Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکومت نے رینجرز کو صرف کراچی میں آپریشن کی اجازت دی ہے تاکہ وہ کراچی میں آپریشن کے نام پر جتنا چاہے ظلم کرے۔الطاف حسین


 Posted on: 8/2/2016 1
حکومت نے رینجرز کو صرف کراچی میں آپریشن کی اجازت دی ہے تاکہ وہ کراچی میں آپریشن کے نام پر جتنا چاہے ظلم کرے۔ الطاف حسین
قیام پاکستان کے بعدبنگالیوں کے بعد اگرکسی قوم کاسب سے زیادہ جسمانی قتل عام ہواتووہ مہاجروں کاہوا
مہاجروں کے جسمانی قتل عام کے ساتھ ساتھ انکا معاشی قتل عام بھی کیاجاتارہا جس کی تفصیلات بہت طویل ہیں
فوج، پولیس اوردیگرمحکموں اور اداروں میں مہاجروں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے
آج بھی مہاجروں کیلئے ہرطر ف سے راستے بند کئے جارہے ہیں، انہیں نفرت وتعصب کانشانہ بنایاجارہاہے
طاقت اورجبر کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے کہ مہاجروں کے واحدپلیٹ فارم ایم کیوایم کوختم کردیاجائے
ہم نے تہیہ کررکھاہے کہ ہم کسی بھی قیمت پر اپنے جائزحقوق کی جدوجہدسے دستبردارنہیں ہوں گے
ذمہ داران وکارکنان اپنی صفوں میں اتحادبرقراررکھیں اورثابت قدمی ومستقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں
کراچی سمیت مختلف زونوں اوراوورسیزمیں ذمہ داران سے گفتگو
لندن ۔۔۔ 2 اگست 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایک مرتبہ پھر سندھ حکومت نے مہاجروں کے ساتھ تعصب اور نفرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رینجرز کو تین مہینے کیلئے کراچی میں آپریشن کی اجازت دیدی ہے تاکہ وہ کراچی میں آپریشن کے نام پر جتناچاہے ظلم کرے اور اسے پوچھنے والا نہ ہو۔ انہوں نے یہ بات کراچی سمیت مختلف زونوں اوراوورسیزمیں ذمہ داران سے گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ اپنی گفتگومیں انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ، قیام پاکستان کے بعد مہاجروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، مختلف ادوارمیں ہونے والے مہاجروں کے قتل عام ، ایم کیوایم کے خلاف کئے جانے والے آپریشنزاورموجودہ صورتحال کے بارے میں اظہارخیال کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے سیاسی ، معاشی ، تعلیمی اور جسمانی قتل عام کے ردعمل میں 11، جون1978ء کو اے پی ایم ایس او قائم کی گئی جو 18، مارچ 1984ء میں مہاجرقومی موومنٹ میں تبدیل ہوئی پھر ملک بھرکے مظلوم عوام کے جائز حقوق کیلئے اس جماعت کو26، جولائی 1997ء میں متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیاگیا ۔ حق پرستی کی اس جدوجہد کے دوران ہزاروں مہاجرنوجوانوں کو شہید کیاگیا، ہزاروں کارکنان کو سرکاری ٹارچر سیلوں میں بہیمانہ تشددکا نشانہ بناکر معذورکردیاگیا ، انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبورکیاگیا۔ قیام پاکستان کے بعد سے آج تک اتنی بڑی تعدادمیں کسی اور جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کیاگیاجتنی بڑی تعداد میں ایم کیوایم کے خلاف کیاگیا ہے ۔ مہاجر نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل پر پاکستان کی دو منتخب حکومتیں برطرف کی گئیں لیکن آج تک کسی ایک کارکن کے قاتل کو گرفتارکرکے سزا نہیں دی گئی۔ آج بھی ایم کیوایم کے خلاف آپریشن جاری ہے،رینجرز اورپولیس اہلکارمہاجرآبادیوں کا گھیراؤ کرکے سرچ وارنٹ اور لیڈی سرچر کے بغیرگھرگھرتلاشی لیتے ہیں ، خواتین اوربزرگوں کی بے حرمتی کرتے ہیں اور نوجوانوں کو بہیمانہ تشددکا نشانہ بناتے ہیں لیکن رینجرز اورپولیس اہلکاروں کی جانب سے یہ عمل کسی اور قومیت کے اکثریتی علاقوں میں کبھی نہیں کیاگیا، جن علاقوں میں رینجرز اہلکاروں کو قتل کیاگیااور انہیں یرغمال بنا کر تشددکا نشانہ بنایاگیا وہاں رینجرز کبھی کارروائی نہیں کرتی۔ ایک جانب ایم کیوایم کے رہنماؤں ، منتخب نمائندوں اورکارکنوں کو بلاجواز گرفتارکرکے ان کا 90 روزہ ریمانڈ لیاجاتا ہے جبکہ دوسری جانب لاڑکانہ میں رینجرز کے ہاتھوں صوبہ سندھ کے وزیرداخلہ کے بھائی طارق سیال کافرنٹ مین اسدکھرل گرفتارکیاجائے تو طارق سیال مسلح افراد کے ہمراہ دھاوا بول کر رینجرز اہلکاروں کو یرغمال بنالیتا ہے ، ان کی گنیں چھین لی جاتی ہیں اور اسد کھرل کو رینجرز کے قبضے سے چھڑا کر لے جاتا ہے لیکن اس عمل پر کوئی کارروائی کرنے کے بجائے اسد کھرل کو طے شدہ منصوبے کے تحت گرفتارکرکے اس پر معمولی مقدمات قائم کیے جاتے ہیں اور14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جاتا ہے اور جیل میں تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اسی طرح ضمیرفروشوں میں سے کسی کو گرفتار کیا جائے تو اسے وی آئی پی پروٹوکول دیاجاتا ہے اور جیل کے بجائے اسپتال بھیج دیا جاتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج تمام سندھی لیڈر بڑے فخر سے اعلان کررہے ہیں کہ رینجرزکے اختیارات صرف کراچی تک محدود ہیں اور آپریشن صرف کراچی میں ہی ہوگا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اندرون سندھ اورصوبہ پنجاب میں اغواء برائے تاوان ، بھتہ خوری ، زمینوں پر قبضے ، اسٹریٹ کرائم اور دیگرجرائم کی شرح کراچی کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے لیکن حکمرانوں کی جانب سے اندرون سندھ اور صوبہ پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی اور آپریشن کی شدید مخالفت کی جاتی ہے ۔جناب الطاف حسین نے دریافت کیا کہ ضرب عضب کے نام سے شروع کی جانے والی جنگ ،ملک بھرمیں خودکش حملے اوربم دھماکے کرنے والے جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف تھی یا صرف ایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئے شروع کی گئی تھی؟ دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے کیلئے کارروائیاں پورے پاکستان کیلئے شروع کی گئی تھی تو صرف کراچی میں آپریشن کیوں کیاجارہا ہے ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کو کچلنے کیلئے رینجرز کی جانب سے غیرقانونی اورغیرآئینی اقدامات کیے جارہے ہیں ، گزشتہ 12 روز سے رینجرز کو چھاپے گرفتاریوں کاکوئی اختیار نہیں تھا لیکن اس کے باوجود رینجرز نے شاہ فیصل کالونی ، سرجانی ٹاؤن، نیوکراچی اورلیاقت آبادمیں غیرقانونی چھاپوں اورگرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ان غیرقانونی اورغیرآئینی کارروائیوں پر رینجرز کے افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجردانشوروں کو ایم کیوایم سے دوررکھنے کیلئے جبرکے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں ،انہیں ہراساں کیاجارہاہے تا کہ وہ خوف زدہ ہوجائیں ،اسی طرح ایم کیوایم میں شمولیت کرنے والے تاجروں اورصنعتکاروں کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جبکہ ایم کیوایم کو کمزورکرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ضمیرفروش ٹولے کو کروڑوں روپے مالیت کے بنگلے ، بلٹ پروف گاڑیاں اور پیسہ دیاجارہا ہے اور مختلف مقدمات میں ملوث ایم کیوایم کے کارکنان کو لالچ دیا جارہا ہے کہ وہ ان ضمیرفروشوں میں شامل ہوجائیں تو ان کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک مرتبہ پھر سندھ حکومت نے مہاجروں کے ساتھ تعصب اور نفرت کامظاہرہ کرتے ہوئے رینجرز کو تین مہینے کیلئے کراچی میں آپریشن کی اجازت دیدی ہے تاکہ وہ کراچی میں آپریشن کے نام پر جتناچاہے ظلم کرے اور اسے پوچھنے والا نہ ہو۔
