Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مذہبی ا نتہاپسندی ملک کوتاریکی میں تولے جاسکتی ہے لیکن ترقی وخوشحالی کی طرف نہیں لے جاسکتی۔الطاف حسین


مذہبی ا نتہاپسندی ملک کوتاریکی میں تولے جاسکتی ہے لیکن ترقی وخوشحالی کی طرف نہیں لے جاسکتی۔الطاف حسین
 Posted on: 11/2/2016
مذہبی ا نتہاپسندی ملک کوتاریکی میں تولے جاسکتی ہے لیکن ترقی وخوشحالی کی طرف نہیں لے جاسکتی۔الطاف حسین
ملک کی ترقی کیلئے روشن خیالی اورلبرل سوچ کوفروغ دیناہوگا، اقوام ہی ملکوں کامستقبل تاریک کرتی ہیں اوروہی روشن کرتی ہیں
روشن پاکستان کیلئے جہالت کے اندھیروں سے باہرنکلناہوگا ،اپنے آپ کوروشن خیال اورلبرل بناناہوگا 
ایسانظریہ جو نفرتوں کوجنم دے ، ایک دوسرے کوکافرقراردے اور جائزاورناجائزکے فتوے جاری کرے وہ انتہاپسندی ہے
نوجوانوں خاص طورپرطالبعلموں کواپنے اندر روشن خیالی اوروسعت نظری پیداکرناہوگی اور دوسروں کو بھی اپنے جیساانسان تسلیم کرناہوگا
اسٹیبلشمنٹ نے لسانی وثقافتی اکائیوں کے مابین اتحاد کے بجائے لسانی اکائیوں کی شناختوں کوابھارا اورلسانیت کوہوادی 
ہمیں مجبورا مہاجرشناخت کانعرہ لگاناپڑا ،اس کابنیادی سبب مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیاں تھیں
سندھ میں1973ء میں نافذ کیاجانے والا کوٹہ سسٹم آج 2016ء میں بھی نافذ ہے
جب تک ناانصافیاں جاری رہیں گی اورسب کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیاجائے گا،قومی یکجہتی پروان نہیں چڑھ سکتی
کینیڈا کے مقامی چینل ’’ ٹیگ ٹی وی ‘‘ کے سی ای او طاہراسلم گوراسے خصوصی گفتگو

