Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا گیا اور ایک مرتبہ پھر جناب الطاف حسین اورایم کیوایم پر زمین تنگ کردی گئی ، رکن رابطہ کمیٹی گلفراز خان خٹک


تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا گیا اور ایک مرتبہ پھر جناب الطاف حسین اورایم کیوایم پر زمین تنگ کردی گئی ، رکن رابطہ کمیٹی گلفراز خان خٹک
 Posted on: 8/4/2016 1
تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا گیا اور ایک مرتبہ پھر جناب الطاف حسین اورایم کیوایم پر زمین تنگ کردی گئی ، رکن رابطہ کمیٹی گلفراز خان خٹک 
قانون نافذ کرنے والے ادارے 24گھنٹے میں گرفتار شخص کو عدالت میں پیش نہیں کرتے توان کا یہ عمل اغواء برائے تاوان کے زمرے میں آتا ہے ، گلفراز خان خٹک 
بھوک ہڑتالی کیمپ میں ؂میں لوگ خالی پیٹ بیٹھ کراپنے صدمے اور دکھ کااظہار کررہے ہیں، حق پرست قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت 
کراچی پریس کلب کے باہر غیر قانونی چھاپوں ، گرفتاریوں ، جبری گمشدگیوں ، جھوٹے ، بے بنیاد مقدمات ، سیاسی سرگرمیوں پرغیر اعلانیہ پابندی اور قائد تحریک الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر غیر آئینی قدغن کے خلاف علامتی بھوک ہڑتال کے پہلے روز دوپہر
میں میڈیا کے نمائندگان کو دی جانے والی پریس بریفنگ سے خطاب 
کراچی ۔۔۔4، اگست2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن گلفراز خان خٹک نے کہاہے کہ کوئی بھی ادارہ کسی بھی شخص کی گرفتاری کے بعد 24گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنے کا پابند ہے اگر کوئی ادارہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا یہ عمل اغواء برائے تاوان کے زمرے میں آتا ہے ۔ تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا گیا اور ایک مرتبہ پھر قائدتحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم اور مہاجر عوام پر زمین تنگ کردی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیوں کے باوجود ایم کیوایم کے 200کارکنان قتل کردیئے جاتے ہیں اور ان کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی ، 125سے زائد کارکنان آج بھی ایم کیوایم کے لاپتہ ہیں جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہل محلہ کے سامنے اٹھایا اور آج تک ان کی بازیابی کیلئے پٹیشن اعلیٰ عدالت میں موجود ہے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے غیر قانونی چھاپوں ، گرفتاریوں ، جبری گمشدگیوں ، جھوٹے ، بے بنیاد مقدمات ، سیاسی سرگرمیوں پرغیر اعلانیہ پابندی اور قائد تحریک الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر غیر آئینی قدغن کے خلاف ایم کیوایم کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر شروع کی گئی علامتی بھوک ہڑتال کے پہلے روز دوپہر کے وقت میڈیا کے نمائندگان کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن فیض محمدفیضی ، حق پرست اراکین قومی وصوبائی اسمبلی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے گلفراز خان خٹک نے کہاکہ ریاستی جبر و تشدد اور آپریشن کے ذریعے ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان اور ذمہ داران اور حق پرست عوام کو نشانہ بنایاجارہا ہے ، جس آپریشن کو کراچی آپریشن کا نام دیا گیا ہے اس کا مطالبہ جناب الطاف حسین نے اس وقت کیا تھا جب کراچی کے حالات انتہائی خراب تھے ، دن دیہاڑے تاجر برادری کو اغواء کیاجارہا تھا ، بم دھماکے کئے جارہے تھے ،کراچی کے معصوم شہریوں باالخصوص مہاجر عوام کے شناختی کارڈ چیک کرکے انہیں عقوبت خانوں میں لے جا کر انسانیت سوز تشدد کیا گیا اور ان کے ساتھ غیر فطری عمل کیا گیا اور ان کی ویڈیو اپ لوڈ کی گئی اور بعد میں ان کی سر بریدہ لاشیں شہر کے مختلف علاقوں میں پھینکی گئی ۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف یہ کاروائیاں ہورہی تھیں اور دوسری جانب مذہبی انتہاء پسندوں اور فرقہ پرست تنظیموں نے یہاں اپنے شکنجے گاڑے ،اس وقت کی تمام پولیس رپورٹیں 
جو درج ہوئی ہیں وہ اس بات کی گواہ ہیں کہ کس طریقے سے ایک معاشی حب کا فائدہ اٹھانے کیلئے انہوں نے اسے آمدنی کا ذریعہ بنایا ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی میڈیا کی رپورٹس بھی گواہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے مضافاتی علاقے مذہبی انتہاء پسندوں کے شکنجے میں جاچکے ہے جہاں وہ اپنا ہی تشکیل کردہ شرعی نظام نافذ کرچکے ہیں اور اس کے تحت فیصلے صادر کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کو پہلی مرتبہ ان حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑرہا اس سے پہلے 19جون 92ء کا آپریشن بھی ہمارے سامنا ہے جس میں کہا گیا تھاکہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے لہٰذا یہاں آپریشن کی ضرورت ہے اور جب آپریشن ہوا تو 72مچھلیوں کا تو کچھ پتا نہیں چلا لیکن ایم کیوایم کے 17ہزار سے زائد بے گناہ کارکنوں کا خون بہایا گیا اور کوئی الزام ایسا نہیں تھا جو مہاجر عوام پر نہیں لگایا یہاں تک کہا گیا کہ ایم کیوایم جناح پور بنانا چاہتی ہے اور میڈیا شاہد ہے کہ اس دور کے سرکردہ افراد نے میڈیا پر آکر اس بات کی گواہی دی کہ ایم کیوایم کا جناح پور ساز ش سے دور دور تک واسطہ نہیں ہے لیکن 17ہزار کارکنان جنہیں قتل