اسامہ بن لادن کو امریکی نکال کر لے گئے وہاں پر رکھا ہو ا تھا اورحکومت پاکستان کی جانب سے سید اکبر کو 450روپے ماہانا دیاجاتا تھا۔۔۔ اس زمانے میں 1951ء میں چار سو پچاس روپے ۔۔۔ آپ اندازہ کریں۔۔۔ یہ تو وہ رقم ہے جو ماہانہ ملتی تھی اور دیگر اضافی مراعات کو تو آپ چھو ڑ ہی دیجئے ۔۔۔تو سید اکبر کوپنڈال میں شان و شوکت والی اگلی صف میں بٹھایا گیا تاکہ اس کا نشانہ ، نہ چوکے اوروہ باآسانی لیاقت علی خان کوگولی مار سکے۔۔۔ انہیں شہید کر سکے۔۔۔سید اکبر نے خان لیاقت علی خان کو گولیا ں ماریں جو ان کے سینے میں پیوست ہوگئیں۔۔۔ لیاقت علی خان کے پیچھے بالکل پیچھے خان لیاقت علی خان کا گارڈ،خان نجف خان کھڑا تھا جوکہ سپر نٹنڈنٹ پولیس تھا۔۔۔ کون تھا۔۔۔؟ سپر نٹنڈنٹ پولیس ۔۔۔جیسے ہی گولیاں چلیں ،خان نجف خان نے چلا کر حکم دیا فور اً سید اکبر کو ہلاک کر دیا جائے۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ اسے زندہ کیوں نہیں پکڑا گیا۔۔۔؟اس لئے نہیں پکڑا کہ انکوائر ی ہوتی تو اصل نام سامنے آتے ۔
میرے یوتھ!
آپ کہتے ہوگے کہ الطاف بھائی جو پروپیگنڈہ ہوتا ہے اس کا اثر تو بہرحال ہوتا ہے ۔۔۔آپ لوگوں پر بھی ہوتا ہوگا۔ یونیورسٹی کے لڑکے ،لڑکیوں ۔۔۔کالجوں کے لڑکے لڑکیو! ۔۔۔آپ لوگ بھی بہک جاتے ہوگے کہ الطاف بھائی نے تو بڑا نقصان کردیا ۔۔۔الطاف بھائی نے تو یہ حالات کردیئے کیونکہ ٹی وی پر آپ لوگ بھی صبح شام یہی سنتے ہیں لیکن یہ ٹیلی ویژن ، پاکستان بننے کے بعد سے آرمی کے کنٹرول میں رہا ہے ۔۔۔It was under the control of Pakistan Army ۔۔۔میں ثابت کروں گاناں۔۔۔میں ایسے ہی الزام نہیں لگاتا۔۔۔تو وہاں پر سب انسپکٹر محمد شاہ تھا ۔۔۔جہاں سید اکبر تھا اس کے سامنے محمد شاہ ، سب انسپکٹر تھا۔۔۔جیسے ہی ایس پی خان نجف خان کا آرڈر آیا کہ سید اکبرکوماردو ویسے ہی محمدشاہ ایس آئی نے پستول نکالی اورثبوت مٹادیا اور سید اکبر کوماردیا۔ اب میں نے آپ سے ابھی کہا آپ ٹی وی ٹاک شوز اورپروپیگنڈے میں آجاتے ہو کیونکہ They are all controled by Punjabi eliete دیکھئے ۔۔۔جب میں کہتا ہوں کہ پنجابی ایلیٹ تو اس کا مطلب میں تمام پنجابیوں کو نہیں کہتا ۔۔۔چند پنجابیوں نے پورے پنجابیوں کو بدنام کیا ہوا ہے جو حکمرانی کررہے ہیں ۔۔۔جن کے ہاتھ میں طاقت ہے ۔۔۔جوانگریزوں کے زمانے میں بکے ہوئے تھے اورآج بھی بکے ہوئے ہیں۔ ٹی وی کو آپ چھوڑ دیجئے میں آپ کو دعوت دیتا ہوں ۔۔۔آپ میں سے جس کے بھائی ، بہن ، والد پیسے والے ہوں تو چھ گروپ بنالیں اور چھ گروپ بناکر دنیا کے 
