Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وزیرداخلہ چوہدری نثار پاکستان کی عزت ووقارکیلئے بدنماداغ بن چکے ہیں، انہیں وزیرداخلہ کے عہدے سے ہٹایاجائے ۔ندیم نصرت


وزیرداخلہ چوہدری نثار پاکستان کی عزت ووقارکیلئے بدنماداغ بن چکے ہیں، انہیں وزیرداخلہ کے عہدے سے ہٹایاجائے ۔ندیم نصرت
 Posted on: 2/2/2017 1
وزیرداخلہ چوہدری نثار پاکستان کی عزت ووقارکیلئے بدنماداغ بن چکے ہیں، انہیں وزیرداخلہ کے
عہدے سے ہٹایاجائے ۔ندیم نصرت
چوہدری نثار کو برطانوی پولیس، تحقیقاتی ادارے کی جانب سے میرٹ پر دیئے گئے کسی فیصلہ پر تنقید کرنے کا اختیار نہیں 
چوہدری نثار علی خان منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے نتیجے پر برطانیہ پر توتنقیدکررہے ہیں جبکہ انہیں پہلے اپنا گھردرست کرناچاہیے
ڈاکٹرعمران فاروق کیس کوسیاسی طورپرچلاکرایم کیوایم کی قیادت کے خلاف فیصلہ لانے کی کوشش کی جارہی ہے اوراس میں چوہدری نثار پیش پیش ہیں
ایم کیوایم ایک لبرل جماعت ہے ،جو قوتیں مذہبی انتہاپسندعناصر کی سرپرست ہیں وہ ایم کیوایم کو کچلنے کے درپے ہیں
فوج کی قیادت کی تبدیلی کے بعد ہمیں بڑی توقع تھی کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگا لیکن ایساہوتاہوانظرنہیں آرہا
ہم نے استحکام پاکستان ریلی نکالنے کااعلان کیا لیکن ہمیں سراہنے کے بجائے ہمارے خلاف آپریشن میں تیزی آگئی
کیا رینجرز کے پاس کوئی مخصوص آلہ ہے جو کسی اسلحہ کو سونگھ کر بتادیتا ہے کہ یہ کس کی ملکیت ہے ؟ 
بغیرکسی تحقیق اورتصدیق کے ایم کیوایم پر جھوٹاالزام لگاکر قومی سلامتی کے اس ادارے کی ساکھ کو باربار کیوں داؤ پر لگایاجارہا ہے؟
ایم کیوایم کے کنوینرندیم نصرت کی انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں پریس کانفرنس 

متحدہ قومی موومنٹ ( پاکستان ) کے کنوینرندیم نصرت نے کہاہے کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثاراپنی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کی عزت ووقارکیلئے ایک بدنماداغ بن چکے ہیں، پاکستان کوایک ذمہ دار، غیرمتعصب اور صاف ستھرے کردارکے حامل وزیرداخلہ کی ضرورت ہے لہٰذاہمارا وزیراعظم میاں محمدنوازشریف سے مطالبہ ہے کہ چوہدری نثار کووزیرداخلہ کے عہدے سے ہٹایاجائے اورکسی غیرمتعصب اورذمہ دارفرد کووزیرداخلہ بنایاجائے ۔انہوں نے یہ بات آج ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹرندیم احسان اور رکن قومی اسمبلی سفیان یوسف بھی موجود تھے ۔ندیم نصرت نے کہاکہ گزشتہ کافی عرصہ سے لندن میں ایم کیوایم کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کی تحقیقات جاری تھیں۔ہم نے تحقیقات کے سلسلے میں برطانوی تفتیشی اداروں سے مکمل تعاون کیالیکن پاکستانی میڈیامیں اس پربہت ڈسکس کیاگیا، بعض متعصب عناصر نے ٹی وی چینل پر بیٹھ کرہمیں سزائیں تک سنادیں۔ہماراشروع ہی سے مؤقف تھا کہ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیااورہم انشاء اللہ ایک دن سرخرو ہوں گے۔7، نومبر2016ء کو برطانیہ کی میٹرو پولیٹن پولیس اور تحقیقاتی ادارے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ایک خط کے ذریعہ ہمیں مطلع کیا کہ کراؤن پراسیکیوشن کی ایڈوائس پر ایم کیوایم کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات ختم کی جارہی ہے ۔ اس فیصلے سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایم کیوایم کے کارکنوں اور ہمدردوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور عوام نے اللہ کا شکراداکیالیکن افسوس کہ پاکستانی میڈیا میں ایم کیوایم کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے خاتمہ کے معاملے کو کسی بھی ٹاک شو میں زیربحث نہیں لایاگیا ۔تین ماہ بعد اچانک حکومت پاکستان بالخصوص وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے ایم کیوایم کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کی تفتیش کے خاتمے پر شور کرناشروع کردیا ۔وزارت داخلہ کی جانب سے حکومت برطانیہ کواس سلسلے میں خط بھی لکھاگیالیکن برطانوی حکام نے وہی مؤقف اختیارکیاکہ اس سلسلے میں مزیدتفتیش نہیں ہوگی۔انہوں نے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نوا زشریف اور انکے اہل خانہ کے خلاف پنامہ کیس کامعاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے اس موقع پر چوہدری نثارعلی کی جانب سے اچانک ایم کیوایم کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کامعاملہ اچھالنا بہت ہی معنٰی خیز ہے ، کہیں ایسا تو نہیں کہ ایم کیوایم کی جانب نگاہیں ڈال کر کہیں اورنشانہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کی جانب سے برطانوی پولیس، تحقیقاتی ادارے کی جانب سے میرٹ پر دیئے گئے کسی فیصلہ پر تنقید کرنے کا اختیار ہے؟ کیا ان کی جانب سے برطانوی حکومت اوراداروں کو ڈکٹیشن دینا مناسب بات ہے ؟ کیا برطانیہ کے تحقیقاتی ادارے اورعدالت ، پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کے ماتحت ہیں؟
ندیم نصرت نے کہاکہ لندن میں ایم کیوایم کے کنوینر ڈاکٹرعمران فاروق کوشہیدکیاگیاجوایم کیوایم کا بہت بڑااورناقابل تلافی نقصان تھالیکن یہ المیہ ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے بعض عناصر کی جانب سے ڈاکٹرعمران فاروق شہیدکے قتل میں بھی ایم کیوایم کوہی ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے جن افراد کی نشاندہی کی انہیں اسٹیبلشمنٹ کے اہلکاروں نے ائیرپورٹ سے ہی غائب کردیا اور کئی سال تک اپنی حراست میں رکھنے کے بعد ان کی گرفتاری چمن بارڈر سے ظاہرکی گئی اور بتایاگیا کہ یہ افراد افغانستان چلے گئے تھے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ افراد کراچی ائیرپورٹ سے گرفتارہوئے تھے تووہ افغانستان کیسے چلے گئے ؟ ڈاکٹرعمران فاروق کیس کے ایک مرکزی ملزم کاشف کو سرے سے ہی غائب کردیاگیا اور بعد میں کہاگیا کہ وہ اللہ کو پیارا ہوگیا ہے ۔جب وہ نہ رہاتو دوسرے کو سامنے لایاگیا۔ اب یہ بات قابل غور ہے کہ وہ مرگیا یا ماردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر جولوگ اس کیس میں گرفتارہیں اگروہ واقعی اس واردات میں ملوث ہیں توچوہدری نثارنے انہیں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے حوالے کیوں نہیں کیاتاکہ دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجاتا؟یہ عجب طرفہ تماشا ہے کہ ڈاکٹرعمران فاروق کو قتل برطانیہ میں کیاگیا اور قتل کا مقدمہ پاکستان میں درج کیاگیا اوروہاں اس کیس کوسیاسی طورپرچلاکرایم کیوایم کی قیادت کے خلاف فیصلہ لانے کی کوشش کی جارہی ہے اوراس میں چوہدری نثار پیش پیش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کا آج بھی مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں اوران کے سرپرستوں کو گرفتارکرکے سخت ترین سزا دی جائے ۔