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ مذہبی ا نتہاپسندی نفرتوں کوتوجنم دے سکتی ہے اورملک کوتاریکی میں تولے جاسکتی لیکن ملک کو ترقی وخوشحالی کی طرف نہیں لے جاسکتی۔ملک کی ترقی کیلئے روشن خیالی اورلبرل سوچ کوفروغ دیناہوگا۔ انہوں نے یہ بات سینئرصحافی اور کینیڈا کے مقامی چینل ’’ ٹیگ ٹی وی ‘‘ کے سی ای او طاہراسلم گوراسے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ طاہرگورانے لندن کے دورے پر آئے ہوئے سینئرصحافیوں، دانشوروں ، قلمکاروں،اینکرز اور بلاگرزکے ایک وفدکے ہمراہ ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں جناب الطاف حسین سے تفصیلی ملاقات کی تھی ۔ جناب الطاف حسین نے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں تشریف لانے پر طاہراسلم گورااوران کے وفدکاشکریہ اداکیااورکہاکہ یہ امرانتہائی خوش آئندہے کہ آپ حضرات اس مقصدکے لئے منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے لندن تشریف لائے کہ پاکستان کامستقبل کس طرح روشن کیاجائے ۔ جناب الطا ف حسین نے اس حوالے سے اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ انسان ہی، اقوام ہی ملکوں کامستقبل تاریک کرتی ہیں اوروہی روشن کرتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں قطع نظراس بات کے کہ کس کی زبان، مذہب، نظریہ، مسلک، عقیدہ اورجنس کیاہے ،سب کوانسان سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے احترام کرناچاہیے اور آپس میں اتحادواتفاق سے رہناچاہیے اورروشن خیالی کواپناناچاہیے۔ انہوں نے کہاکہ روشن خیالی کیلئے، روشن پاکستان کے لئے اورتاریکی دورکرنے کیلئے سب سے بنیادی چیز یہ ہے کہ آپ کو جہالت کے اندھیروں سے باہرنکلناہوگا یعنی آپ کوذہنی طورپراپنے آپ کوروشن خیال بناناہوگا، لبرل بناناہوگا اورآزادخیال بنانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ آزادخیالی سے مرادغلط بھی لی جاسکتی ہے۔آزادخیالی کامطلب یہ ہے کہ آپ کاجونظریہ ہے وہ آپ کو مبارک،میں اس کااحترام کرتا ہوں،اسی طرح جومیرانظریہ ہے اس کاآپ احترام کیجئے ، ہم اسی طرح سے ایک دوسرے کااحترم کریں،ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ اس کو آزادنظریہ یا پروگریسو نظریہ بھی کہاجاسکتاہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایسانظریہ جوانتہاپسندی کی طرف لے کرجائے ، نفرتوں کوجنم دے ، ایک دوسرے سے متنفر کرے، ایک دوسرے کوکافرقراردے اورایک دوسرے کیلئے جائزاورناجائزکے فتوے جاری کرے وہ انتہاپسندی ہے اور انتہاپسندی نفرتوں کو تو جنم دے سکتی ہے ، لوگوں کے اتحادکوپار ہ پارہ ضرور کرسکتی ہے لیکن ان میں اتحادویکجہتی پیدانہیں کرسکتی،انتہاپسندی ملک کوتاریکی میں تولے جاسکتی لیکن ملک کو ترقی وخوشحالی کی طرف نہیں لے جاسکتی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں پاکستان کامستقبل بہت عزیزہے اورہم چاہتے ہیں کہ ملک کا مستقبل تاریک نہیں بلکہ روشن ہو لیکن اس کیلئے شرط یہ ہے کہ نوجوانوں خاص طورپرطالبعلموں کواپنے اندر روشن خیالی پیداکرناہوگی ، وسعت نظری پیداکرناہوگی، دوسروں کو تسلیم کر ناہوگااور انہیں بھی اپنے جیساانسان تسلیم کرناہوگا، جب ہم لبرل پروگریسوسوچ کے حامل لوگوں کواپناہم خیال بنائیں گے توانتہاپسندانہ رجحانات خودبخودآہستہ آہستہ ختم ہونے لگیں گے اورملک میں روشن خیالی عام ہوگی، جب ملک میں روشن خیالی پھیلے گی تواس سے ہرجگہ روشن خیالی کی روشنی پھیلے گی ، ہرجگہ جگمگاہٹ ہوگی، خوشیاں ہوں گی، ایک دوسرے کااحترام ہوگا،سب کی عزت ہوگی، جب چین وسکون کے ساتھ رہ سکیں گے اورایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوسکیں گے۔ 
اس سوال کے جواب میں کہ ایم کیوایم نے ہمیشہ بھائی چارے، لبرل ازم اورروشن خیالی اورمساوی حقوق کی بات کی،کراچی ،حیدرآباداورکچھ شہروں میں توایم کیوایم کاپیغام پھیلا لیکن ملک میں اس کاخوبصورت پیغام نہ پھیل سکااوراس کے بارے میں ہمیشہ منفی پروپیگنڈہ ہی سامنے آیا،اس کی وجہ کیاہے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے شروع ہی سے ایسی پالیسی رکھی کہ اس نے پاکستان میں کلچرل پلورل ازم ( Cultural Pluralism) یعنی مختلف لسانی وثقافتی اکائیوں کے مابین اتحاد کے بجائے ایتھنو لنگویسٹک پرٹیکلر ازم(Ethno Linguistic Particularism) یعنی لسانی اکائیوں کی شناختوں کوابھارا ، لسانیت کوہوادی ،اسٹیبلشمنٹ نے مختلف لسانی گروہوں کوملانے اورایک دوسرے کااحترام کرنے کادرس نہیں دیابلکہ ایک دوسرے کے درمیان نفرتیں پھیلائیں۔انہوں نے کہاکہ پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ ،سرائیکی ،کشمیری شناختیں اپنی جگہ حقیقت ہیں لیکن بحیثیت پاکستانی ہمارا سوال ہے کہ کیا اس لسانیت کے پھیلنے میں قصوروار ایم کیوایم ہے یااسٹیبلشمنٹ ہے؟ یااسٹیبلشمنٹ کے ہرکارے ہیں، ان کے پٹھوہیں، ان کے اشاروں پرچلنے والے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ جب ان لسانی شناختوں کوابھاراگیا توہمیں بھی مجبورا مہاجرشناخت کانعرہ لگاناپڑا ۔ اس کابنیادی سبب مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیاں تھیں۔مثلاً سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیا۔ کوٹہ سسٹم 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹوشہید نے اس لئے نافذ کیاتھاکہ اندرون سندھ جوسندھی نوجوان اورطلبہ ہیں ان کووہ سہولتیں میسرنہیں ہیں جوسہولتیں شہری علاقوں کوحاصل ہیں لہٰذا ہم دس سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کرتے ہیں، ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں میں 60فیصدکوٹہ دیہی سندھ کیلئے ہوگا اور 40فیصد کوٹہ شہری سندھ کے لئے ہوگا ۔ شہری علاقوں کے عوام نے دیہی سندھ کو20فیصد زیادہ کوٹہ دینے پر کوئی لڑائی جھگڑا یاکوئی اعتراض، دنگا فساد نہیں کیا۔ 1973ء میں نافذ کیاجانے والایہ کوٹہ سسٹم 1983ء میں ختم ہوجاناچاہیے تھالیکن آپ کوتعجب ہوگاکہ یہ کوٹہ سسٹم آج 2016ء میں بھی نافذ ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک اس قسم کی ناانصافیاں جاری رہیں گی اورسب کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیاجائے گا،قومی یکجہتی پروان نہیں چڑھ سکتی۔ 
*****

12/3/2016 5:40:36 AM