Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے اسیر کارکن وحید شیخ کے قتل کی ایف آئی آر جیل سپرنٹینڈنٹ اور جیل انتظامیہ کے خلاف کاٹی جائے، عارف خان ایڈوکیٹ


 Posted on: 8/7/2016 1
ایم کیوایم کے اسیر کارکن وحید شیخ کے قتل کی ایف آئی آر جیل سپرنٹینڈنٹ اور جیل انتظامیہ کے خلاف کاٹی جائے، عارف خان ایڈوکیٹ
مجرمانہ غفلت اور غیرذمہ دارانہ رویے کے باعث ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہوئی، عارف خان ایڈوکیٹ، رکن رابطہ کمیٹی
محمد وحید شیخ کو 16 مارچ 2016ء کو رینجرز اہلکار وں نے یوسی آفس سے گرفتار کیا اور 24 مارچ 2016ء کو ماڈل کالونی تھانے کے حوالے کیا،01 اپریل 2016ء کو انہیں جیل کی حراست میں دیدیا گیا تھا، عارف خان ایڈوکیٹ
وحید شیخ شوگر اور ٹی بی کے عارضے میں مبتلا تھے لیکن اس کے باوجود انہیں بروقت طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، عارف خان ایڈوکیٹ
وحید شیخ کو جیل اسپتال کے ڈاکٹروں کی جانب سے انجکشن لگایا جس کے بعد ان کی طبعیت مزید بگڑنے لگی، عارف خان ایڈوکیٹ
جیل انتظامیہ کی بے حسی، لاپرواہی اور جناح اسپتال میں نامناسب طبی سہولیات کی وجہ سے وحید شیخ انتقال کرگئے، عارف خان ایڈوکیٹ
جیلوں میں قید تمام قیدیوں کو انسانی بنیادوں پر علاج معالجے سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، عارف خان ایڈوکیٹ
گزشتہ دنوں ایم کیو ایم کے 125 لاپتہ کارکنان کو بازیاب کراکر پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی دفتر پہنچا دیا گیا
لیکن کسی ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس نے لاپتہ کیا تھا اور کون سے ادارے نے انہیں بازیاب کرایا، عارف خان ایڈوکیٹ
ڈاکٹرز کی یہ ذمہ داری تھی کہ وحید شیخ کے زخم کے بگڑنے کی صورت میں انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا جاتا لیکن انہوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا
جیل میں اس قسم کے غیر ذمہ دار ڈاکٹرز کی موجودگی سے جیلوں میں موجود باقی قیدیوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، اقبال محمد علی
کراچی ۔۔۔ 07، اگست 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ شاہ فیصل ٹاؤن کے اسیر کارکن وحید شیخ کے قتل کی ایف آئی آر جیل سپرنٹینڈنٹ اور جیل انتظامیہ کے خلاف کاٹی جائے جن کی مجرمانہ غفلت اور غیرذمہ دارانہ رویے کے باعث ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن عارف خان ایڈوکیٹ نے خورشید بیگم سیکریٹریٹ میں اراکین رابطہ کمیٹی رکن الدین، اشرف نور، حق پرست رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی اور حق پرست رکن سندھ اسمبلی نشاط ضیا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم شاہ فیصل ٹاؤن یوسی 7 کے جوائنٹ آرگنائزر محمد وحید کو 16 مارچ 2016ء کو رینجرز اہلکار نے یوسی آفس سے گرفتار کیا تھا اور 24 مارچ 2016ء کو رینجرز نے انہیں ماڈل کالونی تھانے کی پولیس کے حوالے کردیا جس کے بعد وحید شیخ کو 01 اپریل 2016ء کو انہیں جیل کی حراست میں دیدیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق 03، جولائی 2016ء کو وحید شیخ کو جیل میں زہریلے کیڑے نے کاٹ لیا تھا جس کے باعث ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ انہوں نے کہا کہ وحید شیخ کی طبیعت کی اطلاع سنتے ہی ان کے اہل خانہ نے جیل انتظامیہ سے درخواست کی کہ وحید شیخ شوگر اور ٹی بی کے عارضے میں مبتلا ہیں لہٰذا انھیں جلد از جلد جناح اسپتال منتقل کردیا جائے لیکن اس کے باوجود جیل انتظامیہ نے انہیں بروقت طبی سہولیات فراہم نہیں کیں۔ عارف خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور حق پرست رکن قومی اسمبلی کنور نوید جمیل اور سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر محمد حسین نے جیل انتظامیہ کو ان کے مرض کے بارے میں آگاہ بھی کیا تھا اور انہیں طبی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کی کیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ 21 جولائی 2016ء کو وحید شیخ کو جیل کے اسپتال کے ڈاکٹروں کی جانب سے انجکشن لگایا جس کے بعد ان کی طبعیت مزید بگڑنے لگی۔ انہوں نے کہا کہ محمد وحید کی طبیعت جب حد سے زیادہ بگڑ گئی تو انہیں جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جیل انتظامیہ کی بے حسی، لاپرواہی اور جناح اسپتال میں نامناسب طبی سہولیات کی وجہ سے 07، اگست 2016ء کو محمد وحید کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اس پریس کانفرنس کے توسط سے ہم وفاقی و صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرمانہ لاپرواہی اور غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے اور جیلوں میں قید تمام قیدیوں کو انسانی بنیادوں پر علاج معالجے سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وحید شیخ کو ملاکر 2013ء سے اب تک ایم کیوا یم کے 162 کارکنان کو ماورائے عدالت قتل اور 131 کارکنان کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام آئینی و قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ایم کیوا یم کے ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ کئے جانے والے کارکنان کی پٹیشن عدالتوں میں داخل کی لیکن تاحال انہیں بازیاب نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم کے 125 لاپتہ کارکنان کو بازیاب کراکر پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی دفتر پہنچا دیا گیا لیکن کسی ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس نے لاپتہ کیا تھا اور کون سے ادارے نے انہیں بازیاب کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تمام لاپتہ کارکنان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کے گھروں یا دفاتر سے عوام کے سامنے گرفتار کیا جس کی عینی شاہد عوام ہے لیکن اس کے بعد قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی ادارہ ان کی گرفتاری کے حوالے سے کچھ نہیں بتاتا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان اگر مجرم ہوتے تو وہ اپنے گھروں میں نہیں سوتے اور ایم کیو ایم کے کسی ایک نے گرفتاری کے وقت کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی حالانکہ دوسری جانب باقاعدہ مقابلے کئے جاتے ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حق پرست رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی نے کہا کہ وحید شیخ کی شہادت ذمہ دار جیل انتظامیہ اور جیل میں موجود اسپتال کے ڈاکٹرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی یہ ذمہ داری تھی کہ وحید شیخ کے زخم کے بگڑنے کی صورت میں انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا جاتا لیکن انہوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں اس قسم کے غیر ذمہ دار ڈاکٹرز کی موجودگی سے جیلوں میں موجود باقی قیدیوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ 


9/29/2016 12:01:05 AM