Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ارباب اختیار ہمیں دیوار کے بجائے گلے سے لگائیں، ڈاکٹر فاروق ستار


ارباب اختیار ہمیں دیوار کے بجائے گلے سے لگائیں، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 7/5/2016 1
ارباب اختیار ہمیں دیوار کے بجائے گلے سے لگائیں، ڈاکٹر فاروق ستار
اگر ایم کیوایم کودیوار سے لگانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا توعوام کے جذبات پرقابورکھنا بہت مشکل ہوگا، ڈاکٹر فاروق ستار
جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر کراچی نوید مختیارفوجی ٹربیونل بنا لیں ہم اس کے سامنے پیش ہونے کیلئے تیار ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
رینجرز باقاعدہ سیاسی جماعت بن کر ایک فریق بن گئی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
ایم کیوایم گلستان جو ہر ٹاؤ ن کے آرگنائزر حامد ہاشمی کو رینجرز نے بلاجواز گرفتار کرلیا، ڈاکٹر فاروق ستار
جب الطاف حسین کی تقاریر اور تصویر نشروشائع کرنے پرپابندی ہے تو پھر اشتعال کیسے پیدا ہورہا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
رینجرز ترجمان کے حالیہ بیان کے ایک ایک لفظ ، جملے اور الزام کو قطعی طور پر مستر دکرتے ہیں، ڈاکٹرفارو ق ستار
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی ۔۔۔5، جولائی 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمیں دیوارسے لگانے کے بجائے اپنے سینے سے لگائیں ، اگر ایم کیوایم کودیوار سے لگانے اورناانصافیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا توعوام کے جذبات پرقابورکھنا بہت مشکل ہوگا۔انہوں نے وزیراعظم نواز شریف ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر کراچی نوید مختار مطالبہ کیا کہ رینجرز کے ماورائے آئین و قانون اقدامات کا نوٹس لیاجائے اورایم کیوایم کے ساتھ رینجرزکے غیرمنصفانہ طرزعمل کا سلسلہ بند کرایاجائے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے منگل کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین اسلم آفریدی ، محمد حسین ، محمد کمال اور ساتھی اسحق کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹرفاروق ستار نے رینجرز ترجمان کے حالیہ بیان کے ایک ایک لفظ ، جملے اور الزام کو قطعی طور پر مستر دکرتے ہوئے کہاکہ اگر قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تقریر کا کوئی بھی جملہ قابل گرفت ہے تواسے عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ رینجرزکی جانب سے اپنی نااہلی چھپانے کیلئے جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم پر الزام تراشی کی جارہی ہے اوراب رینجرز باقاعدہ ایک فریق بن کرایم کیوایم کے خلاف سیاسی بیانات جاری کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرکے ضر ب عضب کی کامیابی کا آہستہ آہستہ ضائع کیاجارہا ہے کیونکہ اداروں کا سارا وقت ایم کیوایم کے خلاف جے آئی ٹیزاور ویڈیو ز بنانے میں لگ رہا ہے اور اس سے دہشت گردوں ، طالبان ، داعش اور کالعدم تنظیموں کو جگہ مل رہی ہے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہایم کیوایم کراچی کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت ہے اور ایم کیوایم میں تمام قومیتیں ، اکائیاں ، مذہب اور مسلک کے لوگ ہیں، ایم کیوایم کراچی کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت ہے اور سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر بھی ہے اس کے باوجود کراچی کے حوالے سے جو فیصلوں میں ایم کیوایم کو شامل نہیں کیاجاتا ، ہماری جائز شکایات کو بھی کہیں نہیں سنا جارہا ہے ، ایم کیوایم کو بے دست و پا کرکے دیوار سے لگایاجارہا ہے ، اس کی سیاسی وفلاحی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہیں جس سے لوگوں میں غم وغصہ پیدا ہورہا ہے اور وہ اپنے آپ کو بیگانہ نا محسوس کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب ایم کیوایم کے کارکنوں اور شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرلئے جائیں اورخدمت خلق فاؤنڈیشن کو زکوٰۃ ، فطرہ جمع کرنے اور فلاحی کام کرنے سے روکاجائے گا تو پھرلاکھوں مجبوروبے کس عوام کہاں جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ایم کیوایم کی فلاحی اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے اوردوسری طرف روزانہ ایم کیوایم کے ذمہ داروں اور کارکنوں کو گرفتار کیاجارہا ہے ،گزشتہ رات بھی ایم کیوایم گلستان جو ہر ٹاؤ ن کے آرگنائزر حامدحسین ہاشمی جو انتہائی شریف النفس آدمی ہیں اوران کا نام کسی جے آئی ٹی اور ایف آئی آرتک میں نہیں ہے انہیں رینجرز نے بلاجواز گرفتار کرلیا ، اسی طرح بلاجواز جھوٹے الزام لگا کر ایم کیوایم کے ٹاؤن آرگنائزر ، اراکین ، یوسیز آرگنازئر اور یوسی کے کارکنان کو بلاجواز گرفتا ر کیاجارہا ہے ،عید کے دنوں میں ملک دشمنوں اور طالبان دہشت گردوں سے بھی جنگ کے دوران سیز فائر ہوجاتا ہے پھرعین عید کے موقع پرایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کوگرفتارکرکے ان کی عید کی خوشیاں کیوں حرام کی جارہی ہیں، ایم کیوایم کے جن کارکنان کو گرفتار کیاجارہا ہے ہیں وہ کسی مقدمے میں پولیس کومطلوب نہیں ہیں اوراپنے گھروں میں رہ رہے ہیں ۔اگر بے گناہ کارکنان کو بلاجواز گرفتارکیاجاتا رہے گا تو اس سے کارکنان وعوام میں کیا پیغام جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ ایک جانب رینجرز ماورائے آئین و قانون کام کرے اور پھر رینجرز کا ترجمان ،قائد تحریک جناب الطاف حسین پر لگادے کہ وہ لوگوں میں اشتعال پید اکررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ جب ٹیلی ویژن پر جناب الطاف حسین کی تقاریر ، تصویر پابندی ہے تو پھر اشتعال کیسے پیدا ہورہا ہے ؟ کارکنوں سے جناب الطاف حسین کے خطاب میں کی گئی باتوں پر کسی کو اعتراض ہے تو وہ اس کے خلاف قانونی کاروائی کرے ۔ انہوں نے رینجرز ترجمان کے بیان کے ایک ایک الفظ ، جملے اور الزام کو ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی ، ایم کیوایم کے ایک ایک کارکن اور ذمہ دارکی جانب سے قطعی طورپر مستر دکرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کی جانب سے کسی بزنس کموینٹی کے فرد کو نہ توٹیلی فون کیا گیا اورنہ ہی کسی کو کوئی دھمکی دی گئی اور اگر کوئی بھی جملہ قابل گرفت ہے تو اصولی طورپر مقدمہ درج ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم پر الزام ڈالاجارہا ہے ،ریاستی اداروں کی ساکھ کو متاثر کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے لاکھ کوشش کی کہ رینجرز کا ادارہ فریق نہ بنے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رینجرز باقاعدہ سیاسی جماعت بن کر ، ایک فریق بن گئی ہے اور وہ یہ چاہتی ہے کہ ایم کیوایم بھی ہر دوسرے روز رینجرز کے بارے میں پریس کانفرنس کرے جبکہ ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے ، ہم نہ کوئی جوابی یاجھوٹا الزام لگانا چاہتے ہیں ہم نے ہمیشہ ثبوت و شواہد کے ساتھ صرف حقائق پیش کئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر کراچی نوید مختیار فیصلہ کرلیں ، فوج کا ٹربیونل