Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میں پاکستان کوبچاناچاہتاہوں،میں چھوٹی قومیتوں کوان کے حقوق دلاناچاہتاہوں،الطاف حسین


 Posted on: 10/13/2016
میں پاکستان کوبچاناچاہتاہوں،میں چھوٹی قومیتوں کوان کے حقوق دلاناچاہتاہوں،الطاف حسین
دانشوراورتمام شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھنے والے محب وطن عوام پاکستان بچانے کی جدوجہد میں میراساتھ دیں
پنجاب کے دانشوروں کو باقیماندہ پاکستان کوبچانے کیلئے اٹھناہوگا ، سچ بولناہوگااور چھوٹی قوموں پرہونے والے مظالم کوبندکراناہوگا
میں نے اپنی تقریرپر دومرتبہ معافی مانگی لیکن مجھے معافی نہیں ملی کیونکہ میں مہاجرہوں اور فرزندزمین نہیں ہوں
ایم کیوایم ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کا انقلاب لاسکتی تھی مگراس پر پابندی کے مطالبے کیے جارہے ہیں
پاکستان میں بظاہر جمہوریت ہے، اسمبلیاں بھی موجود ہیں لیکن درحقیقت ملک میں فوج کی حکمرانی ہے
کرپشن اوردھاندلی کا شور مچاکرایک بارپھرپاکستان میں جمہوریت کابوریابستر گول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
جہادی تنظیموں کی سرپرستی اورحمایت کرنے کی پالیسی کی وجہ سے آج پوری دنیاکی انگلیاں پاکستان پراٹھتی ہیں
بین الاقوامی برادری میں پاکستان تنہا ہوچکاہے،کوئی ملک بھی پاکستان کی حمایت کرنے کوتیارنہیں ہے
انڈیا ہمارا دشمن ہے ، افغانستان کو ہم نے اپنا دشمن بنالیاہے، ایران سے بھی ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں، 
چائنااپنی تباہی کی قیمت پر پاکستان کی حمایت نہیں کرے گا،اگرایساہوتاتووہ 1971ء میں پاکستان کی مددکرچکاہوتا
چاروں صوبوں کواسٹیبلشمنٹ نے غلام بنارکھاہے، فاٹامیں پختونوں کوقتل کیا جارہا ہے، بلوچستان میں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں،
سندھ میں حقوق کیلئے آوازاٹھانے والے سندھیوں کوقتل کیا جارہاہے، مہاجروں کوگرفتار کرکے سفاکانہ تشددکرکے قتل کیا جارہا ہے
خدارا مہاجروں کو گلے سے لگائیں،انہیں دیوارسے لگانابندکردیں اور انہیں اس راستے پر نہ دھکیلیں جہاں وہ جانا نہیں چاہتے 
اہل وطن دعاکریں کہ پاکستان کے دانشوروں کو عقل آئے، سمجھ آئے اوروہ پاکستا ن کی حفاظت کیلئے میدان میں آئیں
انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں ملکی وبین الاقوامی صورتحال پر فکرانگیز لیکچر،جناب الطاف حسین نے لیکچر کااختتام ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے پر کیا
لندن ۔۔۔ 13 اکتوبر 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں پاکستان کوبچاناچاہتاہوں،میں چھوٹی قومیتوں کوان کے حقوق دلاناچاہتاہوں، پاکستان کے دانشوراورتمام شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھنے والے محب وطن عوام پاکستان بچانے کی جدوجہد میں میراساتھ دیں ۔اہل وطن دعا کریں کہ پاکستان کے دانشوروں کو عقل آئے، سمجھ آئے اوروہ پاکستا ن کی حفاظت کیلئے میدان میں آئیں۔انہوں نے یہ بات ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں موجودہ ملکی وبین الاقوامی صورتحال پر ایک فکرانگیز لیکچر دیتے ہوئے کہی۔ اپنے اس لیکچرمیں جناب الطاف حسین نے پاکستان کی سیاسی تاریخ پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ ملک کے مجموعی حالات، خطے میں پاکستان کودرپیش چیلنجز اوربین الاقوامی حالات پر تفصیلی اظہارخیال کیا ۔