Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائدتحریک الطاف حسین اپنی ذات میں ایم کیوایم ہیں، ان کے بغیرایم کیوایم کچھ نہیں ۔ندیم نصرت


قائدتحریک الطاف حسین اپنی ذات میں ایم کیوایم ہیں، ان کے بغیرایم کیوایم کچھ نہیں ۔ندیم نصرت
 Posted on: 9/19/2016
مہاجروں کوقائدتحریک الطاف حسین سے اورقائدتحریک الطاف حسین کومہاجرعوام سے کوئی الگ نہیں کرسکتا
قائدتحریک الطاف حسین نے ہی مہاجروں کو شناخت دی اورآج ہم فخرسے کہتے ہیں کہ ہم مہاجرہیں۔ندیم نصرت
ایم کیوایم سے قبل مہاجرعوام جماعت اسلامی اورجے یو پی کواپنامینڈیٹ دیتے تھے لیکن ان مذہبی جماعتوں نے مہاجروں کے
ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف کوئی آوازبلندنہیں کی ۔ندیم نصرت
مہاجروں پر ہونے والے مظالم کاتذکرہ کرنے کے بجائے ہمیشہ ان کوظالم اور دہشت گرد بناکرپیش کیاگیا۔ندیم نصرت
12مئی کاذکرہرشخص کرتاہے لیکن سانحہ علی گڑھ،سانحہ حیدرآباد، پکاقلعہ آپریشن اور27دسمبرکوہونے والی دہشت گردی کاذکرکوئی نہیں کرتا
کراچی میں اسلحہ برآمدکرنے کیلئے گھرگھرتلاشی لی جاتی ہے لیکن جہاں اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں ہیں وہاں کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم کوختم کرنے کے درپے ہے،اس کوکچلنے کے لئے ہردورمیں آپریشن کیاجاتارہاہے ۔ندیم نصرت
دوحکومتیں کراچی میں ماورائے عدالت قتل کی بنیادپر برطرف کی گئیں لیکن ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کوقانون کے تحت سزانہیں دی گئی
ہم پرطرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں لیکن ہم پر ہونے والا ظلم وستم کسی کونظرنہیں آرہاہے ۔ندیم نصرت
چاہے ظلم وجبرکا کیساہی ہتھکنڈہ اختیارکیوں نہ کرلیاجائے لیکن قائدتحریک الطاف حسین کوان کے جانثاروں سے الگ نہیں کیاجاسکتا
ہم فوج یا پاکستان کے خلاف نہیں، ہم پر ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیاجائے، ہمیں ہمارے حقوق دیے جائیں ،ہمیں انصاف فراہم کیاجائے 
ہمارے ساتھ بھی برابرکے پاکستانیوں جیساسلوک کیاجائے اورہمیں کچلنے اورختم کرنے کی کوششیں بند کی جائیں ۔ندیم نصرت
لندن میں ایم کیوایم یوکے کے زیراہتمام قائدتحریک جناب الطاف حسین کی 63 ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب 

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینرندیم نصرت نے کہاہے کہ قائدتحریک الطاف حسین اپنی ذات میں ایم کیوایم ہیں، ان کے بغیرایم کیوایم کچھ نہیں ، قائدتحریک الطاف حسین نے ہی مہاجروں کو شناخت دی اورآج ہم فخرسے کہتے ہیں کہ ہم مہاجرہیں۔مہاجروں کوقائدتحریک الطاف حسین سے اورقائدتحریک الطاف حسین کومہاجرعوام سے کوئی الگ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار لندن میں ایم کیوایم یوکے کے زیراہتمام قائدتحریک جناب الطاف حسین کی 63 ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں لندن کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ برمنگھم، مانچسٹر، شیفیلڈ، بریڈ فورڈ اور دیگرعلاقوں سے تعلق رکھنے والے ایم کیوایم کے کارکنوں اورہمدردوں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔ شرکاء میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خواتین ، بزرگوں اوربچوں کی بھی بڑی تعدادشامل تھی۔ندیم نصرت نے اپنے خطاب میں قیام پاکستان کی تاریخ، مہاجروں کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد سے مسلسل کی جانے والی ناانصافیوں، قائدتحریک الطاف حسین کی قیادت میں مہاجرحقوق کی جدوجہدکے آغاز اورایم کیوایم کوختم کرنے اورمہاجروں کوکچلنے کیلئے ڈھائے جانے والے مظالم اورموجودہ صورتحال پر تفصیلی اظہارخیال کیا۔
