Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وسیم اختراورعبدالرؤف صدیقی کی گرفتاری ایم کیو ایم کے خلاف جاری ریاستی ظلم وستم کاتسلسل ہے،کنورنویدجمیل


 Posted on: 7/19/2016
وسیم اختراورعبدالرؤف صدیقی کی عدالت سے گرفتاری پرایم کیوایم کااظہارمذمت 
وسیم اختراورعبدالرؤف صدیقی کی گرفتاری ایم کیو ایم کے خلاف جاری ریاستی ظلم وستم کاتسلسل ہے،کنورنویدجمیل
گرفتاری کے حوالے سے ایسا لگتاہے کہ اے ٹی سی کی عدالت کی جج نے فیصلہ سنایاضرورہے لیکن شائد یہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے 
ستمبر2013ء سے ایم کیو ایم کے خلاف جاری ریاستی آپریشن کے دوران 130کارکنان لاپتہ جبکہ 61 کارکنان کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا،کنورنوید
وسیم اخترکراچی کے نامزدمیئرہیں لیکن انہیں نہ صرف عوام کی خدمت کرنے سے روکاجارہاہے بلکہ اب حراست میں لے کرمزیدانتقام کانشانہ بنایاجارہاہے،کنورنوید
ایم کیوایم کوختم کرنے اوراسے کمزورکرنے کیلئے جس طرح مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور آج ایم کیوایم کے رہنماؤں وسیم اختر اور عبدالرؤف صدیقی کوگرفتار کرکے ان مظالم کی تاریخ میں ایک اوربڑے ظلم کا اضافہ کیاگیا،کنورنویدجمیل
سابق وزیرداخلہ ذوالفقارمرزانے یہ بات کہی کہ انہوں نے پیپلزامن کمیٹی کی سرپرستی کی اورگینگ وارکے دہشت گردوں کوکئی لاکھ کلاشنکوفوں کے لائسنس دیے،عامرخان
لیاری گینگ وار کے دہشت گردوں کی سرپرستی کے ان کھلے اعلانات کے باوجود آج تک ذوالفقارمرزا کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟عامرخان
خورشیدبیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں کنورنویدجمیل اورعامرخان کی ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی:۔۔۔19؍جولائی2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرکنورنویدجمیل نے ایم کیوایم کے نامزدمئیرکراچی وسیم اختراوررکن صوبائی اسمبلی عبدالرؤف صدیقی کی گرفتاری کی شدیدمذمت کی اوران کی گرفتاریوں کوایم کیو ایم کے خلاف جاری ریاستی ظلم وستم کاتسلسل قراردیتے ہوئے کہاہے کہ ستمبر2013ء سے ایم کیو ایم کے خلاف جاری ریاستی آپریشن کے دوران 130کارکنان لاپتہ جبکہ 61 کارکنان کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ وسیم اخترکراچی کے نامزدمیئرہیں لیکن انہیں نہ صرف میئرکی حیثیت سے عوام کی خدمت کرنے سے روکاجارہاہے بلکہ اب حراست میں لے کرمزیدانتقام کانشانہ بنایاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کوختم کرنے اوراسے کمزورکرنے کیلئے جس طرح مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور آج ایم کیوایم کے رہنماؤں وسیم اختر اور عبدالرؤف صدیقی کوگرفتار کرکے ان مظالم کی تاریخ میں ایک اوربڑے ظلم کا اضافہ کیاگیاہے ۔