Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جیٹ بلیک دہشت گردوں کے نام پر کئے جانے والے آپریشن کا مقصد ایم کیوایم کو کچلنا اور مہاجر قوم کو دیوار سے لگانا ہے۔ ندیم نصرت


جیٹ بلیک دہشت گردوں کے نام پر کئے جانے والے آپریشن کا مقصد ایم کیوایم کو کچلنا اور مہاجر قوم کو دیوار سے لگانا ہے۔ ندیم نصرت
 Posted on: 10/23/2016
جیٹ بلیک دہشت گردوں کے نام پر کئے جانے والے آپریشن کا مقصد ایم کیوایم کو کچلنا اور مہاجر قوم
کو دیوار سے لگانا ہے۔ ندیم نصرت
ظلم و جبر کے ذریعے ایسا ماحول بنا دیا گیاہے کہ جو حق و سچ کی بات کرے وہ پاکستان کا دشمن اور را کا ایجنٹ بنا دیا جاتا ہے 
جو دہشت گرد ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں، جن کے باعث پاکستان عالمی برادری میں تنہا ہے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی
جنہوں نے پاکستان کو بین الاقوامی دہشت گردوں کا یتیم خانہ بنا ڈالا انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی
وزیرداخلہ جیٹ بلیک دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں سے خوشگوار ملاقاتیں کرتے ہیں مگر کراچی کے منتخب میئر کو جیل میں ڈال دیاگیا
متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین سے وابستگی کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ جو مہاجر اپنے حق کیلئے کھڑا ہوگا اس پر زمیں تنگ کردی جائیگی۔ پاکستان کو بچانا ہے تو جہالت ، تنگ نظری اور تعصب پر مبنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ندیم نصرت
پروفیسر حسن ظفرعارف، کنور خالد یونس ، امجد اللہ خان ، مومن خان مومن، ظفرراجپوت سمیت تمام گرفتار شدگان کو فی الفور رہاکیا جائے
مہاجر کُش آپریشن بند کرکے مہاجروں کو دیوار سے لگانے کا عمل بند کیا جائے، کنوینر ایم کیو ایم ندیم نصرت کی واشنگٹن میں پریس کانفرنس

واشنگٹن ڈی سی۔۔۔23 اکتوبر2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر ندیم نصرت نے کہا ہے کہ مجرموں اور جیٹ بلیک دہشت گردوں کے نام پر کیا جانے والا آپریشن پاکستانی قوم کے ساتھ کیا جانے والا فراڈ ہے،اس آپریشن کا مقصد صرف اورصرف ایم کیو ایم کو کچلنا اور مہاجر قوم کو دیوار سے لگانا ہے۔انہوں نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف، کنور خالد یونس ، امجد اللہ خان ، مومن خان مومن، حیدرآبادکی ایڈہاک زونل کمیٹی کے انچارج ظفرراجپوت سمیت کراچی و حیدرآباد میں ینجرز کی جانب سے ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں کی گرفتاریوں ،رابطہ کمیٹی کے رکن ساتھی اسحاق ایڈوکیٹ، اشرف نور، رشیدبھیا اور دیگر ذمہ داروں کے گھروں پرچھاپوں اورمحاصروں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین سے وابستگی کو جرم بنا دیا گیا ہے اورایسالگتاہے کہ یہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ جو اپنے حق کیلئے کھڑا ہوگا زمین اس پر تنگ کردی جائے گی، اسٹبلشمنٹ نے ظلم و جبر کے ذریعے پاکستان میں ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ جو حق و سچ کی بات کرتا ہے اسے پاکستان کا دشمن بنا کرپیش کیا جاتا ہے اوراسے ظلم وجبرکے ذریعے کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ندیم نصرت نے ان خیالات کااظہار امریکہ کے دارالخلافہ واشنگٹن ڈی سی میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انکے ہمراہ ایم کیوایم امریکہ کے سینٹرل آرگنائزر متین یوسف اور اراکین سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کامران حیدر ،عدنان نقوی اور عارف صدیقی بھی موجود تھے۔
کنوینر ندیم نصرت نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص کراچی میں گزشتہ تین برسوں سے مہاجر کُش آپریشن جاری ہے جب پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس کا نفاذ کیا گیا تو ریاستی اداروں کے سربراہوں اور حکومتی عمائدین کی جانب سے یہ یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ آپریشن کالعدم جماعتوں، مجرموں 


