Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پلس ون فارمولہ اور کھیتی باڑی کا بل گیٹس تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ


پلس ون فارمولہ اور کھیتی باڑی کا بل گیٹس تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ
 Posted on: 11/9/2016
پلس ون فارمولہ اور کھیتی باڑی کا بل گیٹس
تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ 
قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ احسان کا بدلہ احسان ہے ‘‘ لیکن اس مادیت پرستی کے دورمیں ہرقوم ، قبیلے اورنسل میں احسان فراموش عناصر پائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا فرمان ہے کہ ’’ جس پر احسان کرو اس کے شرسے بچو‘‘ 
اس تناظر میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو سیاسی جماعتوں کو بنانے ، بگاڑنے اورمٹانے کے حوالہ سے سازشی تھیوریوں کا لامتناہی سلسلہ دیکھنے میں آتا ہے ، ان سازشی تھیوریوں میں ’’مائنس ون فارمولا‘‘ بہت عام ہے ۔یہ سازشی تھیوریاں تیارکرنے والے بڑی حدتک بعض سیاسی جماعتوں کو بنانے اورمٹانے میں کامیاب بھی ہوئے اوران سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو ’’مائنس اور پلس‘‘ بھی کیاگیا لیکن مہاجروں کی واحد نمائندہ جماعت ایم کیوایم کے معاملے میں خصوصاً 1992ء سے ہرسازشی تھیوری نہ صرف ناکام ثابت ہوئی بلکہ سازشی تھیوریاں تیارکرنے والوں کو منہ کی بھی کھانی پڑی ۔ 
گزشتہ دنوں دبئی میں پی آئی بی ٹولہ کے ایک ضمیرفروش کی سابق صدرپاکستان جنرل پرویز مشرف سے ہونے والی ملاقات کی خبر کومورخہ 8، نومبر2016ء کو میڈیا میں نمایاں جگہ دی گئی ، کئی ٹی وی چینلز نے اس خبر کو اپنی ہیڈلائنز میں بھی شامل کیا ۔ اس ملاقات کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا ہے لیکن گزشتہ روز ایک نجی ٹیلی ویژن پرنشر ہونے والے وڈیو لاگ میں جنرل پرویز مشرف کے قانونی مشیر احمد رضا قصور ی نے اس ملاقات کے مقاصد کا بھانڈا پھوڑڈالا۔ اس وڈیولاگ میں قصوری صاحب نے ’’ پلس ون فارمولہ‘‘ دیتے ہوئے کہاہے کہ ایم کیوایم کی قیادت جنرل پرویز مشرف کو سونپ دی جائے تو ایک سابق فوجی کمانڈر کے ہاتھ میں جب ایم کیوایم کی قیادت آجائے گی تو اردوبولنے والوں کیلئے بہتر ہوگا۔احمد رضا قصور ی صاحب یا تو بہت بھولے ہیں یا انہوں نے مہاجروں کو بالکل بے وقوف سمجھ لیا ہے ؟ یعنی’’ دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں ‘‘ ایم کیوایم کی 40 سالہ تاریخ میں قائد تحریک الطاف حسین کی جدوجہد کا ایک ایک لمحہ شامل ہے ، اس تحریک میں لوگ آتے گئے جاتے گئے لیکن جناب الطاف حسین نے ایک لمحہ کیلئے بھی اپنی جدوجہد ترک نہیں کی ،پاکستان میں تین مرتبہ قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں ، ٹارچرسیلوں کی اذیتوں کا سامنا کیا ، مفادپرست عناصر کی غداریوں کے صدمات جھیلے، جلاوطنی کی کربناک زندگی گزاری اوربرطانیہ میں بھی جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا لیکن اپنی جدوجہد جاری رکھی ، تمام ترمصائب ومشکلات اور علالت کے باوجود آج تک جدوجہد کررہے ہیں۔ پلس ون کا فارمولا پیش کرنے والے محترم سے سوال کیاجائے کہ قصوری صاحب ! آپ نے زندگی بھر جوکچھ کمایا ہے ، اپنی عمربھرکی کمائی راقم کے نام کردو تو کیا وہ اس کیلئے راضی ہوجائیں گے ؟ چلئے راقم کی بات جانے دیجئے موصوف سے یہ پوچھ لیجئے کہ کیا وہ اپنی عمر بھر کی کمائی جنرل پرویز مشرف کو دینے کیلئے تیارہیں؟ راقم کو یقین ہے کہ ان کا جواب نفی میں ہوگا۔ پھر جناب الطاف حسین کیلئے ’’پلس ون ‘‘ فارمولہ کی بات کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے؟مہاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے اور ایم کیوایم کو اس مقام تک پہنچانے کیلئے قائد تحریک الطاف حسین نے اپنی زندگی کے ایک ایک پل میں جو شب وروز محنت کی ہے کیا قصوری صاحب کو اس کااندازہ ہے ؟ شائد نہیں ،اگر اندازہ ہوتا تو وہ ایسی نامعقول بات اپنے تصورمیں بھی نہیں لاتے ۔
جس مالی نے ایک بنجرزمین کو زرخیزبنانے کیلئے دن رات محنت کی ، تن تنہا گڑھے کھود کر زمین سے بھاری بھاری پتھر نکالے ، زمین کو ہموار کیا، فاقہ کشی میں محنت ومشقت جاری رکھی ، پسینہ میں شرابورہوکربھی کام کرتے رہے ، بھوک وپیاس کی شدت کی پرواہ تک نہیں کی ، کام کرتے کرتے جب توانائی کم ہوتی تو ایک دولقمہ کھاکر پھر بنجر زمین کو زرخیز بنانے کی تگ ودو میں لگ جاتے ۔ بنجرزمین کو زرخیز بنانے کیلئے دیوانگی کی حدتک محنت سے کام کرتے رہے ۔ قطرہ قطرہ جمع کرتے رہے ، دیکھنے والوں نے جناب الطاف حسین کو کبھی پاگل قراردیا، کسی نے دیوانہ کہا،کسی نے مجنوں کہا، کسی نے چریا کہااور کسی نے پڑھا لکھا فقیر تک کہہ دیا ۔ کوئی کہنے لگاکہ’’ چہ پدی چہ پدی کاشوربہ‘‘ یہ الطاف حسین ایک بنجر زمین کو زرخیزبنانے کے جنون میں مبتلا ہے ، یہ سوفیصد پاگل ہے اور ایسے شخص کی دماغی کیفیت کے بارے میں کسی سند کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن اپنے مقصد میں کامیابی کا یقین دل میں لئے یہ دیوانہ شخص بنجر زمین کو زرخیز زمین میں 

تبدیل کرنے کیلئے محنت ولگن سے تگ ودو کرتارہا ۔ کہتے ہیں کہ مسلسل محنت اور لگن انسان کوکامیابی سے ہمکنار کرتی ہے لہٰذا جناب الطاف حسین کی محنت ومشقت رنگ لائی اور وہ بنجر زمین کو زرخیز بنانے میں کامیاب ہوگئے اور پھر زمین میں بیج بونے کا مرحلہ آیا تو حاسدوں نے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی 
کرنی شروع کردیں ۔ کسی نے محنت ومشقت سے ہموار کی گئی زمین کو ناہموارکرنا شروع کردیا تو کسی نے زمین پر پانی چھوڑدیا لیکن انکا کوئی بھی حربہ جناب الطاف حسین کی دیوانگی اورمحنت کی راہ میں حائل نہ ہوسکا اور تمام تررکاوٹوں کے باوجودجناب الطاف حسین کا پسینہ اورمحنت مہاجرنظریہ کی زمین پر کامیاب فصل بن کر لہلہانے لگا تو ہر کوئی حیران ہوگیا، کسی نے اپنے دانتوں تلے انگلی دبالی اور کسی نے اپنی انگلی ہی چبالی ۔ مہاجرنظریہ کی زمین کی دشمن اسٹیبلشمنٹ کو یہ کامیابی دیکھ کر نہ صرف حیرت ہوئی بلکہ اس مہاجر نظریہ کی زرخیز زمین پر کپاس، چاول ، گندم اوردیگراناج کی لہلہاتی کھڑی فصلیں ایٹم بم ، راکٹ لانچراورتوپیں نظرآنے لگیں اور وہ اس نظریاتی زمین کو اپنے خلاف سمجھنے لگی ، اسٹیبلشمنٹ نے تہیہ کرلیا کہ وہ ہرقیمت پر اربوں کھربوں روپے کی آمدنی دینے والی اس زرخیز زمین کو تباہ وبرباد کردے گی ، اس کا نام ونشان مٹادے گی لہٰذا اسٹیبلشمنٹ نے مہاجرنظریہ کی زمین کو پہلے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنایا اور لہلہاتے کھیت کو تقسیم کرنے کیلئے اپنے حواریوں کے ذریعہ جنگ وجدل کرایا، کبھی مہاجربستیوں پر حملے کرائے ، کبھی لسانی فسادات کرائے ، کبھی مہاجروں کوتقسیم کرنے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکائی اور کبھی یہ الزام عائدکیاگیا کہ اس کھیت میں جرائم پیشہ اورملک دشمن عناصر پناہ لیتے ہیں اور اس بنیاد پر مہاجرنظریہ کی زمین پر ریاستی آپریشن درآپریشن کا عمل بھی کیاگیا۔ کبھی اس زرخیز زمین کو بدنامی کا اڈہ قراردینے کیلئے منفی پروپیگنڈہ کیاگیا تاکہ پاکستان کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کیاجاسکے تاکہ جب مہاجرنظریہ کی زمین سے وابستہ لوگوں کی زندگی اجیرن بنائی جائے تو کوئی مہاجروں کے انسانی حقوق کیلئے آواز نہ اٹھاسکے۔مہاجرنظریہ کی زرخیز زمین کے خلاف گمراہ کن اور منفی پروپیگنڈوں میں اسٹیبلشمنٹ بڑی حدتک کامیاب بھی ہوگئی لیکن منفی پروپیگنڈوں ، ریاستی آپریشن اور تمام تررکاوٹوں کے باوجود یہ زرخیز زمین فصلیں اگاتی رہیں اورفصلوں سے ہونے والی آمدنی ہرسال دگنا منافع دینے لگی ۔ اس صورتحال کو دیکھ کر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کرلیا کہ اگر وہ اس زرخیز زمین اور اس کی لہلہاتی فصلوں کو جلاکر خاک بھی کردے تب بھی سونا اگلتی یہ زمین ختم نہیں ہوگی ، اس زمین میں بوئے ہوئے بیجوں میں اتنی طاقت ہے کہ وہاں دوبارہ پوری توانائی سے کونپلیں پھوٹنے لگیں گی اور مالی کی محنت فصل بن کر لہلہاتی رہے گی لہٰذا اربوں کھربوں روپے مالیت کی اس زرخیز زمین کو تباہ وبرباد کرنے کا سلسلہ بند کرکے اس زمین پر قبضہ کرنے کی پالیسی اختیارکی جائے اور اس زمین کے مالک کو ’’مائنس ون فارمولا‘‘ کا نشانہ بنادیا جائے جس کے تحت یاتو مالی کو قتل کردیاجائے یا مالی طورپر اس قدر مصائب ومشکلات کاشکاربنادیاجائے کہ وہ غربت کی اتاہ گہرائیوں میں چلاجائے ، اس سازشی تھیوری کو ’’پلس ون فارمولے ‘‘ کا نام دیاجارہاہے۔ 
آج کل بڑی شدومد سے یہی کوششیں کی جارہی ہیں کہ زرخیز زمین رہے ، اس کی لہلہاتی فصلیں بھی سلامت رہیں، ان فصلوں سے ہونے والی آمدنی سے خزانے بھی بھرے جاتے رہیں لیکن اس زمین کو زرخیز بنانے والے قائدتحریک الطاف حسین کوتاریخ کے صفحات میں گم کردیاجائے جس نے اپنی زندگی کے 40 برس کے دوران مظلوموں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھی ، ایک لمحہ بھی سکون کا سانس نہ لیا، اپنے آرام وسکون ، ذاتی خواہشات اورتمنا اورگھربار کی پرواہ کیے بغیرایک بنجر زمین کو زرخیز زمین میں تبدیل کیا اسے اس کی زرخیز زمین سے ہی علیحدہ کردیاجائے اوراس مالی کو جسے آج دنیا بابائے مہاجر قوم کے نام سے پہچانتی ہے اسے 21 ویں صدی کی کھیتی باڑی کا بل گیٹس نہ بننے دیا جائے ۔
9 ، نومبر2016ء
*****

12/3/2016 5:39:25 AM