ندیم نصرت نے کہاکہ برصغیرمیں جودوقومی نظریہ وجودمیں آیااورکہاگیاکہ ہندواورمسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، اسی دوقومی نظریہ کی بنیادپر برصغیرکے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کانعرہ لگایاگیا۔ ہندوستان کے مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے تحریک پاکستان کی جدوجہدمیں سب سے بڑھ چڑھ کرقربانیاں دیں جس کے نتیجے میں پاکستان وجودمیں آیا لیکن ہمارے بزرگوں کے ساتھ سب سے بڑادھوکہ کیاگیااور قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعدہی ان پر پاکستان کی سرحدیں بندکردی گئیں اوریہ کہاگیاکہ پاکستان اب مزید ہجرت کرنے والوں کابوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ اقدام دراصل خود دوقومی نظریہ کی نفی تھا۔ قیام پاکستان سے پہلے سندھ میں 90 فیصدزمینیں اوراملاک ہندوؤں کی ملکیت تھی اوریہاں کے لوگ ہندوؤں کے غلام تھے ۔ تقسیم ہند کے وقت پاکستان اورہندوستان کے درمیان یہ معاہدہ طے پایاتھاکہ جوہندو نوزائیدہ پاکستان سے ہجرت کرکے انڈیا ہجرت کریں گے اوروہ جو زمینیں، جائیدادیں، گھر بارچھوڑکرجائیں گے اس کے کلیم میں انہیں ہندوستان میں انہیں ان مسلمانوں کی زمینیں، جائیدادیں اور گھربار دیدیے جائیں گے جو ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان جائیں گے ، اسی طرح پاکستان میں ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی املاک ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کودیدی جائیں گی ۔ ہندوستان جانے والے ہندوؤں کوتووہ املاک دیدی گئیں لیکن ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے تمام مہاجروں کوان کی ہندوستان میں چھوڑی ہوئی املاک کے عوض پاکستان میں نہیں ملیں اورانڈیامیں بڑی بڑی حویلیوں میں رہنے والے پاکستان آکرچھوٹے چھوٹے مکانوں میں آکررہنے پر مجبورہوئے ۔ بانیء پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے انتقال اور پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملک پر ایک مخصوص طبقہ کاقبضہ ہوگیاا ورمہاجروں کے ساتھ ظلم وناانصافیوں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔جنرل ایوب خان نے پاکستان میں پہلا مارشل لاء نافذ کیاتوان کے دورمیں ملک کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آبادمنتقل کیاگیااورسول سروسزسے مہاجروں کوچن چن کرنکالاجانے لگا۔ قائداعظم کی ہمشیرہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح نے ملک میں مارشل کے خلاف عوامی احتجاج شروع کیاتوجنرل ایوب خان کی جانب سے محترمہ فاطمہ جناح پر غداری، ملک دشمنی حتیٰ کہ ان پر ’’ را ‘‘ کے ایجنٹ ہونے تک کاالزام لگایاگیا۔ جب 1964ء میں صدارتی انتخاب ہوااورمحترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑاتوانہیں زبردستی دھاندلی کرکے ہرادیاگیا۔ اس الیکشن کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دینے کی پاداش میں کراچی کے مہاجرعلاقوں پر جنرل ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب خان کی سربراہی میں حملے کئے گئے اورمہاجروں کوقتل کیاگیا، ان کی املاک کوآگ لگائی گئی۔اس وقت قائدتحریک الطاف حسین یاایم کیوایم موجود نہیں تھے۔
