Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

2013ء سے کراچی میں ایک قسم کامارشل لانافذ ہے۔ الطاف حسین


2013ء سے کراچی میں ایک قسم کامارشل لانافذ ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 7/24/2016
2013ء سے کراچی میں ایک قسم کامارشل لانافذ ہے۔ الطاف حسین
آپریشن کارخ ایم کیوایم کی جانب موڑ دیاگیا ہے، ہم اپنی جدوجہدسے کسی بھی قیمت پر دستبردارنہیں ہوں گے
مہاجروں سمیت تمام لسانی اکائیوں ، برادریوں اورمذہبی اقلیتوں اورتمام پاکستانیوں کے مساوی حقوق کیلئے جدوجہدجاری رکھیں گے
ایم کیوایم ،پاکستان کو پروگریسیو اور اعتدال پسند ملک بناناچاہتی ہے
پاکستان میں اچھی طرز حکمرانی کیلئے کم ازکم 20 نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے اور مہاجروں کا بھی علیحدہ صوبہ بنایاجائے
پاکستان کوجورقم مذہبی انتہاء پسندی کے خا تمے کیلئے فراہم کی جاتی ہے وہ انتہاء پسندی کے خاتمے کے بجائے جہادی عناصر کے
مدارس کے قیام اوران کے فروغ پر خرچ کی جاتی ہے 
70 برسوں سے مہاجروں کو انکے بنیادی حقوق اورحق حکمرانی سے محروم کررکھا جارہاہے
امریکی سینیٹرز اورکانگریس مین ایم کیوایم کے نمائندوں کو ملاقات کاوقت دیں اورپاکستان میں مہاجرقوم کو درپیش مسائل سنیں
واشنگٹن ڈی سی میں وہائٹ ہاؤس کے سامنے بڑے احتجاجی مظاہرے سے ٹیلی فونک خطاب 

لندن۔۔۔23،جولائی2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ 2013ء سے کراچی میں ایک قسم کامارشل لانافذ ہے،یہاں جاری آپریشن جس کے بارے میں قوم کو یہ کہاگیاتھاکہ یہ آپریشن دہشت گردی اورمذہبی انتہاپسندی کے خلاف ہوگا لیکن اس کارخ ایم کیوایم کی جانب موڑ دیاگیا۔ ہم اپنی جدوجہدسے کسی بھی قیمت پر دستبردارنہیں ہوں گے اوراپنے اصولوں پر چلتے ہوئے مہاجروں اورتمام لسانی اکائیوں ، برادریوں اورمذہبی اقلیتوں اورتمام پاکستانیوں کے مساوی حقوق کیلئے جدوجہدجاری رکھیں گے۔ ایم کیوایم ،پاکستان کو پروگریسیو اور اعتدال پسند ملک بناناچاہتی ہے جہاں انتہاء پسندی اور مذہبی جنونیت نہ ہو، تمام مذاہب ، مسالک اور قومیت سے تعلق رکھنے والوں کو برابری کی بنیاد پرحقوق میسرہوں اور خواتین کو غیرت کے نام پر قتل نہ کیاجاسکے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اچھی طرز حکمرانی کیلئے کم ازکم 20 نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے اور مہاجروں کا بھی علیحدہ صوبہ بنایاجائے ۔ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم امریکہ کے تحت واشنگٹن ڈی سی میں وہائٹ ہاؤس کے سامنے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں ایم کیوایم کے رہنماؤں ، امریکہ کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان ،واشنگٹن ڈی سی، بالٹی مور، نیویارک، نیوجرسی ، فلاڈیلفیا، شکاگو، ڈیٹرائٹ، ہیوسٹن، رچمنڈ،سان انٹونیو، ڈیلاس، آسٹن، اٹلانٹا، فلوریڈا، لاس اینجلس، البرقی اورسان فرانسسکو سمیت امریکہ کی 30 سے زائد ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران ،کارکنان اور ہمدردوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم امریکہ کے 20 ویں سالانہ کنونشن اوروائٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے انعقاد پر ایم کیوایم امریکہ کے مرکزی آرگنائزر، آرگنائزنگ کمیٹی کے تمام اراکین اورامریکہ کے تمام چیپٹرز کے ذمہ داران وکارکنان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مہاجروں پر ریاستی مظالم ڈھائے جارہے ہیں ، ایم کیوایم کے رہنماؤں اورکارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیاجارہاہے ، روزانہ بے گناہ کارکنان کو گرفتارکیاجارہاہے ، گرفتارشدگان کوجبری طورپر لاپتہ کیاجارہا ہے اور سندھ کے شہروں میں مہاجراکثریتی علاقوں میں اسطرح چھاپے مارے جارہے ہیں جس طرح مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج مسلمانوں کی بستیوں میں چھاپے مارتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مہاجروں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آج واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء کے فلک شگاف نعروں کی گونج امریکہ کے منتخب صدربارک اوبامہ اوران کی انتظامیہ کے ارکان تک بھی پہنچ رہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ واشنگٹن میں شدیدترین گرم موسم کے باوجود امریکہ کی مختلف ریاستوں سے بزرگوں ، ماؤں ، بہنوں ،بچوں اور ساتھیوں کا وائٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہوکر مہاجرقوم پر ڈھائے جانے والے ریاستی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مہاجروں پر1947ء سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اس طرح آوازبلندنہیں کی جس طرح انہیں کرنی چاہیے تھی۔ امریکہ پوری دنیا میں انصاف کی فراہمی کیلئے اپنی افواج بھیجتا ہے ، وہ مہاجروں کو ریاستی مظالم سے تحفظ دلانے کیلئے اپنے نمائندوں کوبھیجے تاکہ انہیں حقائق کا علم ہوسکے ۔ امریکہ دہشت گردی اورمذہبی انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے سیریا، افغانستان، صومالیہ اوردنیاکے دیگرممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی امدادکرتا ہے لیکن پاکستان کوفراہم کی جانے والی امداد مہاجروں پر مظالم ڈھانے اورمہاجروں کو ختم کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔انہوں نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ امریکی حکومت ، پاکستان کوجورقم مذہبی انتہاء پسندی کے خاتمے فراہم کرتی ہے وہ ملک سے انتہاء پسندی کے خاتمے کے بجائے جہادی عناصر کے مدارس کے قیام اوران کے فروغ پر خرچ کی جاتی ہے ۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے 70 برسوں سے مہاجروں کو انکے بنیادی حقوق اورحق حکمرانی سے محروم کررکھا ہے ، ایم کیوایم متعددمرتبہ جمہوری طریقے سے منتخب ہوتی رہی لیکن سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے نمائندوں کی اکثریت ہونے کے باوجود کوئی مہاجرصوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ نہیں بنایاگیا، اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ ملازمتوں کے دروازے مہاجروں پر بند کردیئے گئے ہیں اور70 ملین سے زائدآبادی کے باوجود مہاجروں کیلئے علیحدہ صوبہ بنانے کی اجازت نہیں دی جارہی جہاں وہ حق حکمرانی حاصل کرسکیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج تک پاکستان کے چار صوبے ہیں اور پاکستان میں آبادی کے بے پناہ اضافہ کے باوجود مزیدصوبے نہیں بنائے جارہے ہیں ۔ پاکستان میں بہتر طرزحکمرانی کیلئے مزید 20 صوبوں کا قیام اشدضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مہاجروں کیلئے بھی علیحدہ صوبہ بنایاجائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجرقوم، تعلیم یافتہ ، لبرلی اورجمہوری سوچ رکھنے والی قوم ہے جو مذہب، عقیدے اور لسانیت کی بنیاد پر کسی سے نفرت نہیں کرتی ، مہاجر، پاکستان کے پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں ، پختونوں، سرائیکیوں، کشمیریوں ، ہزاروال ،گلگتیوں، ، بلتستانیوں ، ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں اوراحمدیوں سمیت سب سے محبت کرتے ہیں۔اگرمہاجروں کا علیحدہ صوبہ بنادیا جائے تو مہاجر قوم دوسروں کی طرح ڈبل گیم نہیں کھیلے گی جوامریکہ سے انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے امداد لیتے ہیں اور وہ رقم جہادیوں کے مدارس کوفراہم کرتے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ،پاکستان کو پروگریسو اور اعتدال پسند ملک بناناچاہتی ہے جہاں انتہاء پسندی اور مذہبی جنونیت نہ ہو، تمام مذاہب ، مسالک اور قومیت سے تعلق رکھنے والوں کو برابری کی بنیاد پرحقوق میسرہوں، خواتین کو غیرت اورکاروکاری کے نام پر قتل نہ کیا جاسکے اور ملک سے چائلڈ لیبرکاخاتمہ ہو 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی پاکستان کاسب سے بڑااوردنیاکاساتواں بڑاشہرہے ۔ 23 ملین آبادی کے ساتھ کراچی معیشت اوراستحکام کیلئے ایک پاورہاؤس بن سکتاہے لیکن پاکستان کی سول اورملٹری قوتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے آج کراچی دہشت گردی اورمذہبی انتہاپسندی کاگڑھ بن گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء سے جاری کراچی میں ایک قسم کامارشل لانافذ ہے ۔قوم کو یہ کہاگیاتھاکہ یہ آپریشن دہشت گردی اورمذہبی انتہاپسندی کے خلاف ہوگا لیکن اس کارخ ایم کیوایم کی جانب موڑ دیاگیا۔اس دوران شروع کئے گئے آپریشن کے نتیجے میں ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کوصرف ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے گرفتارکیاگیاجن میں سے ڈیڑھ ہزارکارکنان تاحال جیل میں ہیں، ،مارچ 2015ء میں رینجرزنے ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر چھاپہ ماراگیا، درجنوں کارکنوں کوگرفتارکیاگیاجس میں ایک کارکن شہید کردیاگیا۔ آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے 61کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کردیا گیاجبکہ 135 کارکنان لاپتہ ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کوان کے جمہوری حق سے محروم کردیاگیاہے، گزشتہ سال دسمبر میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے جن میں ایم کیوایم نے کراچی ، حیدرآباداوردیگرشہری سندھ سے 60فیصد ووٹ حاصل کئے لیکن آٹھ ماہ گزرجانے کے باوجود ابھی تک منتخب نمائندوں کوان کاحق نہیں دیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ چندروزقبل نامزدمیئرکراچی وسیم اختراوررکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی کوگرفتار کرلیا گیا جو قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف یہ ظلم وستم ہے ، دوسری طرف پاکستان میں میڈیامیں میری تقاریر،بیانات حتیٰ کہ تصاویرکی نشرو اشاعت پر پابندی عاکردی گئی ہے اوراجتماع میں تقریرسننے والے کارکنوں اورعہدیداروں منتخب نمائندوں تک کے خلاف مقدمات درج کرلیئے گئے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ابتداء ہی سے غریبوں، ورکنگ کلاس اورمڈل کلاس عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہے جنہیں دیگرسیاسی جماعتوں نے نظراندازکیا ۔ ہم تمام محروم لوگوں کے مساوی حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اوریہ جدوجہدجاری رکھیں گے۔ہم جمہوری اندازمیں خواتین، لسانی اکائیوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں ،ہم آزادانہ اورمنصفانہ انتخابات چاہتے ہیں اورہر طرح کے کرپشن کاخاتمہ چاہتے ہیں۔ہم ملک کے تمام عوام کے لئے صحت اورتعلیم کایکساں حصول چاہتے ہیں،ہم کاروباراورملکی وغیرملکی سرمایہ کاری کیلئے بہترماحول چاہتے ہیں اور گڈگورننس چاہتے ہیں تاکہ اس کے فوائد تمام پاکستانیوں کوپہنچ سکیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں یہ فخرہے کہ ہماری جماعت نے کراچی کی معاشی ترقی اوراسے جدیدشہربنانے میں بڑا کرداراداکیااورایم کیوایم کی لیڈرشپ کوموقع ملاتووہ ایک مرتبہ پھرکراچی کوترقی کی شاہراہ پر گامزن کرے گی۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم مذہبی انتہا پسندی اورحکمراں طبقہ کے تسلط کے خلاف ہے اسی لئے ہمارے مخالفین ہم پر حملے کرتے ہیں، ہماراامیج خراب کرنے کیلئے ہم پر کیچڑاچھالتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں ایک مرتبہ پھرایم کیوایم کے کارکنوں اورہمدردوں کویقین دلاتاہوں کہ ہم اپنی جدوجہدسے کسی بھی قیمت پر دستبردارنہیں ہوں گے اوراپنے اصولوں پر چلتے ہوئے مہاجروں اورتمام لسانی اکائیوں ، برادریوں اورمذہبی اقلیتوں اورتمام پاکستانیوں کے مساوی حقوق کیلئے جدوجہدجاری رکھیں گے۔جناب الطاف حسین نے امریکی سینیٹرز اورکانگریس مین سے اپیل کی کہ وہ ایم کیوایم کے نمائندوں کو ملاقات کاوقت دیں اورپاکستان میں مہاجرقوم کو درپیش مسائل سنیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں گزشتہ 40 برسوں سے دن رات تحریکی جدوجہد میں مصروف ہوں، حالات کے جبر، اپنی علالت اور تمام ترمصائب ومشکلات کے باوجود میں نے ایک دن کیلئے تحریک کا کام نہیں چھوڑا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم آنے والی نسلوں کے بہتر، روشن مستقبل اور باعزت زندگی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور انشاء اللہ حق پرستی کی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
جناب الطاف حسین نے تمام حق پرست شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیااور ایم کیوایم کے اسیرکارکنان کو ہمت وحوصلے کے مظاہرے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آفتاب احمد شہید،ریاض الحق شہید اور بین الاقوامی شہرت یافتہ قوال حضرت امجدفرید صابری ؒ سمیت تمام شہداء کی مغفرت فرمائے ، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے اورسوگوارلواحقین کو صبرجمیل عطا کرے ۔انہوں نے ایم کیوایم کے سینئرترین رہنما شعیب بخاری ایڈوکیٹ اور سینئر سیاستداں معراج محمد خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور سوگوار لواحقین کی صبرجمیل کی دعا کی ۔


9/26/2016 2:03:18 AM