Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کی جانب سے عوامی سروے کے ذریعہ ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر قارئین کرام اورہمدرد عوام سے رہنمائی حاصل کی جاتی رہی ہے ۔


 Posted on: 12/17/2016

مفادپرست ٹولہ
مضمون نگار۔۔۔۔۔؟
مفاد پرست عناصر اتنے بڑے ذہنی مریض بن چکے ہیں کہ جب بھی ملک کے اہم ترین اداروں کے چیفس کو مقررکیاجاتا ہے تو وہ ایک بھرپورزہریلی مہم شروع کردیتے ہیں جس میں ان کا ٹارگٹ وزیراعظم تو ہوتے ہی ہیں مگر ساتھ ساتھ وہ نئے سربراہوں کے خلاف بھی پروپیگنڈہ شروع کردیتے ہیں ۔ اس ایڈونچر سے انہیں کچھ حاصل توہوتا نہیں اورنہ ہی نئی تقرریوں کو واپس لیاجاتا ہے مگر وہ ماحول کو پراگندہ کرنے کی ضرورکوشش کرتے ہیں ۔ ایسے افراد جن میں بہت سے سینئر ریٹائرڈ سروس مین بھی شامل ہیں جن کے پاس کرنے کو کچھ اورنہیں ہے وہ لوگوں کو صرف گمراہ کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ صاف ظاہرہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں درحقیقت وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پسندیدہ افراد کو اہم ترین اداروں کا سربراہ مقررکردیا جائے ظاہر ہے ایسا ہونا ناممکن ہے ۔ ہمیں یاد ہے کہ 2013ء میں جب وزیراعظم نواز شریف نئے آرمی چیف کا تقررکرنے والے تھے توبہت سے ایسے عناصر کی دلی تمنا تھی کہ جنرل ہارون اسلم کو یہ عہدہ دیدیا جائے مگر وزیراعظم نے جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف کی پوسٹ کیلئے بہترین سمجھا اوران کا تقررکردیا اب بھی جب وزیراعظم کو نیا آرمی چیف مقررکرنا تھا تو ایک جنرل کے حق میں مہم چلائی گئی تاہم چیف ایگزیکٹونے جنرل قمرجاوید باجوہ کونیا کمانڈر مقررکردیا ۔ نہ صرف یہ کہ نئے آرمی چیف اس عہدے کیلئے تمام کوالیفیکیشن رکھتے ہیں بلکہ وہ ایک بطورپروڈیموکریسی جنرل بھی جانے جاتے ہیں ۔ اس تقرری پر یہ مخصوص کلاس آپے سے باہرہوگئی ہے اور اسے ہضم کرنے کو تیارنہیں تاہم یہ لاحاصل مشق میں مصروف ہیں اوروہ اپنے آپ کو حسد اوردکھ کی آگ میں جلارہے ہیں ، یہ ٹولہ واٹس اپ گروپوں میں تو ڈس انفارمیشن پھیلاہی رہا ہے مگر ہمارے بعض ٹی وی چینل بھی ہیں جو ہرروز انہیں پلیٹ فارم مہیاکرتے ہیں ۔ ایک ریٹائرڈ افسر ٹی وی چینل پر یہ فرمارہے تھے کہ نئے آئی ایس آئی چیف بہت ہی قابل پروفیشنل اورمنجھے جنرل ہیں مگروہ چوہدری منیر(جوکہ مریم نواز کی بیٹی کے سسرہیں) کے قریبی رشتہ دار ہیں ، یہ کہہ کرانہوں نے دراصل لیفٹنٹ جنرل نوید مختار کی تقرری کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اسی پروگرام میں وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ یہ رشتہ داری ایسے ہی ہے جیسے میں کہوں کہ میں ملکہ وکٹوریہ کا رشتہ دارہوں کیونکہ میری پھوپھی کی بیٹی کے بیٹے کا دورسے رشتہ ملکہ سے بنتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ بھلا نئے آئی ایس آئی چیف کی چوہدری منیر سے رشتہ داری کا تعلق ان کی تقرری سے کیسے جوڑا جاسکتا ہے ۔ یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ جنرل نوید مختار کی کارکردگی کی بناء پر راحیل شریف نے انہیں کورکمانڈرکراچی مقررکیاتھا ۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ چند ماہ قبل جب راحیل شریف ہی آرمی چیف تھے توایک انگریزی اخبارمیں یہ خبرچھپی تھی کہ جنرل نوید مختارکو آئی ایس آئی چیف لگانے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے جس کی تردید نہیں کی گئی تھی ۔ ظاہر ہے اس وقت تو کسی کے خواب میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی کہ جنرل قمرجاوید باجوہ اگلے آرمی چیف ہوں گے ، ریکارڈ کیلئے ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ نوید مختار ، لیفٹننٹ جنرل کے عہدے سے قبل آئی ایس آئی ہی میں تعینات تھے ، ترقی کے بعد انہیں کراچی کا کورکمانڈر لگایاگیا تھا۔ واپس آئی ایس آئی میں لانے میں ان کا گزشتہ اسی ایجنسی میں تجربہ بھی مدنظررکھا گیا ہوگا۔ آئی ایس آئی چیف کی تقرری وزیراعظم کا اختیار ہے مگریہ نامزدگی آرمی چیف سے مشورے کے ساتھ ہی ہوتی ہے ، یہ مخصوص ٹولہ چاہتا ہے کہ اہلیت کی بناء پر تقرری حاصل کرنے والے جنرل نویدمختارکومتنازعہ بنائیں حالانکہ رشتہ داری کی بنا پر نہ تو کسی اہل شخص کو ترقی ملنی چاہیے اورنہ اس کی ترقی رکنی چاہیے ۔ اہل شخص کو اس کی رشتہ داری کی وجہ سے متنازعہ بنانا کہاں کا انصاف ہے ۔ مخصوص ٹولہ کو بڑا دکھ ہے کہ( سابق آئی ایس آئی چیف) لیفٹننٹ جنرل رضوان اخترکو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا صدرکیوں مقررکردیا گیا وہ بڑے کرب میں ہیں کہ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ جوکہ گزشتہ چار سال سے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹرجنرل تھے کو انسپکٹر جنرل آرمز کیوں لگادیا گیا ہے ۔ یہ عناصر چاہتے تھے کہ ان دونوں جنرلز کو ان کی مرضی کے مطابق نئی پوسٹنگ دی جائے ۔ جب بھی نئے آرمی چیف آتے ہیں تو وہ فوج میں بہت سی تبدیلیاں کرتے ہیں اورنئے کورکمانڈرز بھی مقررکرتے ہیں یہ انکا صوابدیدی اختیار ہے جس کوچیلنج کرنا سوائے الزام تراشی کے کچھ نہیں ۔
نہ ہی صدر اورنہ ہی وزیراعظم کو کوئی اختیارہے کہ وہ نئے چیف جسٹس آف پاکستا ن کا تقررکریں کچھ سال قبل عدالت عظمیٰ نے خود ہی اس کیلئے طریقہ کار وضع کردیا تھا جس کی مکمل پابندی کی جارہی ہے اس کے مطابق سینئر ترین جج ہی چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ عہدہ خود بخود ہی سنبھال لیتے ہیں کوئی بھی حکومت چاہتی تو وہ اس فیصلہ کو پارلیمنٹ کے ذریعہ نیا قانون بناکر بدل سکتی تھی مگر کسی نے ایسا نہیں کیا اس فیصلہ کا مقصد حکومت کو کسی جونیئر جج کو چیف جسٹس مقررکرنے سے روکنا ہے ۔ اب بھی جسٹس انورظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ جوکہ 30 دسمبرکو ہوگی کے بعد سینئر ترین جج جسٹس میاں ثاقب نثار اگلے روزنئے چیف جسٹس کا حلف اٹھالیں گے ۔ ٹنل ویو رکھنے والے عناصرکو بڑی تکلیف ہے کہ میاں ثاقب نثار کیوں چیف جسٹس بن گئے حالانکہ ظاہر ہے کہ ان کی تقرری میں وزیراعظم کا سرے سے کوئی کردارہی نہیں ہے ۔ سب سے غیرذمہ دارانہ بات قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں کی جب انہوں نے کہاکہ اب تو یہ بھی کہاجارہا ہے کہ ’’چیف جسٹس بھی ہمارے آگئے ہیں ‘‘یعنی یہ کہ وہ حکومت کے بندے ہیں ۔ اسپیکرایاز صادق نے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ چیف جسٹس پاکستان کے ہیں نہ کہ کسی اورکے ۔ خورشید شاہ کایہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات حکومت والے نہیں کہہ رہے بلکہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں مگرانہوں نے یہ نہیں بتایاکہ وہ’’ لوگ ‘‘کون ہیں۔ کوئی اورنہیں ہے بلکہ وہ خود خورشید شاہ ہی ہیں جنہوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا ہے ۔ اپنے 18 سال کے عدالتی کیرئیر جوکہ لاہورہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں رہا ، جسٹس ثاقب نثارکا ایک بھی فیصلہ کوڈ نہیں کیاجاسکتا جس میں انہوں نے شریف فیملی کوکوئی ریلیف دیا ہو۔ وہ بہترین جج مانے جاتے ہیں اوراپنے فیصلے بڑے دبنگ انداز میں کرتے ہیں ۔ چند ماہ قبل انہوں نے ایک بہت اہم فیصلہ دیاجسے وفاقی حکومت نے کافی ناپسند کیااور اس کے خلاف نظرثانی کی درخواست بھی دی مگر اصل فیصلہ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی اور یہ پٹیشن خارج کردی گئی اس فیصلہ میں معزز جج نے لکھا کہ مالی معاملات میں وزیراعظم ، کابینہ کی منظوری کے بغیرفیصلے نہیں کرسکتے اور کابینہ کی منظوری کے بغیرتمام صوابدیدی اخراجات قانون کے خلاف ہیں ۔ مخصوص عناصر کو ان اداروں میں تقرریوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر متنازعہ بنانے سے گریز کرناچاہیے ۔ انہیں کچھ حاصل تونہیں ہوگا مگراداروں کے بارے میں بدگمانیاں پیدا ہوسکتی ہیں جوکہ ملک کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔ دراصل مخصوص ٹولہ چاہتا ہے کہ جھوٹے الزامات لگاکر اورپروپیگنڈہ کرکے فوج اور عدلیہ کو دباؤ میں لائیں اور ان سے اپنی من مرضی کے فیصلے کرائیں مگریہ ٹولہ جان لے ان کی خواہشیں پوری نہیں ہوسکتیں ۔


کیا آپ مضمون نگارکے خیالات سے متفق ہیں؟



10/18/2017 12:45:52 AM