Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے، کنوینر متحدہ قومی موومنٹ ندیم نصرت


پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے، کنوینر متحدہ قومی موومنٹ ندیم نصرت
 Posted on: 11/20/2016
پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع
ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے، کنوینر متحدہ قومی موومنٹ ندیم نصرت
فرقہ پرست جہادی تنظیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہیں ، ندیم نصرت
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار فرقہ پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں، ندیم نصرت
ایم کیوایم اور اس کے رہنماؤں کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے، ندیم نصرت
ایم کیوایم کو آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کی آزادی دی جائے ،ندیم نصرت
پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کافیصلہ واپس لیاجائے ، ندیم نصرت
ایم کیوایم کے زیرحراست رہنماؤں کو فی الفور رہا کیاجائے، ندیم نصرت
انسانی حقوق کی تنظیمیں پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں توسیع کا نوٹس لیں، ندیم نصرت

متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر ندیم نصرت نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اسیرارکان پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس عمل کو ریاستی دہشت گردی کا تسلسل قراردیا ہے ۔ ایک بیان میں ندیم نصرت نے کہاکہ مورخہ 22 اکتوبر 2016ء کو رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن، کنورخالدیونس اور امجداللہ خان کو محض پریس کانفرنس کرنے کے جرم میں کراچی پریس کلب سے گرفتارکیاگیا تھا اور انہیں ایم پی او کے تحت ایک ماہ کیلئے زیرحراست رکھاگیا تھا۔ آج حکومت وانتظامیہ نے پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کردی ۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جامعہ کراچی کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں جبکہ امجداللہ خان ایک معروف بزنس مین ہیں ، ان کا شمار کراچی کی معزز شخصیات میں ہوتا ہے اوران پر کوئی مقدمہ بھی نہیں ہے اس کے باوجود نہ صرف انہیں حق پرستی کا ساتھ دینے کی پاداش میں گرفتارکیاگیا بلکہ ان کی حراست کی مدت میں مزید توسیع بھی کردی گئی ہے جوکہ سراسر ظلم ہے ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ ایک جانب فرقہ پرست جہادی تنظیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہیں ، جہاد کے نام پر چندہ اکٹھا کررہی ہیں حتیٰ کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار فرقہ پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اورشہریوں کی جان ومال سے کھیلنے والے انتہاء پسند دہشت گردوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کرنے والی لبرل ، پروگریسیواور ترقی پسند جماعت ایم کیوایم اور اس کے رہنماؤں کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

ندیم نصرت نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوا زشریف اوروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا فوری نوٹس لیاجائے ، ایم کیوایم کو آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کی آزادی دی جائے ، ایم کیوایم کے زیرحراست رہنماؤں کی حراست میں توسیع کافیصلہ واپس لیاجائے اور انہیں فی الفور رہا کیاجائے ۔ندیم نصرت نے انسانی حقوق کی ملکی اور بین الاقوامی تنطیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں توسیع کا نوٹس لیں اور اس ظلم کے خلاف آواز احتجاج بلند کریں۔
*****

پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع
ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے، کنوینر متحدہ قومی موومنٹ ندیم نصرت
فرقہ پرست جہادی تنظیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہیں ، ندیم نصرت
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار فرقہ پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں، ندیم نصرت
ایم کیوایم اور اس کے رہنماؤں کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے، ندیم نصرت
ایم کیوایم کو آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کی آزادی دی جائے ،ندیم نصرت
پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کافیصلہ واپس لیاجائے ، ندیم نصرت
ایم کیوایم کے زیرحراست رہنماؤں کو فی الفور رہا کیاجائے، ندیم نصرت
انسانی حقوق کی تنظیمیں پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں توسیع کا نوٹس لیں، ندیم نصرت
لندن۔۔۔20، نومبر2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر ندیم نصرت نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اسیرارکان پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس عمل کو ریاستی دہشت گردی کا تسلسل قراردیا ہے ۔ ایک بیان میں ندیم نصرت نے کہاکہ مورخہ 22 اکتوبر 2016ء کو رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن، کنورخالدیونس اور امجداللہ خان کو محض پریس کانفرنس کرنے کے جرم میں کراچی پریس کلب سے گرفتارکیاگیا تھا اور انہیں ایم پی او کے تحت ایک ماہ کیلئے زیرحراست رکھاگیا تھا۔ آج حکومت وانتظامیہ نے پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کردی ۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جامعہ کراچی کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں جبکہ امجداللہ خان ایک معروف بزنس مین ہیں ، ان کا شمار کراچی کی معزز شخصیات میں ہوتا ہے اوران پر کوئی مقدمہ بھی نہیں ہے اس کے باوجود نہ صرف انہیں حق پرستی کا ساتھ دینے کی پاداش میں گرفتارکیاگیا بلکہ ان کی حراست کی مدت میں مزید توسیع بھی کردی گئی ہے جوکہ سراسر ظلم ہے ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ ایک جانب فرقہ پرست جہادی تنظیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہیں ، جہاد کے نام پر چندہ اکٹھا کررہی ہیں حتیٰ کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار فرقہ پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اورشہریوں کی جان ومال سے کھیلنے والے انتہاء پسند دہشت گردوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کرنے والی لبرل ، پروگریسیواور ترقی پسند جماعت ایم کیوایم اور اس کے رہنماؤں کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
ندیم نصرت نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوا زشریف اوروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا فوری نوٹس لیاجائے ، ایم کیوایم کو آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کی آزادی دی جائے ، ایم کیوایم کے زیرحراست رہنماؤں کی حراست میں توسیع کافیصلہ واپس لیاجائے اور انہیں فی الفور رہا کیاجائے ۔ندیم نصرت نے انسانی حقوق کی ملکی اور بین الاقوامی تنطیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں توسیع کا نوٹس لیں اور اس ظلم کے خلاف آواز احتجاج بلند کریں۔
*****
پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع
ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے، کنوینر متحدہ قومی موومنٹ ندیم نصرت
فرقہ پرست جہادی تنظیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہیں ، ندیم نصرت
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار فرقہ پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں، ندیم نصرت
ایم کیوایم اور اس کے رہنماؤں کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے، ندیم نصرت
ایم کیوایم کو آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کی آزادی دی جائے ،ندیم نصرت
پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کافیصلہ واپس لیاجائے ، ندیم نصرت
ایم کیوایم کے زیرحراست رہنماؤں کو فی الفور رہا کیاجائے، ندیم نصرت
انسانی حقوق کی تنظیمیں پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں توسیع کا نوٹس لیں، ندیم نصرت
لندن۔۔۔20، نومبر2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر ندیم نصرت نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اسیرارکان پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس عمل کو ریاستی دہشت گردی کا تسلسل قراردیا ہے ۔ ایک بیان میں ندیم نصرت نے کہاکہ مورخہ 22 اکتوبر 2016ء کو رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن، کنورخالدیونس اور امجداللہ خان کو محض پریس کانفرنس کرنے کے جرم میں کراچی پریس کلب سے گرفتارکیاگیا تھا اور انہیں ایم پی او کے تحت ایک ماہ کیلئے زیرحراست رکھاگیا تھا۔ آج حکومت وانتظامیہ نے پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کردی ۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جامعہ کراچی کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں جبکہ امجداللہ خان ایک معروف بزنس مین ہیں ، ان کا شمار کراچی کی معزز شخصیات میں ہوتا ہے اوران پر کوئی مقدمہ بھی نہیں ہے اس کے باوجود نہ صرف انہیں حق پرستی کا ساتھ دینے کی پاداش میں گرفتارکیاگیا بلکہ ان کی حراست کی مدت میں مزید توسیع بھی کردی گئی ہے جوکہ سراسر ظلم ہے ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ ایک جانب فرقہ پرست جہادی تنظیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہیں ، جہاد کے نام پر چندہ اکٹھا کررہی ہیں حتیٰ کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار فرقہ پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اورشہریوں کی جان ومال سے کھیلنے والے انتہاء پسند دہشت گردوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کرنے والی لبرل ، پروگریسیواور ترقی پسند جماعت ایم کیوایم اور اس کے رہنماؤں کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
ندیم نصرت نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوا زشریف اوروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا فوری نوٹس لیاجائے ، ایم کیوایم کو آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کی آزادی دی جائے ، ایم کیوایم کے زیرحراست رہنماؤں کی حراست میں توسیع کافیصلہ واپس لیاجائے اور انہیں فی الفور رہا کیاجائے ۔ندیم نصرت نے انسانی حقوق کی ملکی اور بین الاقوامی تنطیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں توسیع کا نوٹس لیں اور اس ظلم کے خلاف آواز احتجاج بلند کریں۔
*****
پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع
ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے، کنوینر متحدہ قومی موومنٹ ندیم نصرت
فرقہ پرست جہادی تنظیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہیں ، ندیم نصرت
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار فرقہ پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں، ندیم نصرت
ایم کیوایم اور اس کے رہنماؤں کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے، ندیم نصرت
ایم کیوایم کو آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کی آزادی دی جائے ،ندیم نصرت
پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کافیصلہ واپس لیاجائے ، ندیم نصرت
ایم کیوایم کے زیرحراست رہنماؤں کو فی الفور رہا کیاجائے، ندیم نصرت
انسانی حقوق کی تنظیمیں پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں توسیع کا نوٹس لیں، ندیم نصرت
لندن۔۔۔20، نومبر2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر ندیم نصرت نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اسیرارکان پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس عمل کو ریاستی دہشت گردی کا تسلسل قراردیا ہے ۔ ایک بیان میں ندیم نصرت نے کہاکہ مورخہ 22 اکتوبر 2016ء کو رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن، کنورخالدیونس اور امجداللہ خان کو محض پریس کانفرنس کرنے کے جرم میں کراچی پریس کلب سے گرفتارکیاگیا تھا اور انہیں ایم پی او کے تحت ایک ماہ کیلئے زیرحراست رکھاگیا تھا۔ آج حکومت وانتظامیہ نے پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی حراست میں ایک ماہ کی مزید توسیع کردی ۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جامعہ کراچی کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں جبکہ امجداللہ خان ایک معروف بزنس مین ہیں ، ان کا شمار کراچی کی معزز شخصیات میں ہوتا ہے اوران پر کوئی مقدمہ بھی نہیں ہے اس کے باوجود نہ صرف انہیں حق پرستی کا ساتھ دینے کی پاداش میں گرفتارکیاگیا بلکہ ان کی حراست کی مدت میں مزید توسیع بھی کردی گئی ہے جوکہ سراسر ظلم ہے ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ ایک جانب فرقہ پرست جہادی تنظیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہیں ، جہاد کے نام پر چندہ اکٹھا کررہی ہیں حتیٰ کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار فرقہ پرست تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں اورشہریوں کی جان ومال سے کھیلنے والے انتہاء پسند دہشت گردوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کرنے والی لبرل ، پروگریسیواور ترقی پسند جماعت ایم کیوایم اور اس کے رہنماؤں کی سیاسی وسماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
ندیم نصرت نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوا زشریف اوروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا فوری نوٹس لیاجائے ، ایم کیوایم کو آئینی ، قانونی اورجمہوری جدوجہد کی آزادی دی جائے ، ایم کیوایم کے زیرحراست رہنماؤں کی حراست میں توسیع کافیصلہ واپس لیاجائے اور انہیں فی الفور رہا کیاجائے ۔ندیم نصرت نے انسانی حقوق کی ملکی اور بین الاقوامی تنطیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف اور امجداللہ خان کی غیرقانونی حراست میں توسیع کا نوٹس لیں اور اس ظلم کے خلاف آواز احتجاج بلند کریں۔
*****

12/6/2016 2:07:24 AM