Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اداروں، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ، آرمی چیف، وزیراعظم اور صدر سے کی جانے والی فریادوں سے مایوس ہوکر ساری امیدیں صرف اللہ تعالیٰ سے لگالی ہیں، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل


اداروں، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ، آرمی چیف، وزیراعظم اور صدر سے کی جانے والی فریادوں سے مایوس ہوکر ساری امیدیں صرف اللہ تعالیٰ سے لگالی ہیں، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل
 Posted on: 8/18/2016
اداروں، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ، آرمی چیف، وزیراعظم اور صدر سے کی جانے والی فریادوں سے مایوس ہوکر ساری امیدیں صرف اللہ تعالیٰ سے لگالی ہیں، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل 
جب بھی راستہ اختیار کیا قانونی راستہ اختیار کیا ہے، تادم بھوک ہڑتال بھی جمہوری راستہ ہے، کنور نوید جمیل
یہ کراچی کے لوگوں کی بد قسمتی تھی کہ 2008ء میں ہونے والے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی ایک نااہل اور نسل پرست حکومت حکمرانی میں آئی، کنور نوید جمیل
کراچی اور اس کے لوگوں کو لوٹ کا مال سمجھ لیا ہے اوراس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی جرائم کی آماجگاہ بن گیا جہاں پر لوگ گھروں اور روڈوں پر بھی محفوظ نہیں رہے، کنور نوید جمیل 
27سال سے کراچی کے لوگ اپنا مینڈیٹ ایم کیوایم کو دیتے چلے آرہے ہیں ، آج بھی کراچی کا 85فیصد مینڈیٹ ایم کیوایم کے پاس ہے ،کنورنوید جمیل 
ظلم وجبر کے خلاف آج بھی تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کے باوجود کراچی میں چھاپے مارے گئے اور جنہیں گرفتار کیا گیا ان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ ایم کیوایم کے کارکنان ہیں، کنور نوید جمیل 
بھوک ہڑتال میں 10 مزید منتخب نمائندے، ذمہ داران و کارکنان کا اضافہ ہوا ہے، کنور نویدجمیل 
تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کیلئے جن افراد کے نام موصول ہوئے ہیں ان کی تعداد سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ چکی ہے ، نوید جمیل 
کراچی پریس کلب کے باہر کی جانے والی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کے دوسرے دن شام کو میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ 
کراچی ۔۔۔18، اگست2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیوایم کی جانب سے تادم مرگ شروع کی جانے والی بھوک ہڑتال میں 10مزیدمنتخب نمائندے ، ذمہ داران و کارکنان کا اضافہ ہوا ہے اور اس طرح اب تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والوں کی تعداد 16ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کیلئے جن افراد کے نام موصول ہوئے ہیں ان کی تعداد سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ چکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ رینجر ز کراچی میں پرسنل ہوچکی ہے اور اپنا ایجنڈا رکھتی ہے ،ادارے اپنے کو عدالتوں، قانون اور حکومت سے ماورا سمجھنے لگے ہیں، ان کیلئے کراچی کے لوگ زمین پر رینگتے ہوئے کیڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اداروں کی ضد نے پہلے بھی پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے،ملٹری بیورو کریسی ہو یا پیرا ملٹری فورسز کے اعلیٰ افسران ہوں وہ اسی زعم او ر غرور میں مبتلا ہیں کہ جو ہم کریں گے وہ انصاف ہے لیکن کراچی میں ظلم جب حد سے بڑھا تو بین الاقوامی ادارے اٹھ کھڑے ہوئے، دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شور مچانا شروع کردیا کہ کراچی میں انسانی حقو ق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہے ، ماورائے عدالت قتل کئے جارہے ہیں اور مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے مہاجروں کے سیاسی ، معاشی ، سماجی ، تعلیمی ، جسمانی قتل عام ، کارکنان کے گھروں و دفاتر پر غیر آئینی و غیر قانونی چھاپوں ، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کی کراچی پریس کلب کے باہر ’’تادمِ مرگ بھوک ‘‘ ہڑتال کے دوسرے دن شام کے وقت میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان اور دوسرے دن تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے رکن قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین ، ارکان سندھ اسمبلی سیف الدین خالد ، فیصل رفیق ، ایم کیوایم کے مرکزی رہنما سید اویس الحسن برنی ، ایم کیوایم کے سینئر کارکن اور ذمہ داران شہزاد ، عامر مسعود ، جاوید اختر ، محمد رشید ، محمد امجد اور کے ایم سی کونسل برائے مخصوص نشست کے رکن سردار گرمکھ سنگھ بھی موجود تھے ۔ کنور نوید جمیل نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کراچی شہر جو 2008ء سے پہلے ایک ہنستا بستا شہر تھا ، دن ورات ترقی کررہا تھا اور کراچی کے لوگ اپنی شب و روز محنت سے کمائی ہوئی آمدنی کا ایک بہت بڑا حصہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں ادا کررہے ہیں اور انہی ٹیکسوں سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں چلتی ہیں ، جن سے اسلام آباد راولپنڈی اور کراچی سے لیکر کوئٹہ تک کے لوگوں کوسہولیات دی جاتی ہیں ، یہ اس شہر کا پیسہ ہے لیکن یہ کراچی کے لوگوں کی بد قسمتی تھی کہ 2008ء میں ہونے والے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی ایک نااہل اور نسل پرست حکومت حکمرانی میں آئی جس نے کراچی اور اس کے لوگوں کو لوٹ کا مال سمجھ لیا ہے اوراس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی جرائم کی آماجگاہ بن گیا جہاں پر لوگ گھروں اور روڈوں پر بھی محفوظ نہیں رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کو گزشتہ 27سال سے کراچی کے لوگ اپنا مینڈیٹ دیتے چلے آرہے ہیں اور آج بھی کراچی شہر کا 85فیصد مینڈیٹ ایم کیوایم کے پاس ہے لیکن ادارو ں کی زبوں حالی اور حکمرانوں کی بدنیتی دیکھ کر ان کی ہوس پہچان کر قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم نے فوج سے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت کرپٹ ہوچکی ہے اور پولیس بھی کرپٹ ہے یہ کراچی میں امن و امان کنٹرول نہیں کرسکتے لہذا فوج یہاں آکر امن وامان بحال کرے اور جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کی کراچی کو امن لوٹانے کی خواہش ایم کیوایم کا جرم بن گئی جنہیں ہم نے بڑے مان اورامیدوں سے کراچی میں مدعو کیا ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ اپنے دل میں کیا عزائم لئے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ پورے پاکستان کے سب سے پڑھے لکھے لوگ ہیں ، پچھلے دنوں انتہائی موقر جریدے نے یہ بات لکھی کہ پورے ملک میں جتنے پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں ان کا پچاس فیصد لوگ کراچی میں رہتے ہیں ۔ رینجر ز کراچی میں پرنسل ہوچکی ہے اور اپنا ایجنڈا رکھتی ہے ، ایم کیوایم کے کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیاجارہے ، لاپتہ کیاجارہا ہے ، کم از کم ایسی مانیٹرنگ کمیٹی تو بنا دیں جہاں پر لوگ جاکر جبراًطور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے درخواستیں دے سکیں ، اپنے تمام تر نقصانات کے باوجود ہمیں کراچی کا امن اور لوگوں کی سکون کی نیند عزیز ہے ، بدقسمتی سے وہ ادارے جنہیں کراچی کے لوگ اپنے پیسے دیتے ہیں وہ اپنے آپ کوہر عدالتوں، قانون اور حکومت سے ماورا سمجھنے لگے ہیں ، ان کیلئے کراچی کے لوگ زمین پر رینگتے ہوئے کیڑے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملٹری بیورو کریسی یا پیرا ملٹری فورسز کے اعلیٰ افسران ہوں وہ اسی زعم او ر غرور میں مبتلا ہیں کہ جو ہم کریں گے وہ انصاف ہے لیکن ظلم جب حد سے بڑھا تو بین الاقوامی ادارے اٹھ کھڑے ہوئے، دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شور مچانا شروع کردیا کہ کراچی میں انسانی حقو ق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہے ، ماورائے عدالت قتل کئے جارہے ہیں ، مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں ، اداروں کی ضد نے پہلے بھی پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ظلم وجبر کے خلاف آج بھی تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کے باوجود کراچی میں چھاپے مارے گئے اور