مختلف ممالک میں قائم پاکستانی سفارتخانوں ۔۔۔ قونصلیٹ دفاتر۔۔۔ایمبسیز میں چلے جائیں یا ان ممالک میں واقع نادرا کے دفاتر چلے جائیں ۔۔۔پوری دنیا کے ہرملک میں چلے جائیں ۔۔۔ ان دفاترمیں 90 فیصد اورپورے پاکستان میں 95 فیصد عملہ صرف اورصرف پنجاب کے لوگوں پر مشتمل ہے ۔ اگر اس سے کم نظرآئیں تو جتنے فیصد کم نظرآئیں گے میں اتنے پاؤنڈ آپ کو انعام میں دوں گا۔۔۔آپ کو کہیں کہیں خال خال سندھی نظرآجائے گا۔۔۔کہیں 

اردواسپیکنگ ۔۔۔کہیں بلوچ اورکہیں خال خال پختون نظرآئے گا ۔۔۔ایسا لگتا ہے کہ پاکستان، بلوچوں، سندھیوں، پختونوں کا نہیں بلکہ صرف اورصرف پنجابیوں کا ہے ۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ پختونوں نے باچہ خان کے فلسفے کا سودا کرلیا۔۔۔سندھ میں بھٹو کو ماراگیا، وہ بک گئے ،شاہنواز بھٹو کو مارا، مرتضیٰ بھٹو کومارا، بے نظیربھٹو کو مارا مگرجب سندھی وڈیروں نے ان کا خون بیچ دیاتو یہ غریب سندھیوں کا کیا خیال کریں گے ۔۔۔؟سندھی وڈیروں نے سودا کرلیا۔۔۔بلوچ سرداروں سے سودا کرلیا ورنہ تین صوبے اگر مل کرآواز اٹھاتے تو یہ ناانصافی نہ ہوتی۔
میرے ساتھیو!
آیئے میں آپ کو بات بتاتا ہوں کہ ٹی وی پر کتنے اردواسپیکنگ ہیں ۔۔۔؟پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سے نکلا ۔۔۔مہاجروں نے نکالا لیکن پی ٹی وی کو ٹیک اوور کرکے پنجاب لے گئے اور اسے تباہ کردیا۔۔۔فلم انڈسٹری کراچی میں تھی ۔۔۔انڈیا کی فلم انڈسٹری کا مقابلہ کررہی تھی ، اسے اٹھاکر پنجاب لے گئے اور پاکستان کی فلم انڈسٹری کو بھی تباہ کردیا۔۔۔ابھی آتا ہوں بنکوں کی طرف ۔۔۔اور چیزوں کی طرف بھی آؤں گا۔۔۔صنعتوں پر بھی آتا ہوں لیکن میں اب بات ہورہی ہے ٹی وی ٹاک شوز کی ۔۔۔اخبارات کی ۔۔۔اس میں جوخبریں آتی ہیں تو 90 فیصد ایجنسیوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں اور وہ پنجابی ہوتے ہیں جبکہ 
جو اردواسپیکنگ ہوتے ہیں وہ بھی پنجابیوں کے ایجنٹ ہوتے ہیں ۔۔۔جب 16 ، اکتوبرکو خان لیاقت علی خان کو گولی مارکرشہیدکیاگیا اس وقت دو اردو روزنامہ نکلا کرتے تھے ۔۔۔ایک ڈیلی امروز ، دوسرا ڈیلی زمیندار۔۔۔اس کے علاوہ پاکستان ٹائمز اور ملٹری گزٹ نامی اخبار بھی نکلاکرتے تھے ۔17 اکتوبر کو ان تمام اخبارات بشمول آرمی گزٹ نے خان لیاقت علی خان کے قتل کی تصویر تک شائع نہیں کی تھی ۔۔۔آپ کے قائد الطاف حسین کی تصویر پرپابندی لگادی تو کیاہوا اس سے پہلے انہوں نے آپ کے قائد کے آباواجداد کے ساتھ کیاکیاہے ۔۔۔؟یہ وہی لوگ ہیں ، وہی ٹی وی اینکرپرسنز ہیں جو خدا کی قسم جھوٹ بولتے ہیں ۔۔۔مکر کرتے ہیں ۔۔۔فریب کرتے ہیں۔۔۔دھوکہ دیتے ہیں۔۔۔اب میں ان باتوں کو نکالنا نہیں چاہتا تھا لیکن میرے لوگوں کا قتل عام جاری ہے ۔۔۔