Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم پر الزامات لگائے جارہے ہیں وہ دہشت گرد جماعت ہے اس کے کارکنان دہشت گردی میں ملوث ہیں، ایم کیوایم دہشت گرد جماعت ہوتی تو عوام بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کوپہلے سے زیادہ ووٹ نہ دیتے، بشارت مرزا


ایم کیوایم پر الزامات لگائے جارہے ہیں وہ دہشت گرد جماعت ہے اس کے کارکنان دہشت گردی میں ملوث ہیں، ایم کیوایم دہشت گرد جماعت ہوتی تو عوام بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کوپہلے سے زیادہ ووٹ نہ دیتے، بشارت مرزا
 Posted on: 8/19/2016
ایم کیوایم پر الزامات لگائے جارہے ہیں وہ دہشت گرد جماعت ہے اس کے کارکنان دہشت گردی میں ملوث ہیں، ایم کیوایم دہشت گرد جماعت ہوتی تو عوام بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کوپہلے سے زیادہ ووٹ نہ دیتے، بشارت مرزا
ایم کیوایم کے مسئلے کو دیکھاجائے ، ایم کیوایم بڑی سیاسی قوت ہے ، صدر پاکستان عوامی تحریک کراچی ڈویژن سید علی اوسط
کراچی میں ادارے ہوش کے ناخن لیں اور وہ آئین وقانون کے دائرے میں رہیں ، معروف صحافی مقتدا منصور 
سیاسی چپقلش اپنی جگہ لیکن اس کی آڑ میں کسی پارٹی کو دیوار سے لگانا سیاست نہیں ہے ،صحافی دردانہ شہاب
قائد تحریک الطاف حسین جوکہتے ہیں وہ کرتے ہیں90ء کی دہائی میں الطاف حسین بھوک ہڑتال پربیٹھے اورآج ہم بھوک ہڑتال پربیٹھے ہیں، سید امین الحق
سید علی اوسط ، مقتدار منصور ، دردانہ شہاب کا کراچی پریس کلب کے باہر تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ کے تیسرے روز ایم کیوایم سے یکجہتی کا اظہار، ظلم و زیادتیوں اور ماورائے آئین اقدامات کی کھل کر مذمت 
کراچی ۔۔۔19، اگست2016ء 
پاکستان ڈیموکریٹ پارٹی کے وفد نے بشارت مرزاکی سربراہی میں اور پاکستان عوامی تحریک کراچی ڈویژن کے صدر سید علی اوسط نے اپنے وفد کے ہمراہ بھوک ہڑتالی کیمپ کادورہ کیااوررکن رابطہ کمیٹی سیدامین الحق سے ملاقات کرکے بھوک ہڑتال پربیٹھے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی اوردیگر ذمہ داران وکارکنان سے مکمل اظہار یکجہتی کیا۔اس موقع پرسیدامین الحق نے پاکستان ڈیموکریٹ پارٹی اورپاکستان عوامی تحریک کے وفود کا بھوک ہڑتال کیمپ میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کی جانب سے خیرمقدم کرتے ہوئے ان کاشکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایم کیوایم جمہوری جماعت ہے جو اپنا احتجاج ریکارڈکروانے کے لئے جمہوری راستہ اختیارکیے ہوئے ہے۔ انہوں نے وفودکے ارکان کوبھوک کی وجوہات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مہاجروں کوجسمانی ،سماجی اورتعلیمی قتل عام کیاجارہاہے اوراس کے ساتھ قائدتحریک الطاف حسین کی تصویر،تقاریراوربیانات پرغیرآئینی پابندی لگادی گئیں ہے۔انہوں نے کہاکہ الطاف حسین وہ واحدشخص ہیں جنہوں نے 90کی دہائی میں سب سے پہلے تادم مرگ بھوک ہڑتال کی ۔انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین جوکہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ قائدتحریک الطا ف حسین 90ء کی دہائی میں جب بھوک ہڑتال بیٹھے توتمام سیاسی جماعتوں اورسماجی پارٹیوں نے یکجہتی کااظہارکیااوران میں سب سے آگے بابائے جمہوری نواب زادہ نصراللہ خان ہواکرتے تھے اورآج کے پارٹی کے بشارت مرزابھی اظہاریکجہتی کے لئے آئے ہیں۔