Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی کے ندی نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہیں اوران حالات میں مون سون بارش ہوئی توکراچی کاڈوبنایقینی ہے


کراچی کے ندی نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہیں اوران حالات میں مون سون بارش ہوئی توکراچی کاڈوبنایقینی ہے
 Posted on: 6/25/2016
کراچی کے ندی نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہیں اوران حالات میں مون سون بارش ہوئی توکراچی کاڈوبنایقینی ہے
روشنیوں کاشہرکراچی سندھ حکومت کی بے حسی اورنااہلی وناکامی کے بدولت اب گٹروں کاشہربن گیاہے،وسیم اختر 
وزیراعلیٰ ہاؤس سے صرف کاغذی کارروائی کی جارہی ہے کراچی کی حالت دن بہ دن ابترہوتی جارہی ہے،نامزدمیئرکراچی وسیم اختر
جو محکمہ بلدیات دیکھ رہے ہیں انہوں نے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کانام ہی نہیں سنا،حکومت سندھ نے جومحکمے اپنے قبضے میں لئے ہیں وہ ان سے کام بھی لیں
کراچی میں ایک اچھاکمشنر کراچی آیاتھاجسے سندھ حکومت نے فارغ کردیا،سندھ حکومت کووہ افسرانہیں چاہئے جوشہرکی ترقی کے لئے اچھا کام کرے بلکہ وہ افسرچاہئے جوبجٹ کے پیسوں سے حکومت کی جیبیں بھریں
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان گلفرازخان خٹک،اظہاراحمدخان،ڈپٹی میئرکراچی ارشدوہرا،چیئرمین سینٹرل ریحان ہاشمی،یوسی چیئرمین وائس چیئرمین اورکونسلرزکے ہمراہ فیڈرل بی ایریاگلبرگ بلاک 18نزدپیالہ ہوٹل پرپریس بریفنگ
کراچی: ۔۔۔ 25، جون 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے نامزدحق پرست میئرکراچی وسیم اخترنے کہاہے کہ کراچی کے ندی نالے ٹوٹے ہوئے ہیں اوران حالات میں مون سون کی بارش ہوئی توکراچی کاڈوبنایقینی ہے۔انہوں نے کہاکہ روشنیوں کاشہرکراچی سندھ حکومت کی بے حسی اورنااہلی وناکامی کے بدولت اب گٹروں کاشہربن گیاہے،بغیررقم کے نالوں کی صفائی ممکن ہی نہیں،پچھلے سال نالوں کی صفائی کرنے والوں کے ٹھیکداروں کے پیسے واجب الاداہیں،حکومت سندھ نے جومحکمے اپنے قبضے میں لئے ہیں وہ ان سے کام بھی لیں،وزیراعلیٰ ہاؤس سے صرف کاغذی کارروائی کی جارہی ہے کراچی کی حالت دن بہ دن ابترہوتی جارہی ہے،جو محکمہ بلدیات دیکھ رہے ہیں انہوں نے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کانام ہی نہیں سنا۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں ایک اچھاکمشنر کراچی آیاتھاجسے سندھ حکومت نے فارغ کردیا،سندھ حکومت کووہ افسرانہیں چاہئے جوشہرکی ترقی کے لئے اچھا کام کرے بلکہ وہ افسرچاہئے جوبجٹ کے پیسوں سے حکومت کی جیبیں بھریں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان گلفرازخان خٹک،اظہاراحمدخان،ڈپٹی میئرکراچی ارشدوہرا،چیئرمین سینٹرل ریحان ہاشمی،یوسی چیئرمین وائس چیئرمین اورکونسلرزکے ہمراہ فیڈرل بی ایریاگلبرگ بلاک 18نزدپیالہ ہوٹل پرپریس برینفک کے دوران کیاقبل ازیں انہوں نے کے بی آرنالے کادورہ بھی کیااورگندگی کے ڈھیروں کاجائزہ لیا۔نامزدمیئروسیم اخترنے کہاکہ کراچی میں ممکنہ مون سون بارشوں ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں ہنگامی بنیادوں پرکام کیاجائے اوربرساتی ندیوں اورنالوں کی صفائی اوران کی ترائین وآزائش کی جائے۔ وسیم اختر نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے کہ کراچی کے شہریوں پر رحم کریں ، کراچی میں فوری طورپر نالوں کی صفائی شروع کی جائے ، صرف اخباری بیانات اور اسمبلی کے فلور پر بات کرنے سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی افسر کراچی کی بہتری کیلئے کوئی تجویز دیتا ہے تو آپ اس کو ردی کے ڈال دیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جو سندھ حکومت کے ذمہ دار یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ ہم سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے یہ سب کررہے ہیں ، ایسا نہیں ہے ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ پوائنٹ اسکورنگ کاوقت نہیں ہمارا ملک ، صوبہ اور شہرکراچی مشکلات میں ہے ،ہم کراچی کے جو اصل مسائل ہیں انہیں اجاگرکرناچاہتے ہیں اورچاہتے ہیں کہ ان کاحل تلاش کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ کراچی ہائٹس کے جوایشو ہیں صاحب اقتدار کو ان کو دیکھانا چاہتے ہیں ، بہت سارے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔اس علاقے کے مکین آس پاس موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ لوگ یہاں آکر دیکھ لیں کہ ماہ رمضان کی اس شدید گرمی میں نومنتخب حق پرست بلدیاتی نمائندگان موجود ہیں یہاںآنے کی وجہدیہ بنی کہ ایک ہفتے سے محکمہ موسمیات نے مون سون کی وارمنگ ایشو کررہا ہے ، جس میں کہا گیاہے کہ اس دفعہ مون سون کی بارش کراچی میں توقع سے زیادہ ہوگی اور ہو سکتا ہے کہ 100اور 130ملی لیٹر اور اس سے بھی زیادہ بارش کا امکان ہے ، اگر جیسا کہ محکمہ موسمیات کی اطلاع کے مطابق اگر بارش ہوگئی تو پورا کراچی ڈوب جائے گا ۔افسوس اس وارمنگ پر میٹنگ تو ضرور ہورہی ہے ، کاغذی کاروائی ہورہی ہے تاہم کوئی عملی کام دیکھنے میں نہیں آ رہا ہے ، ڈی ایم سیز کو کہا جارہا ہے اپنے اپنے حصے کے نالے صاف کردیئے جائیں ،ڈی ایم سیز والے کہتے ہیں کہ پہلے کے ایم سی کے حصے میں آنے والے بڑے نالے صاف ہوں پھر اس کے بعد ڈی ایم سیز کے حصے میں آنے والے نالے کی صفائی کی باری آئے گی ۔انہوں نے کہاکہ سندھ کے حکمران وزیراعلیٰ ، وزراء ٹھنڈے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر صرف بیان بازی کررہے ہیں اس شہر کے مسائل کے حل کیلئے ٹھنڈے کمرے سے باہرنکلنے کوکوئی تیارنہیں اور عملی طورپر کوئی کام نہیں کررہاہے ملک کے صاحب اقتدار ٹھنڈے کمرے کے مزے لے رہے ہیں اور ہم یہاں اپنے کراچی کے لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں ۔وسیم اختر نے کہا کہ پوری دنیا میں وارمنگ سسٹم رائج ہے ، جس کی اطلاع پر ڈیجاسٹر مینجمنٹ سیل حرکت میں آتی ہے ، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل قائم تو ضرور ہیں ، ان کا عملی طور پر کوئی کردار نظر نہیں آتا ، خصوصاً صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کا کردار کہیں نظر نہیں آتا ، گزشتہ روز ہم نے دیکھا کہ شہر کے تین مختلف علاقوں میں آتشزدگی کا واقعہ اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کا کوئی عملی دخل نظر نہیں آیا۔انہوں نے کہاکہ نومنتخب حق پرست یوسی چیئرمین ، وائس چیئرمین اور کونسلرز حضرات یہاں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ ہم سندھ حکومت کے حکمرانوں اور افسران کو جھنجھوڑیں کو وہ اپنے ٹھنڈے کمروں سے نکل کر یہاں ہمارے ساتھ آئیں اور مون سون کی بارش کی آمد سے پہلے شہر کے نالوں کی صورت حال کو دیکھیں کہ اس صورت حال میں اگر بارش ہوجاتی ہے تو یہ نالوں کا تمام کچرا اور گندا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوجائے گا اور اموات بھی ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کے بی آر نالہ وہی نالہ ہے جہاں گزشتہ سال نالہ بھر جانے کی وجہ سے متعدد اموات ہوئی تھی جس میں ایک شخص اپنی بیوی اوربچی کے ہمراہ گاڑی سمیت گندے پانی میں بہہ گیا تھا۔وسیم اختر نے کہا کہ کراچی شہر جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا جس کے سندھ کے نااہل حکومت اور انتظامیہ نے کچرے ڈھیر اور گندے نالے کے شہر میں تبدیل کردیا ہے جو اس نالے میں کچرے سے بھرا ہوا ہے ۔محکمہ موسمیات بار چیخ چیخ کر مطلع کررہا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہے ہیں۔