میرے بزرگ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو رینجرز والوں نے کس جرم میں گرفتارکیا ہے اوررینجرز کیوں کراچی سے نہیں جاتی ۔۔۔؟اس لئے کہ رینجرز لوگوں کودھمکیاں دیتی ہے ۔۔۔گھروں پر جاتی ہے ۔۔۔بریگیڈئیر جاتے ہیں ۔۔۔کیپٹن جاتے ہیں ۔۔۔خداکی قسم ، رسولؐ کی قسم گھروں میں جاکر اہل خانہ کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ فلاں گروپ میں شامل ہوجاؤ۔۔۔فلاں گروپ میں شامل ہوجاؤ ۔۔۔ورنہ مرنے کیلئے ، لاشیں اٹھانے کیلئے تیار ہوجاؤ یا جیل میں سڑنے کیلئے تیار ہوجاؤ اور اگر اپنے بچوں کو رہا کروانا ہے تو ہمیں اتنے پیسے دو۔۔۔کراچی سے رینجرز کی ماہانہ 15 سے 20 ارب روپے کی آمدنی ہے ۔۔۔اگر رینجرز والے انکارکریں گے تو کردیں۔۔۔فرعون بھی سچ سے انکارکرتاتھا، شداد بھی کرتا تھا، ہامان بھی کرتا تھا ،نمرود بھی کرتا تھا ۔
ساتھیو!
اب آپ کو اندازہ ہوا کہ ۔۔۔کاپی پنسل تو آپ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔کہیں آپ بورتونہیں ہورہے ساتھیو۔۔۔؟ایک اضافی سوال ہے ،موضوع سے ذر اہٹ کے ہے آپ سوال لکھ لیں۔۔۔کیا پاکستان میں کسی چیف آف آرمی اسٹاف کو حکومت کا تختہ ، سول حکومت کا تختہ پلٹنے ، مارشل لاء نافذ کرنے پر کسی کو house arrest کیاگیا۔۔۔؟ کسی کو جیل بھیجاگیا۔۔۔؟کسی کو سزا ہوئی۔۔۔؟ کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالاگیا۔۔۔؟کسی کے باہرجانے پر پابندی لگی۔۔۔؟ کسی مارشل لاء لگانے والے کو اس کے گھرمیں نظربند کیاگیا۔۔۔؟بولیں۔۔۔کسی کو کیاگیا۔۔۔؟ اگرکیاگیا تو صرف ایک ہمارے مہربان جنرل پرویز مشرف صاحب ہیں ، جنہوں نے پاکستان کو ترقی دی ، عروج دیا، لوکل باڈیز سسٹم نافذکیا، لیکن پرویزمشرف صاحب کا مائنڈ سیٹ ، ٹوٹل فوجی مائنڈسیٹ ہوگیا ہے ، ان کے ذہن میں آج بھی ہے کہ فوج ان کے ساتھ ہے ۔۔۔نہیں ہے فوج آپ کے ساتھ۔۔۔وہ کہتے ہیں کہ عوام میرے ساتھ ہیں۔۔۔نہیں ہیں عوام آپ کے ساتھ۔۔۔آپ کوجو بہکارہا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔آپ نے کیوں نہیں سوچا کہ آپ کے علاوہ کسی اور کو سزا کیوں نہیں دی گئی۔۔۔؟
جنرل پرویز مشرف صاحب ۔۔۔!میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب نوازشریف صاحب کو گرفتارکیاگیا تھا تو آپ توجہاز میں تھے۔۔۔ آسمان پہ تھے ۔۔۔آپ کو تو گرفتارکرلیاگیا لیکن جنرل محمود اوردیگر لوگ جنہوں نے نوازشریف کو ہتھکڑیاں لگائیں اوران پربندوقیں تانیں ،کیپٹن رینک کے افسران نے نوازشریف صاحب سے بدتمیزی کی لیکن جنرل پرویزمشرف صاحب ابھی بھی نہیں سمجھے ۔۔۔انہیں اللہ ہی سمجھائے اورمیں ان کیلئے دعاہی کرسکتا ہوں۔۔۔