اس موقع پربشارت مرزانے کہاکہ آج جودوست اورساتھی بھوک ہڑتال پربیٹھے ہیں انہوں نے ثابت کیاہے کہ وہ حق اورسچ کے لئے ہرطرح کی قربانی دینے کوتیارہیں۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے کہاکہ سگریٹ چھوڑناہے توسب سے پہلے خودچھوڑی اس کے بعدانہوں نے کارکنان کوکہاکہ وہ سگریٹ چھوڑدیں۔انہوں نے کہاکہ 90کی دہائی میں جوبات میں دیکھی تھی آج وہی جذبہ میں نے یہاں دیکھاکہ کس طرح کارکنان وذمہ داران بھوک ہڑتال پربیٹھیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پرالزامات لگائے جارہے ہیں وہ دہشت گرد جماعت ہے اس کے کارکنان دہشت گردی میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگراس بات میں زرہ برابر بھی سچائی ہوتی توکراچی کے عوام ہربارکی طرح حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم کوووٹ نہ دیتے ۔ایم کیوایم سیاسی جماعت ہے اس سے سیاسی اندازمیں بات کی جائے اوران کے تحفظات دورکیے جائیں کیونکہ یہ جمہوری طریقہ ہے اوریہی جمہوریت کاحسن ہے۔پاکستان عوامی تحریک کراچی ڈویژن کے صدر سید علی اوسط نے کہاکہ انشاء اللہ ایم کیوایم کی بھوک ہڑتال کا سلسلہ جلد ختم ہوگا اور ارباب اقتدار اس بات کا نوٹس لیں گے اور تادم مرگ بھوک ہڑتال کو ختم کرانے میں اپنا کردارادا کریں گے ۔ ہم یہی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین وقانون کی پاسداری کی جائے ، کوئی بھی ادارہ ، جماعت اور کوئی بھی شخص آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہے جو بھی شخصی طور پر ، جماعت کے طور پر اور ادارے کے طور پر اگر عدالتوں سے ماوراء ہوکر کوئی اقدام کرتاہے تو وہمارے لئے بھی تشویش کا باعث ہے ، ہم پاکستان میں حقیقی آئین کی علمداری کی جدوجہد کررہے ہیں ، اگر آئین کا نفاذ عملی طو رپر ہوچکا ہوتا آج دہشت گردی اور جرائم نہیں ہوتے ، ایم کیوایم کو پیغام ہے کہ آپ بھی نظام کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں اور ہم بھی اسی کی جدوجہد کررہے ہیں ، پاکستان میں ہر شعبے میں ناانصافی ہورہی ہے اور تمام حکومتوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ آئین وقانون کے مطابق عوام کو حقوق دیں ۔ انہوں نے کہاکہ ماورائے عدالت کوئی بھی اقدام درست نہیں ہے ، ہماری جدوجہد آئینی اور حقوق کی جدوجہد ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ ایم کیوایم کے مسئلے کو دیکھاجائے ، ایم کیوایم بڑی سیاسی قوت ہے اور اسے ایک سائیڈ پر لگانا مناسب نہیں ہے ، پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں کہ اسی طرح کے حالات پیدا کئے گئے ، لوگوں کو کنارے لگایا گیا اور غدار قرار دیاجانے لگا تھا تو پاکستان میں کیا حالات پید اہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کی بات سنی جائے ، ایم کیوایم کا کوئی فرد جرائم میں ملوث ہیں تو اسے ضرور پکڑا جائے اور سزا دی جائے اس کے حامی ہے لیکن ماورائے عدالت قتل کے مخالف ہیں ۔قبل ازیں معروف صحافی اور کالم نویس مقتداء منصور اور محترمہ دردانہ شہاب نے کراچی پریس کلب کے باہر جاری ایم کیوایم کی تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور مکمل یکجہتی کااظہار کیا اور ایم کیوایم کے خلاف جاری غیرآئینی ، غیر قانونی اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ظاہر کی ۔ مقتدا منصور نے بھوک ہڑتالی کیمپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم آئین کی پاسداری کے پابند ہیں اور آئین کا آرٹیکل 8اور 9لوگوں کو تحفظ کا حق دیتا ہے ، کوئی بھی ادارہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی ریاستی ادارے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ دھونس ، دھمکی یا لالچ دیکر کسی جماعت کے کارکن کو دوسری جماعت میں بھیجے ، ایسے تمام گروپس کا حشر بھی وہی ہوگا جو 1992ء میں ہوا ، اس لئے ادارے ہوش کے ناخن لیں اور وہ آئین وقانون کے دائرے میں رہیں ، ہمیں کراچی میں آپریشن پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس کی آڑ میں جو کچھ ہورہا ہے اسے عالمی سطح کے ادارے بھی تسلیم کررہے ہیں کہ کراچی شہر میں آئین وقانون کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کبھی مجرموں کی سرپرستی نہیں کی ، ہم نے کبھی بھی اس بات کی حمایت نہیں کی کہ مجرموں کو چھوڑ دیں ، ہم نہیں چاہتے انصاف کا نام لیکر ناانصافی کی فضا قائم کی جائے ، طویل عرصے تک لوگوں کو حراست میں رکھاجائے اور تشدد کے ذریعے ہمدردیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے یہ تمام عمل کسی بھی طور پر درست نہیں اور قابل مذمت ہے ، ہم نے اظہار رائے اور لوگوں کی آزادی کیلئے ہمیشہ جدوجہد کی ہے ، میں گزشتہ تین سال سے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہوں 4دسمبر 2013ء کو گورنر ہاؤ س میں ہونے والی میٹنگ میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ جب تک مانیٹرنگ کمیٹی نہیں بنائی جائے گی اداروں کو اس طرح نہیں چھوڑا جاسکتا ، 5دسمبر 2013ء کو پھر گورنر ہاؤ س میں میٹنگ ہوئی جس میں وزیراعظم ،و زیرداخلہ موجود تھے اس میں بھی کہا کہ جب تک کوئی کمیٹی نہیں بنے گی حالات قابو میں نہیں آئیں اور ناانصافیوں کا ایک نہ ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوگا۔ ممتاز صحافی محترمہ دردانہ شہاب نے کہا کہ ایم کیوایم کی تادم مرگ بھوک ہڑتال کو 48گھنٹے ہوچکے ہیں ، ایم کیوایم ملک کی تیسری بڑی جماعت ہے ، وزیراعظم کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ کسی نمائندے کے ذریعے اس معاملے کو حل کرائیں ، سیاسی چپقلش اپنی جگہ لیکن اس کی آڑ میں کسی پارٹی کو دیوار سے لگانا سیاست  نہیں ہے ، ایم کیوایم منظم سیاسی جماعت ہے جس کے کارکنوں کی قربانیاں ہیں ، آج بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر مجھے بہت تشویش ہورہی ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیا ، 3سال اور 1سال کیلئے کسی کو غائب کردیاجائے تو ان کے اہل خانہ کا دکھ بہت زیادہ ہوتا ہے ، صحافی ہونے کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ حقائق بیان کریں ، صحافی نہ صرف قلم ، روایت کے ساتھ ہیں بلکہ ایم کیوایم کے ساتھ بھی کھڑے ہیں اور ایم کیوایم کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ صحیح نہیں ہورہا ہے ، وفاقی حکومت کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی ، 1992ء میں دیکھا گیا کہ ایم کیوایم کو نہیں توڑا جاسکا ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں بچے اغواء ہورہے ہیں وہاں بھی آپریشن کی ضرورت ہے اور وہاں بھی مجرموں کو سزا ملنے کی ضرورت ہے ، کسی ایک قوم ، صوبے یا شہر پر ظلم نہیں ہونا چاہئے اور ظلم کے خلاف ہم بلاشبہ ایم کیوایم کے ساتھ ہیں ۔





مزید تصاویر

9/27/2016 8:44:56 PM