جناب الطاف حسین نے لیکچرکااختتام ’’ پاکستان زندہ باد ‘‘ کے نعرے پرکیا۔ اس موقع پر ایم کیوایم کے کنوینر ندیم نصرت، ایم کیوایم کے سینئراراکین، شعبہ خواتین کی ذمہ داران اور ایم کیوایم یوکے یونٹ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے ۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے قیام پاکستان کے تاریخی حقائق بیان کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان 14، اگست1947ء کو معرض وجود میں آیا ، وطن عزیزاپنے قیام کے بعد ہزاروں نشیب وفراز سے گزرا ، اندرونی وبیرونی خطرات کا سامنا کرتارہا اور آج تک ان مسائل سے باہر نہ نکل سکا۔ ابتداء میں پاکستان دوصوبے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان پر مشتمل تھا، پاکستان کی 56 فیصد آبادی جو مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتی تھی وہ 1947ء سے 1970ء تک اپنے حقوق کی جدوجہد کرتی رہی ، 1970ء کے عام انتخابات میں بنگالیوں کی نمائندہ جماعت عوامی لیگ نے اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی لیکن بنگالیوں کو ان کا حق حکمرانی نہیں دیاگیا ، بالآخر بنگالیوں نے اپنے حقوق کی تحریک چلائی اور بدقسمتی سے 56 فیصد پاکستانی ، پاکستان کے جغرافیہ سے علیحدہ ہوگئے اورپاکستان ٹوٹ گیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دولخت ہونے کے بعد اصولی طورپرپاکستان ختم ہوگیا تھا مغربی پاکستان کے لوگوں نے پاکستان کے نام کو اپنائے رکھا اور پھر حالات کے تحت پاکستان میں چارصوبے پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور سرحد بنائے گئے۔ اگرغورکیاجائے تو پاکستان کے چاروں صوبوں کے نام ان علاقوں کی ہزاروں برس سے بولی جانے والی زبان ، ثقافت اور کلچرکی نسبت سے بنائے گئے تھے ۔ ان میں سے ایک صوبہ سرحدکو انگریز نے اس کا اصل نام نہیں دیاتھا ۔پھرمطالبہ کیاگیا کہ چونکہ بلوچستان میں بلوچی ، سندھ میں سندھی اور پنجاب میں پنجابی بولنے والے رہتے ہی جبکہ صوبہ سرحد میں پشتوبولنے والے رہتے ہیں لہٰذا پشتو زبان اور ثقافت کے لحاظ سے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کیا جائے۔ ایم کیو ایم نے پختون عوام کے اس مطالبہ کی مکمل حمایت کی ، سینیٹ اورقومی اسمبلی میں قراردادمنظور کی گئی اور صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبرپختونخوا رکھا گیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کوئی اپنی خوشی اورمرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا ، اسی طرح کوئی اپنی خوشی سے اپنا وطن بھی نہیں چھوڑتا اورنہ ہی وطن سے علیحدہ ہونا چاہتا ہے کیونکہ وطن ایک گھر کی طرح ہوتا ہے اوراپنے مکینوں کا محافظ ہوتا ہے لیکن جس وطن میں لوٹ مار، چوری چکاری ، اقربا پروری اوربدعنوانی عام ہوجائے ، عدل وانصاف کا خاتمہ ہوجائے ، عدالتیں لاچار ومجبور ہوجائیں اور وطن اپنے شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک نہ کرسکے تو اس سے شہریوں میں احساس محرومی جنم لیتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ زندہ قومیں اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرتی ہیں اور جب آبادی کے کسی طبقہ میں احساس محرومی کے خاتمے کیلئے آواز اٹھائی جاتی ہے تو حق کی آواز کودبانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ریاستی طاقت کا استعمال کیاجاتا ہے اور طاقت کے ذریعہ عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں کبھی صحیح جمہوری حکومت قائم نہیں ہوسکی ، آزادی کے بعد پاکستان پر انگریزوں کے نمک خوار ایجنٹوں نے قبضہ کرلیا اورپاکستان میں طویل عرصہ تک فوج کی بھی حکومت رہی ۔