Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم جمہوریت پسند ہیں، ہم مارشل لاء کو پسند نہیں کرتے۔ الطاف حسین


ہم جمہوریت پسند ہیں، ہم مارشل لاء کو پسند نہیں کرتے۔ الطاف حسین
 Posted on: 7/17/2016
ہم جمہوریت پسند ہیں، ہم مارشل لاء کو پسند نہیں کرتے۔ الطاف حسین
فوج کا کام امور مملکت چلانا نہیں سرحدوں کا دفاع کرنا ہے، ملک کا نظم و نسق چلانا عوام کی منتخب حکومت کا کام ہے
پاکستان کے لبرل اور جمہوریت پسند لوگ ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی پر خوش تھے جبکہ مارشل لاء کے حامیوں کو سبکی ہوئی تھی
تجزیہ نگاروں کا ایک مخصوص حلقہ میڈیا پر منفی تبصرے کررہا ہے اور عوام کو یہ بتایا جارہا ہے کہ ترکی میں ایک اور بڑی فوجی بغاوت ہوگی، ترکی کے حکمرانوں پر مختلف الزامات بھی لگائے جارہے ہیں
ترکی میں کیسا نظام ہونا چاہیے اس کا فیصلہ کرنا ترکی کے عوام کا حق ہے اور وہی یہ فیصلہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں، اس پر پاکستان میں بعض لوگوں کے پیٹ میں درد کیوں اٹھ رہا ہے؟
فوج رینجرز کی غلط پالیسیوں، زیادتیوں اور مظالم کے خلاف آوز اٹھانے پر میری تقاریر اور تصاویر میڈیا پر دکھانے پر پابندی عائد کردی گئی
اگر میرے بے گناہ کارکنوں کو قتل کیا جائے گا اور ظلم کیا جائے گا تو میں اس ظلم کو ظلم کہوں گا، قاتلوں کو قاتل کہوں گا
رینجرز ایم کیوایم کے خلاف کارروائیا ں کررہی ہے اور کالعدم تنظیموں اور اصل جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کررہی ہے
رینجرز والے کراچی میں واٹر ہائیڈرینٹ اور پیٹرول پمپ چلارہے ہیں، شہر کی زمینوں اور عمارتوں پر قبضے کررہے ہیں، رینجرز نے ریڈیو پاکستان کی عمارت بھی غیرقانونی طور پر قبضہ کرلیا ہے
کراچی میں سب سے بڑی لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا رینجرز ہے، ریڈیو پاکستان پر سے رینجرز کا غیرقانونی قبضہ ختم کرایا جائے
پاک سرزمین پارٹی کو ایم کیوایم کے خلاف استعمال کرنے کیلئے کروڑوں روپے کی گاڑیاں، بنگلے اور دولت فراہم کرنا کیا کرپشن نہیں ہے؟
سرکاری ایجنسیوں نے ماضی میں مجھے بھی خریدنے کی کوشش کی، میرے پاس پیسے بھیجے لیکن میں نے انکار کردیا
اپنے ضمیر کا سودا نہ کرنا میرا سب سے بڑا جرم ہے، میں نے اپنے اصولوں پر نہ کل کوئی سودے بازی کی تھی اور نہ آج کروں گا
ذمہ داران و کارکنان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں، یہ تحریک پر آزمائش کا وقت ہے لیکن آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے والے ہی بالآخر سرخرو ہوتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں اور اوورسیز یونٹوں میں کارکنوں سے خطاب
لندن ۔۔۔ 17 جولائی 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم جمہوریت پسندہیں ، ہم مارشل لاء کوپسند نہیں کرتے اوریہ سمجھتے ہیں کہ فوج کاکام امور مملکت چلانانہیں بلکہ ملک کی سرحدوں کادفاع کرناہے، ملک کانظم ونسق چلانا عوام کی منتخب کردہ حکومت کاکام ہے ۔ انہوں نے یہ بات آج پاکستان کے مختلف شہروں اوراوورسیزیونٹوں میں ذمہ داروں اورکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت پر جہاں پوری دنیا میں اس کاچرچاہواوہاں پاکستان میں بھی میڈیاپراس کے بارے میں بہت بھرپور انداز میں تبصرے اورتجزیے کئے گئے اور ترکی کے عوام نے جس طرح فوجی بغاوت کوناکام بنایااس کے حق میں بات کی گئی لیکن اب ایک منصوبہ بندی کے تحت میڈیا پر تجزیہ نگاروں کاایک مخصوص حلقہ اس بارے میں منفی تبصرے کررہا ہے اورعوا م کویہ بتایا جارہا ہے کہ یہ فوج کے ایک چھوٹے سے گروپ نے بغاوت کی تھی اوراب آنے والے وقت میں ایک اوربڑی فوجی