Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم پاکستان یاایم کیوایم لندن کوئی چیزنہیں،ایم کیوایم صرف ایک ہے اور صرف وہی ایم کیوایم ہے جس کے قائد الطاف حسین ہیں


 ایم کیوایم پاکستان یاایم کیوایم لندن کوئی چیزنہیں،ایم کیوایم صرف ایک ہے اور صرف وہی ایم کیوایم ہے جس کے قائد الطاف حسین ہیں
 Posted on: 10/15/2016
ایم کیوایم پاکستان یاایم کیوایم لندن کوئی چیزنہیں،ایم کیوایم صرف ایک ہے اور صرف وہی ایم کیوایم
ہے جس کے قائد الطاف حسین ہیں
ایم کیوایم کے تمام سچے اورباوفا کارکنان قائد تحریک جناب الطاف حسین کی قیادت میں متحد ہیں
چند ارکان کی جانب سے تحریک کوبچانے کے نام پر ایسے فیصلے اور اقدامات کئے گئے جوکسی بھی طرح تحریک اورمہاجرقوم کے مفادمیں نہیں
کوئی بھی سازش،کوئی بھی ہتھکنڈہ قائدتحریک الطاف حسین کوان کے کارکنوں اورعوام سے الگ نہیں کرسکتا
کراچی پریس کلب میں رابطہ کمیٹی کے رکن ممتاز دانشور پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف کی دیگرارکان کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس

کراچی ۔۔۔ 15 اکتوبر 2016ء
ایم کیوایم پاکستان یاایم کیوایم لندن کوئی چیزنہیں،ایم کیوایم صرف ایک ہے اور صرف وہی ایم کیوایم ہے جس کے قائدجناب الطاف حسین ہیں۔ ایم کیوایم ایک ہی تھی، ایک ہی ہے ،ایک ہی رہے گی اور اسے ختم کرنے اورٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوئی بھی سازش انشاء اللہ کامیاب نہیں ہوگی ۔ ایم کیوایم کے تمام سچے اورباوفا کارکنان قائد تحریک جناب الطاف حسین کی قیادت میں متحد ہیں ۔انشاء اللہ یہ قافلہ بڑھتا ہی رہے گا۔چند ارکان کی جانب سے تحریک کوبچانے کے نام پر ایسے فیصلے اور اقدامات کئے گئے جوکسی بھی طرح تحریک اورمہاجرقوم کے مفادمیں نہیں ۔ہم تحریک کے کارکنوں اورپوری قوم کویہ یقین دلاتے ہیں کہ تحریک کے شہیدوں کے لہواورکارکنان وعوام کی ان قربانیوں کورائیگاں جانے نہیں دیاجائے گا ،کوئی بھی سازش،کوئی بھی ہتھکنڈہ قائدتحریک الطاف حسین کوان کے کارکنوں اورعوام سے الگ نہیں کرسکتا۔ان خیالات کااظہارمتحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن اورپاکستان سے ممتاز دانشور پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف نے آج کراچی پریس کلب میں رابطہ کمیٹی کے دیگرارکان کے ہمراہ ایک پرہجوم اورتاریخی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاجن میں رابطہ کمیٹی کے دیگر ارکان معروف قانون داں ساتھی اسحاق ایڈوکیٹ ، امجداللہ خان، کنورخالدیونس، اشرف نور، اکرم راجپوت ، اسمٰعیل ستارہ ،ادریس علوی ایڈوکیٹ اور مومن خا ن مومن شامل تھے۔ ۔ اس موقع پر مختلف شعبہ جات کے درجنوں ارکان کے ساتھ ساتھ کراچی پریس کلب کے اندراورباہرایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنان موجود تھے۔


15 اکتوبر 2016ء
پریس کانفرنس

معززومحترم صحافی خواتین وحضرات
السلام علیکم
پریس کانفرنس میں تشریف آوری میں ہم آپ سب کے شکرگزارہیں۔ 
آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ایم کیوایم جو پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے اوریہ وہ واحدجماعت ہے جس کویہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایک طلبہ تنظیم ’’ آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن ‘‘ کے بطن سے جنم لیااوراس تحریک کو ایک نوجوان طالبعلم جناب الطاف حسین نے کراچی یونیورسٹی میں قائم کیااورپھراپنی شبانہ روزمحنت اورسخت جدوجہدکے ذریعے اس کادائرہ عوامی سطح پر پھیلاتے ہوئے’’ مہاجرقومی موومنٹ‘‘ قائم کی جس نے بعد میں’’ متحدہ قومی موومنٹ ‘‘ کی شکل اختیارکی۔ایم کیوایم جیسی جماعت اپنی ذات میں خود ایک انقلاب تھی،جس نے موروثیت کے نظام کوچیلنج کیااور جس کے قائدنے اپنے آپ کواور اپنے بہن بھائیوں، بھانجوں،بھتیجوں کے بجائے تحریک کے کارکنوں کوایوانوں میں بھیجا۔۔۔ جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریبوں ، ہاری ، کسانوں اورمحنت کشوں کے طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو پاکستان کے منتخب ایوانوں میں پہنچایا۔ایم کیوایم ، ملک کی واحد جماعت ہے جس نے غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بھیج کرپاکستان خصوصاًشہری سندھ میں ایک انقلاب برپاکیا۔۔۔ملک کے غریب ومحروم طبقہ میں ایک سوچ پیداکی اوران کے ذہنوں میں یہ انقلاب برپاکیاکہ،
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہووے گا پھرکبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
ملک بھرمیں یہ دعوت عام ہونے لگی اورملک بھرمیں یہ پیغام عام ہونے لگا توغریب ومتوسط طبقہ کوشدت سے اس بات کااحساس ہونے لگا کہ حکمرانی اور حکومت سنبھالنے کاحق صرف جاگیرداروں، وڈیروں، دولت مندوں اور ان کی اولادوں کوہی نہیں بلکہ غریب ومتوسط طبقہ کے پڑھے لکھے لوگوں اوران کی اولادوں کوبھی ہے۔ ایم کیوایم ہی ہے جو پاکستان میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کا انقلاب لاسکتی ہے مگر چونکہ اسٹیٹس کو کی محافظ قوتیں اس تحریک کوملک میں جاری اسٹیٹس کو کیلئے سب سے بڑاخطرہ سمجھتی ہیں اسی لئے جب سے یہ تحریک وجود میں آئی ہے اس کوختم کرنے اورصفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اورآج بھی کی جارہی ہیں ۔
اسٹیٹس کو کی محافظ قوتوں نے مہاجروں اورتمام مظلوموں کے حقوق کی اس واحدتحریک ایم کیوایم کوختم کرنے کیلئے پہلے اس کے قائدالطاف حسین کوخریدنے کی کوشش کی ۔۔۔جب وہ قائدکوخریدنے میں ناکام رہیں توخفیہ قوتوں نے 1991ء میں اس تحریک کے کچھ لوگوں کے ضمیرخریدے اوران ضمیرفروشوں پر مشتمل حقیقی گروپ بنایاگیااور19جون 1992ء کوحقیقی کو ریاستی سرپرستی میں سرکاری ٹرکوں پر بٹھاکرکراچی میں لایاگیا۔۔۔اورانہیں ایم کیوایم کے کارکنوں اور مہاجروں کودہشت گردی کانشانہ بنانے کاکھلالائسنس دیاگیا۔۔۔تمام ترمظالم کے باوجود مہاجرعوام نے اس حقیقی ٹولے کومستردکردیا۔ 
معززصحافی حضرات 
1992ء میں حقیقی کی ناکامی کے بعد بھی ایم کیوایم کوکمزورکرنے کی سازشیں جاری رہیں اوراسے کچلنے اورکمزورکرنے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اختیار کئے جاتے رہے۔ایم کیوایم تمام ترسازشی ہتھکنڈوں کے باوجودآگے بڑھتی رہی اورملک بھرمیں پھیلنے لگی تو اسٹیٹس کو کی محافظ قوتوں کی جانب سے ایک بار پھر1992ء والاکھیل کھیلتے ہوئے قوم کے چند کرپٹ اورضمیرفروش لوگوں کو خرید کرانہیں کراچی لایا گیا ۔۔۔انہیں مال ودولت،کروڑوں کے بنگلے، عالیشان گاڑیاں اوردیگر مراعات فراہم کرکے ’’ پاک سرزمین نامی پارٹی بنائی گئی۔۔۔کوشش کی گئی کہ ایم کیوایم کے تمام لوگوں کوتوڑ کراس میں شامل کرالیاجائے۔۔۔ اس مقصد کیلئے ایم کیوایم کے کارکنوں ذمہ داروں کودھمکیاں دی گئیں ۔۔۔انہیں گرفتارکرکرکے اس گروپ میں شامل کرایا گیا۔۔۔ لیکن یہ کوشش بھی ناکام رہی اور عوام نے اس ٹولے کو بھی مستردکردیا۔
