Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وسیم اختر اور رؤف صدیقی کو جیل کی دیواریں زیادہ عرصے قید نہیں رکھ سکتیں ، بہت جلد انصاف نہیں ملا تو ہم اپنے فیصلوں کیلئے آزاد ہوں گے ، مرکزی رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


وسیم اختر اور رؤف صدیقی کو جیل کی دیواریں زیادہ عرصے قید نہیں رکھ سکتیں ، بہت جلد انصاف نہیں ملا تو ہم اپنے فیصلوں کیلئے آزاد ہوں گے ، مرکزی رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 7/22/2016
وسیم اختر اور رؤف صدیقی کو جیل کی دیواریں زیادہ عرصے قید نہیں رکھ سکتیں ، بہت جلد انصاف نہیں ملا تو ہم اپنے فیصلوں کیلئے آزاد ہوں گے ، مرکزی رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
وسیم اختر کو میئر کراچی قائد تحریک جناب الطا ف حسین کے حکم پر بنایا گیا تھا اور یہ فیصلہ کسی ظلم ، جبر اور جھوٹے مقدمات کے اندراج سے یہ تبدیل نہیں ہوسکتا ، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
ہمارا میئر وسیم اختر ہی ہوگا ،ہم مفتوحہ قوم کے فرزند نہیں ،امن و امان کے نام پر آنیو الوں نے یہاں قبضہ کرلیا ہے ، رکن رابطہ کمیٹی محفوظ یار خان 
کراچی کے کروڑوں عوام کے نامز میئر وسیم اختر اور رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی باعزت بری ہوں گے ، رکن رابطہ کمیٹی اسلم آفریدی 
سپریم کورٹ کے آرڈر آئے تو ایم کیوایم دشمن قوتوں نے جھوٹے مقدمے بنائیں وسیم اختر اور رؤف صدیقی کو بلاجواز 
گرفتار کیا،نامزدڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرا 
وسیم اختر اور رؤف صدیقی کی بلاجواز گرفتاری اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے کروڑوں ووٹرز کی توہین کی گئی ہے، رکن سندھ اسمبلی ہیر سوہو
کراچی پریس کلب کے باہر وسیم اختر اور رؤف صدیقی سمیت کارکنوں کی گرفتاریوں ، گمشدگیوں کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب 
کراچی ۔۔۔22، جولائی 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وسیم اختر کو میئر کراچی قائد تحریک جناب الطا ف حسین کے حکم پر بنایا گیا تھا اور یہ فیصلہ کسی ظلم ، جبر اور جھوٹے مقدمات کے اندراج سے یہ تبدیل نہیں ہوسکتا ، وسیم اختر اور رؤف صدیقی کو جیل کی دیواریں اتنے عرصے قید نہیں رکھ سکتیں ، بہت جلد انصاف نہیں ملا تو ہم اپنے فیصلوں کیلئے آزاد ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اعلیٰ عدالتوں میں جارہے ہیں اور انصاف سے اپنا آخری یقین اٹھنے تک انتظار کریں گے اور انصاف نہ ملا تو شہر کی سڑکیں ہوں گی، اگر جبر کی زنجیریں ہمارے ہاتھوں ٹوٹی تو یہ پورا نظام لپیٹ دیاجائے گا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کی شام ایم کیوایم کے نامزد میئر کراچی وسیم اختر ، رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی اور کارکنوں کی گرفتاریوں ، چھاپوں ، جبری گمشدگیوں ، جھوٹے اور من گھڑت مقدمات کے اندراج کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر منعقدہ بڑے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احتجاجی مظاہرے میں نوجوانوں، بزرگوں، خواتین ، منتخب بلدیاتی نمائندوں اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ایک بار پھر ہم انصاف کیلئے عدلیہ کے دروازے کے بجائے میڈیا کے دروازے پر کھڑے ہیں ، جب لوگ انصاف کے دروازے سے انصاف مایوس ہوچکے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے سے انصاف اٹھ چکا ہے اور یہ بات باآور کرلی جائے کہ امن انصاف کی ضمانت نہیں دیتا ہے انصاف امن کی ضمانت ہے اگر انصاف نہ ہوا