ان کے ساتھ جو سلوک ہوا کیاایسا سلوک مارشل لاء لگانے والے کسی پنجابی یاپٹھان جنرل کے ساتھ ہوا۔۔۔؟نہیں ہوا۔۔۔نہیں ہوا۔۔۔نہیں ہوا۔آئین کے آرٹیکل 6 میں ہے کہ جومارشل لاء لگائے ، اس کا جو ساتھ دے ، اس کے جوسہولت کار ہوں، اس کے ساتھ معاونین ہوں جیسا کہ ہمارے ہاں رینجرز کی جانب سے پکڑا جاتا ہے نا کہ فلاں فلاں ۔۔۔فلاں فلاں کے سہولت کار ہیں ۔۔۔ان رینجرز والوں سے پوچھوکہ تم ضیاء الحق کے سہولت کاروں ، صلاح کاروں کو کیوں نہیں پکڑتے۔۔۔؟لاڑکانہ سے بھاگ کرکیوں آئے تھے جب پیپلزپارٹی کے لیڈر نے لوگوں کو جمع کرکے تمہاری بندوقیں چھینی تھیں۔۔۔؟ جواب نہیں ہوگا ان کے پاس ۔۔۔یہ کیا جواب دیں گے ۔۔۔یہ نہتوں کو مارنے والے ہیں نہتوکو۔۔۔اتنا دم خم ہوتا تو70 سال سے مطالبے پہ مطالبے کررہے ہیں ۔۔۔کشمیر ڈے منائیں گے ۔۔۔کشمیرمیں ظلم ہوگیا۔۔۔کشمیرمیں یہ ہوگیا۔۔۔کشمیرمیں یہ قیامت آگئی۔۔۔ اگر دس لاکھ فوج اوردس لاکھ آپ نے جو جہادی بنائے ہیں ۔۔۔آپ کے 20 لاکھ جاتے ۔۔۔آپ میں جذبہ شہادت ، جذبہ جہاد ہوتا تو حملہ کرتے ۔۔۔یاتو شہید ہوجاتے یا پھر کشمیر کوآزاد کرالیتے ۔۔۔کیوں نہیں جاتے آپ۔۔۔؟ کراچی میں کیسے چڑھ چڑھ کر آتے ہیں ۔۔۔؟الطاف حسین کے گھر کیسے تالہ لگادیتے ہیں۔۔۔؟غریبوں کو پکڑ کر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دیتے ہیں ۔ میں 
رینجرز والوں سے پوچھتا ہوں ۔۔۔فوج سے پوچھتا ہوں ۔۔۔ میں جنرل قمرجاوید باجوہ صاحب سے پوچھتا ہوں۔۔۔1995ء میں میرے 70 سالہ بھائی ناصر حسین ، جوکہ سول سرونٹ تھے ، فرسٹ کلاس گزیٹڈ افسر تھے ، انہوں نے پوری زندگی پاکستان کی خدمت کی ،ریٹائرڈ لائف گزاررہے تھے۔۔۔میرے 28 سالہ بھتیجے عارف حسین جوکہ این ای ڈی یونیورسٹی کے کوالیفائیڈ انجینئرتھے ۔۔۔نہ سیاست سے کوئی تعلق تھانہ کسی اورسوشل ، سماجی وسیاسی جماعت سے کوئی تعلق تھا ۔ انکاقصور یہ تھا کہ وہ میرے بھائی تھے ، بھتیجا تھا۔۔۔5 اور 6 دسمبرکی درمیانی شب ان کے گھروں پر چھاپہ مارا گیا ۔۔۔تین روز تک ان پر بہیمانہ تشدد کیاگیا۔۔۔انہیں میرے ایک ایک بھائی اوربہن کے گھرلے جایاگیا اور 9 ، دسمبر1995ء کو دونوں کی آنکھوں پرپٹیاں باندھ کرشہرکراچی کے مضافاتی علاقے گڈاپ لے جاکران دونوں کو گولیاں مارکرشہیدکردیا۔۔۔ان کا خون کس کی گردن پرہے۔۔۔؟میرے بھتیجے کو کیوں ماراگیا۔۔۔؟ الطاف حسین کے ایک جذباتی نعرے پر بہت واویلا کرتے ہو۔۔۔ میں نے ملک نہیں توڑا تھا۔۔۔میں نے توصرف مردہ باد کہاتھا۔۔۔اورجنہوں نے ملک توڑا ۔۔۔جنرل نیازی نے توڑا۔۔۔حمودالرحمان کمیشن کی رپورٹ میں جن کے نام ہیں ، ان کوکیاسزا دی ۔۔۔؟
جنرل جاوید باجوہ صاحب!