اس ٹولے کی ناکامی کے بعد ایم کیوایم پر ایک اورکاری وارکیاگیا۔
معززصحافی حضرات
آپ اور ایم کیوایم کے تمام کارکنان اورہمدردعوام اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ 2013ء میں ایم کیوایم کے خلاف جوحالیہ آپریشن شروع ہوا اس میں 22 اگست سے قبل کارکنوں کی گرفتاریوں میں بہت شدت آئی۔ ان گرفتاریوں، چھاپوں ، ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کارکنوں کی عدم بازیابی کے خلاف کراچی پریس کلب پربھوک ہڑتال جاری تھی ۔ قائدتحریک الطاف حسین نے ان مظالم اوربھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے کارکنوں کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر شدت جذبات سے مغلوب ہوکرجو جملے اداکئے تھے اس پر قائدتحریک الطاف حسین نے دومرتبہ اپنے بیانات میں قوم سے معافی مانگی لیکن اس کے باوجودتمام چیزوں کوبالائے طاق رکھ کرایم کیوایم پر ریاستی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے ۔۔۔ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرواورتمام دفاترکوسیل کردیاگیا اور سینکڑوں دفاترکونہایت بیدردی سے مسمار کردیا گیا ۔۔۔ قائدتحریک الطاف حسین پر ملک بھرمیں مقدمات قائم کردیے گئے اور ان کی ذات کومسلسل نشانہ بنایاجاتارہا ۔
جب 23 اگست کوڈاکٹرفاروق ستارنے پریس کانفرنس کی توقائدتحریک الطاف حسین نے تحریک کے وسیع ترمفادمیں تمام تراختیارات رابطہ کمیٹی پاکستان کے حوالے کردیئے تھے لیکن پارٹی کے چندسینئر لوگوں نے محض اپنے آپ کوبچانے کیلئے تحریک کے ساتھ جوکچھ اس کے بعدکیا وہ ایم کیوایم کی تاریخ کا ایسا واقعہ ہے جوناقابل یقین ہی نہیں بلکہ ناقابل فراموش ہے۔ ڈاکٹرفاروق ستاراوران کے ساتھ موجود سینئرلوگوں نے نہ صرف اپنے قائدسے لاتعلقی اختیارکی بلکہ ان کی مذمت کی ۔۔۔ان کی بنائی ہوئی تحریک سے ہی ان کوالگ کردیا۔۔۔ تحریک کے آئین سے قائدتحریک الطاف حسین کانام اورصوابدیدی اختیارات غیرقانونی اورآمرانہ طریقے سے چھین لئے گئے۔۔۔ تحریک کے آئین میں ہی تبدیلی کرکے قائد کوہی تحریک سے نکال دیاگیا ۔ کنوینراوررابطہ کمیٹی کے ارکان کو ان کی رکنیت سے خارج کردیا گیا ۔۔۔ سینیٹ ،قومی اسمبلی ،سندھ اسمبلی اورسٹی کونسل میں قائدتحریک الطاف حسین کے خلاف قرارداد پیش کرکے ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کامطالبہ کیاگیا۔ اس ساری صورتحال سے یہ صاف ظاہر ہے کہ چند ارکان کی جانب سے تحریک کوبچانے کے نام پر ایسے فیصلے اور اقدامات کئے گئے جوکسی بھی طرح تحریک اورمہاجرقوم کے مفادمیں نہیں ۔
معززصحافی حضرات
