Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

رینجرز کو صرف کراچی میں چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات دینا قابل مذمت ہے، رابطہ کمیٹی


رینجرز کو صرف کراچی میں چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات دینا قابل مذمت ہے، رابطہ کمیٹی
 Posted on: 8/2/2016 1
رینجرز کو صرف کراچی میں چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات دینا قابل مذمت ہے، رابطہ کمیٹی
اگرحکومت سندھ سمجھتی ہے کہ اندرون سندھ رینجرزکی ضرورت نہیں ہے اور قیام امن کیلئے پولیس سے کام لیا جاسکتا ہے تو پھر کراچی میں بھی قیام امن کیلئے پولیس کو بااختیار بنایا جائے
اگرسندھ حکومت قیام امن کیلئے رینجرزسے کام لیناچاہتی ہے تواس کوپورے سندھ کیلئے اختیاردیاجائے
رینجرز کو صرف کراچی میں کارروائی کا اختیار دینا سراسر زیادتی اور کراچی دشمنی ہے ،کراچی کے عوام اسے قبول نہیں کریں گے
گزشتہ کئی دہائیوں سے کراچی کے عوام کو صرف آپریشن دیئے گئے، رابطہ کمیٹی
حکومت سندھ چاہتی ہے کہ کراچی کے شہریوں کو آپریشن کی آڑ میں کچلا جاتا رہے ۔ رابطہ کمیٹی
کراچی ۔۔۔2،اگست2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے حکومت سندھ کی جانب سے رینجرز کو صرف کراچی میں چھاپوں اور گرفتاریوں کے اختیارات دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ سندھ حکومت صوبے میں قیام امن کیلئے قطعی مخلص نہیں ہے ۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے اندرون سندھ میں رینجرز کو اختیارات دینے سے انکارکرنا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کو صرف کراچی تک محدود رکھنا سراسر کراچی دشمنی ہے اور کراچی کے عوام اس کھلے متعصبانہ اور انتقامی اقدام کو کسی بھی قیمت پرقبول نہیں کریں گے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ اندرون سندھ میں دہشت گردی، بم دھماکے ، اغواء برائے تاوان ، قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں پر حملے اور دیگر جرائم کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں اس کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو صرف کراچی میں کارروائی کا اختیار دیاجارہاہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ اگرحکومت سندھ سمجھتی ہے کہ اندرون سندھ رینجرزکی ضرورت نہیں ہے اور قیام امن کیلئے پولیس سے کام لیاجاسکتاہے توپھرکراچی میں بھی قیام امن کے مقصدکیلئے پولیس کو بااختیار بنایاجائے اوراگر حکومت سندھ قیام امن کیلئے رینجرزسے کام لیناچاہتی ہے تواس کوپورے سندھ کیلئے اختیاردیاجائے ورنہ رینجرز کو صرف کراچی میں کارروائی کااختیاردیناسراسرزیادتی ہے ، کراچی دشمنی ہے اورکراچی کے عوام اس زیادتی کوقبول نہیں کریں گے۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ماضی میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے صرف صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذکرکے شہری اوردیہی تفریق کی بنیاد رکھی تھی اور آج رینجرز کو صرف کراچی میں کارروائیوں کااختیاردیکر پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ کراچی کوسندھ کا حصہ نہیں سمجھتی اورچاہتی ہے کہ کراچی کے شہریوں کوآپریشن کی آڑ میں کچلاجاتارہے ۔ رابطہ کمیٹی نے گزشتہ کئی دہائیوں سے کراچی کے عوام کو صرف آپریشن دیئے گئے اورسندھ کی حکومت نے آج تک کراچی کی ترقی اور شہریوں کے مسائل کے حل کیلئے کوئی ترقیاتی منصوبے نہیں دیئے ۔

12/7/2016 10:21:05 AM