آپ بھی انصاف کروگے یانہیں کروگے ۔۔۔؟میں نے آپ کو خط لکھا، آج پھرکہہ رہاہوں کہ آپ نے اس کا جواب نہیں دیا۔۔۔جب تک میں زندہ ہوں ، قوم کو ایک ایک بات سے آگاہ کروں گا۔۔۔جب تک میری سانس چل رہی ہے قوم کو حقائق بتاؤں گا۔۔۔میں اپنے بھائی اوربھتیجے کے قاتلوں کو کہاں تلاش کروں۔۔۔؟میرے 15 ہزار سے زائد بہاد ر،جیالے ،باہمت ، جرات مند ، نہ بکنے والے ، نہ ڈرنے والے ساتھی تھے ان کو پکڑ کر ماورائے عدالت قتل کردیا گیالیکن فوج نے بہت خوبصورتی سے بڑے بڑے لیڈروں کو چھپ چھپاتے ایسی مراعات دیں ، انہیں جوجو پیشکشیں کیں ۔۔۔یہاں لڑکے اورلڑکیاں ہیں میں ساری باتیں ان کے سامنے نہیں کرسکتا ۔۔۔بڑی مراعات دی گئیں۔۔۔اورجب امتحان آیاکہ شہیدوں کیلئے رینجرز کے دفترچلو۔۔۔مائیں بہنیں ، بزرگ اورنوجوان تیارہوگئے لیکن لیڈر بھاگ گئے ۔۔۔انہوں نے سارے مزے اڑائے ۔۔۔منسٹر زبنے ، میئر بنے ، ڈپٹی میئر بنے ، دنیا کی ہرمراعت لی لیکن ان سے قوم کیلئے ایک طمانچہ برداشت نہیں ہوا۔
میری مائیں ، بہنیں ، بزرگوں ،یوتھ ۔۔۔ارے آپ لوگ میری بات سن رہے ہین یا نہیں سن رہے ہیں۔۔۔؟اچھا سنیں ۔۔۔
میں آپ کو ذرا یہ بتا دوں کہ جب پرویز مشرف کا ذکر آیا توآئیے میں آپ کو بتاتا ہوں ۔۔۔کاغذ قلم تو آپ کے پاس ہے ہی ۔۔۔ میں نے آپ کو بتایا 15 اگست 1947ء سے کون کون وزیراعظم کے منصب پر فائز رہا۔۔۔کب کب رہا۔۔۔اب میں یہ بتارہاہوں۔۔۔لکھ لو میرے ساتھیوں لکھ لو۔۔۔

خان لیاقت علی خان شہید پہلے وزیراعظم پاکستان تھے جنہیں 16، اکتوبر1951ء میں کمپنی گارڈن(لیاقت باغ ، راولپنڈی) میں شہیدکردیاگیا، 
1۔ خان لیاقت علی خان 15اگست1947ء تا 16، اکتوبر1951ء
2۔ خواجہ ناظم الدین 17، اکتوبر1951ء تا 17 ، اپریل 1953ء
3۔ محمد علی بوگرہ 17، اپریل 1953ء تا 12، اگست 1955ء
4۔ چوہدری محمد علی 12، اگست 1955ء تا 12ستمبر1956ء
5۔ حسین شہید سہروردی 12، ستمبر1956ء تا 17، اکتوبر1957ء
6۔ ابراہیم اسمٰعیل چندریگر 17، اکتوبر1957ء تا 16، دسمبر1957ء
7۔ فیروز خان نون 16، دسمبر1957ء تا 7، اکتوبر1958ء
8۔ ایوب خان 24، اکتوبر1958ء تا 28 ، اکتوبر1958ء
9۔ نورالامین 7 ، دسمبر1971ءٍ تا 20 ، دسمبر1971ء
10۔ ذوالفقارعلی بھٹو 14، اگست 1973ء تا 5، جولائی1973ء
11۔ محمد خان جونیجو 24، مارچ 1985ء تا 29،مئی1988ء
12۔ بے نظیر بھٹو 2، دسمبر1988ء تا 6، اگست1990ء
13۔ غلام مصطفی جتوئی(KT) 6، اگست1990ء تا 6، نومبر1990ء
