Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی میں ماورائے عدالت قتل ، دوران حراست تشدد ، جعلی مقابلوں میں قتل اورانسانی حقوق کی خلاف ورذیوں میں بدستور اضافہ ہورہا ہے ، ڈاکٹرپروفیسرحسن ظفرعارف


کراچی میں ماورائے عدالت قتل ، دوران حراست تشدد ، جعلی مقابلوں میں قتل اورانسانی حقوق کی  خلاف ورذیوں میں بدستور اضافہ ہورہا ہے ، ڈاکٹرپروفیسرحسن ظفرعارف
 Posted on: 10/17/2016

کراچی میں ماورائے عدالت قتل ، دوران حراست تشدد ، جعلی مقابلوں میں قتل اورانسانی حقوق کی 
خلاف ورذیوں میں بدستور اضافہ ہورہا ہے ، ڈاکٹرپروفیسرحسن ظفرعارف 
بدقسمتی سے ملک میں کوئی سننے والااورانصاف فراہم کرنے والا نہیں، ڈاکٹرپروفیسرحسن ظفرعارف 
یم کیوایم کے کارکنوں اورمہاجرعوام پر جس طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی
ایم کیوایم کے کارکن سیدعبدالنویدشہیدکے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرائی جائے،ماورائے عدالت قتل میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیاجائے۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب

کراچی۔۔۔17 اکتوبر 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئررکن ڈاکٹرپروفیسرحسن ظفرعارف نے کہاہے کہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل ، دوران حراست تشدد ، جعلی مقابلوں میں قتل اورانسانی حقوق کی خلاف ورذیوں میں بدستور اضافہ ہورہا ہے ، بدقسمتی سے ملک میں کوئی سننے والااورانصاف فراہم کرنے والا نہیں،یم کیوایم کے کارکنوں اورمہاجرعوام پر جس طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے وزیراعظم نوازشریف اورچیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیاکہ ایم کیوایم کے کارکن سیدعبدالنویدشہیدکے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرائی جائے اورماورائے عدالت قتل میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیاجائے ۔انہوں نے ان خیالات کااظہار آج کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان ساتھی اسحاق ایڈوکیٹ،کنورخالدیونس،ادریس علوی ایڈوکیٹ،اسماعیل قریشی، مومن خان مومن اور امجداللہ خان بھی موجود تھے ۔ پروفیسرحسن ظفرعارف نے کہا کہ 2013ء سے ایم کیوایم کے خلاف جو آپریشن جاری ہے اس کے تسلسل میں ایم کیوایم کے ایک اورجواں سال کارکن سیدعبدالنویدکو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا ۔ ایم کیوایم کورنگی ٹاؤن کے جواں سال کارکن سیدعبدالنوید کو31 جنوری 2015ء کو رینجرزکے اہلکاروں نے کورنگی میں ان کے گھرسے اہل خانہ کے سامنے گرفتارکیاتھااورگرفتاری کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔ سیدعبدالنویدکے اہل خانہ نے ان کی گرفتاری کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی تھی جس کانمبر890/15 ہے ۔ ان کے گھروالے رینجرزکے ہیڈکوارٹراوردیگر دفاتر کے چکر لگاتے رہے ،لیکن ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایاگیاجبکہ سیدنوید رینجرز کی حراست میں ہی تھے ۔ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق سیدنوید کو مجید کالونی میں واقع 82 ونگ بھٹائی رینجرز کے سیل میں رکھا گیاتھا جہاں ان پر تشددکیاجاتارہا۔ رینجرزکی جانب سے نویدشہیدکوکسی عدالت کے روبروپیش نہیں کیا گیا ۔ ایک سال8 ماہ تک حراست میں رکھنے اور بہیمانہ تشددکانشانہ بنانے کے بعدان کی تشددزدہ لاش ٹھٹھہ سے 60 کلومیٹر دوردرازعلاقے اونگر میں 30ستمبر 2016ء کوپھینک دی گئی ۔وہاں سے یہ لاش ایدھی سینٹرکے حوالے ہوئی۔ ایدھی سینٹرنے لاش ملنے کے بعدان کی شناخت شروع کردی۔ جب ایدھی سینٹر کے عملے نے فنگرپرنٹ لے کر نادرا سے رابطہ کیا تووہاں سے شناخت ہوئی جس کے بعد ایدھی سینٹرنے لاش کی شناخت کیلئے گزشتہ روزنوید کے اہل خانہ کو بلایا جنہوں نے ایدھی سینٹرسہراب گوٹھ جاکر عبدالنویدکی لاش کی شناخت کرلی ۔ سیدعبدالنویدشہیدکی عمر26سال تھی اوروہ غیرشادی شدہ تھے ۔ سیدنویدشہیدایک مقامی فیکٹری میں ملازمت کرتے تھے۔ ان کے پسماندگان میں والدہ، ایک چھوٹابھائی اورچھ بہنیں شامل ہیں۔پروفیسرحسن ظفرعارف نے کہا کہ 2013ء سے ایم کیوایم کے خلاف جاری حالیہ آپریشن کے دوران اب تک ایم کیوایم کے 66کارکن پولیس اوررینجرزکے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کئے جاچکے ہیں اور یہ 67 واں ماورائے عدالت قتل ہے۔Kill and dump پالیسی کے تحت ایم کیوایم کے کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کرکے انکی لاشیں ویرانوں اوردوردرازعلاقوں میں پھینکی جارہی ہیں۔اس سے قبل بھی رینجرزکی جانب سے ایم کیوایم کے زیرحراست کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کرکے ان کی تشددزدہ لاشیں نوری آباداورکراچی سے باہر دوردرازعلاقوں میں پھینکی جاچکی ہیں اوراب سیدعبدالنویدشہیدکی لاش بھی ٹھٹھہ کے دوردرازعلاقے انگر تھانے کی حدودمیں پھینک دی گئی۔ہمارے سو سے زائد کارکنان اب بھی لاپتہ ہیں اورہمیں خدشہ ہے کہ کہیں انہیں بھی اسی طرح ماورائے عدالت قتل نہ کردیا جائے ۔ پروفیسرحسن ظفرعارف نے کہا کہ سیدعبدالنوید کا ماورائے عدالت کراچی میں جاری انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کاتسلسل ہے اور یہ واقعہ اس بات کاثبوت ہے کہ اس آپریشن کامقصد صرف اورصرف ایم کیوایم کوختم کرنا،ایم کیوایم کوصفحہ ہستی سے مٹانا اورمہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کوکچلناہے ۔ کراچی میں ایم کیوایم کے کارکنوں کاجس طرح ماورائے عدالت قتل کیا جارہاہے ، انہیں گرفتارکرکے سرکاری ٹارچرسیلوں میں جس قسم کابہیمانہ تشدد کیا جارہا ہے،ایم کیوایم کے کارکنوں اورمہاجرعوام پر جس طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔کراچی میں ماورائے عدالت قتل ، دوران حراست تشدد ، جعلی مقابلوں میں قتل اورانسانی حقوق کی خلاف ورذیوں میں بدستور اضافہ ہورہا ہے جس پر انسانی حقوق کے ادارے مسلسل آوازبلندکررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ملک میں کوئی سننے والااورانصاف فراہم کرنے والا نہیں ۔ 3مئی 2016ء کوبھی ایم کیوایم کے سینئرکارکن آفتاب احمدکو گرفتاری کے بعد رینجرزکے اہلکاروں نے جس بہیمانہ تشددکانشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کیا،اس پرپوری دنیامیں آواز بلند ہوئی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے اس کی تحقیقات کاحکم دیا تھا اور یہ اعلان کیاتھاکہ آفتاب احمدکے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیاجائے گا لیکن ان کے اہل خانہ آج تک انصاف کے منتظرہیں۔اگر آفتاب احمدکے ماورائے عدالت قتل میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرکے سزادیدی جاتی تو سیدنوید کا ماورائے عدالت قتل نہ ہوتا ۔ پروفیسرحسن ظفرعارف نے وزیراعظم نوازشریف اورچیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیاکہ ایم کیوایم کے کارکن سیدعبدالنوید شہید کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرائی جائے اورماورائے عدالت قتل میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف قتل کامقدمہ درج کیاجائے ۔ ایم کیوایم کے تمام لاپتہ کارکنوں کوبازیاب کرایاجائے۔اگران پر کوئی مقدمہ ہے توانہیں عدالت میں پیش کیاجائے لیکن اس طرح مہینوں غیرقانونی حراست میں رکھنے اور تشددکرنے سے گریزکیاجائے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب انورظہیرجمالی سے بھی ا پیل کی کہ سیدعبدالنویدشہید کے ماورائے عدالت قتل کاازخودنوٹس لیاجائے ۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ماورائے عدالت قتل اورانسانی حقوق کی خلاف ورذیوں پر صدائے احتجاج بلندکریں۔ 
اس موقع پرپروفیسرحسن ظفرعارف نے تمام اخبارات ،الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں، انکے اداروں،تمام اینکرز،تجزیہ نگاروں،قلمکاروں اورتمام افراد سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کو ’’ ایم کیوایم لندن ‘‘ہرگزنہ لکھااورنہ پکاراجائے ۔ ہماری جماعت کانام’’ متحدہ قومی موومنٹ ‘‘ ( ایم کیوایم ) ہے جس کے قائدجناب الطاف حسین ہیں۔انہوں نے کہاکہ الیکٹرونک اورپرنٹ میڈیا یاکسی کوبھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کانام تبدیل کرے یااسے کچھ اورنام سے پکارے ۔ ایم کیوایم کو ’’ ایم کیوایم لندن ‘‘ کے نام سے لکھنااور پکارناسراسرزیادتی اورصحافتی اقدار کے منافی ہے لہٰذا ہم میڈیا کے نمائندوں، ان کے اداروں،تمام اینکرز،تجزیہ نگاروں،قلمکاروں اورتمام افرادسے پرذور گزارش کرتے ہیں کہ ایم کیوایم کانام تبدیل کرنے کے عمل سے گریز کیاجائے ۔ 

12/2/2016 11:53:12 AM