اور جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف کیا جائے گا مگر آپریشن کے تین سال گزرنے بعد حقیقت یہ ہے کہ کالعدم جماعتیں پہلے سے زیادہ مضبوط اور فعال ہیں جبکہ پاکستان کو عالمی برادری اور سفارتی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے۔ مقتدر قوتوں کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی جاری ہے جب اس کی نشاندہی کی جاتی ہے تو آپ کو ملک دشمن اور را کا ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے بھی ۱۹۶۴ میں جب جنرل ایوب خان کی آمریت کو چیلینج کیا تھا تواسی مائنڈ سیٹ کے تحت انہیں بھی را کا ایجنٹ کہا گیا تھا۔ آج حق پرستی کی پاداش میں ایم کیو ایم کے خلاف یہی جھوٹ بولا جارہا ہے۔ ۱۹۹۲ میں بریگیڈیئر آصف ہارون نے ایم کیو ایم پر پاکستان دشمنی اور جناح پور بنانے کے الزامات لگائے تھے اور دفاتر سے جھوٹے نقشے بھی برآمد کرنے کے دعوے کئے تھے مگر پھر ادارہ نے اسکی تردید بھی کردی تھی۔ کچھ عرصہ قبل اسی ادارے کے سرکردہ افراد نے نیشنل ٹیلیویژن پر آکر یہ قبول کیا کہ جو کچھ بھی تھا سب جھوٹ،ڈرامہ اور سازش تھی اس طرح کا کوئی منصوبہ کبھی بھی نہیں بنایا گیا۔ مگر ایک جھوٹے الزام کے تحت آپریشن شروع کیا گیا، مجرموں اور دہشت گردوں کو شہر اور محب وطن شہریوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ آپریشن کے دوران ہزاروں کارکنان کو آپ نے مار دیا اور پھر کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی۔اب پھر وہی ڈرامہ رچایاجارہاہے،ایم کیوایم کاا میڈیا ٹرائل کیاجارہاہے،اس کے کارکنوں کی گرفتاریاں، تشدد، جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل کاسلسلہ جاری ہے لیکن جن لوگوں نے جن قوتوں نے پاکستان کو بین الاقوامی دہشت گردوں کا یتیم خانہ بنا ڈالا، جنہوں نے پاکستان کو عالمی برادری و سفارتی سطح پر تنہا کردیاکیا انکے خلاف بھی کبھی کوئی ایکشن ہوگا۔ 
ندیم نصرت نے کہا کہ قائدتحریک الطاف حسین پر پاکستان کی زمین تنگ ہے،ان کی تحریر، تصویر اور تقریر کی نشر اشاعت پر پابندی ہے کیوں کہ انہوں نے قوم کو اس سچائی سے آگاہ کیا کہ دنیا پاکستان کودہشت گردی کا مرکز کہہ رہی ہے۔ آپ نے الطاف حسین پر پابندی لگا دی مگر دنیا کی زبان کیسے بند کریں گے، دنیا بھر کے اخبارات و جرائد بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جب اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں دریافت ہو، القاعدہ اور طالبان شوری کوئٹہ میں رہائش پذیر ہوں، ملا منصور کو امریکی ڈرون پاکستان کی حدود میں شکار کرے، نائن الیون کا ماسٹر مائنڈ پاکستان میں جماعت اسلامی کے رہنما کے گھر سے گرفتار ہو تو سوالات تو اٹھیں گے۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا ان دہشت گردوں کو ایم کیو ایم نے پناہ دی تھی؟ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر، کراچی نیول ہیڈکوارٹر اور دیگر تنصیبات پرجن دہشت گردوں نے حملہ کیااور اس کی ذمہ داری بھی، کیا ان کاتعلق ایم کیوایم سے تھا؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قوم کو دھوکہ دیا جارہا ہے وہ جو پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار ہیں، جن کی وجہ سے پاکستان کا پاسپورٹ دنیا بھر میں بدنام ہے وہ تو آزاد ہیں لیکن اپنی کمزوری و نا اہلی کو چھپانے کیلئے ایم کیو ایم کو کچلا جارہا ہے۔
ندیم نصرت نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کے جرم میں دو حکومتیں بر طرف کی گئیں مگر کیا آج تک کوئی تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا؟ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم نے 150 پولیس والوں کا قتل کیاجس کا کوئی ثبوت موجود نہیں مگر ایم کیو ایم کے پندرہ ہزار سے زائد کارکنان کوماورائے عدالت قتل کردیا گیا، الطاف حسین کے بھائی بھتیجے بھی انسان اور پاکستانی تھے انکے قاتل کہاں ہیں؟ الزام لگایا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم میں بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد ہیں مگر تین سال سے جاری موجودہ آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے دفاترپرسینکڑوں چھاپے مارے گئے، اس کے ہزاروں کارکنوں کوگرفتارکیاگیا،کیاان چھاپوں اورگرفتاریوں کے دوران ایک بھی گولی چلی ؟ یہ کیسے دہشت گرد ہیں جو چھاپہ میں اپنے گھروں سے گرفتار ہوجاتے ہیں، لاپتہ کردیئے جاتے ہیں، تشدد کرکے مار دئے جاتے ہیں مگر ایک گولی نہیں چلا تے اور جوسیکوریٹی فورسز کے مد مقابل ہیں، جوان کی لاشیں گرارہے ہیں، سروں سے فٹبال کھیل رہے ہیں، ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، انکے بارے میں عمران خان ، سمیع الحق ، منور حسن و سراج الحق کہتے ہیں کہ ان سے مذاکرات کئے جائیں۔


