Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے کراچی کی خواتین کالجز کی اسٹنٹ پروفیسر کی 50سے زائد اسامیاں اندرون سندھ حیدرآباد منتقل کرنے پر رابطہ کمیٹی کااظہار مذمت


صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے کراچی کی خواتین کالجز کی اسٹنٹ پروفیسر کی 50سے زائد اسامیاں اندرون سندھ حیدرآباد منتقل کرنے پر رابطہ کمیٹی کااظہار مذمت
 Posted on: 8/5/2016 1
صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے کراچی کی خواتین کالجز کی اسٹنٹ پروفیسر کی 50سے زائد اسامیاں اندرون سندھ حیدرآباد منتقل کرنے پر رابطہ کمیٹی کااظہار مذمت 
بااثر خواتین کی خواہش پر اسامیاں منتقل کرنا کراچی کے تعلیمی اداروں کا مستقبل تاریک کرنے کے مترادف ہے ، رابطہ کمیٹی 
خواتین کالجز کی اسٹنٹ پروفیسر کی 50سے زائد اسامیاں حیدرآباد منتقل کرنا پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کا ایک اور متعصبانہ اقدام ہے، رابطہ کمیٹی 
نئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی موجودگی میں بھی پیپلزپارٹی کی صوبائی کابینہ سندھ کھلے مہاجر دشمن اقدامات کررہی ہے
اور میرٹ کو ترجیح دینے کے بجائے تعصب اور نفرت کے بیج بو رہی ہے،ر ابطہ کمیٹی ایم کیوایم 
حیدرآباد منتقل کی گئی تمام اسامیاں فی الفور کراچی منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں ، رابطہ کمیٹی ایم کیوایم 
کر اچی ۔۔۔۔5اگست 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے کراچی کی خواتین کالجز کی اسٹنٹ پروفیسر کی 50سے زائد اسامیاں اندرون سندھ حیدرآباد منتقل کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اندرون سندھ کی بااثر خواتین کی خواہش پر اسامیاں منتقل کرنا کراچی کے تعلیمی اداروں کا مستقبل تاریک کرنے کے مترادف ہے ۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ حیدرآباد کے کالجوں میں اساتذہ کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود کراچی سے خواتین کالجز کی اسٹنٹ پروفیسر کی 50سے زائد اسامیاں حیدرآباد منتقل کرنا پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کا ایک اور متعصبانہ اقدام ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کراچی کے کالجز میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیاجاتا اور میرٹ پر فیصلے کئے جاتے لیکن افسوس کہ ماضی کی طرح نئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی موجودگی میں بھی پیپلزپارٹی کی صوبائی کابینہ کھلے عام مہاجر دشمن اقدامات کررہی ہے اور میرٹ کو ترجیح دینے کے بجائے تعصب اور نفرت کے بیج بو رہی ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق کے دور میں بھی کراچی کے کالجوں میں نچلے گریڈ کے غیر تدریسی ملازمین تعینا ت کئے گئے تھے جن میں سے 70فیصد ملازمین کو بھرتی کے خطوط پہلے ملنا اور ان کے ڈومیسائل ، پی آر سی بعد کی تاریخوں کے ہونا سراسر کھلی کرپشن ہے اور کراچی کے نوجوانوں کے حق اور ان کی ملازمتوں پر ڈاکا ڈالنے کا عمل ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ کراچی کی خواتین کالجز کی اسٹنٹ پروفیسر کی 50سے زائد اسامیاں اندرون سندھ حیدرآباد منتقل کرنے کا سنجیدگی سے نوٹس لیاجائے ، ان کی فی الفور کراچی میں تعیناتی کے احکامات جاری کئے جائیں اور صوبائی کابینہ سندھ کے وزراء کو مہاجر دشمن اقدامات سے باز رکھاجائے اور اہلیا ن کر اچی گو رنر سندھ سے بھی مطالبہ کر تے ہے کہ وہ اب خا مو شی کا قفل تو ڑیں اور کر اچی دشمن اقداما ت پر اپنے اختیارات کا استعما ل کر یں ورنہ اہلیان کر اچی پر ہو نے والے ظلم وستم پر اپنے عہدہ سے احتجاججا استعفے دیدیں ۔

9/27/2016 12:19:42 AM