Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سانحہ کوئٹہ، بے گناہ کارکنوں اور بلوچستان کے لوگوں کی شہادت پر یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے 14 اگست کو کسی قسم کا جشن نہیں منائیں گے۔ کنوینر ندیم نصرت کی سربراہی میں ایم کیوایم کے تنظیمی ذمہ داروں کے اجلاس میں فیصلہ


سانحہ کوئٹہ، بے گناہ کارکنوں اور بلوچستان کے لوگوں کی شہادت پر یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے 14 اگست کو کسی قسم کا جشن نہیں منائیں گے۔ کنوینر ندیم نصرت کی سربراہی میں ایم کیوایم کے تنظیمی ذمہ داروں کے اجلاس میں فیصلہ
 Posted on: 8/8/2016 1
سانحہ کوئٹہ، بے گناہ کارکنوں اور بلوچستان کے لوگوں کی شہادت پر یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے 14 اگست کو کسی قسم کا جشن نہیں منائیں گے۔ کنوینر ندیم نصرت کی سربراہی میں ایم کیوایم کے تنظیمی ذمہ داروں کے اجلاس میں فیصلہ 
ایم کیوایم کی جانب سے سانحہ کوئٹہ پر پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کی جانب سے ایک ہفتہ کے سوگ کی مکمل حمایت 
شہید ہونے والے وکلاء میں ایم کیوایم کوئٹہ کے سینئر کارکن سرفراز شیخ ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں جو عام انتخابات میں ایم کیوایم کے امیدوار بھی رہ چکے ہیں
بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے سوگ میں تمام قسم کی خوشیاں منانے اور چراغاں کرنے کے پروگرام منسوخ کردیے گئے
جشن منانے کے بجائے شہداء کے ایصال ثواب کیلئے جگہ جگہ قرآن خوانی وفاتحہ خوانی اوردعائیہ اجتماعات ہوں گے
اجلاس میں سانحہ کوئٹہ میں شہیدہونیوالوں کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی 
قائدتحریک جناب الطاف حسین کی جانب سے رابطہ کمیٹی اورتنظیمی ذمہ داروں کے فیصلے کی تو ثیق 
اجلاس میں ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی بھی شدیدمذمت کی گئی
ماضی کی طرح حالیہ آپریشن بھی ایم کیوایم کوکچلنے کیلئے کیاجارہاہے، ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن بندکیاجائے
اجلاس میں چاروں صوبوں کے مرکزی رہنما، ذمہ داروں اور کارکنوں کے علاوہ اضلاع اورتحصیلوں کے ذمہ داران کی شرکت
لندن ۔۔۔ 8 اگست 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس کنوینرندیم نصرت کی سربراہی میں منعقدہوا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے مرکزی رہنما، چھوٹے بڑے شہروں کے علاوہ اضلاع اورتحصیلوں کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں آج کوئٹہ میں ہونے والے ہولناک دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اوراس میں وکلاء اورصحافیوں سمیت 70سے زائد معصوم وبے گناہ افرادکی شہادت پر دلی افسوس کا اظہار کیا گیا اور جاں بحق ہونے والے افرادکے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اورزخمیوں کی صحتیابی کیلئے دعاکی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گردوں نے پہلے بلوچستان بارکے صدر بلال کانسی کوگولیاں مار کرشہیدکیااورپھرجب ان کی میت سول اسپتال کوئٹہ پہنچائی گئی تو وہاں ایک دھماکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں سینئروکلاء سمیت 70سے زائد معصوم وبے گناہ افراد شہید ہوئے ۔ شہید ہونے والے وکلاء میں ایم کیوایم کوئٹہ کے سینئرکارکن سرفرازشیخ ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں جوعام انتخابات میں کوئٹہ سے ایم کیوایم کے امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔ اجلاس میں گزشتہ روزسرکاری حراست میں ایم کیوایم کے کارکن وحیدشیخ کی شہادت اوراس سے قبل ماورائے عدالت قتل کئے جانے والے کارکنوں کیلئے بھی فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس میں بلوچستان میں ہونیوالے المناک سانحہ پرپاکستان بارکونسل اور سپریم کورٹ بارکی جانب سے ایک ہفتہ کے سوگ کی مکمل حمایت کی گئی اور فیصلہ کیاگیاکہ ان اندوہناک واقعات، بے گناہ کارکنوں اور بے گناہ مہاجروں اورآج کے خودکش حملے میں بلوچستان کے بے گناہ لوگوں کی شہادت پرہم پورے ملک کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس سال 14 اگست انتہائی سادگی سے منائیں گے ، اس موقع پر کسی قسم کا جشن نہیں منائیں گے اور تمام قسم کی خوشیاں منانے ، چراغاں کرنے کے پروگراموں کومنسوخ کرنے کااعلان کرتے ہیں۔ اس دن شہداء کے ایصال ثواب کیلئے جگہ جگہ قرآن خوانی وفاتحہ خوانی اور دعائیہ اجتماعات ہوں گے۔
اجلاس میں ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل اورسرکاری حراست میں تشدد اور زیادتیوں کے نتیجے میں کارکنوں کے قتل کے واقعات کی بھی شدیدمذمت کی گئی اورکہاگیاکہ ماضی کی طرح حالیہ آپریشن بھی ایم کیوایم کوکچلنے کیلئے کیاجارہاہے۔ اجلاس میں کہاگیاکہ 2013ء کوکراچی میں رینجرز کو اختیارات دے کرآپریشن کلین اپ کی اجازت دی گئی ۔ 2014ء میں آرمی پبلک اسکول کے المناک سانحہ کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں بھی سیاسی وعسکری قیادت کااجلاس ہوا جس میں جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا لیکن ماضی کی طرح 2013ء کے ریاستی آپریشن کارخ بھی مہاجروں بالخصوص ایم کیوایم کی جانب موڑ دیا گیا اور ایم کیوایم کے رہنماؤں اورکارکنوں کوگرفتارکرکے ان پر جھوٹے مقدمات بنا بناکر 90 ، 90 دنوں کیلئے رینجرز کی تحویل میں دینے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ 2013ء سے 2016ء کے دوران ایم کیوایم کے 61سے زائدکارکنوں کا ماورائے عدالت قتل کیاگیا، 135کے کارکن وذمہ داران تاحال لاپتہ ہیں جبکہ ایک ہزارسے زائدکارکنان وذمہ داران ملک کی مختلف جیلوں میں قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ حال ہی میں 3مئی 2016ء کوایم کیوایم کے سینئرڈپٹی کنوینراورقومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ڈاکٹرفاروق ستار کے کوآرڈی نیٹرآفتاب احمد کو رینجرزنے گرفتاری کے بعد انتہائی سفاکانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا۔ اسی طرح ایم کیوایم کے ایک اورکارکن ریاض الحق ، جنہیں ایک سال سے زائد عرصہ قبل رینجرز نے گھرسے گرفتار کیا تھاان کوتشددکے ذریعے شہیدکرکے ان کی لاش 30جون 2016ء کوسرجانی ٹاؤن کے علاقے میں جھاڑیوں میں پھینک دی گئی۔ ایم کیوایم کے کارکن وحید شیخ کو17مارچ 2016ء کوشاہ فیصل کالونی کے یوسی آفس سے رینجرزنے گرفتار کیا اور حراست کے دوران کئی روزتک مسلسل بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔ انکی حالت بگڑجانے کے بعد انہیں جناح اسپتال لے جایاگیا جہاں وہ 15دن بعد خالق حقیقی سے جاملے اجلاس میں کہا گیا کہ سرکاری حراست میں وحید شیخ کی شہادت کھلا قتل ہے اور جوسرکاری اہلکاراس کے ذمہ دارہیں ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں ایک بار پھر ارباب اختیارسے مطالبہ کیا گیا کہ ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن بندکیاجائے،آفتاب احمد، ریاض الحق، وحیدشیخ سمیت ماورائے عدالت قتل کئے گئے تمام شہید کارکنوں کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے اورایم کیوایم کے تمام گرفتار شدگان کوفی الفور رہا کیاجائے ۔ دریں اثناء قائدتحریک جناب الطاف حسین نے ان افسوسناک واقعات پر شدیدرنج وغم کااظہارکرتے ہوئے شہیدوں کے بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی اورزخمیوں کی صحتیابی کیلئے دعا کی اور رابطہ کمیٹی اور تنظیمی ذمہ داروں کے فیصلے کی توثیق کی ہے ۔


9/29/2016 6:52:17 AM