Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دو روزہ علامتی بھوک ہڑتال کے باوجود ہمارے زخموں پر کسی نے مرہم نہیں رکھا ،سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان


دو روزہ علامتی بھوک ہڑتال کے باوجود ہمارے زخموں پر کسی نے مرہم نہیں رکھا ،سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان
 Posted on: 8/5/2016 1
دو روزہ علامتی بھوک ہڑتال کے باوجود ہمارے زخموں پر کسی نے مرہم نہیں رکھا ،سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان 
یہ سمجھ لیا ہے کہ اردو بولنے والے پاکستان کے شہری نہیں ہیں ،یہ مرتے ہیں تو مرا کریں، غائب ہوتے ہیں تو ہوا کریں ان 
کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھائی جائے گی ، عامر خان 
پنجاب اور اندرون سندھ میں جرائم کی شرح زیادہ ہے لیکن بجلی گرتی ہے تو کراچی کے شہریوں پر گرتی ہے، عامر خان 
جنگل کا قانون ہے اور شہر میں اپنی بات بزور طاقت منوائی جاتی ہے ، ضد اور انا کی وجہ سے کراچی کے لوگوں کو
عتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے، عامر خان 
فوج کے بہت بڑے حلقے میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ اردو بولنے والوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، عامر خان 
ہمیشہ ایڈونچر ازم پر کام کیا ، آپ کی مرضی ہوئی تو کارگل پر چڑھ دوڑیں جب آپ کے ہاتھ سے چیزیں نکل جاتی ہیں تو 
سیاستدانوں سے کہاجاتا ہے کہ آکر سنبھالیں، عامر خان 
عوام نے پی ایس پی پر لعنت بھیج دی لیکن بضد ہیں کہ ہم پی ایس پی کو آگے بڑھائیں گے ، عامر خان 
کارکنان کی غیر قانونی گرفتاری ، چھاپوں ، جبری گمشدگیوں ، سیاسی سرگرمیوں پرپابندی اور جناب الطا ف حسین کی میڈیا کوریج پر قدغن کے خلاف علامتی بھوک ہرتال کے آخری روز بھوک ہڑتال کے اختتام کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ
کراچی ۔۔۔5، اگست2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہا ہے کہ دو روزہ علامتی بھوک ہڑتا ل پر ہم کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف اور لاپتہ کارکنان کی بازیابی کیلئے بیٹھے تھے کہ کوئی ہمارے زخموں پر مرہم رکھے اور کارکنان کو بازیاب کرانے کی کوشش کرے لیکن افسوس کہ دو روزہ علامتی بھوک ہڑتال کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگیں ۔ شاید لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اردو بولنے والے پاکستان کے شہری نہیں ،یہ مرتے ہیں تو مرا کریں، غائب ہوتے ہیں تو ہوا کریں ان کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھائی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اس احتجاج کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رکھیں گے اس وقت تک جب تک ہمارے پیارے ساتھی واپس اپنے گھروں کو نہیں آجاتے ۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے باہر کارکنان کی غیر قانونی گرفتاری ، چھاپوں ، جبری گمشدگیوں ، سیاسی سرگرمیوں پرپابندی اور جناب الطا ف حسین کی میڈیا کوریج پر قدغن کے خلاف علامتی بھوک ہرتال کے آخری روز بھوک ہڑتال کے اختتام کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین