Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم کے کسی کارکن کو گرفتار کریں تو قانونی طور پر اسے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کریں اور اس کا جرم بتائیں، رابطہ کمیٹی اراکین محفوظ یار خان، گلفراز خٹک، ساتھی اسحاق


 Posted on: 8/16/2016
قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم کے کسی کارکن کو گرفتار کریں تو قانونی طور پر اسے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کریں اور اس کا جرم بتائیں، رابطہ کمیٹی اراکین محفوظ یار خان، گلفراز خٹک، ساتھی اسحاق 
ایم کیوایم مجرموں کی جماعت نہیں ہے ، چھاپے و گرفتاریوں کے بعد کارکنان پر تشدد کے عنصر کی پرزور مذمت کرتے ہیں ،اراکین رابطہ کمیٹی 
سہراب گوٹھ فائر بریگیڈ اسٹیشن پر چھاپہ مارکر ان سرکاری ملازمین کو گرفتار کیاجو اپنے جذبہ حب الوطنی کو سامنے رکھتے ہوئے آگ بجھاتے ہیں، اراکین رابطہ کمیٹی 
17سے زیادہ کارکنان کی برآمدگی کا اعلان آزاد عدلیہ اکیلئے انتہائی سوالیہ نشان ہے، رابطہ کمیٹی
اپنی ناکامی اورنااہلی پر شرمندہ ہونے کے بجائے معصوم شہریوں کو گرفتار کرنابد ترین عمل ہے ، رابطہ کمیٹی اراکین
آرمی چیف انکوائری کرالیں میرا بیٹا اور داماد پڑھے لکھے ہیں اور ان کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ، سی ای سی رکن محترمہ زاہدہ
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔16، اگست2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے اراکین محفوظ یار خان ایڈووکیٹ ، گلفراز خٹک ایڈووکیٹ اور ساتھی اسحاق ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جرائم کے حوالے سے ایم کیوایم میں زیرو ٹالیرنس ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ قانو ن نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم کے کسی کارکن کو گرفتار کریں تو قانونی طور پر اسے 24گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کریں اور اس کا جرم بتائیں، ایم کیوایم کوئی مجرموں کی جماعت نہیں ہے ، چھاپے و گرفتاریوں کے بعد کارکنان پر تشدد کے عنصر کی پرزور مذمت کرتے ہیں ، گزشتہ شب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے سہراب گوٹھ فائر بریگیڈ اسٹیشن پر چھاپہ مارکر ان سرکاری ملازمین کو گرفتار کیاجو اپنے جذبہ حب الوطنی کو سامنے رکھتے ہوئے آگ بجھاتے ہیں اور اکثر تو خود ہی لقمہ اجل بن جاتے ہیں لیکن انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا کھلی بدنیتی ہے ، ایم کیوایم لیبر ڈویژن اس شہر کی مستحکم تنظیم ہے ، بیشتر اداروں میں جب ریفرنڈم ہوتے ہیں تو لیبر ڈویژن کے پینل کامیاب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو بہت پریشانی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کو خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے رکن عارف خان ایڈووکیٹ کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کی رکن محترمہ زاہدہ بھی موجود تھیں جن کے بیٹے محمد معراج خان اور داماد ظفر خان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلاجواز اور غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محفوظ یار خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ چھاپے و گرفتاریوں میں چادر اور چار دیواری اور خواتین کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے ، 2013ء سے جاری شدہ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کو جھیلتے ہوئے تحریکی ساتھیوں نے بھر پور انداز سے جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے ، ہم اب تک کسی دھونس دھاندلی سے اپنے پرامن احتجاج میں کوئی کمپر ومائز نہیں کریں گے ، ہم حق پرستی کی بات کریں اور ہم آمریت شکن ہے ، ان حالات میں جب ایم کیوایم کے کارکنان کی گرفتاریاں ہوتی ہے تو ہمارا