بغاوت ہوگی ، اس کیلئے ترکی کے حکمرانوں پرمختلف الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ترکی میں کیسانظام ہونا چاہیے اس کافیصلہ کرنا ترکی کے عوام کاحق ہے اور وہی یہ فیصلہ بہتراندازمیں کرسکتے ہیں، اس پر پاکستان میں بعض لوگوں کے پیٹ میں درد کیوں اٹھ رہاہے ؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں وہ لبرل اورجمہوریت پسندلوگ جوفوج کے ہاتھوں مارکھائے ہوئے ہیں یانظریاتی طورپروہ سیاست میں فوج کے عمل دخل کو ملک کی ترقی و خوشحالی اوروسیع تر مفاد میں بہترنہیں سمجھتے وہ ترکی میں عوام کی جانب سے فوجی بغاوت کی ناکامی پر خوش تھے جبکہ وہ لوگ جوپاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کے حامی ہیں اورملک کے مختلف شہروں میں مارشل لاء کے حق میں پوسٹرز لگارہے تھے انہیں سبکی ہوئی تھی۔ جہاں تک ایم کیوایم کاتعلق ہے تووہ ایک لبرل اور پروگریسو جماعت ہے، ایم کیوایم میں امیرغریب ، مڈل کلاس سب برابرہیں، ہم جمہوریت پسند ہیں اورہرجگہ جمہوریت کے حق میں آوازبلندکریں گے، ہم مارشل لاء کوپسندنہیں کرتے اوریہ سمجھتے ہیں کہ فوج کاکام امور مملکت چلانانہیں بلکہ ملک کی سرحدوں کادفاع کرناہے، ملک کانظم ونسق چلانا عوام کی منتخب کردہ حکومت کا کام ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں مختلف بہانوں سے اقدامات کرکے فوج اوراس کے اداروں کی جانب سے جمہوریت پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، فوج رینجرزکی غلط پالیسیوں ،زیادتیوں اورمظالم کے خلاف آوزاٹھانے پر پاکستان میں میری تقاریراورتصاویرمیڈیاپر دکھانے پر پابندی عائدکردی گئی ہے اوراس معاملے پر عدالت سے بھی انصاف نہیں مل رہاہے۔ فوج ،رینجرزوالے اوربعض اینکرزاورتجزیہ نگار کہتے ہیں کہ الطاف حسین فوج کے خلاف سخت باتیں کرتے ہیں اسلئے ان پرپابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیادیگرسیاسی رہنماؤں کی جانب سے فوج پر تنقید نہیں کی گئی؟ اس پر پیمراحرکت میں کیوں نہیں آئی ؟کیا آصف زرداری نے فوج کے جرنیلوں کے بارے میں یہ نہیں کہاکہ ’’ ہم ان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے ‘‘ ۔ کیاآصف زرداری کی تقاریر اور بیانات پر پابندی عائد کی گئی؟ کیاعمران خان نے یہ نہیں کہا کہ ’’آپ 20ہزارافرادسڑکوں پرلے آئیں،جرنیلوں کا پیشاب نکل جائے گا یہ اتنے بزدل ہوتے ہیں ‘‘ ۔کیا عمران خان کی تقاریرنشرکرنے اورتصویردکھانے پر پابندی عائد کی گئی ؟ منورحسن نے کہاکہ دہشت گردی کی جنگ میں مارے جانے والے فوجی شہید نہیں ہیں بلکہ طالبان شہید ہیں ‘‘ ۔ منورحسن کے خلاف کیا کارروائی ہوئی ؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مجھ پر پابندیاں اسلئے عائد کی گئی ہیں کہ میں نے فوج اوررینجرزکے ظلم کوظلم کہااور آپریشن کے نام پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے کہاکہ فوج کی قیادت کی جانب ہم سے بار باردھوکہ کیاگیا، 1992ء میں بھی قوم کویہ بتایاگیاکہ سندھ میں ڈاکوؤں، اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے اور پتھاریداروں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا لیکن قوم کے سامنے ہے کہ آپریشن ایم کیوایم کے خلاف کیا گیا، مجھے اس کے خدشات تھے اورمیں اپنی تقاریر میں کارکنان وعوام کواس وقت بھی یہ بتارہاتھاکہ یہ آپریشن دراصل ایم کیوایم کے خلاف ہوگاکیونکہ سرکاری ایجنسیاں ایم کیوایم کے خلاف سازشی منصوبے بنارہی ہیں، اگرچہ اس وقت بھی سرکاری ایجنسیوں کے بڑے حکام نے قسمیں کھاکراس کی تردیدکی تھی لیکن وقت نے میری باتوں کودرست ثابت کیااورقوم کے سامنے ہے کہ فوج نے حقیقی بنائی ،حقیقی دہشت گردوں کو