ندیم نصرت نے کہاکہ کراچی اورحیدرآبادہی نہیں بلکہ لاڑکانہ اوراندرون سندھ کے گئی شہروں میں مہاجروں کی اکثریت تھی لیکن 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کے دور حکومت میں لسانی بل لاکر مہاجروں کاقتل عام کرایاگیا،لاڑکانہ اوردیگرشہروں کومہاجروں سے خالی کرایاگیا،مہاجروں نے جوتعلیمی ادارے، صنعتیں اور بینکس قائم کئے تھے ،بھٹوحکومت کے دورمیں نیشنلائزیشن کی پالیسی کے نام پر یہ تمام ادارے سرکاری قبضے میں لے لئے گئے اورجب نوازشریف دورحکومت میں ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی اپنائی گئی توپنجاب کے ادارے توان کے پرانے مالکان کوواپس کردیئے گئے لیکن کراچی میں مہاجروں کے ادارے انہیں واپس نہیں کئے گئے۔ بھٹودورحکومت میں بچے کچے مہاجروں کوسول سروسزسے بیدخل کردیاگیااورکوٹہ سسٹم نافذ کرکے مہاجروں پرسرکاری ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیم کے دروازے بندکردیئے گئے ،پاکستان میں آبادلسانی اکائیاں خودکوپاکستانی کے بجائے پنجابی، پختون، بلوچ، سندھی ،سرائیکی کہنے پر فخرمحسوس کرتی تھیں جبکہ مہاجروں کوتلیر، مکڑ، مٹروے ، پناہ گیراوردیگرتوہین آمیز القابات دے کر ان کی ہجرت کی تذلیل کی جاتی ،مہاجروں میں شدیداحساس محرومی نے جنم لیا،اس وقت نہ ایم کیوایم کاکوئی وجودتھااورنہ ہی قائدتحریک الطاف حسین میدان سیاست میں تھے، اس وقت مہاجرعوام جماعت اسلامی اورجے یو پی کواپنامینڈیٹ دیتے تھے لیکن ان مذہبی جماعتوں نے مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ان ناانصافیوں اورزیادتیوں کے خلاف کوئی آوازبلندنہیں کی بلکہ یہ جماعتیں مہاجروں کوطرح طرح کے نعروں پربیوقوف بناتی رہیں،مہاجروں کے حقوق کیلئے آوازبلندکرنے والاکوئی نہ تھا۔ایسے میں قائدتحریک الطاف حسین جو اس وقت کراچی یونیورسٹی میں طالبعلم تھے، میدان میں آئے ، انہوں نے مہاجروں کو یہ شعوردیاکہ ان کے ساتھ یہ ناانصافیاں ،حق تلفیاں اورظلم وزیادتیاں کیوں کی جارہی ہیں، انہوں نے مہاجروں کو شناخت دی،ہجرت کرکے آنے والوں کوجومختلف برادریوں میں بٹے ہوئے تھے انہیں مہاجرشناخت کے دائرے میں لاکرمہاجرقومیت کاتشخص پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ مہاجرشناخت ہمیں کسی اورنے نہیں بلکہ قائدتحریک الطاف حسین نے دی،آج ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم مہاجرہیں۔ آج پوری دنیامیں جہاں پاکستان میں آباددیگرلسانی اکائیوں کاذکرکیاجاتاہے وہیںیہ بھی بتایاجاتاہے کہ پاکستان میں مہاجر بھی ایک قوم ہیں،مہاجرشناخت کوتسلیم کیاجاناکسی اورکی نہیں بلکہ صرف اورصرف قائدتحریک الطاف حسین کی جدوجہداورقربانیوں کی بدولت ہے۔
ندیم نصرت نے کہاکہ مہاجروں کوہردورمیں ظلم وناانصافیوں کانشانہ بنایاگیالیکن ان پر ہونے والے مظالم کاتذکرہ کرنے کے بجائے ہمیشہ ان کوظالم اور دہشت گرد بناکرپیش کیاگیا۔12مئی کے واقعہ کاذکرہرشخص کرتاہے لیکن کوئی 14دسمبر1986ء کوپیش آنے والے سانحہ علی گڑھ کاذکرنہیں کرتاجب علی گڑھ کالونی اورقصبہ کالونی کی مہاجربستیوں پر درندہ صفت افرادکی جانب سے مسلح لشکرکشی کی گئی، سینکڑوں مہاجروں کاکئی گھنٹوں تک قتل عام کیاگیا، انہیں زندہ جلایاگیا،مہاجروں کی املاک کولوٹاگیا، گھروں کو آگ لگائی گئی،مہاجرماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی گئی۔