ان خیالات کااظہار ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرزعامرخان اورسیدشاہدپاشاکے ہمراہ خورشیدبیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔پریس کانفرنس میں عامرخان نے بھی گفتگوکی اورصحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔کنورنویدجمیل نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ قانون اورعدالت کااحترام کرتی ہے اسی لئے وسیم اختر جوکہ ایم کیوایم کی جانب سے کراچی کے نامزدمیئرہیں وہ آج ڈاکٹر عاصم کیس میں عدالت میں پیشی کے لئے ہی گزشتہ روزلندن سے کراچی پہنچے تھے۔انہوں نے کہاکہ سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے اس کیس میں وسیم اختر اور رؤف صدیقی کی عبوری ضمانت پہلے ہی منظور ہوچکی ہے اورآج انسداد دہشت گردی کی عدالت کواس ضمانت کوکنفرم کرناتھا مگرآج اے ٹی سی عدالت نے ایم کیوایم کے رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کردی اورانہیں گرفتارکرلیاگیا۔ کنورنویدجمیل نے وسیم اختراوررؤف صدیقی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہاں یہ بات انتہائی قابل غورہے کہ اے ٹی سی عدالت کی جج محترمہ خالدہ یاسین اس سے پہلے کیس میں مختلف سماعتوں کے دوران رینجرزکی جانب سے پیش کی گئی جے آئی ٹی کومسترد کرتی رہی ہیں لیکن آج اے ٹی سی کی جج نے اسی جے آئی ٹی کی بنیادپر ایم کیوایم کے رہنماؤں کی درخواست ضمانت یہ کہہ کر مستردکردی کہ ’’ کیونکہ جے آئی ٹی میں کچھ ایسی چیزیں ہیں لہٰذاوہ مجبورہیں اوردرخواست ضمانت میں توسیع کی درخواست مستردکرتی ہیں ‘‘ ۔ اس سے ایسا لگتاہے کہ اے ٹی سی کی عدالت کی جج نے فیصلہ سنایاضرورہے لیکن شائد یہ فیصلہ کہیں اور سے آیا ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہمارے وکلاء اس حوالے سے سندھ ہائیکورٹ سے بھی رجو ع کررہے ہیں۔۔۔ہم اس معاملے میں ہر آئینی وقانونی راستہ اختیار کریں گے اور اس کے خلاف ہر فورم پرآوازاٹھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ آج وسیم اختراوررؤف صدیقی کی گرفتاری کامقصدایم کیوایم کو کمزورکرنااورمہاجروں اوردیگرمظلوم قومیتوں کے حقوق کی اس واحدآوازکوریاستی طاقت کے ذریعے کچلناہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ایم کیوایم کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ ان کے کہنے پر ڈاکٹرعاصم کے اسپتال میں دہشت گردوں کاعلاج کرایاگیایہ انتہائی بھونڈا اورعدالتی تاریخ کاانوکھاکیس ہے کیونکہ آج تک عدالت کوان لوگوں کے نام تک نہیں بتائے گئے جن کاعلاج کرایاگیا۔۔۔اس کیس کی بنیادسراسر انتقام ہے۔انہوں نے کہاکہ اسپتال کاکام لوگوں کاعلاج کرناہے ،اس بنیاد پر کسی پر جھوٹے مقدمات قائم کرنااورسیاسی رہنماؤں کواس میں ملوث کرناقانون نہیں قانون کے ساتھ مذاق اورکھلواڑ ہے۔۔۔ہم اس کومستردکرتے ہیں اوراس انتقامی کارروائی شدیدکی مذمت کرتے ہیں۔کنورنویدجمیل نے کہاکہ تحریک انصا ف کے سربراہ عمران خان نے کچھ دنوں قبل جیو نیوزکے سینئراینکرحامدمیرکودیے گئے ایک خصوصی انٹرویومیں یہ انکشاف کیاتھاکہ لاہورمیں ان کے شوکت خانم اسپتال میں طالبان کے ایک مرکزی رہنماکاعلاج کیاگیاجس کاانہوں نے باقاعدہ تحریری طورپرشکریہ اداکیاتھا۔ کنورنویدجمیل نے سوال کیاکہ’’ اگراسپتال میں کسی کاعلاج ہونااتناہی بڑاجرم ہے توپھرطالبان جوریاست پاکستان اورفوج کے خلاف باقاعدہ جنگ کررہے ہیں‘‘، جنہوں نے فوجیوں سمیت ہزاروں پاکستانیوں کوشہیدکیا،ان طالبان رہنماکے علاج پر عمران خان کے خلاف کوئی مقدمہ کیوں نہیں بنایاگیا؟ انہیں گرفتارکیوں نہیں کیاگیا؟ ۔۔۔اوراگرعمران خان کے لئے معافی ہے تو ڈاکٹر عاصم اورایم کیوایم کے رہنماؤں پریہ بیہودہ مقدمہ کیوں بنایاگیا؟ کنورنویدجمیل نے کہاکہ ڈاکٹرعاصم حسین جنہوں نے اسپتالوں اورمیڈیکل کالجوں اوریونیورسٹیوں کے ذریعے پاکستان کی بہت خدمت کی ہے لیکن انہیں ریاستی انتقام کانشانہ بنایاجارہاہے اگر بات صرف کرپشن کی ہوتی توپیپلزپارٹی کے وہ لوگ جن کے نام بڑی بڑی کرپشن میں مختلف جے آئی ٹیزمیں آتے رہے ہیں ان کواب تک کیوں گرفتارنہیں کیاگیا؟ڈاکٹرعاصم کومہاجرہونے کی وجہ سے انتقام اورنفرت وتعصب کانشانہ بنایاجارہاہے جس کااظہاروہ خودبھی سینئرتجزیہ نگاروں سے کرچکے ہیں۔گزشتہ ہفتہ لاڑکانہ میں رینجرز نے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک جرائم پیشہ شخص اسد کھرل کوحراست میں لیاجس کے بعد صوبائی وزیرداخلہ کے بھائی نے اپنے مسلح لشکر کے ساتھ تھانے جاکراسد کھرل کورینجرزکی حراست سے چھڑالیا۔۔۔رینجرزکے اہلکاروں سے اسلحہ چھینااورانہیں یرغمال تک بنایالیکن یہ سب کچھ کرنے والے لاڑکانہ کے جرائم پیشہ عناصرکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی بلکہ ان سے مذاکرات کیئے جاتے ہیں اورایم کیوایم کے رہنماؤں پر جھوٹے الزامات میں گرفتارکیاجاتاہے ۔کنورنویدجمیل نے کہاکہ یہ سارے حالات وواقعات اس بات کوثابت کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ مہاجروں کوکچلنے اوردبانے کے لئے کیاجارہاہے ، انہیں ریاستی طاقت سے کچلاجارہاہے،یہ آپریشن مہاجرکرش آپریشن ہے ۔پریس کانفرنس سے خطاب میں عامرخان نے کہاکہ میڈیاکے ریکارڈپر یہ بات موجود ہے کہ سابق وزیرداخلہ ذوالفقارمرزانے اپنی تقاریر اور میڈیا انٹرویومیں کئی باردھڑلے سے یہ بات کہی کہ انہوں نے پیپلزامن کمیٹی کی سرپرستی کی،انہیں کئی لاکھ کلاشنکوفوں کے لائسنس دیے،اپنی تقریرمیں ذوالفقارمرزانے لیاری گینگ وارکے دہشت گردوں کویہ باتیں بھی کہیں کہ انہیں جوکلاشنکوفوں کے لائسنس دیے ہیں وہ شادی میں فائرنگ کرنے کیلئے نہیں بلکہ لوگوں کومارنے کیلئے دے ہیں ،لیاری گینگ وار کے دہشت گردوں کی سرپرستی کے ان کھلے اعلانات کے باوجود آج تک ذوالفقارمرزا کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ذوالفقارمرزا نے کچھ عرصہ قبل اسی کراچی کی عدالتوں اور پولیس تھانوں میں آمد کے موقع پر اپنے مسلح لشکرکے ساتھ آکرججوں،پولیس اورسرکاری عملے کوہراساں کیالیکن آج تک اس کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟کنورنویدجمیل نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف،وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف اورتمام ججوں سے اپیل کی کہ وہ مہاجروں کے خلاف جاری کھلی ناانصافیوں کوختم کیاجائے اوران کے ازالے کے لئے اپناکرداراداکرتے ہوئے وسیم اختر اورعبدالرؤف صدیقی فی الفوررہاکیاجائے۔نوکریوں سے جبری برطرف کیے گئے ہزاروں مہاجروں کوفی الفورنوکریوں پربحال کیاجائے ۔

12/9/2016 5:05:27 PM