Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

امجد صابری کے بہیمانہ قتل میں ایک سرکاری ایجنسی،رینجرز اورکمالوگروپ ملوث ہے ۔الطاف حسین


امجد صابری کے بہیمانہ قتل میں ایک سرکاری ایجنسی،رینجرز اورکمالوگروپ ملوث ہے ۔الطاف حسین
 Posted on: 6/26/2016
امجد صابری کے بہیمانہ قتل میں ایک سرکاری ایجنسی،رینجرز اورکمالوگروپ ملوث ہے ۔الطاف حسین
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون امجد فریدصابری ؒ کے سفاکانہ قتل کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیں
ایم کیوایم اس تحقیقات میں معاونت کیلئے گواہ پیش کرے گی جن میں ایم کیوایم کے مخالف بھی حلفیہ گواہی دیں گے
پاکستان میں ایک مائنڈ سیٹ موجود ہے کہ کراچی میں ہونے والے ہرواقعہ میں کسی نہ کسی طرح ایم کیوایم کوملوث کردیا جائے
چند گھنٹوں میں ہی ممکنہ قاتل کو اردو اسپیکنگ قرار دیدینا مہاجروں سے بدترین نفرت کا ثبوت ہے
کراچی میں دہشت گردی ، اغوااورقتل وغارتگری کے پے درپے واقعات سے صاف ظاہرہے کہ کہیں سے دہشت گردی کاسوئچ آن کیاگیا 
تمام ارباب اختیاراورپنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سندھیوں اورتمام لوگوں سے پاکستان کے نام پر اپیل کرتاہوں کہ خدارا اس سازشی کھیل بند کرواؤ اور کراچی پررحم کرواؤ
رینجرزایک قانون نافذ کرنے والے غیرجانبدارادارے کے بجائے ایک سیاسی گروپ بن گئی ہے
رینجرز ایم کیوایم کو کچلنے پرتلی بیٹھی ہے اور کھلے عام ایک فریق بن گئی ہے
پاکستان اور مختلف ممالک میں ایم کیوایم اوورسیزیونٹوں کے ذمہ داروں اور کارکنوں سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔25،جون2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطا ف حسین نے کہاہے کہ تمام شواہد واضح طورپراشارہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ صوفی قوال امجد صابری کے بہیمانہ قتل میں ایک سرکاری ایجنسی،رینجرز اورکمالوگروپ ملوث ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے اپیل ہے کہ امجد فریدصابری ؒ کے سفاکانہ قتل کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے ، ایم کیوایم اس تحقیقات میں معاونت کیلئے گواہ پیش کرے گی جن میں ایم کیوایم کے مخالف بھی ہوں گے حلفیہ گواہی دیں گے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایک مائنڈسیٹ موجود ہے کہ کراچی میں ہونے والے ہرواقعہ میں کسی نہ کسی طرح ایم کیوایم کوملوث کردیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ جب پولیس کوآنکھوں کی رنگت، بالوں کارنگ اورشناختی علامت معلوم نہیں توپھر وہ کونساآلہ ہے کہ جس کے ذریعے کسی انسان کو چھوکر یہ پتہ چلایاجاسکتاہوکہ کسی شخص کی قومیت کیاہے؟ چندگھنٹوں میں ہی ممکنہ قاتل کواردواسپیکنگ قراردیدینا مہاجروں سے بدترین نفرت کاثبوت ہے ۔ ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے ہفتہ کی شب پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں ایم کیوایم اوورسیزیونٹوں کے ذمہ داروں اور کارکنوں کے اجتماعات سے بیک وقت ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کا خطاب کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ ، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار، ٹنڈوجام سمیت سندھ کے تمام زونوں، پنجاب ، بلوچستان ، خیبرپختونخوااورآزادکشمیر کے علاوہ برطانیہ ،کینیڈا، امریکہ ، آسٹریلیا ،جرمنی ، ناروے، بیلجئم ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کے مختلف شہروں اورریاستوں میں بھی سنا گیا۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے عالمی شہرت یافتہ قوال حضرت امجدفریدصابری شہید ؒ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی ،شہید کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ امجدصابری شہید کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرے اورشہیدکے سوگوارلواحقین ، دوست احباب اور چاہنے والوں کو صبرجمیل عطاکرے ۔ انہوں نے کہاکہ امجدفریدصابری شہید ؒ صرف ایک قوال اور فنکارہی نہیں تھے بلکہ ایک نیک اوراچھے انسان بھی تھے ، سچے عاشق رسولؐ ، اہل بیت ؑ اور بزرگان دین سے والہانہ عقیدت ومحبت رکھتے تھے ، انہوں نے اپنی شہادت سے محض چند گھنٹوں قبل قبرکے اندھیروں میں نبی کریم ؐ کی شفاعت کی دعا بھی کی تھی۔ امجد فریدصابری ؒ کی گائی ہوئی حمدونعت اورصوفیانہ کلام نہ صرف ہندوستان اورپاکستان کے مسلمانوں بلکہ دنیا بھرکے غیرمسلموں میں بھی پسند کیاجاتا تھا۔حضرت امجدفریدصابری شہیدؒ کی قوالی سن کرکئی غیرمسلموں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے اسلام قبول کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حضرت امجدفریدصابری شہیدؒ صوفی ازم اورفن قوالی کے آئیکون تھے اور ان کی حق پرستانہ جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ، وہ ایم کیوایم کے یوم تاسیس ،جشن اورمحفل ذکرمصطفی ؐ کے ہرپروگرام میں باقاعدگی سے شرکت کیاکرتے تھے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ امجدفریدصابری ؒ کو جس طرح دن دہاڑے گولیاں مارکر شہید کیاگیا ہے اس نے کئی سوالوں نے جنم دیا ہے ۔ امجدفریدصابری ؒ کی شہادت سے دوروزقبل یعنی20، جون 2016ء کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجادعلی شاہ کے صاحبزادے اویس شاہ کو اغواء کیاگیا جس کے بعد حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے شہرمیں سیکوریٹی سخت کردی تھی اورجگہ جگہ گشت بڑھادیاتھا۔ کراچی میں قانون نافذکرنے والوں کے ہائی الرٹ کے باعث امجدفریدصابری ؒ کے قتل اورقاتلوں کو آسانی سے فرار نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بعد 21 جون کو کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ایک احمد ی ڈاکٹرکوگولیاں مارکرقتل کردیاجاتا ہے اور اگلے روز 22، جون کو لیاقت آبادمیں امجدفریدصابری ؒ کو گولیاں مارکرشہید کردیاجاتا ہے ۔ اسی شام تین ہٹی کے قریب ایک نوجوان نوحہ خواں سید فرحان علی رضوی کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی جاتی ہے خوش قسمتی سے وہ گاڑی میں نہ ہونے کے باعث اس حملے میں محفوظ رہتے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں دہشت گردی ، اغوااورقتل وغارتگری کے پے درپے واقعات سے صاف ظاہرہے کہ کہیں سے دہشت گردی کاسوئچ آن کیاگیا ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی میں جگہ جگہ رینجرز،پولیس اور دیگرقانون نافذکرنے والے اداروں کی موجودگی کے باوجود اچانک ٹارگٹ کلنگ اوراغواء کی وارداتیں تیزی سے شروع ہوگئیں ۔ ان وارداتوں کے پس پردہ کیامقاصدہیں یہ وردی والے ہی بہتر جان سکتے ہیں ۔