Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ تادم مرگ بھوک ہرٹالی کیمپ کے تیسرے دن اپنی دردناک اور المناک روداد سناتے ہوئے رو پڑے


ایم کیوایم کے اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ تادم مرگ بھوک ہرٹالی کیمپ کے تیسرے دن اپنی دردناک اور المناک روداد سناتے ہوئے رو پڑے
 Posted on: 8/19/2016
ایم کیوایم کے اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ تادم مرگ بھوک ہرٹالی کیمپ کے تیسرے دن اپنی دردناک اور المناک روداد سناتے ہوئے رو پڑے 
خدارا ہمارے پیاروں کی رہائی اور بازیابی کیلئے آئین، قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے، اسیر و لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ
میرے شوہر رینجرز، پولیس جس کسی کے بھی پاس ہیں انہیں بازیاب کرادیں، لاپتہ کارکن عیسی علی کی اہلیہ محترمہ عریشہ
میرا بیٹا کرائے کی گاڑی چلاتا ہے ، کرائے کا مکان ہے ، تین چھوٹے بچے ہیں ، میں بوڑھی عورت ہوں کہاں سے گزارا کروں، لاپتہ کارکن کی والدہ محترمہ زرینہ بیگم 
ہم انتہائی مایوس ہوچکے ہیں اور درد بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ، ہمشیرہ لاپتہ کارکن محمد شاہد
کراچی ۔۔۔19، اگست2016ء
مہاجروں کے سیاسی ، معاشی ، سماجی ، تعلیمی ، جسمانی قتل عام ، کارکنان کے گھروں و دفاتر پر غیر آئینی و غیر قانونی چھاپوں ، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی کراچی پریس کلب کے باہرجاری ’’تادمِ مرگ بھوک ‘‘ تیسرے دن ایم کیوایم کے اسیر اورلاپتہ کارکنان کے اہل خانہ اپنی درد ناک اور المناک روداد سناتے ہوئے رو پڑے اور انہوں نے ارباب اختیار و اقتدار سے اپیل کی کہ خدارا ہمارے پیاروں کی رہائی اور بازیابی کیلئے آئین ، قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ اسیر اورلاپتہ کارکنان کے اہل خانہ جب تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ میں اپنی دکھ بھری داستانیں سنا رہے تھے تو ماحول سوگوار ہوگیا ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ میں ایم کیوایم کے لاپتہ کارکن عیسی علی کی اہلیہ محترمہ عریشہ نے حکمرانوں سے اپیل کی ہے کہ میرے شوہر رینجرز ، پولیس جس کسی کے بھی پاس ہیں انہیں بازیاب کرادیں ۔ میرے شوہر عیسی علی کو9 ، اگست کو اٹھایا گیا آج 12دن ہوگئے ہیں ۔ معلومات کی جائے تو کہیں سے کوئی مثبت جواب نہیں ملتا ، میں اپنے بچوں کو کس طرح سے پالوں ، میری و زیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے درخواست ہے کہ جس طرح انہوں نے کل 6کارکنان کو رہا کرایا ہے اسی طریقے سے میرے شوہر کی بازیابی کے احکامات بھی صادر فرمادیں ۔ لاپتہ کارکن کی والدہ محترمہ ذرینہ بیگم نے کہا کہ میرے بیٹے کو 22ویں رمضان کو دوپہر کو فون کرکے بلوایا اور دھکے مارتے ہوئے لے گئے ، میرا بیٹا کرائے کی گاڑی چلاتا ہے ، کرائے کا مکان ہے ، تین چھوٹے بچے ہیں ، میں بوڑھی عورت ہوں کہاں سے گزارا کروں ۔ ہائی کورٹ بھی گئے ہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہورہی ہے ۔ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکن محمد شاہد کی ہمشیرہ نے کہا کہ میرا بھائی 21جولائی سے لاپتہ ہے ، جناح اسپتال میں اپنی بیماری پھوپھی کو لیکر گئے تھے لیکن انہیں وہاں گیٹ پر سے گرفتار کرلیا گیا ، ہم انتہائی مایوس ہوچکے ہیں اور درد بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ، میرا مطالبہ ہے کہ میرے بھائی کو فی الفور بازیاب کرایاجائے اور ظلم و جبر کا سلسلہ بند کیاجائے ۔ ایم کیوایم کے گرفتار کارکن نوید کی بہن محترمہ شازیہ نے بتایا کہ میرے بھائی کی عمر 26سال ہے ، 21جنوری 2015ء کو گھر کے دروازے سے اٹھایا گیا ، میرا بھائی قید میں بہت روتا ہے ، میں ہاتھ جوڑتی ہوں کہ اسے رہائی دلائی جائے ۔ میرے بھائی کا گناہ بتایا جائے اگر مجرم ہے تو عدالت میں پیش کیاجائے ۔ تین سے لاپتہ ایم کیوایم پی آئی بی کالونی ٹاؤن کے کارکن محمد نعیم کے چھوٹے چھوٹے بچوں نے بتایا کہ ہمارے پاپا تین سال سے لاپتہ ہیں ، ہمارے پاپا کا کوئی قصور نہیں، ہے ،ہمیں ہمارے پاپا چاہئے ، انہیں بازیاب کرایا جائے ، رینجرز والے ظلم وجبر کررہے ہیں اور چھوٹے چھوٹے بچوں تک سے باپ کا سایہ چھین رہے ہیں ۔





مزید تصاویر

12/6/2016 1:57:36 PM