ندیم نصرت نے کہاکہ چوہدری نثار علی خان منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے نتیجے پر برطانیہ پر توتنقیدکررہے ہیں جبکہ انہیں پہلے اپنا گھردرست کرناچاہیے، چوہدری نثار کوپہلے اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ ان کی حکومت کے دورمیں افغان طالبان کے سربراہ ملااخترمنصورکو پاکستانی شناختی کارڈاور پاسپورٹ کیسے جاری ہوا؟ملااخترمنصوربلوچستان میں ڈرون حملے میں کیسے ماراگیا؟ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ کیسے دی گئی؟ افغان طالبان کے امیرملاعمر پاکستان میں کیوں کرانتقال کرگئے ؟اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قراردی گئی تنظیمیں چوہدری نثارکی وزارت داخلہ کے دور میں آزادانہ طورپرکیسے کام کرتی رہیں؟چوہدری نثاران کالعدم جہادی تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیسے کرتے رہے ؟ کالعدم جہادی تنظیموں کے مطالبات کون پورے کرتارہا ہے؟لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے بارے میںیہ جھوٹ کیوں بولاگیا کہ ان کے خلاف مقدمہ نہیں ہے ؟انہوں نے مزید کہا کہ آج جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کونظربندکیاگیالیکن ایسے کتنے ہی کالعدم جماعتوں کے لوگ آج بھی آزادانہ طورپرکیسے گھوم رہے ہیں؟ چوہدری نثارکی وزارت ایسے عناصر کوسہولت کیوں فراہم کرتی ہے؟انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار کی وزارت کے دورمیں پانچ معزز بلاگز غائب کردیئے گئے جن کاآج تک کچھ نہیں پتہ چل سکاکہ انہیں کس نے اٹھایاتھا، وہ کہاں لاپتہ رہے اورپھرکیسے بازیاب ہوئے ۔اگر چوہدری نثاریہ بھی پتہ نہیں لگاسکتے توانہیں وزیرداخلہ کے منصب پر فائزرہنے کاکوئی حق نہیں۔ ندیم نصرت نے کہاکہ چوہدری نثاراپنی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کی عزت ووقارکیلئے ایک بدنما داغ بن چکے ہیں،چوہدری نثار پاکستان کوایک ذمہ دار، غیرمتعصب اور صاف ستھرے کردارکے حامل وزیرداخلہ کی ضرورت ہے لہٰذاہمارا وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے مطالبہ ہے کہ چوہدری نثار کووزیرداخلہ کے عہدے سے ہٹایاجائے ۔
ندیم نصرت نے کہاکہ ایم کیوایم دشمن عناصر کی شروع سے یہ کوشش رہی ہے کہ ہرواقعہ میں ایم کیوایم کوملوث کردیاجائے ، گزشتہ سال پاکستان کے ممتازصوفی قوال حضرت امجدصابریؒ کوشہیدکیاگیاتوایم کیوایم دشمن عناصرکی جانب سے اس کاالزام ایم کیوایم کے سرتھوپنے کی کوشش کی گئی، اسی طرح جامعہ کراچی کے پروفیسرڈاکٹرشکیل عوج اورسبین محمود کے قتل میں بھی ایم کیوایم کوملوث کرنے کی کوشش کی گئی، سانحہ صفورا ہواتو اس کی تحقیقات میں بھی ایم کیوایم پر انگلیاں اٹھائی گئیں لیکن اللہ تعالیٰ کاشکرہے کہ ان تمام کیسزمیں اصل قاتل گرفتارہوئے جن کاتعلق کالعدم مذہبی انتہاپسند تنظیموں سے تھا،ثابت ہوگیاکہ ایم کیوایم پر الزامات سراسرجھوٹے تھے لیکن کسی نے ان غلط الزامات پر ایم کیوایم سے معافی نہیں مانگی۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف یہ الزامات اسلئے لگائے جاتے ہیں، اس کے خلاف یہ سازشیں اسلئے کی جاتی ہیں کہ ایم کیوایم ایک لبرل جماعت ہے اوروہ مذہبی انتہاپسندعناصر کے خلاف ہے اوروہ قوتیں جومذہبی انتہاپسندعناصر کی سرپرست ہیں وہ ایم کیوایم کوختم کرنے اورکچلنے کے درپے ہیں۔
