Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عزیزآبادکے مکان سے ملنے والے اسلحہ کے ذخیرہ سے ایم کیوایم اور مہاجروں کا کوئی تعلق نہیں ہے ، ندیم نصرت


عزیزآبادکے مکان سے ملنے والے اسلحہ کے ذخیرہ سے ایم کیوایم اور مہاجروں کا کوئی تعلق نہیں ہے ، ندیم نصرت
 Posted on: 10/6/2016
اسلحہ کے ذخیرہ کو ایم کیوایم سے منسوب کرنا قابل مذمت ہے ، ندیم نصرت
آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس معاملہ کی بھر پور اور غیر جانبدارانہ طریقہ سے تحقیق کروائیں، ندیم نصرت
اسلحہ برآمدگی کے ڈرامہ کے نام پر محب وطن مہاجرعوام کے خلاف مزیدبھیانک آپریشن کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، ندیم نصرت
باشعور عوام ، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مندرجہ ذیل سوالات اور نکات کا جواب چاہتے ہیں، ندیم نصرت
بڑی مقدار میں ملنے والا اسلحہ بالآخر عزیزآباد کے 120گز کے گھر میں پانی کی ایک چھوٹی سے ٹنکی میں کس طرح ذخیرہ ہوگیا تھا؟
اتنے بڑے ہتھیار عزیزآباد کی تنگ گلی کے اس چھوٹے سے مکان میں کیسے پہنچے؟
پانی کی ٹنکی کے مختصر سے سوراخ میں کیسے داخل ہوگئے اور پھر اس سوراخ کو توڑے بغیر باہر کیسے آگئے؟
یہ پورا ڈرامہ سندھ کی صوبائی حکومت کی ملی بھگت سے رچایا جارہا ہے، ندیم نصرت
اس قسم کے ڈراموں کو مہاجر عوام پہلے بھی مسترد کرچکے ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے ڈرامے چلنے والے نہیں ہیں، ندیم نصرت