بنیادی طور پر اس الارمنگ پر کسی قسم کی کوئی کاروائی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے انہوں نے مزیدکہاکہ افسوس کہ ملک بننے کے بعد سے وفاقی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کا کوئی کردار دیکھنے میں نہیں آرہا ہے ، اورتیسرا جو ہے لوکل گورنمنٹ اس کا وجود ہی نظر نہیں آرہا ہے ۔سندھ کے حکومت کو جھنجھوڑیں ، ان کو جگائیں ، وہ آٹھ سال سے سو رہے ہیں ، اندرون سندھ اس سے زیادہ برا حال ہے ہم حکومت سندھ کو بتانا چاہتا ہوؒ جو ادارے آپ نے اپنے تحویل میں لے ہیں قبضہ کیا ہوا ان سے کام تو لیجئے ان کی ایک ذمہ داری ہے ان سے کام لیا جانا چاہئے کام لینا لڑنا ہے ان سے کام لیں ، کام کریں گے تو سندھ کے حالات بہتر ہوگے کام کریں سے اس صوکے کے حالات بہتر ہوں گے ۔یہ خدا تعالیٰ خود ہی ساری چیزیں بہتر کردے گا آپ کو حرکت کرنی پڑے گی ، آپ کو کام کرنے پڑے گی ۔وسیم اختر نے وزیراعلیٰ سندھ سے اور صوبائی وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کے پاس اچھے افسر بھی ہیں جیسے ان سے کام لیں آپ نے ایک اچھا افسر آصف حیدر جوکہ کراچی کا کراچی کا کمشنر تھا آپ نے اس کو تبدیل کردیا ۔جو بھی اچھا افسر کراچی کی بہتری کیلئے کام کرنا چاہتا ہے آپ اس کو فوراً تبدیل کر دیتے ہیں ، اور کرپٹ افسران کو مشوروں پر عمل کرتے ہیں کیونکہ وہ کمٹڈ افسران کی باتوں پر عمل نہیں کرتے ۔وسیم اختر نے سندھ حکومت سے کہا کہ آپ نے پچھلے سال کے ایم سی کے 3کروڑ روپے نہیں دیئے اور ٹاؤن کے دو کروڑ روپے نہیں جن ٹھکیداروں نے کام کیا تھا وہ پریشان حال ہیں اور ان کی پیمنٹ ابھی تک نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ شہر کے 28ایسے نالے ہیں جو پر آدمی چل رہے ہیں اور بچے کھیل رہے ہیں ، اگر اس صورتحال میں بارش ہوگئی تو پورا کراچی ڈوب جائے گا ۔آنے نے جو سالڈ مینجمنٹ ادارہ بنایا تھا اس کو بھی ردی کے ٹوکری میں ڈال دیا گیا ہے ۔ان نالوں کی صفائی میں 4سے 6مہینے کا وقت لگے گا ، آپ کو ڈیزاسٹرک ہونا ہوگا کے ایم سی کے پرانے افسارن سے مشورے کریں وہ آپ کو بہتر مشورے دیں گے ۔میری آپ سے مطالبہ ہے کہ آپ ان افسران کے ہمراہ ان نالوں کا دورہ کریں تو وہ آپ کہ بہتر مشورے دیں گے ۔وسیم اختر نے کہا کہ یہ وہ شہر جو پورا ملک کو کما کر دیتا ہے سندھ کو چلاتا ہے ، کراچی کے عوام کا واسط دے کے کہتا ہوں کراچی کے اور سفر کررہا ہے ، بجلی ہوگئی تو کئی اموات ہوجائیں گے ، بجلی کے تار ٹوٹنے کے نتیجے میں بھی اموات ہوسکتے ہیں ۔وسیم اختر نے کہا کہ آپ ایماندار افسران کو اپنے ساتھ لگائیں ۔ آپ ایسے لوگوں کو کراچی میں پوسٹنگ کراتے ہیں جن کی نظر کرپشن پر ہوتی ہے ۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کرتا ہوں کہ کراچی کی بہتری کیلئے آپ عملی اقدام اٹھائی اگر آپ کسی کو حکم کریں گے تو مجال نہیں کہ وہ آپ کے احکامات کی نفی کرے ، آپ کے نانا اور آپ کی والدہ کا تعلق بھی کراچی شہر سے تھا اور آپ اپنے نانا اور والدہ کی لاج رکھ لیں ، خدارا کراچی کے لوگوں کے مینڈیٹ کا احترام کریں اور آپ وزیراعلیٰ کو کراچی شہر کی ترقی اور صفائی کیلئے خصوصی ہدایت دیں ۔ وسیم اختر نے چیف سیکرٹری سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ اچھے اور ایماندر افسران کو کراچی میں تعینات کریں جو مصلحت پسندی سے کام نہ کریں اور نہ ہی سیاستدانوں کے غلط اصولوں پر کام نہ کریں کریں ۔وسیم اختر نے کہا کہ آپ کے کرپٹ بیورکریٹ صرف اس لئے کراچی میں میں تعیناتی کراتے ہیں کہ کہ اسپیڈ منی کے لئے آتے ہیں زیادہ سے زیادہ کرپشن کرکے روپے کمائیں اور اس بعد سندھ کے دوسرے شہروں میں تعینات ہوجائیں ۔وسیم اختر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جو گزشتہ دنوں کراچی کے حوالے سے بیان دیا تھا میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ کراچی کی ترقی کیلئے وزیراعلیٰ سندھ اور سندھ حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کریں گے ۔


9/29/2016 8:32:08 AM