Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے، ہم امن چاہتے ہیں، خون خرابہ نہیں چاہتے۔ الطاف حسین


ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے، ہم امن چاہتے ہیں، خون خرابہ نہیں چاہتے۔ الطاف حسین
 Posted on: 7/31/2016
ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے، ہم امن چاہتے ہیں، خون خرابہ نہیں چاہتے۔ الطاف حسین
ہم کسی کو مارنا نہیں چاہتے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے لوگوں کو بھی نہ مارے 
ہمارا کہنا صرف یہی ہے کہ ہمارے لوگوں پر ظلم بند کرو اور ظلم کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے 
رینجرز کے اختیارات کی مدت ختم ہوچکی ہے اس کے باوجود رینجرز غیرقانونی چھا پے اور گرفتاریاں کررہی ہے
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شر یف رینجرز کو غیرقانونی چھاپوں اور گرفتاریوں سے روکیں
مجھے افسوس ہے کہ جنرل راحیل شریف نے بھی مہاجروں کو انصاف فراہم کرنے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا
اقوام متحدہ کے سیکر یٹری جنرل، امریکہ کے صدر بارک اوباما، برطانیہ کی وزیراعظم ٹریسامے، امریکہ اور برطانیہ کے محکمہ خارجہ، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور مغربی و مشرقی یورپ اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں مہاجروں پر ہونے والے مظالم کو بند کرائیں
کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ ،سانگھڑاورٹنڈوالہیار میں ذمہ داران کے اجلاسوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔ 31جولائی 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے، ہم امن چاہتے ہیں، ہم خون خرابہ نہیں چاہتے، ہم کسی کومارنانہیں چاہتے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے لوگوں کوبھی نہ مارے۔ہماراکہناصرف یہی ہے کہ ہمارے لوگوں پر ظلم بند کرواورظلم کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اقوام متحدہ کے سیکر یٹری جنرل ، امریکہ کے صدربارک اوباما، برطانیہ کی وزیراعظم ٹریسامے، امریکہ اوربرطانیہ کے محکمہ خارجہ،امریکہ، برطانیہ، جرمنی اورمغربی ومشرقی یورپ اور دنیا بھرکی انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان میں مہاجروں پرہونے والے مظالم کو بند کرائیں۔
ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ ،سانگھڑاورٹنڈوالہیار میں ذمہ داران کے اجلاسوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے سورۃ العصر کی تلاوت اور ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس سورہء میں اللہ تعالیٰ زمانے کی قسم کھاکرکہتاہے کہ انسان خسارے میں ہے لیکن وہ لوگ نہیں جوایمان لائے ، جوحق کی تلقین کرتے رہے اورصبرکرتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کی جدوجہد کو 38سال ہوچکے ہیں اوراس عرصہ میں مہاجرازم کے نظریہ کیلئے کارکنان نے دن رات کام کیا ، بہت سے لوگ تحریک چھوڑ کر چلے گئے یا ان کی ترجیحات تبدیل ہوگئیں لیکن اللہ کے کرم سے سینئر کارکنان کی اکثریت آج بھی ثابت قدم ہے ، تحریک سے جڑی ہوئی ہے اور رات دن تنظیمی کاموں میں مصروف ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے اور انسان کا عمل خود بتادیتا ہے کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں ، 2013ء سے 2016ء تک تین برسوں کے دوران ایم کیوایم کے 61 کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا،ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا گیا اور تقریباً 135 کارکنان آج تک لاپتہ ہیں۔ ایم کیوایم کے رہنماؤں ، منتخب نمائندوں ،ذمہ داروں اورکارکنوں کو گرفتارکرکے ان کا90 روزہ ریمانڈلیاگیااور رینجرز کی حراست میں انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نائن زیروپر چھاپوں کے دوران رینجرز اہلکاروں نے مختلف شعبہ جات کے 200سے زائدذمہ داروں ، کارکنوں اور اہل محلہ کو گرفتار کرلیا ۔ جب رینجرز اہلکار، رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینر عامرخان کو اپنے ساتھ لے جانے لگے تو رینجرز کے افسر نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ عامرخان کو گرفتارنہیں کیاجارہا ہے بلکہ وہ مہمان کی حیثیت سے ہمارے ساتھ جارہے ہیں اورانہیں جلد چھوڑ دیا جائے گا لیکن اگلے روز عامرخان کے منہ پر کپڑا ڈال کرعدالت میں پیش کیاگیااور 90 روزکا ریمانڈ لے لیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کسی بھی ملک کے آئین اور قانون کی محافظ ہوتی ہیں ، اگر پارلیمنٹ ، سیاسی مقاصد یا خوف کے تحت سچ بولنے سے قاصر ہو تو عدلیہ میدان میں آکر آئین اورقانون کی حفاظت کرتی ہے لیکن ہمارے معاملے میں عدلیہ میدان میں نہیں آئی، ہم سے کہاجاتا ہے کہ قانون کی پاسداری کی جائے لیکن کوئی اس کا نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے کہ گزشتہ 12 روز سے رینجرز کو دیئے گئے پولیس کے اختیارات کی مدت ختم ہوچکی ہے اس کے باوجود رینجرز کی جانب سے غیرقانونی چھاپوں اور ایم کیوایم کے کارکنان کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 38برسوں کی جدوجہد کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنان کو شہیدکردیاگیا، شہداء قبرستان بھردیئے گئے ، ہم تمام ترمظالم پر صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے رہے اورصبرکی تلقین کرتے رہے لیکن نہ تو کسی نے ہماری داد فریاد سنی اور نہ ہی ہمیں انصاف دلانے کیلئے کوئی میدان میں آیا۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا فرض ہے کہ اگر کسی کے ساتھ ظلم وزیادتی اور ناانصافی کے عمل پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایکشن نہ لیں تو سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے ، افسوس کہ غیرآئینی اورغیرقانونی طورپر میری تقریر سننے والوں پر بھی مقدمے قائم کردیئے گئے اور ہائی کورٹ یاسپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کی جانب سے اس کاکوئی نوٹس نہیں لیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے افسوس ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی مہاجروں کی دہائیوں اورفریادوں پر کان نہیں دھرا اور انہیں انصاف فراہم کرنے کیلئے کوئی کردارادانہیں کیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرزکوپولیس کی طرح چھاپوں اورگرفتاریوں کے جواختیارات حاصل تھے وہ ختم ہوچکے ہیں اور قانونی طورپراس کے پاس چھاپوں گرفتاریوں کے اختیارات نہیں ہیں لہٰذاوہ آج کل کس اختیار کے تحت چھاپے ماررہی ہے اورگرفتاریاں کررہی ہے ؟ انہوں نے کہاافسوس اس بات کاہے کہ رینجرزغیرقانونی طورپر گرفتاریاں کررہی ہے ، چھاپے ماررہی ہے لیکن نہ حکومت اسے روک رہی ہے ، نہ وزیراعظم روک رہے ہیں اورنہ ہی عدالت اس کا نوٹس لے رہی ہے ۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شر یف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وہ رینجرز کو غیرقانونی چھاپوں اور گرفتاریوں سے روکیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 2013ء میں شروع کئے جانے والے ریاستی آپریشن کے دوران اب تک ہمارے 61بے گناہ کارکنوں کو گرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔اس سے پہلے 1992ء کے ریاستی آپریشن میں بھی ہمارے 15ہزارسے زائد بے گناہ کارکنوں کو شہیدکردیاگیالیکن ہمارے شہیدکارکنوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث کسی بھی اہلکارکوگرفتارنہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کاٹھکانہ جہنم ہے ‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے بے گناہوں کے ناحق قتل کے بارے میں کئی احادیث مبارکہ بھی بیان کیں۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجیدمیں حکم ہے کہ قصاص فرض ہے ۔ انہوں نے قرآن مجیدکی سورہء بقرہ کی آیت نمبر 178بیان کی جس کاترجمہ ہے کہ ’’ اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کابدلہ لو ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے شہید ساتھیوں کا قصاص چاہیے۔اللہ تعالیٰ ان کے قاتلوں کوبھی اس وقت تک معاف نہیں کرے گاجب تک وہ اس پر معاف نہیں مانگتے یا قصاص نہیں دیتے ۔ انہوں نے کہاکہ جن سرکاری اہلکاروں نے ہمارے بے گناہ کارکنوں کوناحق شہیدکیاہے انہیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضورمعافی مانگیں اورشہداء کے لواحقین سے معافی مانگیں۔ ہم نہ لڑناچاہتے تھے اورنہ لڑنا چاہتے ہیں،ہماراکہناصرف یہی ہے کہ ہمارے لوگوں پر ظلم بندکرواورظلم کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔جناب الطاف حسین نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ، امریکہ کے صدربارک اوباما، برطانیہ کی وزیراعظم ٹریسامے، امریکہ اوربرطانیہ کے محکمہ خارجہ،امریکہ، برطانیہ، جرمنی اورمغربی ومشرقی یورپ اوردنیابھرکی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں مہاجروں پرہونے والے مظالم کو بندکرائیں۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے، ہم امن چاہتے ہیں، ہم خون خرابہ نہیں چاہتے، ہم کسی کو مارنا نہیں چاہتے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے لوگوں کوبھی نہ مارے۔انہوں نے کہاکہ اگراقوام متحدہ اوربین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں کوئی بین الاقوامی فورم تشکیل دے تومیں وہاں یہ ثابت کردوں گاکہ پاکستان مذہبی انتہاپسندوں کامرکزہے۔انہوں نے ذمہ داران پر ذوردیاکہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اورمتحد ہوکر اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ 

12/10/2016 4:21:57 PM