بنا لیں ہم اس کے سامنے پیش ہونے کیلئے تیار ہیں اور وہاں بتائیں گے کہ بے گناہ کارکنوں کو کس طرح گرفتار کیاجاتا ہے ،انہیں 90 دن کے ریمانڈ پر لیاجاتا ہے ، جب گرفتار شدگان کی مائیں ، بہنیں یا بھائی وغیرہ خیابان سحرجاکر رحم کی اپیل کرتے ہیں تو گرفتارشدگان کو چھوڑ دیاجاتا ہے ، ہمارے پاس ایسے کارکنان کی طویل فہرست ہے جس میں ایک ایک کارکن کی گرفتاری کادن ، وقت ، گرفتاری کی وجہ ، چھاپے کا وقت اور گرفتار کرنے والے ادارے کے نام کی تفصیل موجود ہے ، یہ گرفتار کارکنان جیسے ہی اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرکے خیابان سحر جانے پر مجبور ہوتے ہیں تو اگلے ہی دن انہیں رہا کردیاجاتا ہے ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جناب الطاف حسین کے بیان میں کوئی ایسی بات ہے جو غیر آئینی وغیر قانونی ہے تو آپ مقدمہ بنایئے اور عدالت میں جایئے ،ہم اپنے احتساب کیلئے تیار ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غیر آئینی و غیر قانونی کاموں کو کون لگام دیگا ؟اگر جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر نوید مختار نہیں روکیں گے تو لوگوں کے احساس محرومی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہماری پریس کانفرنس جی ایچ کیو میں موجود تمام جنرل سنیں اور تجزیہ کریں ، ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں ،ہماری غلطیوں کی نشاندہی کریں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرسکیں ۔ڈاکٹر فاروق ستارنے کہاکہ ہم گزشتہ دو برسوں سے بتا رہے ہیں تو ایم کیوایم کے 60کارکنان ماورائے عدالت قتل کردیئے گئے ، آفتاب احمد کو بدترین تشدد کرکے رینجرز حراست میں شہیدکیا گیا ، آرمی چیف نے خودکہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کریں گے ، 2ماہ سے زائد ہوگئے انکوائری کا کچھ پتا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ آج بھی ہم جنرل راحیل شریف اور افواج پاکستان اور رینجرز پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا ، اپنی صفوں کوکالی بھیڑوں سے صاف کرنا ہوگا، آئین و قانون ہاتھ میں لینے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی لگام دیکرقومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کو مجروح ہونے سے بچانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے کارکن سلیم کو پہلے اسے پی ایس پی میں شامل ہونے کی دھمکیاں دی گئی تھیں جب انہوں نے انکار کیا تو سلیم کو گرفتارکرلیاگیا، اگلے دن جب انکی بہن اوروالدہ خیابان سحر گئیں توسلیم کو چھوڑ دیا گیا اور اب وہ خیابان سحر میں موجود ہے ۔ اسی طرح ایم کیوایم کے کارکن ریحان جوکہ 11 ماہ سے لاپتہ تھے، اسے قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈھونڈنے میں ناکام رہے لیکن انہیں کمالو گروپ نے ڈھونڈنکالا جس پرہم ان کے شکر گزار ہیں ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ کون ریاستی طاقت کاناجائز استعمال کررہا ہے ، ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنان کوجھوتے مقدمات میں ملوث کردیا جاتا ہے اورانہیں گرفتارکرکے بہت بڑا مجرم ثابت کیاجاتا ہے لیکن جب ان پر دباؤ ڈال کرایک نام نہا د سیاسی جماعت میں شامل کرایاجائے تو اس کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، یہ کہاں کا انصاف اور آئین و قانون ہے؟ یہ پاکستان کا قانون ہے یا جنگل کا قانون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان تمام واقعات پر ہم براہِ است رینجرز ، افواج پاکستان ، جنرل راحیل شریف، جنرل نوید مختار کو فریق نہیں سمجھتے لیکن اب انہیں ہماری بھی داد رسی کرنی ہوگی ، ہمارے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین اشتعال نہیں دلا رہے ہیں بلکہ آپ کے ایکشن اور بلاجواز امتیازی ، غیرمنصفانہ کارروائیاں لوگوں میں اشتعال پیدا کررہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کے آخری مراحل ہیں اور ایسے موقع پر یوسی چیئرمین ، وائس چیئرمین کو گرفتا رکیاجارہا ہے تاکہ ضلع غربی اور جنوبی میں ایم کیوایم کی جیت کو روکا جاسکے ،اس میں بھی ہمارے مخالفین کا ساتھ دیاجارہا ہے اور یوسی وائس چیئرمین کو زیادہ سے زیادہ گرفتارکیاجارہا ہے تاکہ اگر ووٹ بھی ڈالے جائیں تو وہاں ایم کیوایم کے نمائندے کامیاب نہ ہوسکیں جو کہ کھلی پری پول ریگنگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں کتنی ہی مساجد ہیں جہاں کالعدم تنظیمیں چندہ جمع کررہی ہیں ،ہم سے کہا جارہاہے کہ بینک اکاؤنٹ دیدیں اور گھر بیٹھ جائیں لوگ خود جمع کرادیں گے ، جبکہ شوکت خانم میموریل والے لاہور او ر اسلام آباد سے کراچی آکر چندہ جمع کررہے ہیں اسے دوہرا عمل اور معیار نہ کہاجائے تو پھر اور کیاکہاجائے گا؟ انہوں نے کہاکہ ہمارے 130افراد کو گرفتارکرکے جبری طور پر لاپتہ کردیاگیا ،ان کی بازیابی کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہماری مدد کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکن ریحان جوکئی ماہ سے لاپتہ تھے، آج بازیاب ہوکر کمالو گروپ میں شامل ہوگئے اس کا مطلب ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم کے تمام گرفتاراور لاپتہ کارکنان اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہرکردیں تو ان سب کی رہائی اوربازیابی یقینی ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب میں فوج نے جوکچھ حاصل کیا ہے ، چند عاقب نااندیشن ایم کیوایم کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرکے ان کامیابیوں کو گنوارہے ہیں کیونکہ ان اداروں کا سارا وقت اب ایم کیوایم کے خلاف جے آئی ٹیز اور ویڈیوز بنانے میں صرف ہو رہا ہے اور اس سے دہشت گردوں، طالبان ، داعش ، کالعدم تنظیموں کو جگہ مل رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ضرب عضب کو بلا وجہ کے بغض اور عناد میں ضائع کیاجارہا ہے ،میں کور کمانڈر سے کہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ بیٹھیں ، ہمیں سینے سے لگائیں دیور سے نہ لگائیں ۔ اگر دیوار سے لگائیں گے تو الطاف حسین کو مشتعل کرنے کی کسی کو ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ واٹر بور ڈ میں ایم کیوایم کی حمایت یافتہ منتخب سی بی اے کو تنگ کیاجارہا ہے ، پی ٹی سی ایل کے دفتر میں جاکر دھمکیاں دی جارہی ہیں ، بنکوں میں جاکر دھمکیاں دی جارہی ہیں ، یہی صورتحال گلشن اقبال میں بھی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کمالو گروپ میں شمولیت کیلئے جیلوں میں اسیر کارکنان پر دباؤ ڈالاجارہا ہے ۔ جیلوں سے کارکنان لاکر ملوایاجارہا ہے ، قانونی طور پر کسی کو جیل سے باہر نہیں لایا جاسکتا الیکن انہیں جیل سے باہر لاکر میٹنگیں کروائی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین ، منتخب نمائندوں کو رینجرز اہلکار اپنے دفتروں میں بلا رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہیں اور پی ایس پی جوائن کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ارباب اختیار کو چاہیے کہ اس کا فوری نوٹس لیاجائے اور ایم کیوایم کو مکمل سیاسی آزادی کے ساتھ عوام کی خدمت کا موقع فراہم کیاجائے۔

9/28/2016 6:57:37 AM