چاہے کسان ہوں، محنت کش مزدورہوں، ڈاکٹرہوں، نرسیں ہوں یا طلبا و طالبات ہوں، ہم سویلین اگر اپنے جائز حقوق کامطالبہ بھی کریں تو ہمیں بدلے میں گولی ملتی ہے جوجیتے جاگتے انسانوں کو موت کی آغوش میں لے جاتی ہے 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حضرت امجدفریدصابری شہیدؒ عالمی شہرت رکھنے والی بڑی شخصیت تھے اوران کے قتل کی تحقیقات بھی انتہائی سنجیدگی کاتقاضہ کرتی ہیں لیکن افسوس کہ حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے ان کے سفاکانہ قتل کی تحقیقات میں سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کیاگیا اور اس ہائی پروفائل قتل کی جس طرح غیرسنجیدگی سے تحقیقات شروع کی گئی اس سے بھی کئی سوالوں نے جنم لیا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ رینجرز کو پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت اوروفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ سندھ میں تعینات کیا گیا اور سندھ حکومت نے رینجرز کو سینے سے لگاکر قبول کیا۔ اسی رینجرز نے ضمیرفروش کمالوگروپ میںآج شامل لوگوں کی جے آئی ٹی رپورٹس بھی تیارکی تھیں کہ یہ عناصر چائناکٹنگ، بھتہ خوری اورقتل وغارتگری میں ملوث ہیں ، جے آئی ٹی رپورٹس میں ان ضمیر  فروشوں کے بارے میں بتایاگیاکہ یہ ’’انتہائی مطلوب‘‘ ہیں ۔ جب ان ضمیرفروشوں کو چوری چکاری، زمینوں پرقبضے اورکرپشن کی دیگر شکایات پر پارٹی سے نکالاگیا تو یہ کراچی چھوڑکردبئی بھاگ گئے ، دبئی سے انہیں ایک سرکاری ایجنسی کی ایماء پر خصوصی طورپر کراچی لاکر خیابان سحر ڈیفنس کے قیمتی بنگلے میں بسایاگیا۔ جناب الطاف حسین نے شرکاء سے دریافت کیاکہ آپ قسمیہ بتائیں کہ اس سے قبل ان ضمیرفروشوں میں سے کسی کا خیابان سحر میں کوئی بنگلہ یا کوٹھی تھی ؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا ’’ہرگزنہیں‘‘ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب یہ ضمیرفروش خیابان سحر میں لائے گئے تو انہوں نے اور سابق فوجی افسران نے ایم کیوایم کے ارکان سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلی کو ٹیلی فون کرکے دھمکیاں دیں کہ کمالوگروپ میں شمولیت اختیار کرلو ورنہ بہت برا انجام ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے حلفیہ اور اپنے مرحوم والدین کی قسم کھاکرکہاکہ امجدصابری ؒ کو کمالوگروپ کے لوگوں نے باربار فون کرکے دھمکایاکہ ہمارے پروگرام میں آؤاور ہمیں جوائن کرو بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے ۔ان دھمکیوں سے واقفیت رکھنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں جواس بات کی حلفیہ گواہی دیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے مزید کہاکہ امجد فرید صابری ؒ تقریباً دوہفتہ قبل امریکہ کی ریاست ہیوسٹن میں ہونے والے ایم کیوایم کے پروگرام میں شریک تھے اورانہوں نے وہاں اپنایہ مشہورکلام ’’جبرکے اندھیروں میں زندگی گزاری ہے ‘‘ پڑھ کر تمام شرکاء پر سحر اوروجد طاری کردیاتھا اور اس کے بعد امجدفریدصابری ؒ نے ’’ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے ‘‘ کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے ۔ جب آئی ایس آئی کے چیف ، ڈی جی رینجرز اور کمالو گروپ نے سوچاکہ ایم کیوایم کے سینئرکارکن آفتاب احمد اوردیگر کارکنان کی مسخ شدہ لاشیں دیکھنے کے باوجود بھی مہاجرقوم کو خوفزدہ نہیں کیاجاسکا تو انہوں نے ایم کیوایم کی بڑی وکٹ گرانے کامنصوبہ بنایا جس کا انکشاف کمالو گروپ کے ایک فرد نے کردیا تھاکہ عیدسے قبل ایم کیوایم کی بڑی وکٹ گرنے والی ہے ۔ انہوں نے دیکھاکہ امجدفریدصابری ؒ ایک آسان حدف ہے جو حق پرستی کی جدوجہد کررہا ہے اور ایم کیوایم کاچلتاپھرتا اشتہار بنا ہوا ہے لہٰذا اس کو قتل کردو ۔ سفاک قاتلوں نے اپنے ناپاک منصوبے کے تحت امجد فرید صابری ؒ کو گولیاں ماکرشہیدکردیا۔ جناب الطاف حسین نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے اپیل کی کہ عالمی شہرت یافتہ فنکارامجدفریدصابری ؒ کے سفاکانہ قتل کا نوٹس لیاجائے ، قتل کی واردات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے ، ایم کیوایم اس تحقیقات میں معاونت کیلئے گواہ پیش کرے گی جن میں ایم کیوایم کے مخالف بھی ہوں گے حلفیہ گواہی دیں گے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس روز امجدصابری ؒ کا سفاکانہ قتل ہوا اسی رات بظاہر سی پی ایل سی کی جانب سے مشتبہ حملہ آورکا خاکہ جاری کیا گیا یہ خاکہ بظاہرتوپولیس نے جاری کیالیکن اصل میں یہ رینجرز اور سرکاری ایجنسیوں نے جاری کرایا ۔ اگر رینجرز نے سی پی ایل سی والوں کو یہ خاکہ جاری کرنے کاحکم نہیں دیا اور سی پی ایل سی کے ذمہ داروں نے یہ خاکہ خود جاری کیاہے تو وہ انسان نہیں بلکہ جھوٹے اور مکارہیں جو واجب سزا ہیں۔ اس خاکہ میں ایف آئی آرنمبردرج کرنے کے ساتھ ساتھ اس شخص کی عمر25سے 30سال بتائی گئی ،عمرکااندازہ انسان لگاسکتاہے۔ خاکے میں جسامت کے بارے میں کہاگیاکہ دبلاپتلا،بالوں کارنگ معلوم نہیں، قداندازاً پانچ فٹ 9 انچ ، رنگت صاف یعنی گورارنگ، شناختی علامت معلوم نہیں، آنکھوں کارنگ معلوم نہیں اورلسانیت ’’اردواسپیکنگ ‘‘ ۔ انہوں نے سوال کیاکہ جب پولیس کومشتبہ قاتل کی آنکھوں کی رنگت، بالوں کارنگ اورشناختی علامت معلوم نہیں توپھر وہ کونساآلہ ہے کہ جس کے ذریعے کسی انسان کو چھوکریہ پتہ چلایاجاسکتاہوکہ کسی شخص کی قومیت کیاہے؟انہوں نے کہاکہ چندگھنٹوں میں ہی ممکنہ قاتل کواردواسپیکنگ قراردیدینا مہاجروں سے بدترین نفرت کاثبوت ہے ۔انہوں نے آج یہ بھی کہاجارہاہے کہ امجدصابری کاقتل مہاجروں کے علاقے میں ہواہے اس سے ظاہرہے کہ اصل سازش یہی ہے کہ مہاجرکومار کر مہاجر پرہی الزام تھوپ دو۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میڈیاکے ذریعے قوم کویہ بتایاجارہاہے کہ امجدصابری کے قتل کے سلسلے میں سرجانی ٹاؤن سے کسی شخص کوگرفتارکیاگیاہے ،اس کاتعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک سیاسی جماعت کے بجائے کھل کر کہا جائے کہ اس کاتعلق ایم کیوایم سے ہے ،ہم کہتے ہیں اس کاتعلق ایم کیوایم سے نہیں رینجرزسے ہے ،ایجنسیوں سے ہے۔ اسلئے کہ جب آپ کومشتبہ شخص کے بالوں اورآنکھوں کارنگ معلوم نہیں لیکن اس کی قومیت معلوم ہوجاتی ہے کہ توہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ امجد صابری کوایک سرکاری ایجنسی اورکمالوگروپ نے قتل کرایاہے ۔انہوں نے کہاکہ میں الطاف حسین تمام جمہوریت پسنداورانسانی حقوق پریقین رکھنے والی دنیاسے کہتاہوں کہ تمام شواہد واضح طورپراشارہ کرتے ہیں کہ امجدصابری کے بہیمانہ قتل میں ایک سرکاری ایجنسی ، رینجرز اورکمالوگروپ ملوث ہے ۔ جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ سے بھی اپیلیں کرتارہاکہ مہاجروں کاقتل بندکرائیں لیکن آپ نے بھی مہاجروں کاقتل بندنہیں کرایا، مہاجروں کوچن چن کرقتل کیاجارہاہے ، یہ مہاجروں کی نسل کشی ہے ،اسی طرح بنگالیوں کی نسل کشی کی گئی توملک کاآدھاحصہ 1971ء میں ہم سے الگ ہوگیا، خدارامہاجروں کاقتل عام بندکرایاجائے اوراگرمہاجروں کی نسل کشی کاعمل بندنہیں کرایاگیاتواس سے ملک کوناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں ایک مائنڈسیٹ موجود ہے کہ کراچی میں ہونے والے ہرواقعہ میں کسی نہ کسی طرح ایم کیوایم کوملوث کردیاجائے ۔ ماضی میں بھی بالکل اسی طرح ملک کی عظیم شخصیت ،دانشور حکیم محمد سعیدکے قتل میں ایک سازش کے تحت ایم کیوایم کوملوث کیاگیااورایم کیوایم پرلگائے گئے اس الزام کے جھوٹے ثبوت بھی گھڑے گئے ۔اس جھوٹے الزام میں سندھ کی مخلوط حکومت برطرف کی گئی۔ سندھ میں گورنرراج نافذ کیا گیا اور ایم کیوایم کے خلاف ایک اورآپریشن شروع کردیاگیالیکن ایم کیوایم کے کارکنان اس کیس میں سندھ ہائیکورٹ سے باعزت بری ہوئے ،سپریم کورٹ نے بھی ایم کیوایم کے کارکنوں کی بریت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور بعد میں قوم کے سامنے وہ حقائق بھی آئے کہ حکیم سعید کے قتل کی سازش دراصل ایم کیوایم کو سزادے دینے کیلئے تیارکی گئی تھی، سازش تیارکرنے والوں کے نام بھی سامنے آئے ۔اسی طرح سانحہ نشترپارک، جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹرشکیل اوج ، معروف سماجی کارکن سبین محمود ، پروین رحمان ، سبط جعفر،خرم ذکی ،سانحہ صفورا اور دیگر افسوسناک واقعات میں بھی ایم کیوایم کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب صحیح تحقیقات ہوئیں تواصل قاتل کوئی اورنکلے ۔ ان مثالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک مائنڈسیٹ ہمیشہ چاہتا ہے کہ کراچی میں ہونے والے ہرواقعہ میں کسی نہ کسی طرح ایم کیوایم کوملوث کردیاجائے تاکہ ان واقعات میں ملوث اصل قاتلوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے خفیہ ہاتھوں کو قانون کی گرفت سے محفوظ بنایا جاسکے اوران الزامات کی بنیادپر ایم کیوایم کے خلاف ایک نیاآپریشن شروع کیاجائے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ تمام ارباب اختیاراورپنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سندھیوں اورتمام لوگوں سے پاکستان کے نام پر اپیل کرتاہوں کہ خدارا اس سازشی کھیل بندکر واؤ اورکراچی پررحم کرواؤ۔ انہوں نے کہاکہ تین سال سے کراچی میں آپریشن جاری ہے ،آخرکونساامن قائم ہوگیا؟،آج بھی قتل ، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ہورہی ہیں اورتاجروں کوبھتہ کی پرچیاں مل رہی ہیں۔تاجر،صنعتکار، فنکارتمام شہری عدم تحفظ کاشکارہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف تین سال سے جاری ریاستی آپریشن کے دوران 60 کارکنوں کو حراست کے دوران ماورائے عدالت قتل کردیاگیاجنہیں انکے اہل خانہ کے سامنے رینجرز اوردیگر سرکاری اہلکاروں نے گرفتارکیاتھا۔ آخر ان معصوم وبے گناہ افراد کے لواحقین کو انصاف کون دلائے گا؟ آج بھی ایم کیوایم کے 135 رہنما وکارکنان لاپتہ ہیں جن کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں ، معصوم بچے اپنے والدکی بازیابی کی دہائیاں دے رہیں اور بوڑھے والدین اپنے بچوں کی رہائی کی فریادیں کررہے ہیں لیکن ان دکھی خاندانوں کو انصاف دلانے والا کوئی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، امریکہ کے صدربان کی مون، سینیٹرزکانگریس مین اورانسانی حقوق کے ادارے ہمیں بتائیں کہ ہمارے شہیدوں اورلاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ انصاف کے لئے کہاں جائیں؟ کس کادروازہ کھٹکھٹائیں؟مہاجرکیاکریں؟ کہاں جائیں؟
