Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تمام ترریاستی مظالم اورجبروستم کے باوجود پاکستان کوبچاناچاہتاہوں اوراسے مضبوط ومستحکم دیکھناچاہتاہوں ۔الطاف حسین


تمام ترریاستی مظالم اورجبروستم کے باوجود پاکستان کوبچاناچاہتاہوں اوراسے مضبوط ومستحکم دیکھناچاہتاہوں ۔الطاف حسین
 Posted on: 11/1/2016
تمام ترریاستی مظالم اورجبروستم کے باوجود پاکستان کوبچاناچاہتاہوں اوراسے مضبوط ومستحکم دیکھناچاہتاہوں ۔الطاف حسین
اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم کے سیاسی وجود کوتسلیم کرے،ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن بندکرے
مہاجروں کوصفحہ ہستی سے مٹانے اورانہیں دیوارسے لگانے کی روش ختم کرکے انہیں انصاف فراہم کیاجائے
سرکاری ایجنسیوں نے کئی بار مجھے پیسے سے خریدنے کی کوشش کی لیکن میں نے اپنے نظریات کاسوداکرنے سے انکارکردیا 
مجھے راستے سے ہٹانے کیلئے پاکستان میں مجھ پر کئی بارقاتلانہ حملے کرائے گئے ،1991ء میں مجھ پر خودکش حملہ کرایاگیا
اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایم کیوایم میں مختلف دھڑے بنانے کی کوشش کی گئی اورآج بھی کی جارہی ہے ، وفادارکارکنان میرے ساتھ ہیں
اپنے حقوق کیلئے جدوجہدکرنے والے مہاجر، سندھی، بلوچ اورپختون رہنماؤں کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے
پاکستان کوبچانے اورمضبوط ومستحکم کرنے کیلئے تمام چھوٹی قومیتوں کوان کے حقوق دینے ہوں گے،سب کے ساتھ مساوی سلوک کرناہوگا
مذہبی انتہاپسنداورجہادی عناصر کی سرپرستی کانتیجہ ہے کہ آج طالبان اورالقاعدہ کے بعد داعش بھی پاکستان میں اپنے قدم جمارہی ہے
پاکستان کواس صورتحال سے نکالنے کیلئے مذہبی انتہاپسندی کے بجائے مذہبی رواداری اورر وشن خیالی کوپروان چڑھاناہوگا
کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب، فقہ،یامسلک کی بنیادپر حق تلفی یازیادتی کرنااوراس سے زندہ رہنے کاحق چھین لیناسراسرظلم ہے
ملک کوموجودہ نازک صورتحال سے نکالنے کیلئے پاکستان اوراوورسیز میں رہنے والے تمام لبرل اورروشن خیال پاکستانیوں کو آگے آناہوگا 
لندن کے دورے پرآئے ہوئے صحافیوں، دانشوروں،قلمکاروں اوربلاگرزکے وفدسے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ملاقات میں گفتگو

