Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نامزد میئر وسیم اخترنے جھوٹے اعترافی بیان کی قلعی کھول دی ،ایم کیوایم رابطہ کمیٹی


نامزد میئر وسیم اخترنے جھوٹے اعترافی بیان کی قلعی کھول دی ،ایم کیوایم رابطہ کمیٹی
 Posted on: 7/27/2016
نامزد میئر وسیم اخترنے جھوٹے اعترافی بیان کی قلعی کھول دی ،ایم کیوایم رابطہ کمیٹی
نامزد میئر وسیم اختر کا کراچی سینٹرل جیل سے اپنے ہاتھ سے لکھا گیا خط پریس کانفرنس میں صحافیوں کو پیش کیا اور پڑھ کر سنایا
وسیم اختر نے اپنے ہاتھ سے لکھے گئے خط میں سانحہ 12مئی کے حوالے سے منسوب جھوٹے اعترافی بیان کی سختی سے تردید کی اور اس حوالے سے چلنے والی ساری خبروں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیدیا 
میڈیا ہاؤسز سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے خلاف منفی خبروں کو چلانے سے پہلے تصدیق ضرور کرلیا کریں، وسیم اختر کا خط
ہائی کورٹ کے سیٹنگ ججز پر مشتمل کمیشن نے 12مئی کے حوالے سے یم کیوایم سے وابستہ کسی رکن کو یا کسی رہنما پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا نہ ہی کسی کو نامزد کیاتھا ، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل 
یہاں تعینات جانبدار اور نااہل پولیس کی ساری تفتیش اور بیانات صرف اپنے ساتھ سیاسی ایجنڈا لئے ہوئے ہوتے ہیں، کنور نوید 
کراچی کو ایک کالونی کی طرح سے ڈیل کیاجارہا ہے اورآپریشن کی بات صرف کراچی کیلئے ہوتی ہے ، کنور نوید جمیل 
اگر سچائی اور حقیقت کا سامنا کرنا ہے تو سندھ میں ایم کیوایم کے قیام سے لیکر آج تک کے حکمرانوں کو احتساب کیا جائے اور انہیں بھی پابند سلاسل کیاجائے، کنور نوید جمیل 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیزآباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔27، جولائی 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے نامزد حق پرست میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا پر سانحہ12مئی کے اپنے سے منسوب جھوٹے اعترافی بیان کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ میڈیا پر اس حوالے سے چلنے والی ساری خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں اور میں نے سانحہ 12مئی کے حوالے سے کوئی اعترافی بیان دیا ہے نہ ہی 12مئی کے حوالے سے کوئی نئے انکشافات کئے ہیں بلکہ میں اپنے پچھلے بیانات کا اعادہ کرتا ہوں کہ اس سانحہ کی اعلیٰ عدلیہ سے اوپن انکوائری کروائی جائے ۔ وسیم اختر نے کہاکہ میرا میڈیا ٹرائل کرواکر میری ساکھ کو خراب کرنے کی مسلسل سازشیں کی جارہی ہیں ،میں میڈیا ہاؤسز سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے خلاف منفی خبروں کو چلانے سے پہلے تصدیق ضرور کرلیا کریں ۔ انہوں نے اہل کراچی اور خصوصاً اہل پاکستان سے اپیل کی کہ وہ جھوٹے اور بے بنیاد پرپیگنڈے میں ہرگز نہ آئیں ۔ نامزد میئر وسیم اختر نے سانحہ 12کے حوالے سے منسوب جھوٹی خبروں کی تردید اور مذمت اپنے وکلاء کے پینل سے کراچی سینٹرل جیل میں ملاقات کے موقع پر اپنے ہاتھ سے لکھے گئے خط میں کی جو متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے اراکین نے بدھ کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے پیش کیا اور اسے پڑھ کر سنایا ۔ پریس کانفرنس ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے کی جبکہ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان عارف خان ایڈووکیٹ اور ساتھی اسحاق بھی موجود تھے ۔ قبل ازیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنور نوید جمیل نے کہاکہ ٍ ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ12مئی کا واقعہ وقوع پذیر ہونے کے بعد سب سے پہلے ایم کیوایم نے ہی اس کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں ایم کیوایم کے 14بے گناہ کارکنان شہید ہوئے تھے ، ویسے اس میں بہت ساری سیاسی جماعتوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے کارکنان بھی شہید ہوئے ہیں لیکن باقی سب جماعتوں کے بیانات بیانات تک ہی محدود رہے ۔انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ کے سیٹنگ ججز پر مشتمل ایک کمیشن 12مئی کے حوالے سے تشکیل دیا گیا تھا اور انہوں نے اس پورے سانحہ کی تفصیل سے سماعت کی اور اس کی رپورٹ بھی آئی جس میں ایم کیوایم سے وابستہ کسی رکن کو یا کسی رہنما پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا نہ ہی کسی کو نامزد کیا گیا اور کراچی بدامنی کیس میں بھی مسلسل اس کا ذکر رہا اور اس میں بھی کسی ایم کیوایم کے رہنما یا کارکن کو ملوث نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ کل ہی پاک فوج کے 2جوان شہید ہوئے ہیں اور صرف دو ماہ کے قلیل عرصے کے اندر کراچی سے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے اغواء ہوئے ، امجد صابری جیسی بین الاقوامی شخصیت کا قتل ہوا تو یہاں تعینات جانبدار اور نااہل پولیس کی ساری تفتیش اور بیانات صرف اپنے ساتھ سیاسی ایجنڈا لئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 12مئی کا جب واقعہ ہوا تو اس وقت وسیم اختر وزیراعلیٰ کے مشیر برائے داخلہ تھے ،ان کے اوپر یہ گھٹیا الزام لگانا کہ انہوں نے فائرنگ کے احکامات دیئے سراسر بہتان ہے اور جو پولیس افسران جنہوں نے یہ من گھڑت بیان اپنی طرف سے بنا کر میڈیا کو دیا ہے وہ اپنے پولیس کے محکمہ سے اور کراچی کے امن و امان سے کتنے سنجیدہ ہیں اس سے ان کی سوچ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم بار ہا 12مئی کے سانحہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرچکی ہے لیکن 9سال کے بعد جب رینجرز کی تین سالہ کارکردگی پر سوال اٹھ رہے تھے اور جب یہ بات ہورہی تھی کہ پولیس نے اپنی صلاحیتوں کا کتنا اضافہ کیا ہے اور جب پورا میڈیا کراچی میں کل فوجی جوانوں کی شہادت کی کوریج میں لگا ہوا تھا ایسے وقت میں وسیم اختر پر جعلی اور من گھڑت تفتیشی رپورٹ بنا کر میڈیا کو دینا اور میڈیا پر مختلف ذرائع سے اس بات پر دباؤ ڈالنا کہ فوجی جوانوں کے واقعہ کی کوریج کم کرو اور اپنے نیوز بلٹن کو نمبر ون وسیم اختر کی خبر کو رکھو یہ سب ایک گہری سازش اور سازش مجرمانہ کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی بااختیار اسٹیبلشمنٹ ، پاکستان کی حکومت میں شامل باضمیر لوگوں سے اپیل کی کہ خدارا متحدہ قومی موومنٹ کراچی کی اکثریتی جماعت ہے آج بھی ایم کیوایم کے پاس کراچی کا 85فیصد مینڈیٹ موجود ہے خدارا کراچی کے ساتھ اور متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ یہ سازشوں کا سلسلہ بند کریں ۔ انہوں نے کہاکہ پورا پاکستان بخوبی آگاہ ہے کہ 12مئی پر جب سابق چیف جسٹس پاکستان کراچی تشریف لارہے تھے تو چیف جسٹس سے ایم کیوایم کی کوئی مخاصمت نہیں تھی یہ ساری لڑائی اسٹیبلشمنٹ اور چیف جسٹس کی تھی نہ ایم کیوایم نے چیف جسٹس آف پاکستان کو ان کی سیٹ سے برطرف کیا تھا اور نہ ہی ایم کیوایم نے انہیں نذربند کیا تھا اور تمام لوگ یہ جانتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان اور اسٹیبلشمننٹ کے درمیان ہونیو الی اس بدمزگی کی کیا وجوہات تھیں اور کس وجہ سے اعلیٰ عدلیہ نے اور اسٹیبلشمنٹ میں یہ غلط فہمی اور بد مزگی کا سلسلہ پیدا ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کراچی کے لوگوں میں یہ احساس مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے کہ کراچی کو ایک کالونی کی طرح سے ڈیل کیاجارہا ہے اور کراچی کے لوگوں کو کسی کالونی کے باشندے ، محکوم لوگوں کی طرح سے ٹریٹ کیاجارہاہے ۔ جب آپریشن کی بات ہوتی ہے تو صرف کراچی میں آپریشن کی ہوتی ہے ،کراچی سے باہر آپریشن ہوگا تو صوبائی حکومت تیار نہیں ہوگی اور کہیں رینجرز پہنچ جائے گی تو انہیں گرفتار کرکے حوالات کی سزا دلائی جائے گی ۔ اور کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں تین سال کے دوران چھاپے مارے گئے ، بے گناہ لوگوں کو پکڑ کر ٹارچر کیا گیا ، جھوٹے مقدمات بنائے گئے ، نمائندہ جماعت کا میڈیا ٹرائل کیا گیا ، کراچی کے مسائل کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے کراچی آج کچرے کا ڈھیر بن گیا ہے ، کراچی کے لوگ پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں ، کراچی میں ایک بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شہری پریشان ہیں ، کراچی کے لوگوں کیلئے تعلیمی ادارے نہیں ہیں ، کراچی کے لوگوں کیلئے اسپتال نہیں ہیں ، اس کیلئے نہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ بات کرتی ہے نہ صوبائی حکومت بات کرتی ہے نہ وفاقی حکومت بات کرتی ہے بلکہ ساری توانائیاں یہی ہیں کہ میڈیا ہاؤسز پر دھونس دھمکی کے ذریعے ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل کرایا جائے اور ایم کیوایم کو بدنام کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ تین سال سے تواتر کے ساتھ یہ کیاجارہا ہے ۔ لیکن ہر عام ضمنی انتخاب ، بلدیاتی انتخابات اور کنوٹمنٹ کے الیکشن ہوں ان کے نتائج آئینہ دکھاتے ہیں کہ کراچی کے لوگوں نے نہ پہلے منفی پروپیگنڈں کو تسلیم کیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے اور کراچی کے لوگ ایم کیوایم کو درست سمجھتے ہیں ، کراچی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کراچی کے لوگوں اور قیادت کے ساتھ مسلسل زیادتی ہورہی ہے ، کراچی میں بڑے واقعات ہوگئے ، قصبہ علی گڑھ کا ہو ، سہراب گوٹھ کا واقعہ ہوا ، کراچی کی بستیوں میں قتل عام ہو ، لیاری میں لیجا کر گینگ وار کی طر ف سے مہاجروں کو ذبح کرنا ہو لیکن آج بھی کسی واقعہ کا مجرم جیل میں نہیں ہے ، کسی کے ساتھ میڈیا ٹرائل نہیں چلایاجارہا ہے جن گینگ وار کے لوگوں نے کراچی کے نوجوانوں کو قتل کیا اور اس وقت کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے اپنے آفس میں بیٹھ کر ان کے ورثاء پر دباؤ ڈال کر کیس واپس لینے پر مجبور کیا اور پولیس کے ذریعے پولیس پر دباؤ ڈال کر ان تمام افراد