یہ ایک حقیقت ہے کہ قائدتحریک الطاف حسین ہی ایم کیوایم کی جان ہیں اسی لئے ایم کیوایم مخالف قوتیں ہمیشہ سے ’’ مائنس الطاف ‘‘ کے فارمولے پر کام کرتی رہی ہیں ۔1992ء میں بھی جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع ہواتو اس وقت بھی یہی کھیل کھیلاگیا اورایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمدطارق اورپوری مرکزی کمیٹی کوبندوق کی نوک پریرغمال بناکر ایک بنگلہ میں بٹھایاگیااورانہیں قائدتحریک الطاف حسین سے الگ کرکے ایک گروپ بنایاگیا۔۔۔اس وقت بھی یہی ڈاکٹرفاروق ستار، ڈاکٹرعشرت العباد اورڈاکٹرخالدمقبول صدیقی وغیرہ تھے جنہوں نے قائدتحریک الطاف حسین سے یہ کہا کہ وہ تحریک کوبچانے کیلئے قیادت سے دستبردارہوجائیں تو آپریشن بند ہوجائے گا ۔۔۔ کارکنوں اورمہاجرعوام پر مظالم بندہوجائیں گے۔۔۔قائدتحریک الطاف حسین نے اس وقت بھی اپنی تحریک ، کارکنان اورعوام کومظالم سے بچانے کیلئے سیاست سے دستبرداری اختیارکرکے قیادت ان کے حوالے کردی لیکن مظالم بند نہ ہوئے ۔۔۔ یہ تمام لوگ قائدتحریک الطاف حسین سے معافیاں مانگ کردوبارہ تحریک میں آگئے ۔۔۔قائدتحریک الطاف حسین نے انہیں معاف کردیا۔ حتیٰ کہ عامرخان جوحقیقی کے مرکزی فرد تھے ،قائدتحریک الطاف حسین نے ان تک کومعاف کردیالیکن انہوں نے ایک مرتبہ پھرتحریک کے ساتھ وہی عمل کیا ۔۔۔ ڈاکٹرفاروق ستار، ڈاکٹرخالدمقبول اوردیگرلوگ اب بھی وہی دلیلیں دے رہے ہیں جو اس وقت دے رہے تھے ۔۔۔انہوں نے ایک بار پھر قائدتحریک الطاف حسین کو تحریک سے نکال کرمائنس ون کے فارمولے پر عمل کیا۔۔۔یہ چند لوگ دراصل خودخوف میں مبتلا ہوگئے تھے لہٰذا انہوں نے تحریک کوبچانے کے نام پر اپنے آپ کو بچایااوراس کیلئے آسان راستے کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے قائدسے ہی لاتعلقی اختیار کرلی۔۔۔انہوں نے اپنے اندر کاخوف کارکنوں اورذمہ داروں میں بھی پھیلایا۔۔۔انہیں بھی قائدتحریک سے علیحدگی اختیارکرنے پر مجبور کیا ۔۔۔ شہیدوں، اسیروں اورلاپتہ ساتھیوں کامعاملہ پس پشت ڈال دیا گیا ۔۔۔ یہاں تک کہ کارکنوں اورذمہ داروں کی گرفتاریوں پرکسی قسم کا احتجاج توکجامذمتی بیان تک دینابندکردیاگیا۔
معززصحافی حضرات
دنیامیں آج تک ایسانہیں ہواکہ کسی تحریک کے مرکزی رہنماؤں جنہوں نے جس قائد کے نام پر دنیاجہان کی مراعات ، آسائشیں اور مناصب حاصل کئے ، انہوں نے آزمائش کے وقت میں قائد کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اپنے اسی قائد کو قربان کردیا۔۔۔ جس نے تحریک بنائی۔۔۔جس نے گمنام لوگوں کو نام دیا ۔۔۔ جس نے بے حیثیت لوگوں کو اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچایا اسی قائدکے ساتھ بے وفائی اور احسان فراموشی کی بدترین مثال قائم کی۔ اس ساری صورتحال کی وجہ سے تحریک کے کارکنوں اورقوم میں شدیدمایوسی اوربے چینی پھیل رہی تھی ۔
ایم کیوایم کی جدوجہد میں ہزاروں شہیدوں کالہوشامل ہے اوران شہیدوں کی قربانیوں کورائیگاں کیسے جانے دیاجاسکتاتھا۔ لہٰذا ایم کیوایم کے کنوینر ندیم نصرت اوردیگرسینئر ذمہ داروں نے طویل صلاح مشورے کے بعد گزشتہ روز بارہ رکنی عبوری رابطہ کمیٹی کااعلان کیاہے جس کی توثیق قائدتحریک الطاف حسین نے کی ہے۔ آج ہم آپ کے سامنے موجود ہیں۔ ہم تحریک کے کارکنوں اورپوری قوم کویہ یقین دلاتے ہیں کہ تحریک کے شہیدوں کے لہواورکارکنان وعوام کی ان قربانیوں کورائیگاں جانے نہیں دیاجائے گا ۔۔۔کوئی بھی سازش ۔۔۔کوئی بھی ہتھکنڈہ قائدتحریک الطاف حسین کوان کے کارکنوں اورعوام سے الگ نہیں کرسکتا۔۔۔