اس قتل عام اورظلم وبربریت کاسلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہالیکن کوئی پولیس، رینجرزیافوج علی گڑھ اورقصبہ کالونی کے مہاجروں کوبچانے نہیں آئی۔30ستمبر1988ء کو کئی گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گردوں نے حیدرآبادکے مختلف علاقوں داخل ہوکر بیدریغ گولیاں برساکردوسوسے زائد معصوم وبے گناہ مہاجروں کابیدردی سے قتل عام کیا ،آدھے گھنٹے تک یہ قتل عام ہوتارہالیکن اس وقت بھی کوئی پولیس ،رینجرزیافوج حیدرآبادکے مہاجروں کوبچانے نہیں آئی ،کوئی اس سانحہ حیدرآباد کا ذکر نہیں کرتا۔ 26، 27مئی 1990ء کو پولیس اورجرائم پیشہ عناصر نے حیدرآبادکے پکاقلعہ کے علاقے کاپانی، بجلی،گیس بندکرکے وہاں آپریشن کے نام پر مہاجروں کا قتل عام کیا، قرآن مجید سروں پر رکھ کرآپریشن بندکرنے کی دہائیاں دینے والی مہاجرماؤں بہنوں پر گولیاں چلاکرانہیں شہیدکیاگیالیکن کوئی اس پکاقلعہ آپریشن کا ذکر نہیں کرتا۔ 27دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں بینظیربھٹوکے قتل کے بعد کراچی میں ہزاروں گاڑیوں کونذرآتش کیاگیا، دکانوں، بینکوں حتیٰ کہ فیکٹریوں تک کومزدوروں سمیت نذرآتش کیاگیا، خواتین کی آبروریزی کی گئی، سندھ کے دیگرشہری علاقوں میں مہاجروں کی املاک کونذرآتش کیا گیا، ٹرینوں ، سرکاری دفاتر اوردیگراملاک کوجلایاگیالیکن کوئی اس بربریت کاذکرنہیں کرتا۔ ندیم نصرت نے کہاکہ سانحہ علی گڑھ وقصبہ ، سانحہ حیدرآبادمیں ہونے والے قتل عام کے بعدجب قائدتحریک الطاف حسین نے مہاجروں کویہ درس دیاکہ اپنا تحفظ کرنے کاحق ملک کاآئین اورقانون بھی دیتاہے لہٰذا مہاجروں کوچاہیے کہ وہ سانحہ علی گڑھ وقصبہ اورسانحہ حیدرآباد سے سبق حاصل کرتے ہوئے لائسنس بنوائیں اوراپنے بیوی بچوں، ماں باپ بہن بھائیوں اورگھرکے تحفظ کیلئے اسلحہ رکھیں تو ان پر الزام لگادیاگیاکہ انہوں نے مہاجروں کومسلح کرنے کادرس دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں ہرباراسلحہ برآمدکرنے کے نام پرآپریشن کیاجاتاہے اور گھرگھرتلاشی لی جاتی ہے اورکراچی کے لوگوں پرالزامات لگائے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں نہیں ہیں،جن شہروں میں اسلحہ بنانے کی فیکٹریاں ہیں وہاں کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ ان شہروں سے اسلحہ جن راستوں سے ہوکر کراچی میں آتا ہے وہاں قانون نافذکرنے والے اداروں کی چوکیاں ہیں توکراچی میں اسلحہ برآمدکرنے کے لئے کارروائی کے بجائے ان سرکاری اہلکاروں کوگرفتارکرناچاہیے جن کی چوکیوں سے گزر کر اسلحہ کراچی آتاہے۔ 
ندیم نصرت نے کہاکہ جب سے قائدتحریک الطاف حسین ایم کیوایم نے بنائی اورمہاجروں کے حقوق کے لئے جدوجہدکاآغازکیاہے،اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم کوختم کرنے کے درپے ہے،اس کوکچلنے کے لئے ہردورمیں آپریشن کیاجاتارہاہے۔ قائدتحریک الطاف حسین کوتین مرتبہ گرفتارکیاگیااورسرکاری ٹارچرسیلوں میں تشددکانشانہ بنایاگیا۔ 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیاگیاجودس سال تک جاری رہا جس کے دوران ایم کیوایم کے 15ہزار سے زائدکارکنوں اورہمدردوں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیااورایم کیوایم کے کارکنوں اورعام مہاجروں پر ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے۔