کو رہا کرایا گیا ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ شیر شاہ کا سانحہ ہ ہوا بے گناہ مہاجر دکاندار مارے گئے ان لوگوں پر دباؤ دیکر کیس واپس لئے گئے ، ان سے گواہوں کو نہ پہچاننے کیلئے وزیراعلیٰ کے آفس میں پولیس کی موجودگی میں دباؤ ڈالا گیا لیکن یہ کیسا آپریشن اور اسٹیبلشمنٹ ہے کہ اسے مہاجروں پر ہونے وال اکوئی زیادتی اور ظلم نظر نہیں آرہا ہے اور وسیم اختر کو صرف اس جرم کی سزا دی جارہی ہے کہ وہ سچ بولتے تھے ، وسیم اختر نے کراچی آپریشن کے دوران ہونے والی زیادتی پر کھل کر بات کی ہے اس پر وسیم اختر کو سزا دی جارہی ہے ۔ وسیم اختر کو جب ان کے وکلاء نے بتایا کہ آپ کیلئے اس قسم کی خبریں چل رہی ہیں تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک تحریر لکھ کر یہاں پر بھیجی ہے اور کہا ہے کہ یہ میرا خط ہے جو سائن شدہ خط ہے اور اس میں انہوں جھوٹے اعترافی بیان کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ۔ انہوں نے ہاکہ جو لوگ بارہ مئی کے من گھڑت الزامات وسیم اختر پر لگا رہے ہیں ہمیں جواب دیں کہ 27دسمبر کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت راولپنڈی میں ہوئی اور کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی ، یہاں پر فیکٹریوں میں کام کرنیو الی خواتین کی عصمت دری کی گئی ، ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں کو جلا دیا گیا ، یہ آپریشن چل رہا ہے نہ ان عصمت دری کرنے والوں میں سے آپریشن کرنے والوں نے کتنوں کو آج تک گرفتار کیا ، ہزاروں گاڑیوں کو جلانے اور پرپراٹی کو نقصان پہچانے والے قانون شکنوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا ۔ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے دو لاکھ لائسنس جاری کئے اور کہا کہ یہ میں نے شادی میں فائرنگ کیلئے جاری نہیں کئے اور مہاجروں کو قتل کرنے کیلئے جاری کئے ہیں کیا اسٹیبلشمنٹ نے ذوالفقار مرزا کوپکڑا جو پچا س پچاس افراد کا مسلح جھتہ لیکر کورٹ میں آتا تھا ۔ کیا رینجرز نے اسے پکڑ لیا ۔ ذوالفقار مرزا نے ایس ایس پی آفس میں توڑ پھوڑ کی لیکن قانون کی گرفت سے محفوظ ہے ، اسد کھرل کا واقعہ سب کے سامنے ہئے اس واقعہ کو ہلکی دفعات لگا کر دبا دیا گیا ،شیر شاہ کے قاتل بھی آزاد ہیں سانحہ کی تحقیقات سرد خانے کردی گئی ، لیاری میں نوجوانوں کے گلے کاٹے گئے لیکن حکمراں خاموش رہے ، کٹی پہاڑی پر مہاجروں کا قتل کیاگیا اس وقت کے حکمران بھی آئین و قانون کی گرفتا سے محفوظ ہیں ۔ اگر سچائی اور حقیقت کا سامنا کرنا ہے تو سندھ میں ایم کیوایم کے قیام سے لیکر آج تک کے حکمرانوں کو احتساب کیا جائے اور معلوم کیاجائے کہ کس کس کے دور حکومت میں سانحات ہوئے اورانہیں بھی پابند سلاسل کیاجائے ۔ اگر یہ سب کچھ نہیں ہورہا ہے تو ہم سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ، قومی وصوبائی حکومتوں نے کراچی کو کالونی سمجھا ہوا ہے ، کسی کی کراچی کے پیسے ، زمینوں پر نظر ہے اور کسی کو کراچی کی پروا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میئر کیلئے ایم کیوایم کے امیدوار وسیم اختر ہی رہیں گے اور انشاء اللہ پر جھوٹے مقدمات اور اعترافی بیانات کی قلعی جلدکھل گئی ہے اور وہ بھی ان مقدمات سے سرخرو ہو باعزت بری ہوں گے ۔ 



12/7/2016 8:02:05 PM