14۔ نواز شریف 6، نومبر1990 تا 18، اپریل1993ء
15۔ بلخ شیرمزاری(KT) 18، اپریل1993ء تا 26 ،مئی 1993ء
16۔ نوازشریف 26، مئی 1993ء تا 18، جولائی1993 ء (سپریم کورٹ کے فیصلہ پر واپس آئے)
17۔ معین قریشی (KT) 18، جولائی1993ء تا 19،اکتوبر1993ء
18۔ بے نظیربھٹو 19، اکتوبر1993ء تا 5، نومبر1996ء
19۔ ملک معراج خالد(KT) 5، نومبر1996ء تا 17،فروری1997ء
20۔ نوازشریف 17، فروری1997ء تا 12، اکتوبر1999ء
21۔ ظفراللہ جمالی خان 21، نومبر2002ء تا 26، جون2004ء
22۔ چوہدری شجاعت علی(KT) 30، جون2004ء تا 20، اگست2004ء
23۔ شوکت عزیز 20، اگست2004ء تا 16، نومبر2007ء
24۔ میاں محمد سومرو (KT) 16، نومبر2007ء تا 25، مارچ 2008ء

25۔ یوسف رضا گیلانی 25، مارچ2008ء تا 19، جون2012ء
26۔ راجہ اشرف پرویز 22، جون2012ء تا 25، مارچ 2013ء
27۔ میرہزار خان کھوسو (KT) 25، مارچ2013ء تا 5، جون 2013ء
28۔ میاں نوازشریف 5، جون2013ء تا تاحال وزیراعظم ہیں
جن کے دورمیں کراچی آپریشن شروع ہوا۔۔۔ہزاروں بے گناہ مارے گئے ۔۔۔ہزاروں قید ہوئے۔۔۔مگر وزیراعظم نے بزرگ اساتذہ تک کونہیں چھڑوایا۔ 
میاں نوازشریف صاحب!۔۔۔خدا کے خوف سے ڈریے ، اپنے والدمحترم اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے کہ میں انہیں کاندھا نہیں دے سکا ،کتنا افسوس ہے اوروہ بزرگ 75 سالہ پروفیسر ڈاکٹر ظفرعارف جن پر کوئی مقدمہ نہیں ہے انہیں بغیرکسی جرم کے آج تک رینجرزنے گرفتارکیا ہوا ہے ۔۔۔جیل میں بند رکھا ہوا۔۔۔امجداللہ خان ، مومن خان مومن، سینکڑوں ساتھیوں کوجیل میں رکھاہوا ہے۔۔۔مکافات عمل آئے گا۔۔۔ظلم ،ناانصافی سے حکومت قائم نہیں رہ سکتی ، ملک قائم نہیں رہ سکتے ۔ یہ حضرت علی کرم اللہ کا قول ہے ۔

پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کے ادوار
1۔ اسکندرمرزا 7، اکتوبر1958ء
2۔ ایوب خان 25، اکتوبر1958ء تا 1969ء (کمانڈرانچیف رہے ، فیلڈ مارشل بنے، صدربنے)
3۔ یحییٰ خان 25، مارچ1969ء تا 20،دسمبر1971ء کما(نڈرانچیف پھر صدر بنے)
4۔ ذوالفقارعلی بھٹو 20، دسمبر1971ء تا 13، اگست1977ء (صدربنے، کمانڈانچیف بنے اورپہلے سویلین مارشل لاایڈمنسٹریٹر بھی بنے)
5۔ جنرل ضیاء الحق 5، جولائی1977ء تا 17، اگست 1988ء (صدر بنے ، کمانڈانچیف اورمارشل لاایڈمنسٹریٹر بھی رہے )
6۔ جنرل پرویز مشرف 12، اکتوبر1999ء تا 18، اگست 2001ء سے 2008ء تک صدارت کے عہدے پر رہے، 2007ء تک چیف آف آرمی اسٹاف رہے ۔
نوجوانو!