جناب الطاف حسین نے پاکستان کی سیاسی تاریخ پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی سیاست میں کئی اتارچڑھاؤ آئے اورچھوٹے صوبوں کے ساتھ زیادتیاں اورحق تلفیاں کی گئیں جس کی وجہ سے پنجاب کے علاوہ ہرعلاقے سے حقوق کیلئے آوازیں اٹھیں۔ جب ذوالفقارعلی بھٹو نے صوبہ سرحدمیں مفتی محمود کی نیپ کی حکومت ختم کی،اس میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ بھی شامل تھی۔اس کے بعد سرحد، بلوچستان اورسندھ کے کچھ لیڈرگرفتارکرلیئے گئے۔ اسی زمانے میں بنگالی اپنے جائزحقوق دینے کے مطالبے کرتے تھے۔ صوبہ سرحدمیں پختون اپنے جائزحقوق کے مطالبے کرتے تھے ۔بلوچستان میں بھی جائز حقوق کے مطالبے کئے جاتے تھے۔ صوبہ سرحدمیں یہ صورتحال پیداہوگئی کہ پختونوں کے حقوق کی بات کرنے پر غفارخان، ولی خان ، اجمل خٹک اورسندھ کے بہت سے لیڈرجلاوطن ہوئے ۔ اس زمانے میں ایک نعرہ تھاکہ سرحدکانام پختونستان رکھاجائے جس پربھٹودورحکومت میں اے این پی کے خلاف ایکشن ہوا۔ غفار خان، ولی خان اوردیگررہنماؤں کوگرفتارکیاگیا،حیدرآبادٹریبونل کیس بنا۔جنرل ضیاء کامارشل لالگاتوان رہنماؤں کورہاکیاگیا۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے حقوق کی آوازبلندہوئی، شیخ مجیب الرحمن، بھاشانی ان کے رہنماتھے، شیخ مجیب کی مقبولیت بڑھنے تواس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے بنگالی رہنماؤں میں اختلافات پیداکئے ۔1970ء کے الیکشن ہوئے تواس میں عوامی لیگ نے تاریخی کامیابی حاصل کی لیکن اسے اقتدارنہیں دیاگیااوروہاں آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوگیا ۔ ذوالفقارعلی بھٹوجوپڑھالکھااورذہین شخص تھا، بیوروکریٹ تھا اس نے جنرل ایوب خان کے زمانے میں فوجی حکومت میں شمولیت اختیارکی، پھرپیپلزپارٹی بنائی، جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت میں بھی شامل رہے۔ بھٹوکی پیپلزپارٹی نے مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کی لیکن اس نے محض 35فیصد ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اسٹیبلشمنٹ نے بھٹوکوبنگالیوں کی آوازکودبانے کیلئے استعمال کیااورمشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد پاکستان میں قوم پرست تحریکوں کوختم کرنے کیلئے استعمال کیا۔بھٹونے نہ صرف سندھی قوم پرست تحریک کوکمزورکیابلکہ بلوچستان اور سرحد کی قوم پرست تحریکوں کوبھی کمزورکیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اے این پی کے رہنما خان ولی خان نے متعدد مرتبہ اعلان کیا کہ اگر کالاباغ ڈیم بنایا گیا تو ہم اسے بم سے اڑادیں گے اور کالاباغ ڈیم بنانے والوں کے پیٹ پھاڑ دیں گے ، کالاباغ ڈیم کی تعمیرکے معاملے پر اسی قسم کے جذبات کااظہار سندھی رہنماؤں کی جانب سے بھی کیا جاتا رہا ۔لیکن اگرہماری جانب سے کسی بارے میں کوئی بات کہہ دی جائے تواس پر طوفان کھڑاکردیاجاتاہے ۔انہوں کہاکہ مہاجروں کے ساتھ شروع ہی سے متعصبانہ سلوک کیاجاتارہاہے ۔