Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میں آزادوطن کیلئے نہیں مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے جائز حقوق کی جدوجہدکررہا ہوں۔الطاف حسین


میں آزادوطن کیلئے نہیں مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے جائز حقوق کی جدوجہدکررہا ہوں۔الطاف حسین
 Posted on: 11/4/2016
میں آزادوطن کیلئے نہیں مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے جائز حقوق کی جدوجہدکررہا ہوں۔الطاف حسین
جائزحقوق کیلئے جدوجہدکرنے کی پاداش میں ہمیں ظلم وستم کانشانہ بنایاجارہاہے،
جب تک میں زندہ ہوں حق پرستی کی تحریک کو نہیں چھوڑوں گا اورآخری سانس تک جدوجہد کرتارہوں گا
پاکستان کے خلاف نعرہ لگانا زیادہ برا اور گھناؤنا عمل ہے یا پاکستان کو دولخت کرنا زیادہ بری بات ہے ؟ 
مسلح افواج اورپاکستان کے خلاف تقریریں کرنے والے دیگر لوگوں کے خلاف کسی نے آواز بلندنہیں کی 
ایم کیوایم کی پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائدکی جارہی ہے جبکہ کالعدم تنظیموں کو جلسہ جلوس کرنے کی آزادی حاصل ہے
جنرل راحیل شریف بتائیں کہ پروفیسرحسن ظفرعارف، مومن خان مومن، کنورخالدیونس،امجداللہ کوکس جرم میں گرفتارکیاگیا؟
جنرل راحیل شریف نے آفتاب شہید کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کا یقین دلایا تھا لیکن قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی
جنرل راحیل شریف اپنے عہدے پر رہیں یا نہ رہیں لیکن دنیا ضرور رہے گی ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا اور اسی کی
ذات بہتر انصاف کرنے والی ہے
قائدتحریک الطاف حسین کاارباب اختیار اورکارکنان وعوام کے لئے تازہ ترین وڈیو پیغام
لندن۔۔۔4، نومبر2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں 40 برسوں سے آزادوطن کیلئے نہیں بلکہ مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے جائز حقوق کا مطالبہ کررہا ہوں لیکن جائزحقوق کیلئے جدوجہدکرنے کی پاداش میں ہمیں ظلم وستم کانشانہ بنایاجارہاہے،جب تک میں زندہ ہوں حق پرستی کی تحریک کو نہیں چھوڑوں گا اورآخری سانس تک ملک بھرکے مظلوم ومحروم عوام کے حقوق کی جدوجہد کرتارہوں گا۔ انہوں نے ارباب اختیار اور اقتدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں نے دکھ اور شدت غم کی کیفیت میں پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا جس پر دومرتبہ معافی مانگ چکا ہوں لیکن ارباب اختیارمجھے معاف کرنے پرتیارنہیں ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں ارباب اختیارواقتدار ،زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات، ملک بھر کے عوام اور ایم کیوایم کے کارکنان کے نام ریکارڈ کرائے گئے اپنے تازہ ترین وڈیو پیغام میں کیا۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے صدرپاکستان ممنون حسین، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان ، وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف ، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ، بیوروکریسی اور تمام طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے خلاف نعرہ لگانا زیادہ برا اور گھناؤنا عمل ہے یا پاکستان کو دولخت کرنا زیادہ بری بات ہے ؟ کیا دنیا کی کوئی بھی عدالت ان دونوں جرائم کو برابر قراردے سکتی ہے؟ ایک طرف 19، جون1992ء سے ہمارے خلاف آپریشن آج تک جاری ہے ، ہم پر جناح پور کا الزام لگایا گیا،ہم پر را کا ایجنٹ اور بھارتی ایجنٹ کاالزام لگایا گیا جو آج تک لگایاجارہا ہے لیکن جنہوں نے کھلے عام کہاکہ ہم بھارتی ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان آئیں گے ، جنہوں نے کہاکہ اگر 20 ہزار بندہ سڑکوں پر نکل آئے تو جرنیلوں کا پیشاب نکل جائے گا ، کسی نے اسمبلی کے فلورپرکہاکہ فوج ملک کو گدھ کی طرح نوچ رہی ہے ، ملک کو کھارہی ہے ، اسمبلی کے فلور پرہی کسی نے کہاکہ اگر ایک بھی پختون مارا گیا تو میں پاکستان زندہ باد نہیں کہوں گا اور جو پختون زندہ باد کہے گا میں اسے بے غیرت پختون کہوں گا۔ یہ تمام لوگ آج تک پاکستان کے وفادار بنے بیٹھے ہیں اورمزے کررہے ہیں، ان کے خلاف کسی نے آواز بلندنہیں کی ، ان کے خلاف کسی کا قلم حرکت میں نہیں آیا اورنہ القاعدہ ، طالبان اور داعش کیلئے حرکت میں آیا، کالعدم تنظیموں کو آج بھی کھلے عام جلسہ جلوس کرنے کی آزادی حاصل ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سرکاردوعالم ؐ کی تعلیمات ہے کہ کسی بھی نیکی کے کام کا آغاز اپنی ذات سے کرو لیکن راولپنڈی میں آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر کے سامنے ہی لال مسجد واقع ہے ،جہاں مسلح دہشت گردوں نے ایس ایس جی کے 6 کمانڈوز کو شہید کردیا لیکن آج تک ان دہشت گردوں کو نہیں پکڑا گیا ہے ، میں پوچھتا ہوں کہ مسجد عبادت گاہ اور نماز پڑھنے کی جگہ ہوتی ہے وہاں سے گولیاں چلانے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ لال مسجد کے انتہاء پسند عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اورہم وزیرستان میں صفائی کرنے پہنچ گئے ۔جنا ب الطاف حسین نے صدرپاکستان، وزیراعظم ، آرمی چیف، وزیرداخلہ ، وزیردفاع، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے تمام شعبہ جات کے ذمہ داران کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ 2013ء کو سندھ میں آپریشن شروع کیاگیا اور کہاگیا تھا کہ یہ آپریشن جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف ہوگا لیکن آپ اپنے دل اور قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا اس آپریشن کا رخ ایم کیوایم کی جانب نہیں موڑا گیا؟ یہ آپریشن آج تک ایم کیوایم کے خلاف جاری ہے ، ایم کیوایم کے کارکنان کی تلاش میں جب قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار جب جب لیاری ، سہراب گوٹھ ، اتحاد ٹاؤن اور منگھوپیر پہنچے تو رینجرز اہلکاروں کی لاشیں اٹھانی پڑیں لیکن جس طرح رینجرز نائن زیرو کو سیل کرنے پہنچی ، اس طرح لیاری ، سہراب گوٹھ ، اتحادٹاؤن اور منگھوپیر دوبارہ نہیں گئی ۔ 
جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ سندھ اور بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ حکومت کررہی ہے ، بلوچستان میں نوجوانوں کو ان کے والدین کے سامنے گرفتارکیاجاتا ہے اورپھرکئی ماہ بعد ان کی لاشیں ملتی ہیں ۔ یہی حال سندھ میں بھی ہے ، ایم کیوایم کے 65 سے زائد کارکنان جنہیں ان کے والدین کے سامنے گرفتارکیاگیا تھا ماورائے عدالت قتل کردیئے گئے اور ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئیں ، 140 کارکنان گرفتاری کے بعد سے آج تک لاپتہ ہیں جبکہ 1500 سے زائد کارکنان جیلوں میں اسیر ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمد کے ماورائے عدالت قتل کانوٹس لیتے ہوئے آپ نے تحقیقات کا یقین دلایا تھا لیکن آفتاب احمد شہید کے قاتلوں کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات روزمرہ کا معمول بن گئے تھے ، آئے دن کارکنان کی تشددزدہ لاشیں مل رہی تھیں ، دوسری طرف بے گناہ ذمہ داروں اورکارکنوں کی گرفتاریوں کی خبریں مل رہی تھیں اور تیسری طرف کراچی پریس کلب کے باہرمسلسل کئی دن تک بھوک ہڑتال کرنے والے کارکنان کی حالت بگڑ رہی تھی اورانہیں اسپتال بھیجاجارہا تھا ۔ اس وقت میرا غم وغصہ قطعی فطری تھا۔ انہوں نے کہاکہ میں 40 برسوں سے مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوموں کے جائز حقوق کا مطالبہ کررہاہوں ، آزاد وطن کا مطالبہ نہیں کررہا ۔ میں واحد ہوں جو مسلسل جدوجہد کررہا ہے اور مطالبہ کررہاہے کہ مہاجروں ، مظلوموں ، محروموں ، کسانوں اورہاریوں کو ان کے جائز حقوق دیئے جائیں ، میں 26 سال سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں اورمیں نے ایک سیکنڈ کیلئے بھی تحریک نہیں چھوڑی ۔ میں نے کسی کو میئر، ڈپٹی میئر بنایا، کسی کو سینیٹ یاقومی اسمبلی کا رکن اور پارلیمانی لیڈر بنایا، کسی کو وزیر، مشیراور رکن سندھ اسمبلی بنایا ۔ ان منتخب نمائندوں کو عوام نے صرف الطاف حسین کے نام پر ووٹ دیئے تھے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں نے منتخب نمائندوں سے کہاکہ قوم نے تمہیں امانت دی ہے لہٰذا اب قوم کی امانت واپس کروتو اپنی جانیں بچانے کیلئے فاروق ستار چھاؤنی اورکمالو چھاؤنی میں جہاں جگہ ملی چلے گئے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے، یہاں انہیں کچھ نہیں کہاجائے گا ۔ جو چور، ڈاکو، اغوا کی وارداتیں کرنے والے یا دنیا کا بڑے سے بڑا اسمگلر بھی کیوں نہ آجائے اسے کچھ نہیں کہاجائے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آج 4، نومبر2016ء ہے، آپ کی ریٹائرمنٹ میں چند روزباقی رہ گئے ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ اپنے عہدے پر رہیں گے یا نہیں لیکن یہ دنیا ضرور رہے گی ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا اور اسی کی ذات ہی بہتر انصاف کرنے والی ہے، لیکن آپ بتائیں کہ جامعہ کراچی کے پروفیسر 75 سالہ ڈاکٹر ، فلاسفر، دانشور، شاعر، ادیب اور تاریخ داں ڈاکٹر حسن ظفرعارف جس نے لاکھوں طلباء کو تعلیم کے زیورسے آراستہ کیا ہے ان کا کیاقصور تھا؟ انہیں کیوں گرفتارکیاگیا؟ ان کاصرف یہی قصور ہے کہ وہ الطاف حسین کے ساتھ ہیں، میں نے 22 ، اگست کی تقریرمیں جو نعرہ لگایا تھا ڈاکٹر حسن ظفرعارف اس سے چندروز پہلے ہی ایم کیوایم میں شامل تھے اورانہوں نے زندگی میں کبھی کوئی جرم نہیں کیاتھا۔ اسی طرح مومن خان مومن، کنورخالدیونس، ساتھی اسحاق کے گھروالوں، امجد اللہ خان ، ظفرراجپوت ، کراچی ، حیدرآباداورمیرپورخاص کے ذمہ داروں جن کی زندگی جدوجہد اور تعلیم دیتے ہوئے گزر گئی، یہ وہ شرفاء ہیں جن کی شرافت کی قسمیں کھائی جاسکتی ہیں ، انہیں کس جرم میں گرفتارکیاگیا؟جناب الطاف حسین نے جنرل راحیل شریف سے کہاکہ انہیں رہا کرایاجائے چاہے انہیں کہہ دیا جائے کہ وہ الطاف حسین کوچھوڑ دیں ، میں خود ان سے کہوں گا کہ وہ گھر پر بیٹھ جائیں ، اب آپ کی عمر جیل جانے کی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دکھ اور شدت غم کی کیفیت میں مجھ سے غلطی ہوئی اور میں نے پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا جس پر دومرتبہ معافی مانگ چکا ہوں لیکن ارباب اختیارمجھے معاف کرنے پرتیارنہیں ہیں اورمیری قوم کو اس کی سزا دی جارہی ہے ۔جنرل راحیل شریف صاحب! اگر خدانخواستہ آپ کے سامنے بلاجواز آپ کے والد، بھائیوں اوربیٹوں کو قتل کردیا جائے تو ان کی تشدد زدہ لاشیں دیکھ کر آپ کے دل پر کیاگزرے گی؟ 
جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے کارکنان بالخصوص چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں سے کہاکہ تم جئے الطاف کے نعرے لگاتی ہو، آج تمہاری زبان بند کردی گئی لیکن میں کل بھی تمہیں ایک پپی اس گال پر اور ایک پپی اس گال پر دیتا ہوں اورآج بھی تمہارے لئے دعائیں کرتا ہوں اور تمہیں اپنی پیاربھری پپیاں دیتا 
ہوں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں تحریک کو نہیں چھوڑوں گا اور اپنے شہداء کے قاتلوں کی گرفتاری کی جدوجہد کرتارہوں گا۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے ثابت قدم کارکنان کو سلام تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں نے تحریک سے غداری کا عمل کیا ہے ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں ان کی پکڑ کرے گا ، انہیں نہ یہاں چین ملے گا اورنہ وہاں چین نصیب ہوگا۔ تحریکی ساتھیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر خدانخواستہ میں ا س دنیا سے چلا بھی جاؤں تو میری اس وصیت کو یاد رکھنا کہ جن لوگوں نے میرے ساتھیوں کو شہید کیا ، جن لوگوں نے تحریک کے ساتھ بے وفائی کی ، غداری کی اور جن لوگوں نے مخبریاں کرکے ساتھیوں کو شہید کروایا ہے انہیں ہمیشہ یاد رکھنا اور جب اللہ تعالیٰ تمہیں موقع دے ایسے عناصر سے آئین اورقانون کے مطابق ایک ایک ظلم کا حساب لینا۔

12/3/2016 5:38:28 AM