فوج کے جرنیلوں نے جاگیرداروں ، وڈیروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ مل کرپاکستان میں طبقات کو جنم دیا اورملک میں امیروں اورغریبوں کی تفریق پیدا کردی۔ ملک میں غریبوں کیلئے الگ اور امیروں کیلئے الگ اسپتال ، اسکول ، کالج اوریونیورسٹیاں قائم کرکے ملک میں تعلیم کادہرانظام رائج کیاگیا، امیروں کے تعلیمی اداروں میں امریکہ اوربرطانیہ طرز کا تعلیمی نصاب پڑھایاگیا جبکہ غریبوں کیلئے ایسا تعلیمی نظام دیاگیا کہ ان کے تعلیمی اداروں سے صرف چپراسی اور کلرک ہی پیدا ہوسکیں۔ 
جناب الطاف حسین نے تحریک پاکستان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی تحریک کے دوران ایسا نعرہ دیا گیا جس میں مذہب کی ملاوٹ کی گئی، برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمان مذہبی نعرے پر جذباتی ہوگئے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگانے لگے جبکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ ، آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ تھے ، آج بھی بہت سے طالبعلم اس حقیقت سے شائد واقف نہ ہوں کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کس مذہب، عقیدے اورمسلک سے تعلق رکھتے تھے ۔ میں تاریخی حقائق کی روشنی میں کہہ رہا ہوں کہ قائداعظم مسلک کے اعتبار سے خوجہ شیعہ اثناء عشری تھے اور آج بھی بہت سے لوگ زندہ ہیں جو میری اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں اوریہ بھی حقیقت ہے کہ جب قائد اعظم کاانتقال ہواتوان کی دومرتبہ نمازجنازہ پڑھائی گئی جوکہ ایک سنی عالم اور ایک شیعہ عالم دین نے پڑھائی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں میں تحریک پاکستان کاآغاز ہوا تو وہاں مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیاگیا ، 20 لاکھ مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا اور اس کی قطعی پرواہ نہیں کی کہ وہ جس پاکستان کے قیام کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اورقربانیاں دے رہے ہیں وہاں ان کے ساتھ تیسرے درجہ کے شہری سے بھی بدترسلوک کیاجائے گا، ان کے بچوں کو ذبح کیاجائے گا، ان کی نمائندہ جماعت پر غداری کے مقدمات قائم کیے جائیں گے اور اس جماعت کے کارکنوں کو گرفتارکرکے عقوبت خانوں میں بدترین تشددکا نشانہ بنایاجائے گااورماورائے عدالت قتل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بانیان پاکستان کی اولادوں پر ظلم وستم کے خلاف جس نے بھی آواز اٹھائی اسے گرفتارکرکے جیل میں ڈال دیاجاتا ہے یا ان پر دباؤ ڈال کر اسٹیبلشمنٹ کے تشکیل کردہ گروپ میں شامل ہونے پر مجبورکیاجاتا ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ صوبہ پنجاب ، صوبہ سندھ،بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا کے جاگیرداروں ،وڈیروں ،خوانین اورجرنیلوں کے مفادات مشترکہ ہیں ، ان مفادات کے تحت انہوں نے آپس میں رشتہ داریاں قائم کررکھی ہیں اوراپنا ایک طبقہ بنارکھا ہے جو ملک بھرکے غریب عوام کوآپس میں متحد ہونے نہیں دیتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ، پاکستان بھر کے غریبوں کی نمائندہ جماعت ہے اوریہ پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریبوں ، ہاری ، کسانوں اورمحنت کشوں کے طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو پاکستان کے منتخب ایوانوں میں پہنچایا۔ایم کیوایم ، ملک کی واحد جماعت ہے جوپاکستان میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کا انقلاب لاسکتی تھی مگراس جماعت پر غداری کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں اور ایم کیوایم پر پابندی کے مطالبے کیے جارہے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرے بے گناہ کارکنوں کاماورائے عدالت قتل ہورہاتھا، ان کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی تھیں، گھرگھرچھاپے مارکرگرفتاریاں کی جارہی تھیں،تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے میرے ساتھی تڑپ رہے تھے، میں نے شدت جذبات میں آکرقابل اعتراض بات کی تواس پرایک طوفان برپا ہوگیا، میں نے دومرتبہ معافی بھی مانگی کیونکہ میں مہاجرہوں اورغریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہوں ، میں فرزندزمین نہیں ہوں لہٰذا مجھے معافی نہیں ملی جبکہ ملک کے دیگر رہنماؤں نے بھی بہت کچھ سخت باتیں باربارکہیں لیکن ان کی باتوں پرکوئی طوفان نہیں اٹھا ۔ موجودہ وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے ایوان میں فوج کے خلاف نہایت سخت تقریرکی، انہوں نے یہاں تک کہاکہ’’ فوج کے جرنیلوں نے اس طرح قوم کو کھایاہے جس طرح گدھ، مردہ جانورکے جسم اورہڈیوں سے گوشت نوچتاہے ‘‘ لیکن خواجہ آصف کی ان باتوں پرکوئی شورنہیں ہوا ، انہوں نے کوئی معافی نہیں مانگی۔ اسی طرح محمودخان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ ’’ میں ایسے پاکستان کوزندہ باد نہیں کہوں گاجہاں پختون کی جان محفوظ نہ ہو ،جوپختون پاکستان زندہ باد کہے گاوہ بے غیرت ہوگا ‘‘ لیکن اس پر کوئی طوفان نہیں اٹھا۔ اسفندیارولی نے کہاکہ ’’ میں کل بھی افغانی تھا، آج بھی افغانی ہوں، افغانی رہوں گا ‘‘ لیکن اس پر کہیں سے کوئی فتویٰ نہیںآیااسلئے کہ وہ فرزندزمین ہیں۔ اگر الطاف حسین یہ کہہ دے کہ ’’ میں کل بھی ہندوستانی تھا ، آج بھی ہندوستانی ہوں اورتاقیامت ہندوستانی رہوں گا ‘‘ تواس بات پر مجھے ’’ غدار ۔۔۔ اندرا کاایجنٹ۔۔۔ انڈیا کاایجنٹ ‘‘ کہاجائے گا اسلئے کہ مجھے فرزندزمین نہیں سمجھاجاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے ایک نجی محفل میں فوج کے جرنیلوں پرتنقیدکرتے ہوئے کہا ’’ تم 20ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لے آؤ، جرنیلوں کاپیشاب نکل آئے گا،یہ اتنے بزدل ہوتے ہیں ‘‘ عمران خان کی اس بات پر کوئی احتجاج نہیں ہوا، کسی نے نہیں کہاکہ عمران خان نے فوج کی توہین کی ہے۔اگرملک میں یہ دوہرامعیار رہے گا توکس طرح یکجہتی پروان چڑھ سکتی ہے ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے آج تک قیدوبندکی صعوبتیں برداشت نہیں کیں، ایک رات بھی جیل میں نہیں کاٹی ،انہیں کیا معلوم کہ جیل کی اذیت کیا ہوتی ہے ،اٹک قلعہ ، اڈیالہ جیل، مچھ جیل اور دیگر جیلوں کے عقوبت خانوں میں اسٹیبلشمنٹ کے لو گ قیدیوں پر ٹارچر کے کیسے کیسے حربے استعمال کرتے ہیں۔