یہ جو میں اضافی پیغام ریکارڈکرواررہا ہوں۔۔۔ یہ لیکچر نمبر دوکا ہی حصہ ہے ۔۔۔اس میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ ایک ساتھی نے میر ی توجہ اس بات پر دلا ئی کہ آپ نے جو تاریخ بیان کی ہے کہ کون کون وزیراعظم رہا اورملک میں کب کب مارشل لاء لگا یاگیا۔۔۔ساتھی شاید کچھ یہ سوچیں کہ اس کی وجہ کیا تھی۔۔۔ یہ تو ہم کہیں اور سے بھی دیکھ لیتے۔۔۔
میرے ساتھیو!۔۔۔ یہ بہت آسان ہوتا ہے کہ ہم ادھر دیکھ لیں گے، ہم ادھر دیکھ لیں گے۔۔۔ جب میں تاریخی باتیں نوجوانوں کو یوتھ کو بتا رہا ہوں تو میں وضاحت کر دوں کہ کون کون ۔۔۔کب کب ۔۔۔کس دور میں پرائم منسٹر رہا اور کس کس دور میں کس سن میں ۔۔۔ کب سے کب تک کون مارشل لاء کے تحت حکومت کرتا رہا کیونکہ یہ موازنہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بانی پاکستان نے جوپاکستان بنایا تھا وہ جمہوری طرز حکومت پر تشکیل دیا گیا تھا۔۔۔ جہاں حکومت میں مارشل لایا فوج کے عمل دخل کاکہیں دور دور بھی کوئی واسطہ نہیں تھا۔۔۔ تو آپ سال گن لیجئے کہ کتنے عرصے سول وزرائے اعظم رہے 
اور کتنے عرصے فوجی حکومتیں رہیں۔۔۔ فوجی حکومت یا مارشل لاء کا ایک جمہوری ملک میں اقتدار میں آنا۔۔۔ حکومت میں آنا کوئی معنی نہیں رکھتا ہے بلکہ جمہوریت کی نفی کے مترادف ہے۔۔۔ اور۔۔۔ ایک اور بات سن لیجئے آپ خلیفہ راشدین کی حکومتوں کا جائزہ لیجئے کہ کسی خلیفہ کے دور حکومت میں سویلین تو حکمران رہے فوجی کبھی حکمراں نہیں رہے۔۔۔ اس بات پر آپ غورفرمائیے ۔۔۔اب یہاں ایک اور بحث چھڑ ے گی کہ اس زمانے میں باقاعدہ تنخوا دار فوج نہیں ہوا کر تی تھی۔۔۔ ظاہر ہے تنخوار فوج کا تصور یہ جب ممالک کا ،جب ریاستوں کا ،راجواڑوں کا اورجاگیر وں کا نعم البدل ملکوں کی شکل میںآئے گااور ان کے جغرافیوں کا تعین ہوگا تو ملک کے دفاع۔۔۔ سرحد وں کی حفاظت کی ضرورت پیش آئی اور ملک کی دفاع اور بیرو ن ملک کی افواج یا حملہ آورں کے بچاؤ کیلئے تنخوادار فوج مقرر کی جانے لگی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔۔۔ تو ساتھیوں آپ کاؤنٹ کر لیجئے 70سال ہوگئے پاکستان کو بنے ہوئے ان ستر برسوں میں کتنے سال جمہوری حکومتیں رہیں اور کتنے سال مارشل لاء کی حکومت رہی۔۔۔ اس حساب سے اگر آپ جائزہ لیں تو دنیا کی کسی بھی جمہوری عدالت میں آپ یہ فیصلہ لیکر جائیں تو وہ ہر مارشل لاء دور حکومت کی نہ صرف مخالفت کر ے گا بلکہ ان کی سزا بھی تجویز کرے گا خواہ وہ زندہ ہوں یا مر گئے ہوں۔۔۔ جیسے برطانیہ میں ایک جرنیل نے مارشل لا لگایا۔۔۔اس کا نام جنرل کرام ویل تھا۔۔۔ وہ مر گیالیکن جب جمہوری حکومت آئی تو فیصلہ ہوا کہ جمہوری حکومت میں مارشل لاء کیسے لگا یا۔۔۔ اس جرنیل کی قبر کو کھودا گیا اور لندن میں جوآج کرام ویل اسپتال ہے یہاں عبرت کے نشان کے طور پر اس کی لاش کو کئی ہفتہ تک لٹکاکررکھا گیا ۔۔۔