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت نے عزیزآباد سے اسلحہ کی برآمدگی کے ڈرامہ کے نام پر محب وطن مہاجر عوام کے میڈیا ٹرائل اور انہیں مزید بھیانک آپریشن کی دھمکیاں دئیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ایک بیان میں ندیم نصرت نے کہا کہ اسلحہ کے جس ذخیرہ کو ایم کیو ایم اور مہاجروں سے منسوب کیا جارہا ہے اس اسلحہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام باشعور عوام ، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مندرجہ ذیل سوالات اور نکات کا جواب چاہتے ہیں۔
1۔ اسلحہ کا یہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ خود پولیس نے اسے یہ کہہ کر اپنی تحویل میں رکھنے سے معذرت کرلی ہے کہ اس کے پاس اسے رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں ملنے والا اسلحہ بالآخر عزیزآباد کے 120گز کے گھر میں پانی کی ایک چھوٹی سے ٹنکی میں کس طرح ذخیرہ ہوگیا تھا؟
2۔ اس اسلحہ میں ایسے ایسے ہتھیار شامل ہیں جن کے بارے میں میڈیا کے نمائندے خود کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی بڑے ٹرک یا کنٹینر کے بغیر کہیں منتقل نہیں کیے جاسکے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے ہتھیار عزیزآباد کی تنگ گلی کے اس چھوٹے سے مکان میں کیسے پہنچے؟
3۔ اس ذخیرے میں میں شامل طیارہ شکن ہتھیار اتنے بڑے ہیں کہ خود ایک نیوز چینل نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ وہ پانی کی ٹنکی کے مختصر سے سوراخ میں کیسے داخل ہوگئے اور پھر اس سوراخ کو توڑے بغیر باہر کیسے آگئے؟
4۔ ہتھیاروں کا یہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ پانی کے اس چھوٹے سے ٹینک تو کجا پورے مکان میں نہیں سما سکتا ۔ جس سے یہ واضح ہے کہ یہ ہتھیار نہ تو اس گھر سے برآمد ہوئے ہیں نہ اس علاقہ سے ان کا کوئی تعلق ہے۔
5۔ گزشتہ کئی عشروں سے اس علاقہ میں ایم کیو ایم کا مرکز قائم ہے جسے اگست 2016ء میں سیل کیے جانے سے قبل وہاں روزانہ ہزاروں افراد اپنے عوامی مسائل کے حل کے لئے آتے تھے اور عوام کے ساتھ ساتھ میڈیا سے وابستہ افراد بھی وہاں ہمہ وقت موجود رہتے تھے۔ اس ہزاروں افراد اور میڈیا کی موجودگی میں ہزاروں ہتھیار کب اور کس طرح اس گھر میں پہنچے کہ نہ تو وہاں آنے جانے والوں کی خبر ہوئی اور نہ ہی اس گنجان آباد رہائشی علاقہ کے مکینوں کو کچھ پتہ چلا؟
6۔ بھاری مقدار میں اسلحہ کی برآمدگی کے فوری بعد پولیس نے اسلحہ سمیت متعلقہ مکان کو لاوارث کیوں چھوڑا؟
ندیم نصرت نے کہا کہ میں نے نہ صرف چند سوالات اور نکات اٹھائے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر اس معاملہ کے حوالے سے ایسے درجنوں سوالات اٹھائے جار ہے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ عوام اور غیر جانبدارنہ مبصرین پولیس کے اس دعوے پر یقین کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہیں کہ یہ ہتھیار اسی گھر سے برآمد ہوئے ہیں جس کا دعوی پولیس کررہی ہے۔ اس صورتحال کی روشنی میں یہ تشویشناک سوال سامنے آرہا ہے کہ آخر یہ ہتھیار کہاں سے برآمد ہوئے؟ انہیں عزیزآباد سے برآمد کرنے کا کیا مقصد ہے اور یہ سب ڈرامہ آخر کس منصوبہ کی تیاری کا پیش خیمہ ہے؟
ندیم نصرت نے کہا کہ گزشتہ روز اس چھاپے کی اطلاع کے فوری بعد پی پی پی کے ایک مفرور صوبائی وزیر نے وطن واپسی کا عندیہ دے دیا جس کے بعد آج صبح پی پی پی کے صوبائی وزیر منظور وسان نے اس معاملہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جو زبان استعمال کی ہے وہ انتہائی متعصبانہ اوراشتعال انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ اس جانب بھی اشارہ کررہی ہے کہ یہ پورا ڈرامہ سندھ کی صوبائی حکومت کی ملی بھگت سے رچایا جارہا ہے۔
ندیم نصرت نے کہا کہ ہمیں یہ رپورٹیں بھی موصول ہورہی ہیں کہ عزیز آباد سے جس اسلحہ کے برآمد ہونے کا دعوی کیا جارہا ہے وہ دراصل وہ اسلحہ ہے جو پی پی پی کے سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے پیپلز پارٹی کے دہشت گرد ونگ المعروف ’’پیپلز امن کمیٹی‘‘ کو دیا تھا اور جس کی موجودگی کااعتراف خود ذوالفقار مرزا نے میڈیا کے سامنے بارہا کیا تھااور اس سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لیاری سے اینٹی ائیرکرافٹ گنیں برآمد کی جاچکی ہیں۔
ندیم نصرت نے کہا کہ کراچی کے باشعور عوام یہ جان چکے ہیں کہ کچھ ریاستی عناصر کراچی کے امن کے نام پر باقاعدہ کاروبار کررہے ہیں اور جب جب کراچی میں ان کی موجودگی کے بارے میں سوال اٹھے ہیں کوئی نہ کوئی نیا ڈرامہ رچا کر ان کی موجوگی اور قیام کا جواز پیدا کردیا جاتا ہے۔ ندیم نصرت نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملہ کی بھر پور اور غیر جانبدارانہ طریقہ سے تحقیق کروائیں تاکہ ان کے اور قوم کے سامنے اصل حقائق آسکیں۔ندیم نصرت نے کہا کہ جو عناصر کراچی کو یرغمال بنا کر یہاں آگ اور خون کا کھیل کھیلنے کا منصوبہ بنارہے ہیں وہ جان لیں کہ اس قسم کے ڈراموں کو مہاجر عوام پہلے بھی مسترد کرچکے ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے ڈرامے چلنے والے نہیں ہیں۔خوف ، تشدد ، دھمکیوں اور میڈیا ٹرائل سے مہاجر عوام اور مظلوم عوام کو اپنے حقوق کی جدوجہد سے نہ ماضی میں ہٹایا جاسکا تھا نہ اب ہٹایا جاسکتا ہے۔
*****

12/3/2016 9:40:23 AM