Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

شہر میں امن کی خواہش اور پرامن شہر کا مطالبہ ہمارا گناہ بن گیاہے ، ڈپٹی کنوینر کنو ر نوید جمیل


شہر میں امن کی خواہش اور پرامن شہر کا مطالبہ ہمارا گناہ بن گیاہے ، ڈپٹی کنوینر کنو ر نوید جمیل
 Posted on: 7/11/2016
شہر میں امن کی خواہش اور پرامن شہر کا مطالبہ ہمارا گناہ بن گیاہے ، ڈپٹی کنوینر کنو ر نوید جمیل 
پاکستان کو آج فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کن اصولوں کے ساتھ زندہ رہنا اور چلنا ہے ،
پاکستان میں طاقت بالادست ہے یا آئین و قانون بالا دست ہے ،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، مرکزی رہنماءء ایم کیو ایم
رینجرز ایک مقدس گائے نہیں ہے ، اسے بھی کورٹس میں چیلنج کیاجائے گا ، جنگی جرائم کا بھی احتساب ہوتا ہے اور ظلم و جبر کے ذریعے تاریخ کو مسخ نہ کیاجائے ورنہ جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا ، رابطہ کمیٹی رکن محفوظ یار خان 
فرد واحد یہ عمل کرنے کے یہ نہ سمجھے کہ ادارے کی آڑ لیکر غنڈہ گردی اور بد معاشی جاری رکھی جاسکے گی، رکن رابطہ کمیٹی ، رابطہ کمیٹی رکن گلفراز خان خٹک 
ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرانے کے بجائے لاشوں کے تحفے دیئے جاتے ہیں، حق پرست رکن سندھ اسمبلی وقار حسین شاہ
ریاض الحق کو رینجرز نے گرفتار نہیں کیا تو بتایاجائے وہ وردیاں اور گاڑیاں کس کی تھیں ؟ بھائی ریاض الحق شہید اکرام الحق 
ایم کیوایم لانڈھی ٹاؤن یونٹ 81کے کارکن ریاض الحق شہید کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب 
کراچی ۔۔۔11، جولائی 2016ء 
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ پونے تین سال کے دوران پریس کلب کے باہر 30واں احتجاجی مظاہرہ ہے اور ہر مرتبہ یہ مظاہرہ کسی نہ کسی ایم کیوایم کے بے گناہ کارکن کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف کیا جاتا رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ شہر کراچی میں امن کی خواہش کا مطالبہ ہمارا جرم بن گیا ہے جب امن کے قیام کیلئے رینجرز کو بھیجا گیا تو اس نے امن کے بجائے ایم کیوایم کے کارکنان کو پکڑ پکڑ کر ماورائے عدالت قتل کرنا شروع کردیا ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے جتنے کارکنان ماورائے عدالت قتل ہوئے ہیں ان سب کی پٹیشن ہائی کورٹ میں داخل تھی ۔ انہو ں نے کہاکہ اسیروں کی وفاداریاں تبدیل کراکر چھوڑ دیا گیا ہے لیکن ہمیں ان سے بھی ہمدردی ہے اور ایم کیوایم کا ساتھ چھوڑ کر ان کی جان بچ گئی تو اسے بھی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کے روز کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیوایم لانڈھی ٹاؤن یونٹ 81کے کارکن ریاض الحق کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احتجاجی مظاہرے میں ریاض الحق شہید کے بھائی اور فیملی کے دیگر افراد نے بھی شرکت کی ۔مظاہرے کے شرکاء نے ماورائے عدالت قتل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ کنور نوید جمیل نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس پاکستان کو بنانے کیلئے پہلے 20لاکھ جانوں کی قربانی دی اور پھر اس پاکستان کو بچانے کیلئے ایک بار پھر لاکھوں لوگوں کی قربانی دی اورحکومتوں کی نااہلی ، ایجنسیوں اور اداروں کی ناکامی کے بعد جب اس شہر کا امن تباہ و برباد ہوگیا اور لاقانونیت اس شہر میں عروج پر پہنچی تو یہ قائد تحریک جناب الطاف حسین ہی تھے اور ایم کیوایم ہی تھی کہ جس نے فوج سے یہ مطالبہ کیا کہ اس صوبے کی حکومت ، پولیس جو اس سارے امن و امان کو خراب کرنے کی ذمہ دار ہے اور وہ نااہل ہوچکی ہے لہٰذا فوج یہاں آکر امن و امان کو بہتر کرے ، اس شہر میں امن کی خواہش اور پرامن شہر کا مطالبہ ہمارا گناہ بن گیا ، جب امن کے قیام کیلئے رینجرز کوبھیجا گیا تو اس نے امن کے قیام کے بجائے ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کو پکڑ پکڑ کر ماورائے عدالت قتل کرنا شروع کردیا ، آج ریاض الحق شہید کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں اگر ادارے قانون اور انصاف پر یقین رکھتے تو ریاض الحق کو عدالت میں پیش کیاجاتا لیکن سوا سال تک اپنے عقوبت خانوں میں ٹارچر کرکرکے ایم کیوایم کے بے گناہ کارکن کو شہید کردیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ پہلا ماورائے عدالت قتل نہیں ہے یہ 70واں ماورائے عدالت قتل ہے یہ وہ جرم ہے جو 70ویں مرتبہ دہرایا گیا اور ہم وہ بد نصیب ہیں جو پاکستان بنانے کا تاوان آج 70سال بعد بھی ادا کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جتنے بھی ماورائے عدالت قتل ہوئے ہیں ان سب کی پٹیشن ہائی کورٹ میں موجود تھی لیکن جہاں پر طاقت بے لگام ہوتی ہے تو ان سے عدالتیں ، حکومتیں اور سب ڈرتے ہیں پھر صرف طاقت بولتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسیروں کی وفاداریاں تبدیل کراکر چھوڑ دیا گیا ہے لیکن ہمیں ان سے بھی ہمدردی ہے اور ایم کیوایم کا ساتھ چھوڑ کر ان کی جان بچ گئی تو اسے بھی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی آرمی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بچا کچا پاکستان بھی پورے عالم اسلام میں مضبوط قلعہ ہے اور اس قلعہ کو بنانے کیلئے بانیان پاکستان کی لاکھوں جانیں قربان ہوئی ہیں خدارا پاکستان کو اس طرح تباہ وبرباد نہ کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج کو وسعت دیں گے اور دنیا بھر میں پھیلائیں گے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ روشنی کے شہر کو ظلم کے اندھیرے میں ڈوبا دیا گیا ہے ، وہ ریاست جس کی ذمہ داری اپنے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے اگر وہ ریاست خود قاتل بن جائے تو پھر ایسی ریاستوں اور مملکتوں کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو آج فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کن اصولوں کے ساتھ زندہ رہنا اور چلنا ہے ، پاکستان میں طاقت آئین و قانون کو ڈکٹیٹ کرائے گی یا طاقت بالادست ہے یا آئین و قانون بالا دست ہے ،پاکستان کی پوری تاریخ بتا رہی ہے کہ آئین و قانون کاغذ کے ٹکڑے ہیں اور یہاں طاقت کا قانون چلتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج پاکستان میں اگر آئین و قانون ہوتا تو ریاض الحق کو ماورائے عدالت قتل نہیں کیا جاتا لیکن طاقت کااستعمال کرکے مسلسل تشدد کے ساتھ نفرت کے آخری درجے کو چھوا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اپنی بقاء کیلئے شہر ایک بار پھر کھڑا ہوگیا تو سب کچھ بدل جائے گا اور طاقت کا تابوت بن جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ایم کیوایم کے کارکنان اور مہاجر نوجوانوں کو انصاف نہیں ملے گا تو خدا کی رحمت نہیں قہر آتا رہے گا، پاکستان کا المیہ یہ رہا کہ پاکستان آزادی کے بعد ان کے قبضے میں آگیا جو دنیا کے بہترین غلام تھے ، انصاف نہیں ملا تو درو دیوار بولیں گے اور آوازیں اتنی بلند ہوں گی تو کوئی نہ کوئی ہماری داد رسی کیلئے آئے گا ورنہ ہم خود کافی ہیں اس پورے ظلم کے نظام کو بد ل دینے کیلئے ۔ انہوں نے کہاکہ جو ہاتھ قائد ۔ رابطہ کمیٹی کے رکن محفوظ یار خان نے کہاکہ بابائے قوم قائد اعظم ؒ آج پوچھ رہے ہیں کہ مہاجر کوئی قبضہ مافیا نہیں تھے اور لوٹ مار کرنے نہیں آئے تھے بلکہ اپنی کروڑوں روپے کی جائیدادیں چھوڑ کر پاکستان آئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم روزانہ دہشت گردی کا شکار ہورہی ہے ، ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنوں کی تعداد60سے زائد ہوچکی ہے اور 135کارکنان لاپتہ ہیں اللہ تعالیٰ انہیں باحفاظت بازیاب کرائے ۔انہوں نے کہاکہ رینجرز ایک مقدس ادارہ ہے مقدس گائے نہیں ہے ، اسے بھی کورٹس میں چیلنج کیاجائے گا ، جنگی جرائم کا بھی احتساب ہوتا ہے اور ظلم و جبر کے ذریعے تاریخ کو مسخ نہ کیاجائے ورنہ جغرافیہ تبدیل ہوجائے گا ۔ رابطہ کمیٹی کے رکن گلفراز خان خٹک نے کہاکہ ریاض الحق کو انتہائی بیدردی کے ساتھ شہید کیا گیا ، 19جولائی 2015ء کو ریاض الحق کو رینجرز اہلکاروں نے اہل محلہ کی موجودگی میں گرفتار کیا اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر اہلخانہ عدالت عالیہ کے سامنے گڑگڑاتے رہیں کہ ہمارے بچے کو رینجرز اہلکاروں نے اہل محلہ کے سامنے اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ظلم و جبر فلسطین اور کشمیر میں نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی حب کراچی میں ہورہا ہے ۔ جارہی ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ پچھلے تین برس سے عدلیہ سچائی کی بات کرتی تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ انہوں نے کہاکہ فرد واحد یہ عمل کرنے کے یہ نہ سمجھے کہ ادارے کی آڑ لیکر غنڈہ گردی اور بد معاشی جاری رکھی جاسکے گی ۔حق پرست رکن سندھ اسمبلی وقار حسین شاہ نے کہاکہ ایم کیوایم روز اول سے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے خلاف ہے اور رہے گی ، 131کارکنان ایم کیوایم کے اب تک لاپتہ ہیں اور 61کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرانے کے بجائے لاشوں کے تحفے دیئے جاتے ہیں اور حکومت ، عدلیہ اور قانون کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ ایم کیوایم لانڈھی ٹاؤن یونٹ 81کے شہیدکارکن ریاض الحق کے بھائی اکرام الحق نے کہا کہ 19مئی 2015ء کو میرے بھائی کو رینجرز گھر سے لے کر گئی ۔ انہوں نے شہید بھائی کی تصویر دکھاتے ہوئے کہاکہ رینجرز میرے بھائی کو کس حالت میں لیکر گئی تھی اور پھر لاش کی تصویر دکھاتے ہوئے کہاکہ میرے بھائی کی مسخ شدہ لاش دی گئی ہے ۔ 

12/8/2016 12:01:23 AM