عمران خان فوج کے جرنیلوں کوبزدل کہتے ہیں ، اگر عمران خان کو آئی ایس آئی یا رینجرز کی تحویل میں ایک دن کیلئے دے دیا جائے تو انکی حالت خراب ہوجائے گی ۔انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کو تین مرتبہ گرفتارکرکے جیل میں ڈالاگیا،میں ،ضیا ء الحق کے زمانے میں جیل جاچکا ہوں ، جھوٹے مقدمے میں نو ماہ قید اور پانچ کوڑوں کی سزا بھگت چکا ہوں لیکن میں نے سزا سے بچنے کیلئے کبھی معافی نہیں مانگی اور آج تک میں ڈٹا ہوا ہوں ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں بظاہر جمہوریت ہے، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں بھی موجود ہیں لیکن درحقیقت ملک میں فوج کی حکمرانی ہے ، ان کے ساتھ جاگیرداروں اوروڈیروں کی حکمرانی ہے، ملک میں کہیں بھی غریبوں کی حکمرانی نہیں ہے ، آج چاروں صوبوں کوغلام بنایاہواہے، وہاں کورکمانڈرز اورڈی جی رینجرزکی توچلتی ہے لیکن صوبوں کے منتخب وزرائے اعلیٰ کی نہیں چلتی، سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سیدقائم علی شاہ بھی کہتے رہے کہ ’’رینجرزوالے مجھے نہیں بتاتے، میری اجازت اورمنظوری کے بغیرکارروائیاں کرتے ہیں‘‘ ، دیگرتینوں صوبوں کوبھی یہی شکایت ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ نواز شریف، پاکستان کے وزیر اعظم ہیں لیکن میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ پاکستان میں وزیراعظم نوازشریف کی بھی نہیں چلتی اور اگر چلتی ہے تو پھر جتنے بھی لوگ سندھ اوربلوچستان میں مارے گئے،جتنے مہاجر مارے گئے ان سب کا خون صرف رینجر ز پر نہیں بلکہ وزیراعظم نوازشر یف کی گردن پر بھی ہوگا ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں اب تک حقیقی جمہوریت نہیں آسکی، جب بھی انتخابات کے بعد جیسی تیسی جمہوریت آتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے تیارکردہ لیڈر کرپشن، بدعنوانی کا شور مچا کر منتخب حکومت کابوریابسترگول کروادیتے ہیں اورمارشل لاء لگوادیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ آج کرپشن اوردھاندلی کا شور مچایاجارہاہے اوراس کی آڑ میں ایک مرتبہ پھرجمہوریت کابوریابستر گول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، پاکستان کے مختلف شہروں میں جنرل راحیل شریف کے پوسٹرزلگوائے جارہے ہیں جن پر لکھا گیاہے کہ ’’ خداکیلئے اب آجاؤ ‘‘ ۔ انہوں نے سوال کیاکہ آخر آرمی چیف کوکس بات کی دعوت دی جارہی ہے ؟ آخریہ کون لوگ ہیں اور پاکستان کو کہاں لے جاناچاہتے ہیں؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں جہادی تنظیموں کو اسٹیبلشمنٹ نے بنایااسی وجہ سے آج دنیامیں پاکستان کودہشت گردی کامرکزکہاجاتاہے، پوری دنیاآج یہ بات کہہ رہی ہے لیکن یہی بات میں نے کہی تواس پر ایک ہنگامہ کھڑاکردیاگیا ۔