اور حق پرست اراکین قومی وصوبائی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ عامر خان نے کہا کہ تین سال قبل نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا اس وقت متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد جناب الطاف حسین نے اس کی حمایت سے انکار کیا ، اس وقت کے ذمہ داران جنرل راحیل شریف اور دیگر آئی ایس آئی کے عہدیداران نے براہِ راست یہ بات کہی کہ جب تک ایم کیوایم آن بورڈ نہیں ہو گی اس وقت تک یہ آپریشن شروع نہیں کیاجائے گا اس کے بعد ان لوگوں نے قائد تحریک الطاف حسین سے بات کی اورانہیں یہ یقین دہانی کرائی کہ یہ آپریشن جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف کیاجائے گا کسی سیاسی جماعت کے خلاف یہ آپریشن نہیں کیاجائے گا ۔ اس یقین دہانی کے بعد جناب الطاف حسین نے آپریشن کی حمایت کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد وزیراعظم شہر کراچی آئے اور انہوں نے یہاں پر میٹنگ کرکے یہ بات طے کی کہ آپریشن رینجرز کی نگرانی میں کیاجائے گا اور اس کے کپتان وزیراعلیٰ سندھ ہوں گے ، اس کے ساتھ انہوں نے دو کمیٹیاں بنانے کا وعدہ کیا ، ایک کمیٹی وکلاء کی سطح پر قانونی کمیٹی تھی اور دوسری شہر کے معززین سطح پر کمیٹی بنانی تھی جو آپریشن کی غیر جانبداری یقینی بناتی لیکن افسوس کہ ساتھ آپریشن کے مقاصد کچھ اور تھے اور آج کے دن تک یہ کمیٹیاں تشکیل نہیں دی گئی جب کمیٹیاں تشکیل نہیں دی گئیں تو یہ آپریشن شروع کیوں کیا گیا ؟یہ بات بھی کہی گئی تھی کہ آپریشن پورے پاکستان میں کیاجائے گا بدقسمتی سے یہ آپریشن سکڑ کر متحدہ قومی موومنٹ تک محدود رہ گیا ۔ انہوں نے کہاکہ آج کی تاریخ تک تحفظات ازالہ کمیٹی عمل میں نہیں آئی ہے، ہمارے تحفظات ، تکلیف اور دکھ کا مداوا کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل رینجرز کو جو اختیارات دیئے گئے تھے اس کی مدت ختم ہوگئی اس پر وفاق اور سندھ حکومت کا بحث و مباحثہ چلتا تھا پھر بد قسمتی سے یہ اختیارات رینجرز کو دیئے گئے تو صرف کراچی کیلئے دیئے گئے ، کیا پاکستان کے دیگر علاقوں میں امن و امان کی بہت اچھی صورتحال ہے ؟ کیا دیگر علاقوں میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہہ رہی ہیں؟ اعداد و شمار دیکھیں تو کراچی کے مقابلے میں لاہور میں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے ، اگر صوبہ کی سطح پر دیکھاجائے تو جرائم کی شرح صوبہ پنجاب میں زیادہ ہے ،اب تک سینکڑوں بچے اغواء ہورہے ہیں ، نجی عقوبت خانوں میں شہریوں پرتشد د کیاجارہا ہے ، اسلحہ کی نمائش کی جارہی ہے لیکن بجلی صرف کراچی کے شہریوں پر گرتی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ اس ظلم وزیادتی کو بند ہونا چاہئے ،درمیان میں جب دو ہفتے تک رینجرز کے پاس اختیارات نہیں تھے اس وقت بھی رینجرز کا آپریشن ایم کیوایم کے خلاف جاری رہا ، کس قانون کے تحت چھاپے مارے گئے ؟ جب آپ کے پاس اختیار نہیں تھا ، کراچی میں کوئی قانون نہیں ہے جنگل کا قانون ہے اور شہر میں اپنی بات بزور طاقت منوائی جاتی ہے ، ضد اور انا کی وجہ سے کراچی کے لوگوں کو عتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کے اندر یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بیٹھ کر بات چیت کی جائے اور عوام کی نبض کو چیک کیا جائے تو ضروری ہے کہ وہ ان معاملات پر غور کریں ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجر عوام کے اندر اب احساس محرومی سے بڑھ کر احساس بیگانگی پید ا ہونا شروع ہوگیا ہے ، مہاجر عوام اب یہ بات کہہ رہے ہیں اور محسوس کررہے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کو نشانہ بنایاجارہاہے ، خدارا ان پالیسیوں پر صحیح کریں ، غور کریں ایسا کیوں ہورہا ہے ۔ تھنک ٹینک سوچ و بچار کا کوئی ایسا محکمہ بنایا جائے کہ آپ کے ایکشن سے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ، بنگلہ دیش میں آپ نے کہاتھا کہ بنگالی چھوٹے قد کے ہیں اور کالے کلوٹے ہیں آپ نے بنگالیوں کی آواز کو نہیں سنا وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے تھے لیکن آپ نے بنگالیوں کو دھتکار دیا اور آپ نے ایسے حالات پیدا کردیئے اور ظلم کئے اور انہیں الگ ہونے پر مجبور کردیا ۔ آج بنگلہ دیش معاشی اعتبار سے کئی زیادہ آگے بڑھ چکا ہے ، دنیا کے اندر چند سالوں تک پاکستان کا کاٹن اور گارمنٹس ہر ملک میں جاتی تھی اورآج ہر ملک میں بنگلہ دیش کی گارمنٹس اور کاٹن کو مانگا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی بنائی جاتی ہے اور ان غور نہیں کیاجاتا ، افغانستان کی پالیسی سے پورا پاکستان اسلحہ اور منشیات کی لپیٹ میں آچکا ہے جن کو آپ نے تربیت دی وہی دشمن بن چکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آپ نے ہمیشہ ایڈونچر ازم پر کام کیا ، آپ کی مرضی ہوئی تو کارگل پر چڑھ دوڑیں جب آپ کے ہاتھ سے چیزیں نکل جاتی ہیں تو سیاستدانوں سے کہتے ہیں کہ آکر سنبھالو۔ ابھی وقت نہیں گزارا خدارا غور کیجئے ، اس کے نتائج پاکستان آنے والے وقت میں کیا بھگتے گا۔ فوج کے بہت بڑے حلقے میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ اردو بولنے والوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے لیکن چند افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنی ضد اور انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور وہ طاقت کے زریعے مہاجروں کو کچلنا چاہتے ہیں یہ پالیسی درست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 12مئی کاواویلا ایک دفعہ پھر شروع کردیا گیا ہے ، میڈیا پر ایم کیوایم کی کردار کشی کی جارہی ہے اور یہ کہاجارہاہے کہ 12مئی میں ایم کیوایم ملوث تھی کیا وسیم اختر واحد ذمہ دار تھے کیا؟، ہائی کورٹ کا فیصلہ 12مئی پر آچکا ہے اس کے باوجود میڈیا ٹرائل کیاجارہا ہے ، اگر 12مئی کی تحقیقات کرنی ہے تو اس وقت کے گورنر ، آئی ایس آئی ، ایم آئی ، آئی بی کے ذمہ داران کو اس کے دائرے میں لایاجائے اور تحقیقات کرلیجئے اگر ایم کیوایم ذمہ دار ہوتی تو پھر ایم کوایم کے 14کارکنان 12مئی کو کس نے قتل کئے ؟انہیں انصاف ملنا چاہئے یا نہیں ملنا چاہئے ہم کہ کہ کر تھک گئے کہ یہ ایم کیوایم کے خلاف سازش ہے اور ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل کیاجارہاہے ۔ آپ کو صرف 12مئی نظر آتا ہے آپ کوسانحہ قصبہ علی گڑھ میں سینکڑوں لوگوں ، بچوں کا قتل دکھائی نہیں دیتا ، آپ نے گھنٹوں اس علاقے کے ایس ایچ او کی درخواست کے باوجود فوج کو نہیں بھیجا اور کرفیو نہیں لگایا اور ظالم وہاں بربریت کرتے ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کیا اس کی تحقیقات نہیں ہونی چاہئے کیونکہ مرنے والے مہاجر تھے ۔ اس کے بعد سانحہ پکاقلعہ حیدرآباد میں خواتین سروں پر قرآن مجید لیکر نکلتی ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی جاتی ہے اس سازش کو بے نقاب ہونا چاہئے یا نہیں کیا وہ پاکستانی شہری نہیں تھے ۔ اس کے بعد سانحہ 30ستمبر میں آدھے گھنٹے میں حیدرآباد میں لاشوں کے انبار لگا دیئے گئے اور مہاجروں کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا اس کی کوئی تحقیقات نہیں کی گئی اس لئے کہ مرنے والے مہاجر تھے اور فرزند زمین نہیں تھے ، 27دسمبر کو بے نظیر کے قتل کے بعد شہر میں قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا گیا ،ہزاروں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی ، لڑکیوں کو اغواء کیا گیا عصمت دری کی گئی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کوئی اس پرآواز بلند نہیں کرتا ، اینکر حضرات خدارا انصاف سے کام لیں ، آپ 12کی تحقیقات کا کہتے ہیں تو پہلے جو واقعات ہوچکے ہیں ان پر بھی آواز بلند کریں ۔ ہم پر 185پولیس اہلکاروں کے قتل کا الزام لگایا جاتا ہے جو قتل ہوئے ان کے قاتلوں کو پکڑیں ، ہمیں بھی دکھ ہے ان کے بچوں کا خیال ہے لیکن کیا اپ نے کبھی ان پولیس والوں کے گھر والوں کی خیریت دریافت کی ۔ بے شک آپ پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کوگرفتار کریں ، عدالت میں لائیں لیکن ایم کیوایم کے جو ہزاروں کارکن اس شہر میں قتل کردیئے گئے وہ بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا تھے کیا ان میں سے کسی ایک کے قاتل کو آپ نے پکڑا ؟ ۔ آپ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے ، سلمان تاثیر کے بیٹے ، یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو بازیاب کرالیتے ہیں لیکن 130لاپتہ کارکنان کا کوئی اغواء کار سامنے نہیں آتا ، عدالتوں میں رپورٹ پیش کردی جاتی ہے کہ ہمارے پاس نہیں ہے یہ کہاں چلے گئے ، زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ۔ آپ نے اغواء شدہ لوگوں کو پی ایس پی کے ہیڈ کوراٹر سے بازیاب کرانا شروع کردیا جب تک وہ ایم کیوایم کے کارکن تھے قاتل تھے اور پی ایس پی میں چلے گئے تو پاک صاف ہوگئے ، یہ ڈبل اسٹنڈر ہے جس پر غور کرنا چاہئے ۔ 80ء کی دہائی سے ایم کیوایم کے خلاف جو سازشیں شرو ع ہوئیں آج تک چل رہی ہے جھوٹ بول بول کر تھک گئے لیکن باز نہیں آرہے ہیں اور ہمارے اوپر الزامات پرالزمات لگائے جارہے ہیں کہ الطاف حسین ،مہاجرستان بنانا چاہتا ہے لیکن اسی ملک کے لوگوں نے دیکھا کہ میڈیا پر جناح پور الزام لگانے والوں نے تردید کی ۔ 