تو پھر کوئی بھی اس شہر تو کیا اس وطن میں امن کی ضمانت نہیں دے پائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کے حوالے سے پاکستان میں بڑے بڑے حادثہ ہوچکے ہیں ، انصاف کو بار بار قتل کیا گیا ہے ، جے آئی ٹی جس کی انصاف کے حوالے سے کوئی اوقات نہیں ہے ، اس ملک میں ایک ایک کیس میں چار چار جے آئی ٹیز بنتی ہے اور بار بار تبدیل ہوتی ہے وہ شخص جو اپنا ضمیر اور ایمان بیچ سے اس کا نام جے آئی ٹیز سے نکل جاتا ہے جس جے آئی ٹی کی یہ صورتحال ہو وہ انصاف کا خون ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کی طاقت یہ ہے کہ اسے جہاں سے دبایا وہ بڑھتی گئی اور ایم کیوایم ہر مرتبہ جبر کے شکنجے سے نکلی ہے تو مضبوط ہی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عدالت سے ضمانت کی منسوخی کا فیصلہ جب جج صاحبہ پڑھ رہی تھی ان کی زبان ساتھ نہیں دے رہی ہے کسی میں ہمت ہے اور جج صاحبہ کو خود انصاف پر یقین ہے تو بتا دیں کہ وہ فیصلہ کس کا لکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وسیم اختر کو جیل میں ڈال کر کیا اس فکر کو روک سکتے ہو جو الطاف حسین کی دین ہے ، وسیم اختر تو پہلے بھی جیلوں میں بغیر مقدمے کے رہے ہیں ، کئی سال اڈیالہ جیل میں رکھ کر وسیم اختر کی آواز کمزور نہیں کی جاسکی ، رؤف صدیقی کی قائد تحریک جناب الطاف حسین سے محبت اور وفاداری کے بارے میں ابھی صحیح طریقے سے نہیں جانتے ہو ۔ انہوں نے کہاکہ ان جیلوں کی اوقات نہیں ہے ، ہم نے کئی بار اپنی مرضی سے جیلوں کو بھرا ہے ، آج کا احتجاج انصاف کے جاؤ گے ، آج ایم کیوایم کی طاقت 30سال سے سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے اعتماد سے بھر پور ہے ، اگر شریف معاشرہ ہو اور صحیح جمہوریت ہو تو اس میں فیصلہ ووٹ کرتا ہے ہم پھر متنبہ کرتے ہیں کہ اگر فیصلہ ووٹ کے ذریعے نہیں ہوا تو پھر روڈ کے ذریعے ہوگا ، آج روڈیں صرف بھری ہیں اگر یہ روڈیں چل پڑی تو تمہارے ایوان نہیں بچیں گے ، سندھ کے وزیراعلیٰ ایک مصنوعی اکثریت کے بل بوتے پر بنے ہوئے ہیں ، وزیراعلیٰ نے یہ کہا کہ رینجرز کو صرف کراچی میں آپریشن کرنے کا اختیار ہے تو آج یہاں جو ہزاروں لوگ بیٹھے ہیں وہ وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کرتے ہیں کہ تمہارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ باقی سندھ میں نہیں کریں گے اس کا مطلب یہ کہ تمہیں رینجرز پر بھروسہ نہیں ہے اور کارکردگی پر یقین نہیں ہے ، اندرون سندھ میں روک رہے ہو تو کراچی میں کیوں آپریشن کرار ہے ہو ، وزیراعلیٰ جواب دیں کہ رینجرز کے قیام سے کراچی میں مجرموں کی سرکوبی ہوئی ہے تو اندرون سندھ جہاں تمہارا ووٹرز بستا ہے وہاں رینجرز کے ذریعے امن بحالی کا خیال کیوں نہیں آرہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اہل کراچی یہ سمجھیں کہ اندرون سندھ میں آپ کی پارٹی ہے اور آپ شہری سندھ کے نمائندے نہیں ہے ، کہتے ہیں کہ سندھ تقسیم نہیں ہوسکتا بلکہ سندھ تقسیم ہوچکا ہے ۔ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن محفوظ یار خان نے کہاکہ یہ احتجاجی مظاہرہ دو ایسے افراد کیلئے ہورہا ہے جنہوں نے رینجرز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کی آنکھیں چندیا دیں ، میئر ہمارا وسیم اختر ہی ہوگا مخالفین کتنی ہی طاقت استعمال کرلیں یہ شہر اور صوبہ مہاجروں کا ہے ، کتنے ہی جتن اور ظلم کرلئے جائیں کچھ نہیں کیاجاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج کا انسان بے باک ہوکر نکلا ہوا ہے ، ظالموں ، آمروں سے جہاد قائد تحریک جناب الطاف حسین ہی کررہے ہیں اور انشاء اللہ ہم بندوقوں سے نہیں ڈرتے ۔ انہوں نے کہاکہ انقلاب ترکی میں پولیس والوں نے فوجیوں کو گرفتار کیا ، ہم بھی قوم کو پیغام دیتے ہیں کہ آپ بھی ترکی بہ ترکی خود کو تیار کیجئے عوامی طاقت کو کوئی نہیں دبا سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں امن و امان کے نام پر آنیو الوں نے یہاں قبضہ کرلیا ہے ، ہم مفتوحہ قوم کے فرزند نہیں ہے ہم نے اس ملک کو لاکھوں لوگوں کی قربانیاں دیکر حاصل کی ہے اور اب ہم پھر اپنا خون اسی طریقے سے پیش کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عدالت عالیہ کے قلم میں طاقت نہیں رہی تو عوام کی طاقت آپ کے راستے اسی طرح بند کردے گی جس طرح دو تین دفعہ ہوچکے ہیں ۔ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن اسلم آفریدی نے کہاکہ جھوٹے اور جعلی مقدمات کتنے ہی درج کرلئے گئے لیکن فکر الطاف حسین کو مٹایا نہیں جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وسیم اختر اور رؤف صدیقی کو جناب الطاف حسین کے ساتھ ثابت قدم رہنے کی سزا دی جارہی ہے ، چاہے پختون ہوں سندھی ،پنجابی ، بلوچی ، سرائیکی ہوں سب جناب الطاف حسین کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور جھوٹے مقدمات سے حق پرستانہ جدوجہد ہرگز نہیں روکا جاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ ظلم و جبر کے ہتھکنڈوں سے نہ پہلے دبے ہیں نہ آئندہ دبیں گے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے کروڑوں عوام کے نامز میئر اور رکن سندھ اسمبلی رؤف صدیقی باعزت بری ہوں گے اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے والوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ نامزد ڈپٹی میئر ارشد وہرا نے کہاکہ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء وہ لوگ ہیں جو کراچی کو اون کرتے ہیں ، ہمارے ان کارکنوں سے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا جن پر کوئی مقدمات نہیں تھے ، اس کے بعد منتخب نمائندوں کو گرفتار کیاجارہا ہے ، کسی بھی رکن سندھ اسمبلی کو گرفتار کرنے سے قبل سندھ اسمبلی سے اجازت لینا لازمی ہے لیکن تعصب میں ایسا نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے نامزد میئر کیلئے 7ماہ تک اختیارات اور وسائل دینے کیلئے مشکلات پیدا کی گئی تاکہ یہ شہرکے پانی ، بجلی ، گیس اور سیوریج کے بنیادی مسائل حل نہیں کرسکیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب سپریم کورٹ کے آرڈر آئے تو ایم کیوایم دشمن قوتوں نے جھوٹے مقدمے بنائیں وسیم اختر اور رؤف صدیقی کو بلاجواز گرفتار کیا ، انشاء اللہ تعالیٰ ہم سرخرو ہوں گے اور وسیم اختر ، رؤف صدیقی سمیت ایم کیوایم کے تمام بے گناہ کارکنان قید و بند کی صعوبتوں سے باہر آئیں گے ، یہ وقت کٹھن ضرور ہے لیکن وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا لیکن ہماری فتح اور کامیابیوں کے دن بھی قریب ہیں اس کیلئے ضروری ہے کہ اپنے اندر ڈسپلن اور اتحاد قائم رکھیں ۔ حق پرست رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیر سوہو نے کہاکہ وسیم اختر اور رؤف صدیقی کی بلاجواز گرفتاری اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے کروڑوں ووٹرز کی توہین کی گئی ہے اور ایم کیوایم کے خلاف بلاجواز کاروائیاں کرکے ووٹروں کی توہین کا مذموم عمل کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی لیڈر کو بھی چاہنا ہرفرد کا حق ہے اور جناب الطاف حسین حق ، سچائی ، محبت اور جنون کا نام ہے جسے ظلم کے ہتھکنڈوں کے ذریعے ختم نہیں کیاجاسکتا ۔

9/25/2016 5:29:48 PM