اگرایسانہیں ہے تو مجھ پر تنقید کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پوری دنیا میں جاکربتائیں کہ پاکستان دہشت گردی کامرکزنہیں بلکہ جنت نظیرہے اورہم دہشت گرد اورجہادی نہیں بلکہ فرشتے پیداکرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری تقریرپر اعتراض کرنے والے ضروراعتراض کریں مگر کیاوہ اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ جہادی تنظیموں کی سرپرستی اور حمایت کرنے کی پالیسی کی وجہ سے آج پوری دنیاکی انگلیاں پاکستان پراٹھتی ہیں، بین الاقوامی برادری میں پاکستان تنہا ہوچکاہے،کوئی ملک بھی پاکستان کی حمایت کرنے کوتیارنہیں ہے، جب حال ہی میں اقوام متحدہ میں جیش محمد کے سربراہ کے خلاف قراردادپیش کی گئی توچائنانے اسے ایک مرتبہ پھر ویٹو کردیا مگر آج میری یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ چائنااپنی تباہی کی قیمت پر پاکستان کی حمایت نہیں کرے گااوراگرایساہوتاتووہ 1971ء میں پاکستان کی مدد کرچکا ہوتا ۔ جناب الطاف حسین نے نقشوں کی مددسے کہاکہ پاکستان کے ایک طرف انڈیا، دوسری طرف افغانستان، تیسری طرف ایران اورچوتھی طرف چائناہے۔ انڈیا ہمارا دشمن ہے ، افغانستان کو ہم نے اپنا دشمن بنالیاہے، ایران سے بھی ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں، کیامشکل وقت میں چائنا ہماری مدد کرے گا؟کیا چائنابھی اپنے مفاد کو عزیزنہیں رکھے گا؟انہوں نے کہاکہ ارباب اختیارکوہوش مندی کامظاہرہ کرناچاہیے اوریہ سمجھنا چاہیے کہ ایٹم بموں سے ملک نہیں بچا کرتے، سوویت یونین کے پاس پاکستان سے کہیں زیادہ ایٹم بم تھے لیکن وہ ایٹم بم سوویت یونین کوٹوٹنے سے نہیں بچاسکے۔انہوں نے کہا کہ ملک اسی صورت میں مضبوط ومستحکم ہوتے ہیں جب ملک کے عوام کوانصاف مل رہاہو، انہیں ان کے حقوق مل رہے ہوں اورسب کے ساتھ مساوی سلوک کیا جارہا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ چاروں صوبوں کواسٹیبلشمنٹ نے غلام بنارکھاہے، فاٹامیں پختونوں کوقتل کیا جارہا ہے، بلوچستان میں بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، سندھ میں حقوق کیلئے آوازاٹھانے والے سندھیوں کوقتل کیا جارہاہے، اسی طرح مہاجروں کوگرفتار کرکے سفاکانہ تشدد کرکے قتل کیا جارہا ہے ، حراست کے دوران سرکاری اہلکارمہاجروں سے کہتے ہیں ’’ تم ہندوستانی ہو، اندراکی اولادہو، ہندوستان واپس جاؤ ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ خدارا مہاجروں کو گلے سے لگائیں،انہیں دیوارسے لگانابندکردیں اور انہیں اس راستے پر نہ دھکیلیں جہاں وہ جانانہیں چاہتے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اصل حکمراں طاقتیں چھوٹی قومیتوں کے حقوق کی آوازکوطاقت سے دباکراور انہیں علیحدگی کی طرف دھکیل کرپاکستان کو مٹانا چاہتی ہیں جبکہ میں پاکستان کوبچاناچاہتاہوں، میں چھوٹی قومیتوں کوان کے حقوق دلاناچاہتاہوں،میں دانشوروں اورتمام شعبہ ء زندگی سے تعلق رکھنے والے محب وطن عوام سے کہتاہوں کہ وہ پاکستان بچانے کی جدوجہد میں میراساتھ دیں ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کے عوام پاکستان کوبچاناچاہتے ہیں تو انہیں اٹھناہوگا ، سچ بولنا ہوگا اورپاکستان کوبچانے کیلئے چھوٹی قوموں پرہونے والے مظالم کوبندکراناہوگا۔انہوں نے کہاکہ اہل وطن دعاکریں کہ پاکستان کے دانشوروں کو عقل آئے، سمجھ آئے اوروہ پاکستا ن کی حفاظت کیلئے وہ میدان میں آئیں۔جناب الطاف حسین نے اپنے لیکچر کااختتام ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے پر کیا۔ 
*****

Thought Provoking Lecture of Founder & Leader... by MQMOfficial

12/8/2016 1:57:08 AM