92ء کے بعد نصیر اللہ بابر نے ظلم و جبر کی مثالیں قائم کی لاشوں پر پاؤں رکھ کر کھڑے ہوکر کہتاہے کہ ہم انہیں اسی طرح ماریں گے ہم کہہ کہہ کر تھک گئے کہ ہمارا را سے کوئی تعلق نہیں ہے ہم پاکستان کے وفادار ہیں لیکن ہماری بات کو تسلیم نہیں کیا جاتا ، تین سال سے آپریشن کررہے ہیں ، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ، ماورائے عدالت قتل کیا گیا ، لاپتہ کردیا گیا اور جب دیکھا کہ اس سے کام نہیں چل رہا تو چند منافقوں کو جو مہاجر قوم کے غدارتھے انہیں پی ایس پی کی شکل میں لاکر بیٹھایا گیا عوام نے ان پر لعنت بھیج دی لیکن بضد ہیں کہ ہم پی ایس پی کو آگے بڑھائیں گے اور اس کو اس طرح کامیاب بنائیں گے کہ ایم کیوایم کے کارکنان کو گھروں سے پکڑ کر پی ایس پی کے دفتر میں لیجا کر چھوڑ دیاجاتا ہے ۔ کارکنان کو یہ پیغامات دیئے جارہے ہیں کہ ہماری طرف آجاؤ ورنہ زندگی تنگ ہوجائے گی ۔ یہ کونسا انصاف ہے کہ آپ ایم کیوایم کے کارکنان پر پریشر ڈال کر دوسری طرف لے جارہے ہو ۔ آپ جن لوگوں کو زبردستی اور لاپتہ ہونے کی صورت میں لے جاکر پی ایس پی میں چھوڑ رہے ہو وہ دل اور دماغ رکھتے ہیں اور دل سے کوئی پی ایس پی میں نہیں جارہا ہے اور ان کی تعداد کم سے کم ہوتی جارہی ہے ۔ یہ کہاجاتا ہے کہ ایم کیوایم اور الطا ف حسین بھارت کیلئے کام کررہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ کونسی ایم کیوایم ہے جب نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایکشن کیاگیا تو الطاف حسین نے کروڑوں عوام سے فوج کو سیلوٹ کرایا کیا یہ بھی را کے کہنے پر کیا تھا ، آپ اپنے خیالات اور منفی سوچیں مت مسلط کریں اس سے پاکستان کا نقصان ہوگا۔ حکیم سعید کے قتل کا الزام متحدہ پر تھوپ دیا گیا ، گرکارکنان کو گرفتار کرکے سزائیں دلوا دی وقت نے ثابت کیا کہ ایم کیوایم کے کارکنان بے گناہ تھے اور انہیں سپریم کورٹ نے بری کیا اور آج پھر آپ امجد صابری جو متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین کا جانثار تھا اور ایسی سازش کی جارہی ہے کہ امجد صابری کاکیس ایم کیوایم پر ڈال دیاجائے ، یہ جھوٹ ہے اور یہ ثابت ہوگا ۔ دعوے سے کہتا ہوں کہ انہی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار نے اپنے منہ سے کہا کہ امجد صابری کے قاتل گرفتار ہوچکے ہیں لیکن میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ انہیں سامنے کیوں نہیں لایاجارہا ہے اس میں جہادی فیکٹر ملوث ہے لیکن اسے بھی ایم کیوایم پر تھوپنا ہے ، امجد صابری ہمارا بھائی تھا اور پیارا انسان تھا ، اس سازش کو بند کرو جو لوگ ذمہ دار ہیں انہیں قانون کے دائرے میں لاکر کڑی سزا دیں ۔ پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور کے پی کے کے عوام سے التماس ہے کہ آپ بڑے بھائی ہیں ، سوچیئے کہ پاکستان میں اردو بولنے والوں کے ساتھ یہ سب کیوں ہورہا ہے ، مہاجر بھی پاکستان کے اتنے ہی وفادار ہیں جتنے آپ وفادار ہیں ، جب تک سندھ ، پنجاب ، کے پی کے کے عوام اس معاملے پر کھڑے ہوکر آواز بلند نہیں کریں گے تو طاقت کے حواری اپنی مرضی مسلط کرتے رہیں گے ، اس کیلئے متحد ہونا ہوگا اور آواز بلند کرنی ہوگی کہ کراچی سے ظلم و ستم کا خاتمہ کیاجائے ۔ راکھ کے اندر چنگاری سلگ رہی ہے ایسا نہ ہو کہ یہ چنگاری شعلہ بنے اور پھر اس کی لپیٹ میں سب آجائیں 

12/6/2016 8:06:58 AM