ندیم نصرت نے کہا کہ سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا کہ طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی نماز جنازہ جائز نہیں، وہ شہید نہیں ہیں۔ خواجہ آصف نے فوج کو ہڈیوں تک سے گوشت بھنبوڑ ڈالنے والا جانور کہا، آصف زرداری نے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی، محموداچکزئی نے کہاکہ اگرپختون غلام ہوں گے تومیں ایسے پاکستان کو زندہ باد نہیں کہوں گا۔ کسی نے پاکستان نہ کھبپے کا نعرہ لگایا،ان میں سے کسی نے اپنی بات پر کوئی معافی نہیں مانگی مگرپھر بھی یہ تمام لوگ محب وطن ہیں مگردوسری جانب اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں، تشدداور بھوک ہڑتالی کارکنان کی نازک حالت دیکھتے ہوئے قائدتحریک الطاف حسین نے فرط جذبات میں پاکستان مردہ باد کہہ دیاجس پر انہوں نے دومرتبہ پوری قوم سے معافی بھی مانگی لیکن ان کی معافی کوقبول کرنے کے بجائے ان پراورانکے ساتھیوں پر ملک کی زمین تنگ کی جارہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین سے وابستگی کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ جو مہاجر اپنے حق کیلئے کھڑا ہوگا اس پر زمیں تنگ کردی جائیگی۔۔انہوں نے سوال کیاکہ کیاپاکستان مردہ باد کہنا بڑا جرم ہے یا پاکستان کوتوڑدینا بڑا جرم ہے؟ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو بچانا ہے تو جہالت ، تنگ نظری اور تعصب پر مبنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اس سے پاکستان کو فائدہ نہیں نقصان پہنچ رہا ہے۔
ندیم نصرت نے کہا کہ کراچی پاکستان کو70 فیصد ریونیو دیتا ہے تو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے جن کے سروں پر قیمتیں رکھی ہوئی ہیں ان جیٹ بلیک دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں سے وزیر داخلہ خوشگوار ملاقاتیں کریں مگر کراچی کے منتخب میئر کو آپ جیل میں ڈال دیں،آخریہ کہاں کاانصاف ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے دانشوروں اور اہم پوزیشنز کے حامل افراد کوکیا یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا؟ جنرل آصف نواز کو آپ آج غلط کہتے ہیں،جنرل پرویز مشرف کے جانے بعد انہیں برا بھلا کہا جاتا ہے، جنرل ضیاء جب تک بر سر اقتدار رہے سب ان کی جوتیاں سیدھی کرتے رہے اور آج برا کہتے ہیں۔ مگر جو آج برا ہو رہا ہے ،جو آج غلط ہو رہا ہے اس غلط ایکشن کو کون روکے گا ؟کون اسکے خلاف آواز اٹھائے گا؟انہوں نے کہاکہ جہاں بے چینی ہوتی ہے وہاں مسئلہ کا حل نکالا جاتا ہے ، مذاکرات کئے جاتے ہیں، شہریوں کو حقوق دئے جاتے ہیں ان پر فوج کشی نہیں کی جاتی۔انہون نے مزیدکہاکہ پاکستان سے محبت کرنے والوں میں مہاجر کسی سے پیچھے نہیں بلکہ سب سے آگے ہیں مگر ان کو دیوار سے لگا یاجارہاہے۔ ریاستی اداروں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں تخلیق کریں، سیاسی جماعتوں کو توڑیں یا ان کے رہنماؤں و کارکنان کی وفاداریوں کو بزور طاقت تبدیل کروائیں ۔ اگر پاکستان کو بچا نا ہے تو تمام محروم قومیتوں کوان کا حق دینا ہوگا ، مجرموں کے نام پر کئے جانے والے آپریشن کا ڈرامہ بند کرنا ہوگا ، عوام سمجھ چکے ہیں کہ اس آپریشن کا مقصد نہ ہی امن و امان کا قیام ہے اور نہ ہی دہشت گردوں کی سرکوبی ہے بلکہ اس کا مقصد صرف ایم کیو ایم اور مہاجر قوم کو کچلنا اور دیوار سے لگانا ہے۔ آخر میں کنوینر ایم کیو ایم ندیم نصرت نے کراچی پریس کلب میں پیش آنے والے واقعات اور رینجر ز کی جانب سے کئے جانے والے غیر قانونی گرفتاریوں اور اقدامات کی پر زور مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف سے سوال کیا کہ آج کس قانون کے تحت رینجرز نے غیر قانونی کاروائیاں اور گرفتاریاں کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاجر کُش آپریشن بند کیا جائے۔ پروفیسر حسن ظفر، کنور خالد یونس، امجد اللہ، ظفر راجپوت سمیت تمام گرفتار شدگان کو فی الفور رہا کرکے پاکستان کی بقا کی خاطر مہاجر قوم کو دیوار سے لگانے کا عمل بند کیا جائے۔

12/6/2016 2:10:19 AM