کیا گیا نہ ان کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا اور نہ ہی یہ بات تسلیم کی گئی کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے اورہم معافی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا گیا اور ایک مرتبہ پھر قائدتحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم اور مہاجر عوام پر زمین تنگ کردی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم محب وطن جماعت کی حیثیت سے تمام اداروں کو قابل احترام سمجھتی ہے اور ان ادارں کو پاکستان اور ملک کی سا لمیت کا ضامن سمجھتی ہے لیکن اگر چند ناعاقبت اندیش حکمران اپنے مفادات کیلئے ملک میں مارشل لاء نافذ کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ملک کو دولخت کردیتے ہیں تو کیا چند ایسے لوگ ان اداروں میں نہیں ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کیلئے کسی پارٹی کو ختم کرنے کیلئے ، قوم کو ایلیمنٹ کرنے کیلئے اور سیاسی جماعتیں بناتے ہیں اور انہیں اس ملک کے خزانہ سے بنگلے اور گاڑیاں دیتے ہیں اور اس کے بعد بھی جب ان کی دال نہیں گلتی تو پھر انکی عددی اکثریت بنانے کیلئے لوگوں پر تشدد کرکے اغواء کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ادارہ کسی بھی شخص کی گرفتاری کے بعد 24گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنے کا پابند ہے اگر کوئی ادارہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا یہ عمل اغواء برائے تاوان کے زمرے میں آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اٹھارہ ہزار سے زائد کارکنان اسیری کی زندگیاں گزارنے پر مجبو رہیں ، شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکیوں کے باوجود ایم کیوایم کے 200کارکنان قتل کردیئے جاتے ہیں اور ان کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے کہاکہ 125سے زائد کارکنان آج بھی ایم کیوایم کے لاپتہ ہیں جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہل محلہ کے سامنے اٹھایا اور آج تک ان کی بازیابی کیلئے پٹیشن اعلیٰ عدالت میں موجود ہے لیکن کچھ نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ دفاتر پر چھاپے مارے گئے تو ایم کیوایم کے دفاتر پر مارے گئے ، آج بات یہاں تک آگئی ہے کہ آئین وقانون ایک سیاسی جماعت کو جو حق دیتا ہے اس پر بھی غیر اعلانیہ پابندی لگائی جارہی ہے اور ایم کیوایم کے جب بھی پروگرامز ہوتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں گھیر لیتے ہیں اور ان کے منتخب نمائندوں کو عوامی رابطے سے روکا جاتا ہے لیکن ایک آمرانہ دور اور غاصب ملک میں یہ عمل کیاجاسکتا ہے مگر آزا د ریاست اور عدلیہ کی موجود میں اس کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا ۔ ایم کیوایم اس وقت تک احتجا ج کرتی رہے گی جب تک ظلم و جبر کا خاتمہ نہ ہوجائے ۔ حق پرست رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت نے کہا کہ کیمرے کی آنکھ سے کوئی چیز بچ کر نہیں نکل سکتی یہ پیمانہ ایسا ہے کہ باریک سے باریک چیز بھی عوام تک پہنچائی جاسکتی ہے ۔انہوں نے میڈیا کے نمائندگان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہرپارٹی کے جلسوں اور احتجاج میں شرکت کرتے ہیں اور پوری دنیا میں کوریج پہچاتے ہیں ۔ آپ کے پاس ایک تقابل موجود ہیں کہ ایم کیوایم اور دیگر پارٹیوں میں فرق کیا ہے ؟ متحدہ قومی موومنٹ غریب ومتوسط طبقے کی جماعت ہے اور آج بھی ثابت قدمی سے اسی پلیٹ فارم پر کھڑی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج انوکھا احتجاج آپ دیکھ رہے ہیں کہ جس میں لوگ خالی پیٹ بیٹھے ہیں اور اپنے صدمے اور دکھ کااظہار کررہے ہیں یہ نظم وضبط اور شائستگی اور تہذیب متحدہ قومی موومنٹ کا خاصہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب متحدہ قومی موومنٹ کا میڈیا ٹرائل ہوتا ہے اور اس کے ناکردہ گناہوں کو بھی گناہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر گنیز بک ورلڈ ریکارد میں کوئی پاکستان کا ریکارڈ بنایاجائے تو متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کے نظم و ضبط اور طریقہ کار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں برسہا برس ہوگئے یہ کہتے ہوئے کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں ، ہماری پاکستانیت پر کوئی آواز نہ اٹھائیں کیونکہ جتنے محب وطن ہم ہیں کوئی اور نہیں ہے لیکن آج ہمارے ہی قائد کی زبان بندی ہے ، ہمارے منتخب نمائندے جیل میں ہیں اور بے گناہ کارکنان کو بلاجواز گرفتار کیاجارہا ہے ۔ میں میڈیا سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ کو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے اوپر ذرا سی بات پر حد لاگو کردی جاتی ہے اور زباں بندی کردی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں کوئی اور ہجرت نہیں کرنی اس مٹی کو اپنا وطن بنا چکے ہیں اور یہاں رہ کر ہی ملک کی خدمت کریں گے ۔ ایم کیوایم کے اوپر جو ظلم ہورہا ہے اسے بند ہونا چاہئے ، ہمارے کسی احتجاج میں کسی جگہ کوئی پتہ تک نہیں ٹوٹا ، ہم پرامن اور شائستہ احتجاج کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے احتجاج کو شائستگی سے جب دیکھا جارہا ہے تو ایم کیوایم کی شائستگی کو تسلیم کیاجائے ۔


9/29/2016 11:55:39 PM