ہم یہاں صاف اورواضح الفاظ میں بتاناچاہتے ہیں کہ ایم کیوایم پاکستان یاایم کیوایم لندن کوئی چیزنہیں۔۔۔ایم کیوایم صرف ایک ہے اور صرف وہی ایم کیوایم ہے جس کے قائدجناب الطاف حسین ہیں۔ ایم کیوایم ایک ہی تھی۔۔۔ ایک ہی ہے۔۔۔ ایک ہی رہے گی ۔۔۔ اور اسے ختم کرنے اورٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوئی بھی سازش انشاء اللہ کامیاب نہیں ہوگی ۔ ایم کیوایم کے تمام سچے اورباوفا کارکنان قائد تحریک جناب الطاف حسین کی قیادت میں متحد ہیں ۔انشاء اللہ یہ قافلہ بڑھتا ہی رہے گا۔۔۔ہم قائدتحریک الطاف حسین کی جانب سے اے پی ایم ایس او کے طلبہ وطالبات۔۔۔شعبہ خواتین کی ماؤں بہنوں۔۔۔ایلڈرزونگ کے بزرگوں۔۔۔ اورلیبرڈویژن سمیت تمام شعبہ جات ۔۔۔یونٹوں۔۔۔سیکٹروں۔۔۔زونوں اورپنجاب سمیت پاکستان بھرمیں اور اوورسیز میں موجود تحریک کے ان تمام سچے اورباوفا کارکنوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں جوتمام ترنامساعد حالات اورمصائب ومشکلات کے باوجود قائدتحریک الطاف حسین کے ساتھ اپنی وفا نبھارہے ہیں اور ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہدکررہے ہیں۔ 
معززصحافی حضرات 
ہم ارباب اختیارسے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن بند کیاجائے ۔۔۔ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرواوراس کے دفاتر کے ساتھ ساتھ ایم کیوایم کے تمام دفاترکی سیل ختم کی جائے ۔۔۔انہیں فی الفور دوبارہ کھولا جائے ۔۔۔ایم کیوایم کواس کی پرامن سیاسی سرگرمیاں کرنے دی جائیں جواس کاآئینی ،قانونی اورجمہوری حق ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں اورذمہ داروں کی گرفتاریوں اوران پر جھوٹے مقدمات قائم کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔۔۔گرفتارشدگان کوفی الفوررہاکیاجائے ۔۔۔لاپتہ کارکنوں کوبازیاب کیاجائے ۔۔۔
ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ قائدتحریک الطاف حسین کی تقریر،تصویر،تحریراوربیانات کی نشرواشاعت پر عائدغیرقانونی پابندی فی الفور ختم کی جائے اور ایم کیوایم کے خلاف جھوٹ، من گھڑت قصوں اورکہانیوں پر مبنی میڈیاٹرائل کاسلسلہ بند کیا جائے ۔ 
ہم وکلاء اورانسانی حقوق کی انجمنوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کڑے وقت میں انسانیت کے نام پر ہماراہرممکن ساتھ دیں اور اسیرولاپتہ کارکنان کی قانونی معاونت کیلئے رضاکارانہ طورپر اپنی خدمات پیش کریں۔ ہم حق پرست صحافیوں، قلمکاروں اور دانشوروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی حق اورانصاف کے لئے اپناقلم استعمال کریں۔ 
آخرمیں ہم تحریک کے تمام شہداء کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تحریک کے تمام شہداء کواپنی
جواررحمت میں جگہ دے ۔۔۔ ان کی قربانیوں کوقبول فرمائے ۔۔۔لاپتہ ساتھیوں کی بازیابی کے لئے غیب سے بندوبست کرے اورشہداء کی قربانیوں کے صدقے تحریک کوکامیابی سے ہمکنار فرمائے اورہم سب کواس جدوجہدمیں ثابت قدم رکھے ۔ آمین 

والسلام

اراکین رابطہ کمیٹی
متحدہ قومی موومنٹ

12/7/2016 2:12:36 PM