اسلحہ دے کرانہیں ایم کیوایم کے خلاف استعمال کیا،انہیں دہشت گردی کاکھلا لائسنس دیا اور ایم کیوایم کو کچلنے کیلئے ریاستی طاقت کابیدریغ استعمال کیاگیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسی طرح 2013ء میں بھی قوم کویہ بتایاگیاکہ طالبان اور کالعدم تنظیموں کے جیٹ بلیک دہشت گروں کے خلاف آپریشن کیاجائے گا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اورڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں تمام جماعتوں کے سامنے یہ یقین دلایاکہ یہ آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگا لیکن آج سارے حالات قوم کے سامنے ہیں کہ کراچی میں آپریشن صرف اورصر ف ایم کیوایم کے خلاف کیاجارہاہے ، اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے 61 کارکنوں کوگرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کردیاگیاجبکہ 130 سے زائدکارکنان گرفتاری کے بعد سے لاپتہ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ چندروزقبل بھی ایک اور لاپتہ کارکن ریاض الحق کی مسخ شدہ لاش ملی ہے لیکن رینجرز کی جانب سے صاف جھوٹ بولاجاتاہے کہ ریاض الحق کے ماورائے عدالت قتل کے بارے میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگراورفوج اوررینجرزکی جانب سے میرے بے گناہ کارکنوں کوقتل کیاجائے گا اورظلم کیاجائے گاتومیں اس ظلم کوظلم کہوں گا،قاتلوں کوقاتل کہوں گااور اس ظلم کے خلاف دنیابھرمیں آوازاٹھاؤں گا چاہے اس کوکوئی بھی نام دیاجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں رینجرز ایک طرف توصرف ایم کیوایم کے خلاف کارروائیا ں کررہی ہے اوردوسری جانب کالعدم تنظیموں اوراصل جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کی سرپرستی کررہی ہے اورخود بھی ہرقسم کے کرپشن میں ملوث ہوگئی ہے ، رینجرزوالے واٹرہائیڈرینٹ اورپیٹرول پمپ چلارہے ہیں، تعمیراتی سامان فروخت کررہے ہیں، شہرکی زمینوں اورعمارتوں پر قبضے کررہے ہیں جس سے شہرکابچہ بچہ بخوبی واقف ہے۔ رینجرزنے کراچی میں واقع ریڈیو پاکستان کی عمارت بھی غیرقانونی طورپرقبضہ کرلیاہے ،یہ سب کچھ دیکھ کرآج ہرکوئی یہ کہہ رہاہے کہ کراچی میں سب سے بڑی لینڈ مافیا اور قبضہ مافیا رینجرزہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریڈیوپاکستان پر سے رینجرزکاغیرقانونی قبضہ ختم کرایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ فوج ملک سے کرپشن ختم کرنے کی بات کرتی ہے لیکن قوم یہ سوال کرتی ہے کہ پاک سرزمین پارٹی کے گروپ کوایم کیوایم کے خلاف استعمال کرنے کیلئے کروڑوں روپے کی گاڑیاں ،کروڑوں کے بنگلے اورمال ودولت فراہم کرنا کیا کرپشن نہیں ہے؟ کیا اس طرح لوگوں کواپنے مقاصدکیلئے کرپٹ بنانے سے ملک سے کرپشن ختم ہوسکتی ہے ؟ انہوں نے کہاکہ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے مجھے بھی خریدنے کی کوشش کی گئی تھی ، ایک مرتبہ جنرل حمیدگل نے بریگیڈیئرامتیازکے ذریعے مجھے پیسے بھجوائے تھے اور دوسری مرتبہ جنرل اسلم بیگ کے زمانے میں میرے پاس پیسے بھیجے گئے ، میں نے دونوں مرتبہ پیسے لینے سے انکارکردیا تھاجس کی تصدیق بریگیڈیئرامتیاز خودمیڈیاپرقوم کے سامنے کرچکے ہیں۔ اپنے ضمیرکاسودا نہ کرنامیراسب سے بڑاجرم ہے جس کی سزا مجھے دی گئی اور آج تک دی جارہی ہے لیکن میں نے اپنے اصولوں پر نہ کل کوئی سودے بازی کی تھی اورنہ آج کروں گا۔ انہوں نے ذمہ داران وکارکنان پر ذوردیاکہ وہ اپنی صفوں میں اتحادبرقراررکھیں ، یہ تحریک پر آزمائش کاوقت ہے لیکن آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے والے ہی بالآخر سرخروہوتے ہیں۔ 

9/25/2016 3:49:13 PM