ندیم نصرت نے کہاکہ پاکستان میں فوج کی قیادت کی تبدیلی کے بعد ہمیں بڑی توقع تھی کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگااورایم کیوایم کے خلاف ناجائز آپریشن ، جھوٹے الزامات اورمنفی پروپیگنڈوں کاسلسلہ ختم ہوگالیکن ہمیں انتہائی افسوس ہے کہ ہمیں صورتحال میں تبدیلی ہوتی ہوئی نظرنہیں آرہی ہے ۔ایم کیوایم کے خلاف آپریشن بدستورجاری ہے،ایم کیوایم کے رہنماؤں، ذمہ داروں اورکارکنوں کوگرفتارکیاجارہاہے، انہیں سرکاری حراست میں تشدد کانشانہ بنایاجارہاہے، گزشتہ دنوں ہم نے استحکام پاکستان ریلی نکالنے کااعلان کیا لیکن ہمیں سراہنے کے بجائے ہمارے خلاف آپریشن میں تیزی آگئی، ہمارے درجنوں کارکنوں کوگرفتارکرلیاگیاجن میں سے بہت سے تاحال لاپتہ ہیں۔ ہم پر جھوٹے الزامات لگانے کاسلسلہ بھی جاری ہے ، گزشتہ روز رینجرز کی جانب سے یہ دعویٰ کیاگیاکہ اس نے یاسین آبادقبرستان سے اسلحہ برآمدکیاہے اورساتھ ہی رینجرزکی جانب سے یہ عجیب دعویٰ کیاگیا کہ یہ اسلحہ ایم کیوایم لندن کے عسکری ونگ کاہے اوریہ شہرمیں دہشت گردی کیلئے استعمال ہوناتھا۔ ندیم نصرت نے سوال کیاکہ کیااس اسلحہ کی کوئی زبان تھی جواس نے برآمدہوتے ہی رینجرزکویہ ساری معلومات بیان کی ہیں یااس اسلحہ کے ساتھ لندن کے کاغذات اوردستاویزات اورلندن کے فضائی ٹکٹ بھی موجود تھے جس کی بناء پر رینجرز کی جانب سے اس اسلحہ کولندن سے جوڑا جارہاہے؟کیا رینجرز کے پاس کوئی مخصوص آلہ ہے جو کسی اسلحہ کو سونگھ کر بتادیتا ہے کہ یہ کس کی ملکیت ہے ؟اوریہ کس استعمال کیلئے لایاگیاتھا؟ انہوں نے کہاکہ رینجرز قومی سلامتی کاادارہ ہے لیکن بغیرکسی تحقیق اورتصدیق کے ایم کیوایم پر جھوٹا اور گھناؤناالزام لگاکر اور غیرذمہ دارانہ بیانات دے کر قومی سلامتی کے اس ادارے کی ساکھ کو باربار کیوں داؤ پر لگایاجارہا ہے؟ندیم نصرت نے کہاکہ تین سال سے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن جاری ہے جس کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کوگرفتارکیا، ہزاروں چھاپے مارے گئے لیکن کسی ایک بھی چھاپے کے دوران پولیس یا رینجرزپر ایک کنکرتک نہیں ماراگیاجبکہ پولیس یارینجرزنے جب بھی کالعدم تنظیموں یاگینگ وار کے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی وہاں ان پر حملے ہوئے جن میں پولیس اوررینجرز کے اہلکارجاں بحق یازخمی ہوئے ۔ گزشتہ روزبھی لیاری میں کارروائی ہوئی تو رینجرز کا اہلکارزخمی ہوا۔ ندیم نصرت نے کہاکہ ہم ایک بارپھر وزیراعظم نوازشریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ سمیت تمام ارباب اختیارسے مطالبہ کرتے ہیں کہ خداراایم کیوایم کے خلاف ناجائزآپریشن بند کیاجائے ، ایم کیوایم کو دیگر سیاسی جماعتوں کوطرح پرامن سیاسی اورجمہوری سرگرمیوں کی مکمل آزادی دی جائے ، قائد تحریک الطاف حسین کے اظہاررائے پر پابندی کا خاتمہ کیا جائے اور مہاجروں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بندکیاجائے۔ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف ، مومن خان مومن، امجداللہ خان اور اشرف نورسمیت ایم کیوایم تمام کارکنوں کو رہاکیاجائے، گھرگھرچھاپوں ،گرفتاریوں اورجھوٹے مقدمات کے قیام کا سلسلہ بند کیاجائے۔جس طرح پانچ بلاگرز کی گمشدگی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیاگیا ہے اسی طرح ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کی بازیابی کیلئے بھی مثبت اورعملی اقدامات بروئے کار لائے جائیں تاکہ لاپتہ کارکنان کے پریشان حال والدین، بہن بھائی اوربیوی بچے اپنے پیاروں سے مل سکیں۔ندیم نصرت نے تمام ترریاستی مظالم کے باوجود ثابت قدم رہنے والے کارکنوں، ماؤں، بہنوں بزرگوں نوجوانوں اوربچوں کو قائدتحریک الطاف حسین کی جانب سے خراج تحسین پیش کیااورانہیں یقین دلاتے ہوئے کہاکہ انشاء اللہ ماضی کی طرح ہم آئندہ بھی سرخروہوں گے۔

7/27/2017 1:47:44 PM