دل بھی اسی طرح روتا ہے جس طرح ساتھی کے گھر والے پریشان ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اگرایم کیوایم کا کوئی کارکن گنہگار ہے تو ایم کیوایم کی اس حوالے سے زیروٹالیرنس پالیسی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی ساتھی کو گرفتار کریں تو قانونی اعتبار سے 24گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرکے اس کا جرم بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی مجرموں کی جماعت نہیں ہے بلکہ پاکستان کی پڑی لکھی جماعت کے کارکن ہیں ،ہم جیل کے اندر الیکشن لڑ رہے ہوں یا باہر ہم عوام کے مسائل کا ادراک چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گرفتار کارکنان پر بلاجواز تشدد کے عنصر کی مذمت کرتے ہیں ، ہم قانون کے متوالے ہیں ہم اس ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں لہٰذا ہم اپنے مد مقابل سے یہ کہیں گے کہ وہ قانون کی دھجیاں نہ اڑائیں ، ملک کے قانون کو قانون کی شکل میں رہنے دیں ، بعض ادارے جو اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھ رہے ہیں وہ جان لیں کہ جن لوگوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اُن کا جس طرح سے ٹرائل ہوا ہے ، سزائیں دی گئیں ہیں وہ تاریخ میں موجود ہے ۔ رابطہ کمیٹی کے رکن ساتھی اسحاق نے کہاکہ کراچی میں گزشتہ تین برس سے بد ترین آپریشن ایم کیوایم کے کارکنوں کو گرفتار کرنے، ماوررائے عدالت قتل کرنے پر ہی مشتمل ہے باقی شہر میں اسٹریٹ کرائم ،لوٹ مار گاڑیاں چھینے کے بے شمار واقعات ہوتے ہیں ، 14 اگست کے موقع پر بھی جرائم پیشہ عناصر کو لوٹ مار کی کھلی چھٹی دی گئی اور جرائم پیشہ عناصر نے اسلحہ کے زور پر لوٹ مار کی ، خواتین کے ساتھ بد تمیزی کی لیکن ان جرائم پیشہ عناصر اور سماج عناصر کے خلاف کوئی کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی اگر کاروائی ہوئی تو ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کی گرفتاریوں کی صورت میں ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ 8اگست کو کوئٹہ میں واقعہ ہوا اس کی ذمہ داری کالعدم مذہبی انتہاء پسندوں نے قبول کی لیکن ان عناصر کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے کراچی میں آپریشن کو اور تیز کردیا گیا ، ہمارے اکثریتی علاقوں میں کومبنگ آپریشن کرکے کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے ، اپنی ناکامی اورنااہلی پر شرمندہ ہونے کے بجائے معصوم شہریوں کو گرفتار کرنا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنا ، عقوبت خانوں میں تشدد کرنا ، عدالتوں میں پیش نہ کرنا قانون کی بد ترین حکمرانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن کا مقصد کراچی میں امن و امان کے بجائے ایم کیوایم کو ختم کرنے کاایجنڈا ہے ، ایم کیوایم کو حاصل عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنا ہے اور میئر کراچی کے الیکشن کو چھیننا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹر آفتاب احمد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کرماورائے عدالت قتل کردیا گیا ، ، 7اگست کو شاہ فیصل کے کارکن وحید شیخ کو سراکاری حراست میں شہید کیا گیا ، لاپتہ کارکن اعجازالحق ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ، 62کارکنان ماورائے عدالت قتل ہوئے ، 135لاپتہ ہیں اور ان میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ، آرمی چیف نے کہا تھا کہ رینجرز کے جو اہلکار آفتاب احمد کے قتل میں ملوث ہیں انہیں منظر عام پر عام لائیں گے لیکن تین ماہ ہونے والے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کن رینجرز کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی ہوئی ، اب تک رینجرز اہلکاروں کے نام تک نہیں آئے ۔ ہم آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آفتاب احمد کے قتل میں ملوث پانچ رینجرز اہلکاروں کو منظر عام پر لایاجائے ۔رابطہ کمیٹی کے رکن گلفراز خان خٹک نے کہا کہ پچھلے تین برس سے کراچی آپریشن شروع ہوا تو صرف ایم کیوایم کو ٹارگٹ کیا گیا ، ان تین برس میں ایم کیوایم کے پانچ ہزار سے زیادہ بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ، ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ، ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا اور ان بے گناہ کارکنان میں سے ساڑھے چار ہزار پر جھوٹے مقدمات قائم کرنے کے بعد پابند سلاسل کیا گیا ، 2ہزار سے کارکنان ایم کیوایم کے اب بھی پابند سلاسل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پچھلے تین سالوں میں جگہ جگہ قانو ن نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ کراچی میں امن قائم کردیا ہے اور دودھ کی نہریں بہا دی ہیں لیکن اسی شہر میں ایم کیوایم کے 300سے زائد کارکنان شہید ہوتے ہیں اور کسی ایک کارکن کا قاتل نہیں پکڑا جاتا اور کسی ایک کارکن کی ایف آئی آر تک درج نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ اسی شہر میں ایم کیوایم کے 130سے زیادہ کارکنان لاپتہ ہیں ، اہل خانہ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اسی شہر میں لاکھوں کروڑوں عوام کے سامنے برملا اعتراف کیا جاتا ہے کہ 17سے زیادہ کارکنان ہم نے برآمد کئے ہیں تو یہ آزاد عدلیہ کیلئے انتہائی سوالیہ نشان ہے کہ کہ ایسی کونسی طاقت ہے جوپاکستان کے سب سے بڑے ادارے عدلیہ سے بھی زیادہ بااختیار ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم اور مہاجر عوام کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ، کراچی کو مفتوھہ علاقہ سمجھ کر یہاں کے حقوق اور وسائل غصب کئے جارہے ہیں ۔ راتوں کو گھروں میں گھس کر خواتین سے بد مزگی کی جاتی ہے ، ایم کیوایم کے کارکنان کو سازش کے تحت جرائم پیشہ افراد کی طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے ، ایم کیوایم کے عہدیداروں کو ایسے اٹھایا جاتا ہے جیسے وہ چور ڈاکو لیٹرے ہوں اور ان پر بغیر کسی وجہ کے تشدد کیاجاتا ہے ، نہ ان کی کوئی ایف آئی آر کٹتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے دائرے میں رہ کر کام نہیں کررہے ہیں۔
یم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کی رکن محترمہ زاہدہ نے کہا کہ رات کو سوا تین بجے کے قریب میرے گھر کا دروازہ زور زور سے بجایا جاتا ہے میں نے پوچھا کون ہے ،کہا گیا کہ سرچ آپریشن ہے ، میں نے کہاکہ کس چیز کا آپریشن تو کہا کہ معراج کو باہر نکالو ، میں نے کہاکہ میرے بیٹے کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے ، آپ کو لیجانا ہے تو مجھے لے جائیں جس پرلاتیں گھونسوں اور رائفل سے دروازہ توڑنے کی کوشش کی ، میرے بیٹے کو لے گئے میں نے کہاکہ یہ چور لگتا ہے وہ انگلینڈ یورنیورسٹی سے تعلیم حاصل کررہا ہے ، ریسکیو فائیو سینٹر ہاکس بے کا انچارج ہے ، اور جانوں کا تحفظ کرتا ہے اور جو پانی میں ڈوب جاتے ہیں ان کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرتا ہے ، ریسکیو فائیو کا دورہ کریں اور پوچھیں کے محمد معراج خان کیسا افسر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میرے داماد ظفر کان کو بھی 11مارچ کو اٹھایا گیا ،ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ان کی چھوٹی بچی ہے گھر سے مارتے ہوئے لیکر گئے ، چھوٹے بھائی کو بھی لے گئے ۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے اپیل کی کہ میرا بیٹا معراج محمد خان پڑھا لکھا ہے آپ اس کی ہر طرح سے انکوائری کرائیں اگر غلط ثابت ہوتا ہے تو کٹہرے میں لائیں اور صحیح ثابت ہو تو جو لوگ اسے گرفتار کرکے لے کر گئے انہیں قرار واقعی سزا دلوائیں ۔۔

9/28/2016 12:08:02 AM