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ تمام ترریاستی مظالم اورجبروستم کے باوجودمیں آج بھی پاکستان کوبچاناچاہتاہوں اوراسے مضبوط ومستحکم دیکھناچاہتاہوں ، اسٹیبلشمنٹ کوبھی چاہیے کہ وہ ایم کیوایم کے سیاسی وجود کوتسلیم کرے،ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن بندکرے اور مہاجروں کوصفحہ ہستی سے مٹانے اورانہیں دیوارسے لگانے کی روش ختم کرکے انہیں انصاف فراہم کرے۔انہوں نے ان خیالات کااظہار لندن کے دورے پرآئے ہوئے پاکستان اوربیرون ملک مقیم سینئرصحافیوں، دانشوروں،قلمکاروں،اینکرز اوربلاگرزکے ایک وفدسے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ہونے والی ایک تفصیلی ملاقات میں گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ملاقات کرنے والوں میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیرحسین حقانی، ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر اور سینئرصحافی راشدرحمان، ریڈیوپاکستان کے سابق ایم ڈی اور’’ کیپیٹل ‘‘ٹی وی کے ممتازاینکرمرتضیٰ سولنگی، جیو ٹی وی کے سینئر نمائندے خالد حمید فاروقی، سینئرصحافی اورکالم نگارمحمدتقی، بلاگرعارف جمال، ’’ ٹیگ ‘‘ ٹی وی کے سی ای او طاہر اسلم گورا، حلیمہ سعدیہ، کشمیری سماجی کارکن غزالہ حمید خان اوربلاگر فرحین رضوی شامل تھیں۔ مختلف ٹی وی چینلز،اخبارات، رسائل اورسماجی رابطوں کی ویب سائٹ سے وابستہ سینئرصحافیوں ، دانشوروں، کالم نگاروں اوربلاگرز نے جناب الطاف حسین سے پاکستان کے مجموعی حالات،جغرافیائی صورتحال،ایم کیوایم کے سیاسی مستقبل اورمختلف امور پر سوالات کئے ۔جناب الطاف حسین نے ان سوالوں کے تفصیلی جوابات دیے اورموجودہ صورتحال پر تفصیل سے اپنامؤقف پیش کیا ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم بانیان پاکستان کی اولادوں کی تنظیم ہے نے جس نے برسوں سے جائزحقوق سے محروم مہاجروں کے حقوق کیلئے آوازبلند کی تواس کوکچلنے کیلئے اس کے خلاف آپریشن شروع کردیاگیااورہمارے ہزاروں کارکنوں کوشہیدکردیاگیا، یہ آپریشن آج بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کے حقوق کے حصول اورملک میں مڈل کلاس کی حکمرانی کی جدوجہدسے ہٹانے کیلئے سرکاری ایجنسیوں نے کئی بار مجھے پیسے سے خریدنے کی کوشش کی لیکن میں نے اپنے نظریات اوراصولوں کا سودا کرنے سے انکارکردیا جومیراسب سے بڑاجرم بن گیا، بریگیڈیئر امتیاز احمد آج بھی زندہ ہیں اورقوم کے سامنے اس حقیقت کابرملااعتراف کرچکے ہیں،ان سے ان باتوں کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے راستے سے ہٹانے کیلئے پاکستان میں مجھ پر کئی بارقاتلانہ حملے کرائے گئے ، 21دسمبر1991ء کولندن سے وطن واپسی کے موقع پر مجھ پر خودکش حملہ کرایاگیا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا ۔اس حملے کے بعدپاکستان میں میری جان کوشدیدخطرہ لاحق تھالہٰذاایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی اورذمہ داروں کے پرزوراصرارپر میں پاکستان سے لندن آگیااورجلاوطنی اختیارکی ، میں نے یہاں آکربھی اپنی جدوجہدترک نہیں کی اوررات دن اس جدوجہدمیں مصروف رہا اورآج تک ہوں۔ تحریک کے ہزاروں کارکنوں کی طرح میرے بھائی اور بھتیجے کوبھی گرفتارکرکے سفاکی سے شہید کردیاگیالیکن میں نے اسٹیبلشمنٹ کے آگے سرنہیں جھکایا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایم کیو ایم کو ختم کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس میں مختلف دھڑے بنانے کی کوشش کی گئی اورآج بھی کی جارہی ہے لیکن ایم کیوایم کے سچے اوروفادارکارکنان وعوام تمام ترسازشوں کے باوجود آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تمام ترریاستی مظالم اور جبروستم کے باوجود میں آج بھی پاکستان کو بچانا چاہتاہوں اوراسے مضبوط ومستحکم دیکھناچاہتاہوں ، اسٹیبلشمنٹ کوبھی چاہیے کہ وہ ایم کیوایم کے سیاسی وجود کو تسلیم کرے ، ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن بند کرے اورمہاجروں کوصفحہ ہستی سے مٹانے اورانہیں دیوارسے لگانے کی روش ختم کرکے انہیں انصاف فراہم کرے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیاکے کسی بھی ملک کی جغرافیائی حدود میں صرف ایک زبان یاایک ہی کلچر سے تعلق رکھنے والے نہیں بستے بلکہ کوئی بھی قوم مختلف لسانی وثقافتی اکائیوں پر مشتمل ہوتی ہے،اگرتمام اکائیوں کومساوی حقوق دیئے جائیں اورسب کے ساتھ مساوی سلوک کیاجائے توان کے درمیان نسلی ، لسانی ،ثقافتی اکائیوں کی انفرادی شناخت کاتصورکمزورہوتاہے اورایک قوم کی اجتماعیت کاتصورمضبوط ہوتاہے اورقومی یکجہتی پروان چڑھتی ہے۔ پاکستان میں مختلف نسلی ولسانی وثقافتی اکائیاں رہتی ہیں لیکن چھوٹی قومیتوں کے ساتھ انصاف اورمساوی سلوک نہ کئے جانے کی وجہ سے پاکستان میں قومی یکجہتی پروان نہیں چڑھ سکی ، آج کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں احساس محرومی دن بدن بڑھ رہاہے ، سندھ، بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں بھی شدید احساس محرومی پایا جاتا ہے اوروہاں حقوق کی تحریکیں چل رہی ہیں،اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے اوراس کیلئے جدوجہدکرنے والے مہاجر، سندھی، بلوچ اورپختون رہنماؤں کو غدار قرار دیا جارہا ہے اور انہیں طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے، اسٹیبلشمنٹ کواس طرزعمل کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے ،پاکستان کو بچانے اورمضبوط ومستحکم کرنے کیلئے تمام چھوٹی قومیتوں کوان کے حقوق دینے ہوں گے،سب کے ساتھ مساوی سلوک کرناہوگااور سب کوبرابرکاپاکستانی سمجھنا ہوگا ۔ انہوں نے احساس محرومی کے خاتمے کیلئے ملک میں 20صوبوں کے قیام کی تجویز کودہرایااورموجودہ صوبوں کوزیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں مذہبی انتہاپسنداورجہادی عناصر کی سرپرستی اوران کے لئے نرم گوشہ رکھنے کانتیجہ ہے کہ آج طالبان اورالقاعدہ کے بعد داعش بھی پاکستان میں اپنے قدم جمارہی ہے اورملک میں دہشت گردی کابازارگرم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کواس صورتحال سے نکالنے کیلئے مذہبی انتہاپسندی کے بجائے مذہبی رواداری اورر وشن خیالی کوپروان چڑھاناہوگا، تمام مذاہب اورمسالک کا احترام کرناہوگا ،کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب، فقہ،یامسلک کی بنیادپر حق تلفی یازیادتی کرنااوراس سے زندہ رہنے کاحق چھین لیناسراسرظلم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں چھوٹی قومیتوں کے ساتھ حق تلفیوں کے مسائل کوحل کرنے ،لسانی تعصبات کے خاتمے ، مذہبی انتہاپسندی پرقابوپانے اور ملک کوموجودہ نازک صورتحال سے نکالنے کیلئے پاکستان اوراوورسیز میں رہنے والے تمام لبرل اورروشن خیال پاکستانیوں کو آگے آناہوگا اورملکرجدوجہدکرنی ہوگی ۔
*****

12/6/2016 2:07:30 AM