یہ نوجوانوں کو بتانا ضروری تھا ۔۔۔بہت ضروری تھا کہ جمہور ی معاشرے میں فوج کا حکومت میں عمل دخل سرے سے ہونا ہی نہیں چاہئے ۔۔۔ہر فوجی قسم اٹھاتا ہے کہ میں سیاست میں حصہ نہیں لوں گا نہ کوئی سیاسی عمل کروں گا ۔۔۔آج چاہے وہ کچالو گروپ ہو ، آلو گروپ ہو ، چھو لے گروپ ہو ، کمالو گروپ ہو ، پی آئی بی کباب والے کا گروپ ہو یا پان والے کا گروپ ہو کوئی بھی گروپ ہو یہ سب پاکستان کی رینجرز اور فوج کے افسران نے تشکیل دیئے ہیں اور آج تک دے رہے ہیں جو آئین ،قانون ،شرافت اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔ لہٰذا یہ وضاحت کرنا ضروری تھا ۔
آپ سب ماؤں ، بہنوں، بزرگوں کا شکریہ ۔۔۔جب تک میری زندگی ہے میں علم کی روشنی جواللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے میں آپ تک پہنچاتارہوں گا اور ببانگ دہل آرمی چیف جنرل قمرجاوید باوجوہ صاحب سے درخواست کروں گاکہ خداکے واسطے مہاجروں پر ظلم بند کرائیں، رینجرز کے کیپٹن، کرنل بریگیڈئیرتک کے افسران گھروں پر جاکر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ فلاں گروپ میں شامل ہوجائیں ہرچیز معاف ہو جائے گی ۔۔۔فوج کو یہ نہیں کرنا چاہیے، یہ فوج کا کام نہیں ہے ۔خدارا !! پارٹیوں کی گروپ بندی کرنے میں توانائیاں خرچ نہ کریں ، کل جنگ ہوگئی۔۔۔خدا کی قسم اگریہی ان کی عادت ہوگئی تو یہ ایک منٹ جنگ لڑنے کیلئے تیارنہیں ہوں گے ۔۔۔بھاگ جائیں گے ۔۔۔71 ء کی طرح بہت بڑی تعداد پھر ہتھیارڈالنے پر مجبور ہوگی ، میری باتیں بہت بری لگتی ہوں گی آپ کو مگرحقائق ہیں۔۔۔مہاجراینکرپرسنز یا تو مجبورہیں یا مفاد پرست ہیں جن کا کوئی ایمان دھرم نہیں ہوتا جو بے شرم بے حیا ہوتے ہیں جو سچ کو جھوٹ اورجھوٹ کو سچ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ایک بار پھر وضاحت کردوں میں تمام پنجابیوں کونہیں کہ رہا ، پنجابیوں کا ٹولہ کہہ رہا ہوں جو شاؤنسٹ ہے جس نے پورے پنجاب اور پورے پاکستان کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے ۔ پاکستان سب کا ہے ، سب کوفوج میں برابر کا حصہ دو، مہاجروں کو محب وطن سمجھتے ہو تو وہ پانچ کروڑ ہیں ، انہیں 20 فیصد فوج ، رینجرز پولیس میں حصہ دو۔مگرنہیں۔۔۔ آپ کو کراچی چاہے۔۔۔جب تک ہم زندہ ہیں آپ مارکرتوقبضہ کرسکتے ہو مگر کراچی آپ کے حوالہ نہیں کریں گے خواہ اس کیلئے ہمیں دنیا کے کسی بھی خطہ سے مددکیوں نہ لینی پڑے ، ہمارا حق ہے باعزت جینے کا ، ہم دنیا کے ہرملک کادروازہ کھٹکھٹائیں گے کہ ہماری مدد کریں ، ہم عزت کے ساتھ مرناچاہتے ہیں لیکن غلاموں اوربھکاریوں کی طرح زندگی گزارنا نہیں چاہتے۔ آئندہ لیکچر کا تیسرا حصہ آپ کی خدمت میں آئے گا۔۔۔۔۔۔والسلام 
*****

5/23/2017 1:35:22 PM