انہوں نے کہاکہ صاف لگتا ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن کا مقصد شہرمیں امن وامان کی صورتحال بہتربنانے ہرگز نہیں ہے بلکہ عوام کی منتخب نمائندہ جماعت ایم کیوایم کو کچلنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ 1989ء میں رینجرز کوکراچی میں امن وامان کے قیام کیلئے تعینات کیاگیا تھا لیکن رینجرز جرائم پیشہ دہشت گردوں، قاتلوں، چوروں ، ڈاکوؤں ،اغواء برائے تاوان کرنے والوں اور بھتہ خوروں کے بجائے ایم کیوایم کو کچلنے پرتلی بیٹھی ہے اور کھلے عام ایک فریق بن گئی ہے ۔ رینجرزایک قانون نافذ کرنے والے غیرجانبدارادارے کے بجائے ایک سیاسی گروپ بن گئی ہے ۔ رینجرشہرمیں امن قائم کرنے اورشہریوں کوتحفظ فراہم کرنے کے بنیادی فریضہ پر توجہ دینے کے بجائے پانی، پیٹرول،سیمنٹ اوردیگرچیزوں کے کاروبارمیں لگی ہوئی ہے اورکراچی کے شہری پانی کوترس رہے ہیں۔ چندروزقبل سپریم کورٹ کے ایک معزز جج نے کرپشن کے ایک کیس کی سماعت کے دوران کہاکہ رینجرزصرف پیٹرول ہی کیوں بیچ رہی ہے ؟ وہ آٹا دال بھی بیچناشروع کردے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاکہ رینجرزوالے ہمیں توبتاتے ہی نہیں ہیں کہ وہ کہاں آپریشن کررہے ہیں، وہ کبھی بتاتے ہیں اورکبھی نہیں بتاتے۔انہوں نے کہاکہ جب وزیراعلیٰ سندھ کی چلتی ہی نہیں ہے اوررینجرزان کی نہیں سنتی تو غیرت کاتقاضہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ میں سندھی عوام اورپروگریسو حلقوں کوبتادیناچاہتاہوں کہ پیپلزپارٹی نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے دوبارہ سودے بازی کرلی ہے اوراگرایسانہیں ہے تووزیراعلیٰ سندھ قوم کوکھل کربتائیں کہ سندھ پراصل حکومت کون کررہاہے۔ 
جناب الطاف حسین نے مہاجردانشوروں،قلمکاروں، ادیبوں، ڈاکٹروں، انجینئروں، وکلاء ، علماء اورتمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے مہاجروں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگ آگے بڑھیں کیونکہ مہاجرپروفیسروں، ڈاکٹروں اوردانشوروں کے بعد مہاجرفنکاروں کوبھی چن چن کرنشانہ بنایاجارہاہے، مہاجروں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔اگرمہاجروں کوشیعہ سنی کی بنیادپر قتل کیاجارہاہے توکیا شیعہ سنی صرف مہاجروں میں ہیں؟ کیادیگرصوبوں اوردیگر قومیتوں میں شیعہ سنی نہیں ہیں؟ یہ کہناکہ طالبان کے محسود گروپ نے امجد صابری کوان کے عقائد کی وجہ سے قتل کیاہے توسوال یہ ہے کہ کیاقوال صرف مہاجروں میں ہیں ؟ کیادیگرقوموں میں قوال نہیں ہیں؟انہوں نے کہاکہ جہاں تک طالبان کے محسود گروپ کاتعلق ہے توگزشتہ دنوں فوج نے طالبان کے محسودگروپ سے دوستی کرلی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگ آپس میں اتحادکامظاہرہ کریں،خودبھی قوم کیلئے سوچیں ۔ اب ہمیں مہاجروں کی بقاء اورانکے حقوق کے حصول کیلئے صوبہ کیلئے جدوجہدکرنے کے سواکوئی اور راستہ نظرنہیں آتا۔ انہوں نے سندھی عوام سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کہ وہ بھی ہمارے ساتھ آجائیں،ہم ملکر امن ومحبت والاایسا صوبہ بنائیں کہ جہاں لوگوں پر کسی بھی بنیادپر کوئی ظلم یاتعصب نہ کیاجاتاہو۔ جناب الطاف حسین نے کارکنوں سے کہاکہ رمضان کاآخری عشرہ آرہاہے،آپ لوگ خوب عبادت کریں اور دعاکریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری غیب سے مددفرمائے ، انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ امجدصابری شہیدکوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے 
اور جنہوں نے امجدصابری کوشہید کیا اور جنہوں نے قتل کی ہدایت کی اورقتل کامنصوبہ بنایااللہ تعالیٰ ان پر اپناعذاب ناز ل کرے۔ 






تصاویر

9/30/2016 5:03:04 AM