دوحکومتیں کراچی میں ماورائے عدالت قتل کی بنیادپر برطرف کی گئیں لیکن ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کوقانون کے تحت سزانہیں دی گئی۔ 2013ء سے بھی ایک بار پھر ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن شروع کیاگیاجو آج بھی جاری ہے ، اس دوران بھی ایم کیوایم کے درجنوں کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا، سو سے زائدکارکنان لاپتہ ہیں جبکہ ہزاروں کارکنوں کوگرفتارکرکے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے جیلوں میں ڈال دیاگیاہے اوریہ سلسلہ بدستورجاری ہے ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ آج بھی ہمارامیڈیاٹرائل کیاجارہاہے، ہمیں ملک دشمن،دہشت گردبناکرپیش کیاجارہاہے، ہماری حب الوطنی پر شک کیاجارہا ہے ، ہم پرطرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں،ہماری کردارکشی کی جارہی ہے لیکن ہم پر ہونے والا ظلم وستم کسی کونظرنہیں آرہاہے۔انہوں نے سوال کیاکہ ہمارے ہزاروں شہیدکارکنوں کے قاتل کہاں ہیں؟ان کے گھروالوں کوانصاف کب ملے گا؟آخرہم انصاف کیلئے کہاں جائیں؟ہمارے بزرگوں نے مشرقی پاکستان میں بھی پاکستان کاساتھ دیالیکن اس کاصلہ یہ ہے کہ وہ گزشتہ 45برسوں سے بنگلہ دیش کے ریڈکراس کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں اورکوئی انہیں پوچھنے والانہیں ہے، مہاجروں نے وطن کی محبت میں ہرقربانی دی لیکن مہاجروں کی قربانیوں کے صلے میں ان پر غداری کے الزامات لگائے جارہے ہیں،انہیں کچلنے اوران کی نمائندہ جماعت کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے ظلم وبربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ 
ندیم نصرت نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین پر فوج کے خلاف باتیں کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں جبکہ یہ قائدتحریک الطاف حسین ہی ہیں جنہوں نے زمانہ طالبعلمی میں فوج میں شمولیت اختیارکی اوران کی شدیدخواہش تھی کہ وہ بھارتی فوجیوں کومارکرشہیدہوں۔یہ قائدتحریک الطاف حسین ہی ہیں جنہوں نے فوج کی حمایت میں لاکھوں کی ریلیاں نکالیں، انہیں سیلوٹ پیش کیالیکن اس کے باوجود ان کی ذات کونشانہ بنایاجارہاہے، ان کی تقریر اورتصویرتک پر پابندی لگادی گئی ہے ، ان کانام لیناجرم بنادیاگیاہے،انہیں ایم کیوایم سے مائنس کرنے کی پوری کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین اپنی ذات میں ایم کیوایم ہیں، ان کے بغیرایم کیوایم کچھ نہیں ، مہاجروں کوقائدتحریک الطاف حسین سے اورقائدتحریک الطاف حسین کومہاجرعوام سے کوئی الگ نہیں کرسکتا۔ندیم نصرت نے کہاکہ چاہے ظلم وجبرکا کیساہی ہتھکنڈہ اختیارکیوں نہ کرلیاجائے لیکن قائدتحریک الطاف حسین کوان کے جانثاروں سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ ہم فوج یا پاکستان کے خلاف نہیں، ہمارایہی مطالبہ ہے کہ ہم پر ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیاجائے، ہمیں ہمارے حقوق دیے جائیں ،ہمیں انصاف فراہم کیاجائے اورہمارے ساتھ بھی برابرکے پاکستانیوں جیساسلوک کیاجائے اورہمیں کچلنے اورختم کرنے کی کوششیں بند کی جائیں۔ اجتماع میں رابطہ کمیٹی کے ار کان واسع جلیل ،محمداشفاق، مصطفےٰ عزیزآبادی ، قاسم علی رضا، انبساط ملک ، رابطہ کمیٹی کے معاون منظوراحمد،سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن طارق جاویدبھی شریک تھے۔ 
*****



12/10/2016 4:39:58 AM