1977ء میں نظام مصطفی اور اسلامی نظام کی تحریک چلی تو یہ تحریک چلانے کی پاداش میں کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھراور دیگر مہاجر اکثریتی علاقوں میں فوج کے اہلکاروں نے کھلے عام گولیاں چلاکرکئی بے گناہ مہاجروں کا قتل عام کیا، نظام مصطفی کی تحریک کے سلسلے میں پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیاگیا اور فوج کے افسران کو مظاہرین پر گولیاں چلانے کے احکامات دیئے گئے لیکن انہوں نے مظاہرین پر گولیاں چلانے سے صاف انکارکردیا اور اپنی بیلٹیں اتاردیئے اورکہا کہ ہم اپنے بھائیوں پر ہرگز گولیاں نہیں چلائیں گے ۔2014ء میں اسلام آبادمیں دھرنے کے دوران تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پولیس کے ہاتھوں اپنے کارکنان کی گرفتاریوں پر کھلے عام اپنے کارکنان کو تشدد پر اکساتے ہوئے کہاکہ گرفتار کرنے والے پولیس والے جہاں نظرآئیں ان کی پھینٹی لگاؤلیکن اس پر تمام اینکرپرسنز ، سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ خاموش رہیں ۔ اگرمہاجر کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کے خلاف یہی بات الطاف حسین کی جانب سے کی جاتی تو مجھے ملک دشمن، غدار، دہشت گرد، را، اسرائیل اور موساد کا ایجنٹ قراردیدیا جاتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعدبنگالیوں کے بعد اگرکسی قوم کاسب سے زیادہ جسمانی قتل عام ہواتووہ مہاجروں کاہوا،جنرل ایوب خان کے زمانے میں محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دینے کی پاداش میں کراچی میں مہاجربستیوں پر حملے ہوئے ، ان کا قتل عام کیاگیا، پھربھٹوکے دورحکومت میں اندرون سندھ مہاجروں کاقتل عام ہوااورانہیں نقل مکانی پرمجبورکیاگیا۔ پھر 31اکتوبر1986ء کوسانحہ سہراب گوٹھ ہوا، 14دسمبر 1986 ء کوسانحہ علی گڑھ ہوا، 30 ستمبر1988ء کوسانحہ حیدرآبادہوا،26، 27مئی 1990ء کوسانحہ پکاقلعہ آپریشن ہوا، ایک ایک واقعہ میں سو سو ، دو دوسو مہاجروں کوبیدردی سے قتل کردیاگیا۔انہوں نے کہاکہ مہاجروں کے جسمانی قتل عام کے ساتھ ساتھ انکا معاشی قتل عام بھی کیاجاتارہا جس کی تفصیلات بہت طویل ہیں ۔ ایم کیوایم کے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ ویب سائٹ سے یہ اعداد وشمار معلوم کریں کہ فوج، پولیس اوردیگرمحکموں اور اداروں میں مہاجروں اور پاکستان کی دیگر قومیتوں کا تناسب کیا ہے تو انہیں معلوم ہوگا کہ ہرادارے میں مہاجروں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعد سے مہاجروں کوانتہائی تعصب کانشانہ بنانے کاسلسلہ شروع ہوگیا، مہاجروں کوتلیر، مکڑ، مٹروے، پناہ گیر اورہندوستوڑے جیسے توہین آمیزالقابات سے نوازاگیا، مہاجروں کے لئے کوئی بولنے والا نہ تھا، مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبہ میں ناانصافیاں کی گئیں، آج بھی مہاجروں کیلئے ہرطر ف سے راستے بند کئے جارہے ہیں، انہیں نفرت وتعصب کانشانہ بنایاجارہاہے اورطاقت اورجبر کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے کہ مہاجروں کے واحدپلیٹ فارم ایم کیوایم کوختم کردیاجائے لیکن ہم نے بھی یہ تہیہ کررکھاہے کہ ہم کسی بھی قیمت پر اپنے جائزحقوق کی جدوجہدسے دستبردارنہیں ہوں گے۔ انہوں نے ذمہ داروں اورکارکنوں پر زوردیاکہ وہ اپنی صفوں میں اتحادبرقراررکھیں اورثابت قدمی ومستقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں۔ 

12/10/2016 4:40:20 AM