جنہیں گرفتار کیا گیا ان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ ایم کیوایم کے کارکنان ہیں ، پڑھے لکھے اور محنت کرنے والے کارکنوں کو پکڑ کر کہا جارہا ہے کہ جاؤ اس جماعت میں جو ہم نے بنائی ہے اور کارکنان دباؤ میں آکر چلے جاتے ہیں اور ان پر مقدمات ختم کردیئے جاتے ہیں اور جو دباؤ کو قبول کرنے سے انکار دیتے ہیں تو ان پر بڑے بڑے جھوٹے اور بے بنیاد کیس بنائے جارہے ہیں، کل ملیر پولیس نے کاروائی کی اس کے ایس ایس پی کس کو جوابدہ ہے سب جانتے ہیں، کل میں قومی اسمبلی میں موجود تھا وہاں پیپلز پارٹی کے سرکردہ لوگوں سے بات کی کہ یہ پولیس کررہی ہے اور راؤ انوار کس کا لگایا ہوا ہے ؟، ملیر کی پولیس آکر گلستان جوہر اور ڈسٹرکٹ ایسٹ میں آکر چھاپے مار رہی ہے اور کارکنان کو 12مئی کے کیس میں گرفتار کیاجارہا ہے جس پر ہائی کورٹ کا کمیشن بھی بن چکا ہے جو لکھ کر دے چکا ہے کہ اس میں ایم کیوایم اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کا کوئی جرم نہیں ہے لیکن کے باوجود انہیں پکڑ کر گرفتار کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ادارے بتائیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر پورے کراچی میں قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا گیا ، کراچی کی فیکٹریوں میں کام کرنے والی 34بہنوں کو اغواء کرکے عصمت دری کی گئی ان کے مجرم کہاں ہیں ؟اور کیوں نہیں پکڑے جاتے ؟، ہمیں پتا ہے قصبہ علی گڑھ میں قتل عام کیا گیا ان کے قاتل کہاں ہیں ؟ کراچی سے اسٹیل ٹاؤن جانے والی بسوں پر فائرنگ کرکے قتل کردیا جاتا تھا کہاں ہے اس کی جے آئی ٹیز اور میڈیا رپورٹیں ؟
انہوں نے کہا کہ اداروں اور ان سے وابستہ لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ٹھیک ہے کہ پاکستان میں آپ سب سے بڑے ہیں لیکن پاکستان میں ہی پوری کائنات ختم نہیں ہوجاتی اور پوری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ، ہم نے اداروں ،سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ ، ملٹری اسٹیبلشمنٹ ، آرمی چیف ، وزیراعظم ، صدر سے سے کی جانے والی فریادوں سے مایوس ہوکر ساری امیدیں صرف اللہ تعالیٰ سے لگا لی ہیں اتنے ماورائے عدالت قتل کے بعد بھی یہ ایم کیوایم کا کریڈیٹ ہے کہ آج تک ایم کیوایم نے کوئی غیر قانونی اور انتہاء پسندانہ راستہ اختیار نہیں کیا اور جب بھی راستہ اختیار کیا قانونی راستہ اختیار کیا ہے ، تادم بھوک ہڑتال بھی جمہوری راستہ ہے ، کاش یہ سب کچھ ہم یورپ کے کسی ملک میں کررہے ہوتے ، جب انگلینڈ میں ایسا ہوا تو وہاں کی حکومت نے مسائل سن کر ریفرنڈم کرا دیا ، کاش یہاں کے حکمران اور اداروں کے بااختیار لوگ کچھ نہ کریں صرف ایک غیر جانبدار اور غیر متعصبانہ کمیشن بنا دیں اور یہ دیکھ لیں کہ ان تین سالوں میں جن بے گناہوں کو پکڑ کر قتل کردیاگیا ، لاپتہ کردیا گیا انہیں انصاف دلا دیں، آج بھی 131لوگ لاپتہ ہیں لیکن کہ دیا جاتا ہے کہ ہمیں کیا معلوم ہے ۔ اس وقت سینٹرل جیل میں کم از کم تین سو ایسے کارکنان موجود ہیں جنہیں سادہ لباس والوں نے گرفتار کیا تھا اور رینجرز نے بعد میں ان کے نوے روز کے ریمانڈ لئے اور عدالت میں پیش کیا ۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد شہید جو فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹر تھے جن کا جوڈیشل ریمانڈ لیا گیا پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیت چیف آف آرمی اسٹاف نے اس کا نوٹس لیا پتا نہیں وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ان کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کو معلوم ہے کہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل ہورہے ہیں ، کراچی میں لوگوں کو پکڑ کر جبری گمشدہ کیاجارہا ہے لیکن وہ ایکشن نہیں لیتی ہے ، اس وقت بھی ایم کیوایم کے 61کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ان تما م کی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل تھی لیکن کسی جج نے ایکشن نہیں لیا اور ایم کیوایم کے جو 131لاپتہ ہیں ان کی بھی ہائی کورٹ میں پٹیشن ہیں لیکن ججز انہیں بازیاب کرانے سے قاصر ہے ۔ 
تصاویر

9/29/2016 6:49:15 PM